میونخ  کے بارے میں سمرسٹ ماہم نے کہا تھا کہ یہ وہ شہر ہے جہاں سانس لیں تو ادب آپ کی رُوح میں سما جاتا ہے۔ یہی حال اُن دنوں منٹگمری کا تھا جسے بعد میں ساہیوال کا نام دیا گیا۔ شاہد سلیم جعفری، سجاد میر، فہیم جوزی، قیوم صبا، حفیظ الرحمن، پیر جی اقبال نقوی، منظور اعجاز، امین اویس، ریاض پوسوال، راقم الحروف اور سینئرز میں علامہ عطاء اللہ جنوں، عظامی صاحب، اکرم خاں قمر، گوہر ہوشیار پوری، جعفر شیرازی، منیر نیازی، حکیم محمود رضوی، محمود علی محمود، مراتب اختر، ناصر شہزاد، اشرف قدسی، بشیر احمد بشیر جنھوں نے کہا تھا:- تفصیل سے پڑھیے
منٹگمری کی مہکتی شام کیا کہنا ترا
تیرے کوچے میں غمِ دل ہے غمِ دُنیا نہیں
اُدھر گورنمنٹ کالج میں ’بزمِ ادب‘ ڈراما سوسائٹی ’فلم فیسٹیول‘ اور ہفت روزہ ادبی اجلاس، قدآور اساتذہ ڈاکٹر اے ڈی نسیم، راجا عبدالقادر، نذیر احمد بھلی، جی ایم ڈین مرزا (جہاں ن م راشد اکثر تشریف لاتے) اور مجید امجد یہاں بھی مرکزی شخصیت تھے، جن کی وجہ سے ہم طالب علموں کو وہ بحثیں سننے کو ملتیں، جو اَدب کے عالمی تناظر کی خبر دیتیں۔ شہر اور کالج کی فضائوں میں ہم سے سینئر لوگوں کی ابھی خوشبو محسوس ہوتی تھی۔ ڈاکٹر خوا جہ مہدی حسن، طارق عزیز، نذیر ناجی، عباس اطہر، ارمان عزیز، عرفان عزیز، ظفر اقبال، ڈاکٹر خورشید رضوی۔ یہ ایک ایسا ہی ماحول اور فضا تھی جس کے بارے میں میونخ مشہور تھا۔
اب اُن گلی محلوں میں فرنیچر مارکیٹ بن چکی ہے جہاں سانس لیں تو لکڑی کا بُور آپ کی رُوح میں سما جاتا ہے۔ یہی وہ محلہ ہے جس میں شاہد سلیم جعفری نے فرید ٹائون منتقل ہونے سے پہلے اپنا بچپن گزارا تھا اور پاس ہی سکھ چین والی گلی میں سجاد میر سے دوستانہ اور ہمعصری کی چپقلشیں ہمہ وقت معانقہ کرتی نظر آتیں۔ کبھی یہ تپش گھر تک جا پہنچتی تو اُس کی ماں جو سب کی اماں تھی، ایک شعری تبرّیٰ مرسل کرتیں ’ابے جا‘ فکر ہرکَس بقدرِ ہمتِ دوست ’اور بچپن کی یہ متحارب قوتیں مغلیہ کلچر کے طاقتور پسِ منظر میں شرمندہ یا فرحاں ہو کر بکھر جاتیں۔
بزمِ قمر کے ماہانہ طرحی مشاعرے سے مجید امجد چوک مور والا کی طرف پیدل ہی سائیکل بدست چلتے تو نوجوان شاعروں کا پُرعقیدت گروہ اُن کے ہمراہ ہوتا۔ مراتب اختر، ناصر شہزاد، گوہر ہوشیار پوری، بشیر احمد بشیر، صابر کنجاہی، محمود علی محمود اور ایک دوسرا منتظر گروہ بڑی چابکدستی سے انھیں گھیر کر بااَدب ہو کر کسی چِٹ پر دستخط کرواتا اور کسی دوسرے کے لیے جگہ خالی کر دیتا، یہ لوگ مجید امجد کو چینی والا صاحب کہتے تھے (امجد صاحب محکمہ خوراک میں اسسٹنٹ فوڈ کنٹرولر تھے۔ اُن کی چٹوں پر ڈپو ہولڈر ایک دو کلو چینی کنٹرول ریٹ پر دے دیتے تھے۔)
بزمِ قمر سے خراماں خراماں کیفے ڈی روز جا پہنچتے جہاں سب سینئر شاعر جمع ہوجاتے۔ ہم طالب علم جھجکتے ہوئے اس محفل میں جاتے تو ایک خنداں چہرہ ہمارا استقبال کرتا۔ مجید امجد ہمیشہ میر محفل ہوتے اوربڑی دھیمی آواز میں ایک ایک کا نام لے کر کسی تازہ تخلیق کے بارے میں پوچھتے۔شاعروں کی اس محفل میں ریاض پوسوال مرتضیٰ سکھیرا اور میں افسانہ لکھتے۔ امین اویس شاعری کی طرح اپنا مختصر افسانہ زبانی سُنا ڈالتا۔ شاہد سلیم جعفری مختصر نظم سُناتا۔
وہاں دھیمے سروں میں زندہ رہنے والے ادیبوں میں کبھی کبھی ع غ اور عزیز خاں، (محمود علی خان عزیز) پاپ میوزک کا سماں پیدا کردیتے۔ عبدالغنی عرف ع غ کا پیشہ کلرکی اور شوق اساتذہ کے یادگار شعر سُنانا تھا، چبھتا ہوا فقرہ اور حسبِ حال شعر اُس کی ہر دل عزیزی کا سبب تھا، وہ اور عزیز خاں مل جاتے تو محفل کا رنگ ہی بدل جاتا، لیکن یہ بھی مجید امجد کی موجودگی میں ’خیالِ خاطر احباب‘ کا اہتمام کرتے۔
شاہد سلیم جعفری پنجاب یونیورسٹی جانے تک کیفے ڈی روز کا ایک خاموش کردار تھا۔ یونیورسٹی میں فہیم جوزی، مشتاق صوفی، منظور اعجاز، سعادت سعید، امین اویس اور سجاد میر کے ملاپ نے ’نئے لوگ‘ کی بنیاد رکھی۔ میں ساہیوال میں ’نئے لوگ‘ کا نمائندہ تھا۔ پہلے میں ادبی تنظیم ’گوشۂ ادب‘ کا سیکرٹری تھا اور ہفت روزہ ادبی اجلاس منعقد کرواتا تھا، اب ہمارا خودنوشت سائیکلو اسٹائل دعوت نامہ یوں شروع ہوتا ’’نئے لوگ‘‘ کے زیرِ اہتمام ’گوشۂ ادب‘ کا ہفتہ وار اجلاس فلاں تاریخ کو بمقام… منعقد ہوگا۔‘‘
دو مواقع ایسے تھے کہ میں نے مجید امجد کو شاہد سلیم پر بہت خوش دیکھا۔ ایک بار جب وہ لاہور میں ’نئے لوگ‘ کی ترقی پسند طلبا تنظیم کے بارے میں بتا رہا تھا اور دوسری بار وائی پی ایف (ینگ پیپلز فرنٹ) کے نام سے ڈاکٹر عزیز الحق کی سربراہی میں بننے والی تنظیم کا ذکر سن کر وہ بہت خوش ہوئے۔ میں ساہیوال میں وائی پی ایف کا بھی نمائندہ تھا، دونوں تنظیمیں یونیورسٹی طلبا کا ترقی پسند چہرہ تھیں۔ اب ہمارے ساہیوال کے لاہوری دوستوں میں فکری تقسیم واضح ہوگئی۔ سجاد میر کھلم کھلا دائیں بازو کے ساتھ اور سعادت سعید اور امین اویس در پردہ اس کے ساتھ تھے۔ آنے والے دنوں میں تقسیم زیادہ واضح ہوگئی۔ یہی وہ تقسیم تھی جس نے بعد میں ایوب خان کی آمریت کے خلاف اہم کردار ادا کیا۔
آج جب ان واقعات کو گزرے پینتالیس سال ہوچکے ہیں تو میں مطمئن بھی ہوں اور فخر بھی محسوس کرتا ہوں کہ میری سنگت بھی درست تھی اور نظریہ بھی۔ دُور کہیں ماضی میں یہ چمکدار ستارے آج بھی جگمگا رہے ہیں، جن میں ابرار ترمذی بھی تھا جسے ہم سب مصور بابا کہتے، وہ اپنے اسٹوڈیو میں تجریدی پینٹنگز بنانے میں مگن رہتا۔ شام سمے وہ تینوں میں سے کسی ایک محفل میں آجاتا۔
یہ محفلیں باقاعدگی سے کیفے ڈی روز، جی ایم ڈین کے گھر یا پروفیسر راجا عبدالقادر کے ہاں منعقد ہوتیں۔ راجا صاحب کی بیٹی نبیلہ بھی یہاں گفتگو میں حصہ لیتی۔ مجید امجد نے ایک نظم ’اس دن اُس برفیلی تیز ہوا‘ نبیلہ کے لیے کہی تھی۔ نظم کے یہ حصے میرے ذہن کی اسکرین پر ہمیشہ جھلملاتے رہتے ہیں:  اُس دن، تم نے مجھ سے کہا تھا
اِک دن میرے لیے تم اس دُنیا کو بدل دوگی، یہ تم نے کہا تھا
اس دن بھری سڑک پر، تم نے پیدل روک کے
اپنے بائیسکل کو میرے بائیسکل کے ساتھ ساتھ چلا کر، مجھ سے کہا تھا:
’’آپ ایسے لوگوں کو بھی روز یہاں پتھر ڈھونے پڑتے ہیں، روٹی کے ٹکڑے کی خاطر۔‘‘
اور میں اب بھی تمھارے کہے پر
اس پٹڑی کے اِک تختے پر
عمروں کی گنتی کے چھٹے دہے پر
اُس دُنیا کا راستہ دیکھ رہا ہوں، جس میں تمھارے نازک دل کی مقدّس سچائی کا حوالہ بھی تھا
جانے پھر تم کب گزرو گی اِدھر سے اس دُنیا کو ساتھ لیے
ماضی کے تمام کرداروں سمیت۔ ان میں شاہد سلیم جعفری سمیت سبھی خواب دیکھنے والے دوست شامل ہیں۔ 1968-69ء میں پنجاب یونیورسٹی کی فضائوں میں شاہد سلیم جعفری کا یہ مصرعہ گونج رہا تھا۔ ’’تم نہ آئیں پیاری شبو پاگل مارچ بیت گیا۔‘‘  اور مصّور بابا انگلینڈ جانے کے لیے مسلسل کوشاں تھا۔ اُس وقت پاکستان میں ایم اے فائن آرٹس کی کوئی گنجائش نہ تھی۔ جاتے ہوئے اُس نے تمام دوستوں سے کہا کہ اگر وہ سِٹنگ “Sitting”کے لیے تیار ہوں تو وہ ان کا پوٹریٹ بنا کر بطور تحفہ اور یادگار اُنھیں پیش کرے گا۔ مصّور بابا نے میرے علاوہ فہیم جوزی، شاہد سلیم جعفری، میاں حفیظ الرحمن، قیوم صبا اور نبیلہ کا آئل پینٹنگ میں پوٹریٹ بنایا۔
میرے پاس وہ تصویر ہارڈبورڈ پر اَب بھی محفوظ ہے جس پر انگریزی میں ’ابرار اپریل 1967‘ لکھا ہوا ہے۔ تین سال پہلے خبر آئی تھی کہ ابرار ترمذی لندن کے ایک فلیٹ میں مردہ پایا گیا:
؎میں روز اِدھر سے گزرتا ہوں کون دیکھتا ہے
میں جب اِدھر سے نہ گزروں گا کون دیکھے گا
مصّور بابا کے بنائے پوٹریٹ پر اپریل1967ء اور نبیلہ والی لکھی نظم پر مئی 1968ء کی تاریخ درج ہے۔ یہ ہماری زندگیوں کا موسمِ عشق تھا، اُن دنوں ہم یوں تھے کہ ایک دوسرے کے بغیر زندگی ناممکن نظر آتی۔ پھر ہم دھیرے دھیرے بکھرتے گئے۔ اتنے سال بعد نعیم نقوی نے شاہد سلیم کے حوالے سے یادوں پر مبنی تحریر کا کہا۔ عزیز خان نے اُسی لہجے میں حکم دیا، زنگ آلود چاقو کی طرح قلم بھی اپنا کام نہیں کرتا۔ ذہن پہ زیادہ زور دیا تو یہ بے ترتیب تحریر لکھ ڈالی۔ خدا‘ شاہد سلیم جعفری کو ہمیشہ خوش رکھے، اُس کے سارے دوستوں کو بھی، حامد کمال کو بھی جس سے ملے صدیاں بیت گئیں۔ بس یوں محسوس ہوتا کہ:
؎موسمِ عشق جو آیا تو قیامت لایا
پھر وہ موسم تو گیا اور قیامت نہ گئی
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers