انھوں نے سیتھ ہیوبرڈ کو اس جگہ تلاش کر لیا جہاں اس نے وعدہ کیا تھا اگرچہ اس کی حالت نہایت غیرمتوقع تھی۔ وہ زمین سے چھے فٹ کی بلندی پر رسے کے سرے پر لٹکا ہوا تھا۔ سامنے سے بارش آ رہی تھی اس لیے جب انھوں نے سیتھ کو دیکھا وہ بھیگا ہوا تھا۔ یہ کوئی اہم بات نہ تھی۔ کوئی کہہ سکتا تھا کہ اس کے جوتوں پر کیچڑ نہیں اور نیچے زمین پر بھی کوئی نشان نہیں،اس لیے جب بارش شروع ہوئی تو وہ غالباً لٹکا ہوا تھا اور مر چکا تھا۔ کیا یہ بات اہم تھی؟ آخر میں اس کی بھی کوئی اہمیت ثابت نہ ہوئی۔    تفصیل سے پڑھیے
اپنے آپ کو درخت سے لٹکانے کا انتظام کرنا اتنا آسان نہیں۔ بظاہر سیتھ نے ہر چیز کے بارے میں سوچا تھا۔ رسہ تین چوتھائی اِنچ موٹا تھا اور مینیلا کے قدرتی ریشوں کو بل دے کر بنایا گیا تھا اور اتنا مضبوط تھا کہ وہ آسانی سے سیتھ کے وزن کو سہار سکتا تھا جو ایک ماہ پہلے ڈاکٹر کے کلینک میں ایک سو ساٹھ پائونڈ نوٹ کیا گیا تھا۔ بعد میں سیتھ کی فیکٹری کے ایک ملازم نے بتایا کہ اس نے دیکھا تھا کہ اس کے باس (Boss) نے ڈرامائی انداز میں استعمال کرنے سے ایک ہفتہ پہلے ایک رِیل سے پچاس فٹ رسے کا ٹکڑا کاٹا تھا۔
رسے کا ایک سرا اسی درخت کی نچلی شاخ کے ساتھ مضبوطی سے باندھا گیا تھا اور اسے کئی مرتبہ لپیٹ کر اور گرہیں لگا کر پکا کیا گیا تھا۔ دوسرے سرے کو زمین سے اکیس فٹ بلند ایک موٹی شاخ کے اوپر لپیٹ کر نو فٹ نیچے لٹکایا گیا اور سرے پر درست ترکیب کے مطابق پھانسی کا عمدہ پھندہ بنایا گیا تھا جو دبائو بڑھنے پر تنگ ہوجاتا ہے اور جس کو بنانے میں سیتھ نے بلا شبہ کچھ وقت صرف کیا تھا۔
ایک اچھا پھانسی کا پھندا گردن کو توڑ دیتا ہے اور موت کو تیز تر اور کم تکلیف دہ بنا دیتا ہے۔ بظاہر سیتھ نے اس کے لیے پوری تیاری کی ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ بظاہر وہاں تڑپنے یا زور لگانے کے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے تھے۔  ایک چھے فٹ لمبی سیڑھی وہاں پڑی تھی جس کو ٹھوکر لگا کر ایک طرف پھینکا گیا تھا۔ سیتھ نے درخت منتخب کیا، رسّہ اوپر پھینکا۔ اس کو اچھی طرح باندھا، سیڑھی پر چڑھا، پھندہ گلے میں ڈالا اور جب ہر چیز بالکل ٹھیک ہوگئی، سیڑھی کو ٹھوکر ماری اور پھندے کے ساتھ جھول گیا۔ اس کے ہاتھ آزاد تھے اور اس کی جیبوں کے قریب لٹک رہے تھے۔
جب سیتھ کے پائوں سیڑھی کے سہارے سے محروم ہوئے تو کیا اس کے دماغ میں ایک لمحے کے لیے شک و شبہ یا کوئی دوسرا خیال پیدا ہوا؟ چونکہ اس کے ہاتھ آزاد تھے تو کیا اس نے جبلی طور پر اپنے سر سے اوپر رسّے کو پکڑا اور بے جگری سے جان بچانے کی جدوجہد کی تھی حتیٰ کہ اس نے اپنے آپ کو تقدیر کے حوالے کر دیا؟ یہ کسی کو کبھی معلوم نہ ہوسکے گا۔ لیکن یہ بات مشکوک معلوم ہوتی تھی۔ بعد کی شہادتوں سے یہ انکشاف سامنے آئے گا کہ سیتھ ایک اعلیٰ مقصد کی تکمیل کر رہا تھا۔
اس موقع کے لیے اس نے اپنا سب سے عمدہ سوٹ منتخب کیا تھا جو گہرے سیاہی مائل موٹے اونی کپڑے کا بنا تھا اور عام طور پر ٹھنڈے موسم میں تجہیز و تکفین کی رسومات کے لیے مخصوص تھا۔ اس کے پاس صرف تین ایسے سوٹ تھے۔ پھندے کی موت میں جسم لمبا ہوجاتا ہے۔ اس لیے سیتھ کی پتلون کے پائنچے اس کے ٹخنوں تک پہنچ رہے تھے اور اس کا کوٹ اس کی کمر تک۔ اس کے مضبوط چمڑے کے بے داغ سیاہ جوتے پالش سے چمک رہے تھے۔ اس کی نیلی نکٹائی عمدہ طریقے سے بندھی ہوئی تھی۔ تاہم اس کی سفید قمیص پر خون کے دھبے تھے جو پھندے کے نیچے سے رِس کر باہر نکلا تھا۔
چند گھنٹوں میں یہ پتا چل جائے گا کہ سیتھ نے قریبی چرچ میں صبح گیارہ بجے کی عبادت میں شرکت کی تھی۔ اس نے واقف کاروں سے باتیں کی تھیں، نائب پادری سے ہنسی مذاق کیا تھا، پلیٹ میں نذرانہ رکھا تھا اور معقول حدتک خوشگوار موڈ میں تھا۔ اکثرلوگ جانتے تھے کہ سیتھ پھیپھڑے کے سرطان کے خلاف جنگ لڑ رہا تھا۔ اگرچہ کوئی بھی نہیں جانتا تھا کہ ڈاکٹروں نے اسے زندہ رہنے کے لیے مختصر وقت دیا تھا۔ سیتھ چرچ کی بہت سی عبادات کا باقاعدہ رکن تھا۔ تاہم اس کے ماتھے پر دو طلاقوں کی بدنامی کا دھباّ تھا اور اسے ایک سچے عیسائی کے طور پر ہمیشہ مشتبہ سمجھا جائے گا۔ اس کی خود کشی ان معاملات میں بہتری نہیں لا سکے گی۔
چنار کا وہ قدیم درخت کئی سالوں سے سیتھ اور اس کے خاندان کی ملکیت تھا۔ اس کے اِردگرد کی زمین پر قدآور درختوں کا گھنا جنگل تھا۔ سیتھ نے قیمتی عمارتی لکڑی کو کئی مرتبہ گروی رکھ کر کافی دولت جمع کر لی تھی۔ یہ قطعہ زمین اس کے باپ نے 1930ء میں مشکوک ذرائع سے حاصل کیا تھا۔ سیتھ کی دونوں سابقہ بیویوں نے طلاق کے مقدمے میں اس زمین کو حاصل کرنے کی سخت کوششیں کیں لیکن اس نے اپنا قبضہ برقرار رکھا۔ چناں چہ انھوں نے اس کے بجائے دوسری چیزیں حاصل کر لیں۔
جائے خودکشی پر سب سے پہلے ایک کارکن کیلوِن باگز پہنچا جس کو سیتھ نے کئی سال سے ملازم رکھا ہوا تھا۔ اتوار کے دن صبح سویرے کیلوِن کو اپنے مالک کا فون آیا تھا۔ ’’دو بجے سہ پہر مجھے پل پر مِلو‘‘ سیتھ نے کہا تھا۔ اس نے کسی چیز کی وضاحت نہ کی اور کیلوِن سوالات پوچھنے کا عادی نہ تھا۔ اگر مسٹر ہیوبرڈ نے اسے ایک خاص وقت پر کسی جگہ ملنے کا کہہ دیا تھا تواس کا وہاں پہنچنا ضروری تھا۔
آخری وقت پر اس کے دس سالہ بیٹے نے ساتھ جانے کی درخواست کی اور اس نے اپنی چھٹی حِس کے برخلاف اس کو مان لیا۔ وہ بجری سے بنی ہوئی ایک سڑک پر روانہ ہوگئے جو میلوں تک ہیوبرڈ کی ملکیت فارم میں بل کھاتی ہوئی گزرتی تھی۔ ٹرک چلاتے ہوئے کیلوِن ملاقات کے بارے میں متجسس تھا۔ اس کو کوئی ایسا موقع یاد نہیں تھا جب وہ اتوار کے دن سہ پہر کے وقت اپنے مالک سے کہیں ملا ہو۔ وہ جانتا تھا کہ اس کا مالک بیمار ہے اور یہ بھی افواہ تھی کہ وہ بتدریج مر رہا ہے لیکن باقی چیزوں کی طرح مسٹر ہیوبرڈ نے اس کو بھی چھپا رکھا تھا۔
پُل ایک بے نام تنگ ندی کے اوپر لکڑی کا ایک پلیٹ فارم سا تھا جوتختوں کو جوڑ کر بنایا گیا تھا۔ ندی بیلوں سے اٹی ہوئی اور پانی کے سانپوں سے بھری ہوئی تھی۔ مسٹر ہیوبرڈ کئی ماہ سے پانی کے گزرنے کے لیے یہاں کنکریٹ کا ایک بڑا پائپ ڈالنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے لیکن خراب صحت نے ان کو یہ کام نہ کرنے دیا۔ یہ پُل ایک صاف قطعہ زمین کے قریب تھا جہاں دو پرانی خستہ حال جھونپڑیاں جھاڑیوں کے اندر گل سڑ رہی تھیں اور پتا دیتی تھیں کہ یہاں کسی وقت ایک چھوٹی سی آبادی ہوا کرتی تھی۔
پُل کے نزدیک مسٹر ہیوبرڈ کی جدید ماڈل کی کیڈلک کار کھڑی تھی۔ اس کا ڈرائیور والا دروازہ اور ٹرنک کھلے تھے۔ کیلوِن نے اپنا ٹرک کار کے پیچھے روک لیا اور کھلے دروازے اور ٹرنک کو غور سے دیکھا۔ اس نے محسوس کیا کہ کوئی نہ کوئی گڑبڑ ضرور ہے۔ بارش متواتر ہو رہی تھی اور ہوا میں تیزی آگئی تھی۔ ایسے میں کوئی وجہ نہیں تھی کہ مسٹر ہیوبرڈ اپنے دروازے اور ٹرنک کو کھلا چھوڑ دیں۔
کیلوِن نے اپنے لڑکے کو ٹرک میں ٹھہرنے کے لیے کہااور خود کار کو چھوئے بغیر اس کے گرد چکر لگایا۔ اس کے مالک کا کہیں نشان تک نہ تھا۔ کیلِون نے گہرا سانس لیا، چہرے سے نمی کو پونچھا اور اِردگرد نظر ڈالی۔ کوئی سو گز دور اس نے ایک جسم درخت سے لٹکا ہوا دیکھا۔ وہ واپس ٹرک کے پاس گیا اور لڑکے کو اندر رہنے اور دروازے مقفل کرنے کے لیے کہا لیکن کافی دیر ہوچکی تھی۔ لڑکا دور چنار کے درخت کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھ رہا تھا۔
’’اب یہیں ٹھہرو‘‘ کیلوِن نے سختی سے کہا ’’اور ٹرک سے باہر مت نکلنا۔‘‘ کیلوِن نے چلنا شروع کر دیا۔ اس کو کچھ وقت لگا کیونکہ اس کے بوٹ کیچڑ میں پھسل رہے تھے۔ اس کے دماغ نے پُرسکون رہنے کی کوشش کی۔ جلدی کس بات کی؟ جوں جوں وہ نزدیک ہوتا گیا، چیزیں زیادہ واضح ہوتی گئیں۔ رسّے کے سرے پر لٹکا ہوا سیاہ سوٹ میں ملبوس شخص مر چکا تھا۔ آخر کیلوِن نے اسے پہچان لیا۔ اس نے سیڑھی کو دیکھا اور منظر اور واقعات کو مربوط کر لیا۔ کسی چیز کو چھوئے بغیر وہ پلٹا اور اپنے ٹرک میں واپس آگیا۔
یہ اکتوبر 1988ء کا واقعہ تھا اور کاروں میں نصب ہونے والا ٹیلی فون ریاست مسس سِپّی کے دیہات میں پہنچ چکا تھا۔ مسٹر ہیوبرڈ کے اصرار پر کیلوِن اپنے ٹرک میں فون لگوا چکا تھا۔ اس نے فورڈکائونٹی کی پولیس کو فون کیا، مختصر رپورٹ دی اور انتظار کرنے لگا۔ ہیٹر کی حرارت اور ریڈیو پر مرلے ہیگرڈ (Merle Haggard) کے گیتوں نے اس کو پرسکون کر دیا۔ وہ لڑکے کو نظر انداز کرتے ہوئے وِنڈ شیلڈ میں سے دیکھتا رہا۔ اس نے محسوس کیا کہ لڑکا رو رہا ہے لیکن خوف کے سبب خاموش ہے۔
آدھ گھنٹے بعد ایک کار میں دو پولیس افسر آئے۔ جب وہ برساتیاں پہن رہے تھے ایک ایمبولینس آگئی جس میں تین افراد کا عملہ موجود تھا۔ سڑک پر کھڑے کھڑے انھوں نے پرانے چنار کو دیکھنے کی کوشش کی۔ چند لمحے نظر کو مرکوز کرنے سے یہ واضح ہوگیا کہ اس کے ساتھ ایک آدمی لٹکا ہوا ہے۔ کیلوِن جو کچھ جانتا تھا وہ اس نے انھیں بتا دیا۔ پولیس افسروں نے کارروائی کو اس انداز میں آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا کہ جیسے کسی جُرم کا ارتکاب کیا گیا ہے اور انھوں نے ایمبولینس کے عملے کو جائے واردات پر جانے سے روک دیا۔ ایک اور پولیس افسر وہاں پہنچ گیا۔ اس کے بعد ایک اور آگیا۔ انھوں نے کار کی تلاشی لی اور انھیں کوئی مفید چیز نہ ملی۔
انھوں نے بند آنکھوں اور مضحکہ خیز انداز میں دائیں طرف کو ڈھلکے ہوئے سر کے ساتھ لٹکتے ہوئے سیتھ کی تصویریں لیں اور ویڈیو فلم بھی بنا لی۔ انھوں نے چنار کے اِردگرد نشانات کو بغور دیکھا لیکن کسی اور کی وہاں موجودگی کا کوئی ثبوت نہ ملا۔ ایک افسر کیلوِن کو چند کلو میٹر دور مسٹر ہیوبرڈ کے گھر لے گیا… لڑکا خاموشی سے پچھلی سیٹ پر بیٹھا رہا۔
دروازوں کے تالے کھولے گئے اور ان کو باورچی خانے کی میز پر ایک زرد رنگ کے عدالتی کاغذ پر ایک نوٹ تحریر کیا ہوا ملا۔ سیتھ نے صاف ستھری تحریر میں لکھا تھا: ’’کیلوِن کے نام۔ براہِ مہربانی حکام کو مطلع کر دو کہ میں نے اپنی جان کسی کی مدد کے بغیر خود لی ہے۔ منسلکہ کاغذ پر میں نے اپنی تجہیز و تکفین کی خصوصی ہدایات لکھ چھوڑی ہیں۔ پوسٹ مارٹم ہرگز نہ کیا جائے۔ سیتھ ہیوبرڈ۔‘‘
کیلوِن کو پولیس افسروں نے بالآخر چھوڑ دیا۔ اس نے جلدی سے دہشت زدہ لڑکے کو گھر پہنچایا۔ جہاں وہ بے دَم ہو کر اپنی والدہ کی گود میں گر گیا اور باقی ماندہ دن میں اس نے کوئی بات نہ کی۔ مسِس سِپّی کے دو سیام فام پولیس افسروں میںسے ایک کا نام اوزی والز تھا۔ دوسرا حال ہی میں ڈیلٹاکاؤنٹی سے منتخب ہو کر آیا تھا جہاں 70فیصد آبادی سیاہ فاموں کی تھی۔
فورڈ کائونٹی میں74 فیصد سفید فام لوگ آبادتھے لیکن اوزی نے واضح اکثریت کے ساتھ دوبارہ انتخاب جیتا تھا۔ سیاہ فام لوگ اس سے محبت کرتے تھے کیونکہ وہ ان میں سے تھا۔ سفید فام اس کا احترام کرتے تھے کیونکہ وہ ایک سخت گیر پولیس افسر تھا اور کلینٹن ہائی اسکول میں فٹ بال اسٹار رہ چکا تھا۔ جنوب کی ریاستوں میں فٹ بال کی مقبولیت میں بتدریج اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔
جب اوزی کو فون کال موصول ہوئی تو وہ اپنی بیوی اور چار بچوں کے ساتھ چرچ سے نکل رہا تھا۔ وہ بندوق اور پولیس بیج کے بغیر عام سوٹ ہی میں پُل پر پہنچ گیا لیکن اس کی گاڑی میں پرانے جوتوں کا ایک جوڑا موجود تھا۔ وہ دو پولیس والوں کی معیت میں چھتری کے نیچے کیچڑ میں چلتے ہوئے چنار کے درخت تک گیا۔ سیتھ کا جسم پوری طرح بھیگ چکا تھا اور پانی کے قطرے اس کے جوتوں، ٹھوڑی، کانوں، انگلیوں اور پتلون کے پائنچوں سے ٹپک رہے تھے۔ اوزی قریب جا کر رُکا اور اس نے سیتھ کے پِیلے قابلِ رحم چہرے کو دیکھا جس سے وہ زندگی میں صرف دو بار ملا تھا۔
ان ملاقاتوں کی ایک اپنی داستان تھی۔ 1983ء میں جب اوزی پہلی مرتبہ شیرف کا انتخاب لڑ رہا تھا اس کے پاس کوئی مالی وسائل نہیں تھے اور تین سفید فام افراد اس کے بڑے مخالفین تھے۔ اسے ایک گمنام اجنبی سیتھ ہیوبرڈ کا فون آیا جو فورڈ کائونٹی کے شمال مشرقی کونے میں ٹائیلر کائونٹی کی سرحد پر رہتا تھا۔ اس نے کہا کہ وہ عمارتی لکڑی کا کاروبار کرتا ہے اور الاباما میں اس کے لکڑی چیرنے کے کئی کارخانے ہیں۔
اس نے اپنے آپ کو کامیاب بزنس مین ظاہر کیا اور اوزی کو انتخابی مُہم میں مالی اعانت کی پیشکش کی بشرطیکہ وہ پچیس ہزار ڈالر نقد وصول کرلے۔ سیتھ ہیوبرڈ نے اوزی کو اپنے دفتر میں خفیہ طور پر وہ رقم دکھائی۔ اوزی نے کہا کہ انتخابی مہم کے عطیات ظاہر کرنے پڑتے ہیں۔ سیتھ نے کہا کہ وہ نہیں چاہتا کہ اس کے عطیے کا ذکر کیا جائے۔ وہ نقد لین دین کے علاوہ کوئی اور ذریعہ استعمال کرنا نہیں چاہتا۔
’’تم اس کے بدلے میں کیا چاہتے ہو؟‘‘ اوزی نے دریافت کیا تھا۔
’’میں چاہتا ہوں کہ تم انتخاب جیتو اور کچھ نہیں‘‘ سیتھ نے جواب دیا تھا۔
’’میں اس بارے میں یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہہ سکتا۔‘‘
’’کیا تم سمجھتے ہو کہ تمھارے مخالف اُمیدوار خفیہ طور پر نقد رقوم وصول کر رہے ہیں؟‘‘
’’غالباً۔‘‘
’’یقینا وہ وصول کر رہے ہیں۔ احمق مت بنو۔‘‘
اوزی نے رقم لے لی۔ اس نے اپنی مہم کو بہتر کیا، بھرپور انداز میں مقابلہ کیااور عام انتخاب میں اپنے حریف کو شکست دے دی۔ بعد میں وہ دو مرتبہ سیتھ سے ملنے اور شکریہ ادا کرنے کے لیے آفس آیا لیکن سیتھ سے ملاقات نہ ہوسکی۔ مسٹر ہیوبرڈ نے اس کی فون کالز کا جواب بھی نہ دیا۔ اوزی نے لوگوں سے ہیوبرڈ کے بارے میںکچھ جاننے کی کوشش کی لیکن بہت کم معلومات مل سکیں۔
اس کے بارے میں افواہ تھی کہ اس نے فرنیچر کے کاروبار میں خوب کمائی کی ہے لیکن کسی کو یقینی طور کچھ معلوم نہیں تھا۔ وہ اپنے گھر کے قریب دو سو ایکڑ زمین کا مالک تھا۔ وہ مقامی بینکوں، انشورنس کمپنیوں یا قانونی مشیروں سے کوئی تعلق نہیں رکھتا تھا۔ وہ کبھی کبھار چرچ جایا کرتا تھا۔ چار سال بعد اوزی کو لوگوں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تو سیتھ نے خود اس سے ملاقات کی۔ پچیس ہزار ڈالر کا ایک بار پھر تبادلہ ہوا اور سیتھ دوبارہ منظر سے غائب ہوگیا۔ اب وہ اپنے ہی ہاتھوں موت کا شکار ہوچکا تھا اور بارش کے پانی میں بھیگا ہوا تھا۔
کائونٹی کا تفتیشی افسر ِفن پلنکٹ بالآخر آپہنچا۔ اب سرکاری طور پر موت کا اعلان کیا جاسکتا تھا۔ ’’آئیے ہم اس کو نیچے اُتار لیں‘‘ اوزی نے کہا۔ گرہیں کھول دی گئیں اور سیتھ کے جسم کو نیچے لایا گیا۔ انھوں نے اس کو اسٹریچر پر لٹایا اور ایک گرم چادر سے ڈھانپ دیا۔ چارآدمی اسے اُٹھا کر ایمبولینس تک لائے۔ اوزی اس مختصر جلوس کے پیچھے پیچھے چل رہا تھا۔
اُسے شیرف کی پوسٹ پر کام کرتے ہوئے پانچواں سال گزر رہاتھا اور اس دوران اُس نے بہت سی لاشوں کا مشاہدہ کیا تھا۔ حادثات، تباہ شدہ کاریں، چند قتل، کچھ خودکشیاں۔ وہ نہ بے رحم تھا اور نہ ہی بوریت کا شکار۔ وہ رابطے کے لیے رات گئے والدین، بیویوں یا شوہروں کو فون کرتا رہتا تھا اور ہمیشہ آنے والے سانحے سے ڈرتا تھا۔ بوڑھا نیک دل سیتھ۔ اب اوزی کس کو فون کرنے والا تھا؟ وہ جانتا تھا کہ وہ بیوی کو طلاق دے چکا تھا لیکن یہ نہیں جانتا تھا کہ اس نے دوبارہ شادی کی تھی یا نہیں۔ اسے اس کے کنبے کے بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا۔ سیتھ کی عمر تقریباً ستر سال تھی۔ اگر اس کے کوئی بالغ بچے تھے تو وہ کہاں تھے؟
ٹھیک ہے، اوزی جلد ہی معلوم کرلے گا۔ کلینٹن کی طرف گاڑی چلاتے ہوئے جبکہ ایمبولینس اس کے پیچھے آ رہی تھی، اس نے ایسے لوگوں کو فون کرنا شروع کر دیے جو شاید سیتھ ہیوبرڈ کے بارے میں کچھ جانتے ہوں۔ جیک بریگینس نے اپنے ڈیجیٹل الارم کلاک کے چمکتے ہوئے سرخ نمبروں پر نظر ڈالی۔ ساڑھے پانچ بجے اس نے ہاتھ بڑھا کر بٹن دبایا اور آہستگی سے اپنے پائوں بستر سے باہر نکال لیے۔ کارلا جلدی سے کھسک کر کمبل کے اندر دوسری طرف ہوگئی۔ جیک نے اس کی پشت پر تھپکی دی اور گُڈمارننگ کہا۔ کوئی جواب نہ ملا۔ یہ پیر کا دن تھا اور وہ بستر چھوڑنے اور حناّکے ساتھ جلدی جلدی اسکول جانے سے پہلے ایک گھنٹا اور سوئے گی۔
موسم گرما میں کارلا اس سے بھی زیادہ دیر تک سوتی تھی اور اس کے دن لڑکیوں والی چیزیں سے کھیلتے اور حناّکی سرگرمیوں سے بھرپور ہوتے تھے۔ جیک کے نظام الاوقات میں شاذ ہی کوئی تبدیلی ہوتی تھی۔ وہ صبح ساڑھے پانچ بجے بیدار ہوتا، چھے بجے کافی شاپ اور سات بجے دفتر پہنچ جاتا۔ بہت کم لوگ اتنے سحر خیز تھے جتنا جیک۔ اگرچہ اب جبکہ وہ پینتیس سال کی پختہ عمر کو پہنچ چکا تھا، وہ اکثر اپنے آپ سے سوال کرتا تھا کہ وہ اتنی جلدی کیوں بیدار ہوجاتا ہے؟ اور وہ کلینٹن اپنے دفتر میں دوسرے تمام وکلا سے پہلے پہنچنے پر کیوں اصرار کرتا ہے؟ ان سوالوں کے جوابات جو پہلے واضح ہوتے تھے اب مبہم ہوتے جا رہے تھے۔
لا اسکول میں تعلیم کے وقت سے اس کا ایک بڑا وکیل بننے کا خواب ہرگز ختم نہیں ہوا تھا۔ حقیقت میں وہ پہلے ہی کی طرح پرُعزم تھا۔ لیکن حقیقت اس کو پریشان کر رہی تھی۔ اس کے دس سال فوج کی ملازمت میں خندقوں کے اندر گزرے تھے۔ اور اب اس کا دفتر وصیتوں، ملکیت کی قانونی دستاویزات اور دو معاہداتی تنازعات سے بھرا ہوا تھا۔ اس کے پاس نہ کوئی اچھا فوج داری مقدمہ تھا نہ تباہ کن کار حادثات کے اُمید افزا مقدمات۔
اس کا انتہائی شاندار لمحہ آ کر گزر چکا تھا۔ کارلی ہیلی کی بریّت تین سال قبل ہوئی تھی اور جیک بعض اوقات ڈرتا تھا کہ اب اس کی پیشہ ورانہ عظمت کا وقت گزر چکا ہے۔ اگرچہ اس نے ہمیشہ کی طرح ان شکوک و شبہات کو رد کر دیا تھا اور اپنے آپ کو یاد دلایا تھا کہ وہ ابھی صرف پینتیس سال کا ہے۔ وہ قانون کا ماہر کھلاڑی ہے اور بہت سی عظیم عدالتی فتوحات اس کی زندگی میں آنے والی ہیں۔
ان کے پاس کوئی کتا نہیں تھا جس کو کمرے سے باہر نکالنا پڑتا کیونکہ وہ اپنے کتے سے محروم ہوچکے تھے۔ میکس تین سال پہلے ایڈم سٹریٹ میں ان کے وکٹورین طرز کے مکان میں جل کر مر گیا تھا۔ ان کا یہ خوب صورت اور پسندیدہ گھر بھاری رقم کے عوض رہن شدہ تھا اور آگ میں مکمل طور پر تباہ ہوگیا تھا۔ ہیلی کے مقدمے کی گرما گرمی میںسفید فاموں کی تشدد پسند خفیہ تنظیم نے جولائی 1985ء میں مکان کو آگ لگا دی تھی۔
پہلے انھوں نے صحن میں ایک صلیب کو جلایا پھر انھوں نے مکان کو دھماکا خیز مواد سے اُڑا دینے کی کوشش کی۔ جیک نے کارلا اور حناّ کو کہیں اور بھیج دیا تھا اور یہ دانش مندی کا کام تھا۔ خفیہ تنظیم کے ارکان نے ایک ماہ تک اس کو مار ڈالنے کی کوشش کی بالآخر انھوں نے مکان کو جلا کر راکھ کر دیا۔ اس نے مقدمے کے آخری دلائل ایک مستعار لیا ہوا سوٹ پہن کر دیے تھے۔
ایک نیا کتا گھر لانے کے معاملے پر فیصلہ کرنا کافی مشکل کام تھا۔ چند ایک مرتبہ انھوں نے اس موضوع پر جوش و خروش سے گفتگو کی پھر کوئی اور موضوع چھڑ گیا۔ حناّ ایک کتا لینا چاہتی تھی اور اسے غالباً اس کی ضرورت تھی کیونکہ اکلوتا بچہ ہونے کی وجہ سے وہ تنہا کھیلتے ہوئے اکثر بوریت کا اظہار کرتی تھی۔ لیکن جیک اور خصوصاً کارلا جانتے تھے کہ انھیں ایک پِلّے کو گھر میں رکھنے اور صفائی کی ذمہ داری اُٹھاناپڑے گی۔ علاوہ ازیں وہ ایک کرائے کے گھر میںبے سکونی کی زندگی گزار رہے تھے۔ شاید کتا حالات معمول پر لانے میں معاون ہوسکتا تھااور نہیں بھی۔ جیک اس مسئلے پر اکثر دن کے آغاز میں غور کرتا تھا۔ سچ یہی تھا کہ وہ واقعی کتے کی کمی کو محسوس کرتا تھا۔
جلدی جلدی نہانے کے بعد جیک نے اس چھوٹے خالی بیڈروم میں کپڑے پہنے جس کو وہ اور کارلا کپڑوں کی الماری کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ کسی اور کی ملکیت اس معمولی سے مکان میں تمام کمرے چھوٹے تھے۔ ہر چیز عارضی تھی۔ فرنیچر پرانی متروک چیزوں کا مجموعہ تھا جو کسی دن اُٹھا کر باہر پھینک دیا جائے گا۔ اگر سارے کام منصوبے کے مطابق مکمل ہوئے۔ اگرچہ جیک یہ اعتراف کرنے سے کتراتا تھا کہ کچھ بھی اس کے ارادے کے مطابق نہیں ہو رہا تھا۔ انشورنس کمپنی کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا معاملہ قبل از مقدمہ مصالحتی کوششوں میں تعطل کا شکار ہوگیا تھا اور اب صورت حال مایوس کن معلوم ہوتی تھی۔ اس نے ہیلی کے فیصلے کے چھے ماہ بعد یہ مقدمہ دائر کیا تھا۔
جب وہ کامیابی اور اعتماد کے نقطۂ عروج پر تھا۔ ایک انشورنس کمپنی اسے تنگ کرنے کی جرأت کیسے کرسکتی تھی؟ اگر مقدمہ فورڈ کائونٹی میں کسی جیوری (عدالت) کے سامنے پیش ہوا تو وہ ایک اور بڑا فیصلہ کروا دے گا۔ لیکن اس کی تمام تر خوش اعتمادی اور فخر دھواں بن کر اُڑ گیا جب جیک اور کارلا نے بتدریج محسوس کیا کہ ان کے مکان کی انشورنس انتہائی کم قیمت میں کی گئی تھی۔ چار بلاک دور ان کا خالی اور جلا ہوا گھر ویرانی کا منظر پیش کر رہا تھا۔ ان کی ہمسائی مسز پِکل اس کا خیال رکھتی تھی لیکن وہاں خیال رکھنے کے لیے کچھ تھا ہی نہیں ۔ ہمسائے منتظر تھے کہ وہاں ایک عمدہ نیا گھر تعمیر ہوگا اور بریگینس فیملی واپس آجائے گی۔
جیک بغیر آواز پیدا کیے حناّ کے کمرے میں گیا، اس کے رخسار کا بوسہ لیا اور کمبل تھوڑا اور اس کے اوپر کھینچ دیا۔ وہ اب سات سال کی تھی۔ ان کی اکلوتی اولاد اور مزید کسی بچے کی آمد متوقع نہیں تھی۔ وہ کلینٹن ایلیمنٹری اسکول میں دوسری جماعت کی طالبہ تھی۔ اس کے کمرا جماعت کے قریب ہی اس کی والدہ کنڈر گارٹن بچوں کو پڑھاتی تھی۔
تنگ سے باورچی خانے میں جیک نے کافی بنانے والے جگ کا بٹن دبایا اور مشین کو دیکھتا رہا حتیٰ کہ وہ شور کرنے لگی۔ اس نے اپنا بریف کیس کھولا، اس کے اندر رکھے ہوئے 9ملی میٹر کے سیمی آٹو میٹک پستول کو چھو کر دیکھا اور کچھ فائلیں اندر ٹھونس دیں۔ وہ اب اسلحہ لے جانے کا عادی ہوچکا تھا اور یہ چیز اس کو غمزدہ کرتی تھی۔
وہ ہر وقت ہتھیار ساتھ رکھتے ہوئے ایک نارمل زندگی کیسے گزار سکتا ہے؟ زندگی نارمل ہو یا نہ ہو، ہتھیار ایک ضرورت تھی۔ وہ تمھارے گھر کو بم سے اُڑانے کی کوشش کے بعد اس کو جلا دیتے ہیں۔ وہ فون پر تمھاری بیوی کو دھمکیاں دیتے ہیں۔ وہ تمھارے صحن میں ایک صلیب کو جلا دیتے ہیں۔ وہ تمھاری سیکرٹری کے شوہر کو مار مار کر بے ہوش کر دیتے ہیں اور بعد میں وہ چل بستاہے۔ وہ تمھیں مار ڈالنے کے لیے ایک نشانہ باز کو استعمال کرتے ہیں لیکن تم بچ جاتے ہو اور گولی محافظ کو لگ جاتی ہے۔ وہ مقدمے کے دوران دہشت پھیلاتے اور مقدمہ ختم ہوجانے کے بعد بھی دیر تک دھمکیوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہیں۔
چار دہشت گرد اب قید کی سزائیں بھگت رہے تھے۔ صرف چار، جیک اپنے آپ کو مسلسل یاد دلاتا رہتا تھا۔ اب تک تو درجن بھر ملزمان پر فردِ جرم عائد ہوجانی چاہیے تھی۔یہ ایک مشترک احساس تھا جو اوزی اور کائونٹی کے دوسرے سیاہ فام راہنمائوں میں پایا جاتا تھا۔ عادت اور مایوسی کے احساس کی وجہ سے جیک کم از کم ہفتے میں ایک بار وفاقی تحقیقاتی ایجنسی(FBI)کو فون کرکے تحقیقات میں تازہ ترین معلومات لیتا تھا۔ تین سال بعد اس کی فون کالز کا اکثر جواب نہیں دیا جاتا تھا۔ وہ خطوط بھی لکھتا تھا۔ اس کے دفتر میں ایک الماری انہی فائلوں سے بھری ہوئی تھی

Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers