دنیا میں جہاں کہیں بھی پارلیمانی نظام ہو، یا صدارتی انتخاب، لوکل باڈی اور میئر کا ہونا لازم ہے یہ نیویارک ہو یا ماسکو، بیجنگ ہو یا ممبئی مگر صد افسوس کہ جمہوریت کا طبل بجانے والی پارٹیاں جمہوریت کے پانچ برس پورے کرنے والی جمہوریت کی دعویدار جب کبھی لوکل باڈی کا نام آتا ہے تو ان کو سانپ سونگھ جاتا ہے۔ تفصیل سے پڑھیے
پاکستان میں یہ عمل کسی اور وجہ سے نہیں بلکہ اس کے پس پشت محض کرپشن سے خصوصاً کراچی جیسا شہر جو آبادی کے اعتبار سے دنیا کے کئی ملکوں سے بڑا ہے مگر یہاں پر بلدیاتی انتخاب کا عمل معدوم ہے کیونکہ کراچی میں بدانتظامی اور کرپشن ایک بڑی منڈی ہے ملک کے دو لیڈروں قائد اعظم اور لیاقت علی خان کو حکومت کرنے کا موقع نہ ملا ایک تو بانی پاکستان دوسرے رہنما خان لیاقت علی خان قائد اعظم تو علالت کے باعث چل بسے گو کہ ان کی موت پر بھی اور ایمبولینس کی آمد پر بھی محترمہ فاطمہ جناح کو تحفظات تھے اور لیاقت علی خان کو تو ہزاروں کے مجمع میں شہید کر دیا گیا۔ جمہوریت پر یہ پہلا حملہ تھا کیونکہ وہ ملک کی خارجہ اور داخلہ پالیسی کو یکسر بدلنا چاہتے تھے۔
ملک کے لیے بالکل آزاد خارجہ پالیسی بننے کو تھی جو مغربی ممالک کے دباؤ سے آزاد، اور نہ معاہدہ وارسا کی گرفت پر کاربند، نہ نیٹو، کراچی جس کی وسعت کا انھیںاندازہ تھاکیونکہ دارالسلطنت ہونے کے ساتھ ساتھ یہ کاروباری مرکز کی شکل دھار چکا تھا۔ شاید اس بات کا علم کم ہی لوگوں کو ہو گا کہ خان لیاقت علی خان کی نگاہ بلند کراچی کے مخصوص زمینی خدوخال کی بنا پر اس کو اٹلی کے شہر وینس کے طرز پر بسوں کا لوڈ کم کرنا چاہتے تھے۔ آیندہ کی بڑھتی ہوئی حد نگاہ تک جسے وہ دیکھ رہے تھے کراچی کے تمام نالوں اور ندی کا مکمل زمینی سروے کرا کے آبی سفر کرانے کا منصوبہ تھا۔ پورے شہر میں ہر نالے پر بند باندھنے کا اہتمام تھا۔
نالے کی گہرائی پانی کے اعتبار سے 15 تا 20 فٹ ہونی تھی اگر آپ کراچی سے گزرتی ہوئی ندیوں کا جائزہ لیں تو معلوم ہو گا کہ حسن اسکوائر، لیاقت آباد، سہراب گوٹھ، گوجر نالہ کی ندی، اور سائٹ حبیب بینک کی ندی ملیر ندی شہر کے وسط سے گزرتی ہوئی یہ آبی گزرگاہیں پورے کراچی کو کور کرتی ہیں۔ اس پانی میں مچھلیوں کی افزائش ندی نالوں کی صفائی ہونی تھی ذخیرہ آب برسات سے اور شہر میں ٹراموے کا جال ہونا تھا اس کے علاوہ ریلوے کا اہتمام تو آنے جانے والے لوگوں کو ذاتی ٹرانسپورٹ کا استعمال کم سے کم ہوتا کیونکہ یہ ندیاں پورے شہر سے گزرتی ہیں اس طرح ماحولیاتی حالات بھی مزید بہتر ہو جاتے مگر صد افسوس آنے والی حکومتوں نے اپنی جیب بھرنے کے علاوہ کچھ نہ کیا یہ آبی سروس ایک وسیع ملازمتوں کا بندوبست تھا۔
چھوٹے جدید اسٹیمر، کشتیاں بالکل مشکل نہ تھا کیونکہ لیاری کی آبادی اور ان دنوں بنگالیوں کی کثیر آبادی کراچی میں مقیم تھی جو مچھلی اور مرغیوں کے فارم کا کام کرتی تھی۔ بنگلہ دیش کے قیام کے باوجود سندھ میں پولٹری فارمنگ میں آج سندھ میں بنگالی ملازمین کراچی، بدین، گھارو، ٹھٹھہ، چوہڑ جمالی تک اور دیگر علاقوں میں وہ اس کام میں مصروف ہیں پھر کشتی رانی میں بلوچ کافی ہیں، ممبئی آبادی کے بوجھ تلے دبا جا رہا ہے حکومت کی بہترین ریلوے کارکردگی اور سمندر کے اوپر سے پل تعمیر کرنے کے منصوبے کے باوجود ان کے میئر (Mayor) کی منصوبہ بندی ممبئی کو آلودگی سے نہ بچا سکی کیونکہ ممبئی شہر کو انگریز کی منصوبہ بندی نے زیادہ اہمیت کا حامل بنا دیا تھا۔
حالانکہ انگریز حکومت نے ابتدا میں کلکتہ کو اہمیت دی تھی آپ کو یاد ہو گا کہ فورٹ ولیم کالج وہیں قائم تھا مگر وہاں کمیونسٹ پارٹی کی کارکردگی بہتر تھی اس لیے انگریز حکومت اور آنے والی حکومتوں نے مشرقی بنگال سے سرمایہ اور تجارتی مراکز ممبئی منتقل کیا۔ مگر ایسا نہیں کہ وہاں کے بلدیاتی نظام کو مفلوج کر دیا ہو مگر کراچی اور ملک کے دوسرے حصوں میں بلدیاتی نظام کو نظرانداز کیا جاتا رہا جس سے ملک میں شہری آبادی صاف پانی، سیوریج اور سڑکوں کی ٹوٹ پھوٹ کے نظام کو بہتر نہ بنایا جا سکا کیونکہ آنے والی اسمبلیاں تمام رقوم کو اپنے پاس رکھنے اور خرچ کرنے کی عادی بن چکی ہیں اور جعلی منصوبہ بندی کے پروگراموں کی تشہیر میں مبتلا ہیں۔
آپ ذرا غور فرمائیں کہ ملک کا پہلا وزیر اعظم کس درجے کی دور اندیشی رکھتا تھا کہ وہ کراچی کو وینس بنانا چاہتا تھا تو ملک کے دوسرے حصوں کو کس مقام پر پہنچانا چاہتا تھا اب آپ یہ سوچ سکتے ہیں کہ اتنا خفیہ منصوبہ اور اس کا انکشاف 60 سال بعد کس طرح اور کس حوالے یا بنیاد پر  کیا جا رہا ہے، لہٰذا راجہ صاحب آف محمود آباد  جب بھی لندن سے کراچی آتے اور اپنے باتھ آئی لینڈ کے مکان میں قیام کرتے تو والد مرحوم پروفیسر مجتبیٰ حسین سے ملاقات کرتے اور سیاست دوراں پر گفتگو ہوتی لہٰذا پاکستان کی تحریک میں جو لوگ شامل تھے ان کا موازنہ آج کے لیڈروں سے کرنا بے سود ہے وہ لوگ ملک پر اپنی دولت خرچ کرتے تھے اور آج کے حاکم ملک کی دولت باہر جمع کرنے میں مصروف ہیں لیڈر سے لے کر میئر تک کا ایک ہی ہدف ہے غرق کرو پاکستانیوں کو اور ہمنوا بن کر مغرب کا جیو۔
بلدیاتی انتخاب میں حلقہ چھوٹا ہوتا ہے۔ لہٰذا اس بات کے امکانات کافی ہوتے ہیں کہ صوبائی اسمبلی میں انتخابی نتائج کچھ اور ہوں کیونکہ پاکستانی پارٹیاں کاغذ کے اس کھیل میں مہارت رکھتی ہیں۔ مگر چھوٹے حلقے میں کاغذ کا یہ کھیل آسانی سے نہیں ہو سکتا، پھر جب معاشرہ زوال پذیر ہو، اسکول، کالج کے امتحانات میں نقل اور رقم کا ملاپ ہو گیا ہو جعلی ڈگری اور اسمبلی کے ممبران پھر ۔۔۔۔ تو اس معاشرے کی بدحالی کہاں تک جا کے رکے گی اور رہے سہے جو بلدیاتی انتخابات ہوئے بھی اس کا احوال بھی کچھ اچھا نہ رہا، لفٹر خریدے گئے وہ ناقص۔ شہر میں کیمرے نصب کیے گئے وہ بھی ناقص۔ شہر میں پل گرنے کا کوئی احتساب نہ ہوا، شہر کی پانی کی پائپ لائنیں خراب ہو چکی ہیں، گٹر لائنیں چوک ہو چکی ہیں، حیدر آباد کی اسٹیشن روڈ بالکل برباد ہوچکی ہے کیونکہ شہری ترقی، صفائی ستھرائی کا نہ کوئی ذمے دار ہے اور نہ کوئی جوابدہ۔
برسات اب قریب ہے، پھوار پڑ بھی رہی ہے، دن میں کئی بار ہوائیں رخ بدلتی ہیں مگر زیادہ دیر کے لیے نہیں۔ آیندہ چند ہفتوں میں ایسا بھی ہے کہ مون سون کی ہوائیں اپنے دوش پر مشکیزہ لے کر چلیں اور پورا ملک آب آب ہو جائے۔ زمینیں آباد ہو جائیں۔ زمین میں چھپے مینڈک شور مچائیں، تتلیاں، ٹڈیاں، پھول، پودے جھوم اٹھیں مٹھی کی مٹی جو بوند بوند کو ترستی ہے اس کا چہرہ نکھر آئے مگر ہماری نااہلی کی بنا پر کہیں ایسا نہ ہو کہ سیلاب چلے اور وہ پانی جو بند میں بندھا ہونا چاہیے تھا وہ بستیاں تاراج کر کے سمندر میں چلا جائے۔
اس موقعے پر ایک اہم مسئلہ جو کراچی کو درپیش ہے اس کو یاد دلاتا چلوں کہ کراچی میں لیاری ایکسپریس کا منصوبہ جس کا بڑا شور مچا تھا آخر کار اس پر عملدرآمد ہو گیا سڑکیں بن گئیں مگر ہنوز آباد نہیں مگر اس منصوبے نے لیاری ندی کے بہاؤ پر گہرے زخم لگائے ہیں ندی ملبے کے ڈھیر بن گئی ہے کناروں پر آبادی کا پھیلاؤ بہار کالونی سے لے کر سہراب گوٹھ، حسن اسکوائر جس کا نتیجہ یہ ہو سکتا ہے جو کچھ کراچی میں 30 جون 1977ء کو ہوا تھا دس بارہ گھنٹے مسلسل تیز بارش ہوئی اور رات کو ملیر ندی کے کناروں پر آبادی رات کو بہہ گئی۰ وہاں سے لے کر ریکسل کا علاقہ، لیاری ندی، دھوبی گھاٹ کا علاقہ اتفاق کی بات ہے مجھے ایک شخص جو اس بہاؤ سے بچ گیا مگر سارا گھر بہہ گیا اس نے بتایا کہ لسبیلہ پل کے ایک سے 2 فٹ پانی چل رہا تھا۔
بہار کالونی، مسان روڈ، ڈرگ روڈ سے لوگ ڈوب کر ہلاک ہوئے، مرنے والوں کی تعداد 2500  کے لگ بھگ تھی 30 جون کی وہ رات ان پہ بھاری تھی زمین کے اوپر سے پانی جگہ جگہ نکل رہا تھا جب کہ لیاری ندی ملبے سے پٹ چکی ہے تو اس کا اب کیا حال ہو گا کہ نکاسی آب کا عمل کیسے ہو گا اگر تیز برسات ہوئی اور دیر تک تو شہر کون سا سماں پیش کرے گا۔ اتفاق کی بات ہے ممبئی میں 30 جون 1977ء لگا تار 24 گھنٹے بارش ہوئی وہاں کراچی کے مقابلے میں نکاسی آب بہت بہتر ہے مگر وہاں بھی ہزاروں لوگ لقمہ اجل بنے

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers