زندگی کیسی بھی ہو ، کہیں سے بھی چلی ہو، آپ منہ میں سونے کا چمچ لے کر پیدا ہوے ہوں. مٹی کے تیل کا چولہ استعمال کرتے. عام انسان ہوں یا بادشاہ ہوں. اپنے اپنے طریقے میں زندگی سب کو ایک سی ہی ملتی ہے. "جن کے رتبے ہیں سیوا ان کو سیوا مشکل ہے" لگتا تھا کسی نے صحیح کہا، جب ہم چھوٹے تھے اور آتش جوان تھا. مگر ہمارے تو نہ رتبے ہیں نہ ہی رقبے ہیں. جس سمت نظر اٹھاو کچھ سیدھا دکھائی نہیں دیتا ،سب ظلم میرے ساتھ ہی ہو رہا ہے، یہ آج کی عام سوچ ہے. یہ باہر دیکھنے والوں کی سوچ ہے. کیا کوئی اندر دیکھنے والوں کی بھی سوچ ہے؟  تفصیل سے پڑھیے
یہ سوال کیوں نہیں بنتا کہ میں کون ہوں؟ کیا ہوں؟ کدھر ہوں؟ کدھر ہونا چاہئے؟ کیا میں الله رخ، آخرت ہوکہ انسان ہوں؟ یہ وہ چند سوال ہیں جن سے طے ہو گا کہ آپ خود کش ہیں یا کہ خود کش میں پیدا ہوا میرے ماں باپ کے کئی ارمان، کئی منصوبے میرے میرے هونے کے بڑھنے کے. میں ہلنا جلنا شروع ہوا. چلنا شروع ہوا. دوڑنا شروع ہوا اور پھر جیسے کہ من مانی شروع ہو گئی. سب اس پہ بھی خوش تھے. کبھی کہا یہ نہیں کھانا. پھر ابھی نہیں سونا. یہ نہیں پہنانا. ان پانچ سال میں مجھ پر جتنی ضروری تھی وہ کشیدہ کاری ہو چکی تھی. اب ماننے نہ ماننے کے انداز اور واقعات مجھ پر نقش ہیں. میں نت نۓ انداز گھڑ لیتا ہوں. ہر حد تک عادات پک گئی اور میں اب ایک بھرپور انسان ہوں. اچھا برا جاننے لگ گیا. اچھے برے فیصلے سمجھنے لگ گیا . گویا ماں باپ کا کام مکمل ہوا کسی حد تک. ان نے مجھ کو سب کچھ سکھایا جو وہ جانتے تھے اور وہ بھی جو ساتھ ساتھ جان رہے تھے. وہ سب کیسے بتاتے جو ان کو بھی معلوم نہ تھا. ان نے اس کو کبھی معلوم کرنا بھی نہیں چاہا. مگر ایسا نہیں کہ ان نے مجھ کو کچھ بھی معلوم کرنے سے کبھی بھی منع کیا ہو. کبھی میرے رستے میں کوئی نہیں آیا نہ ہی ایسا ہوا کہ کسی نے مدد سے انکار کیا ہو.کچھ کام خود کے کرنے کے ہوتے ہیں خود کشی بھی خود کے لئے خود کے کرنے کا کام ہے. اس کا طریقہ ہر کے لئے الگ ہے. کیا پہلے یہ نہ معلوم پڑے کہ خود کشی ہے کیا. ہر ایک اس عمل سے گزرتا ہے کیا. اگر نہیں تو کیوں. گزرتا ہے تو کیسے. نہیں ہر اس عمل سے نہیں گزرتا. ہر کو اس کی ضرورت بھی نہیں پڑتی. خود سے باہر کی دنیا اتنا خود کے گرد گھماتی ہے کہ اپنا آپ نظر انداز ہوا رہتا ہے. ایسا نظر انداز کہ وہ ُبلا ُبلا کے تھک کے سو جاتا ہے. ہم کو جگانا یاد ہی نہیں رہتا کہ کوئی سویا ہے. ہے بھی کہ نہیں. اندر کی دنیا الگ ہے. ُاجلا کر تو تو چمکنے لگتی ہے. اندھیرا رکھو تو روشنی نہیں مانگتی. زندگی میں خود کبھی نگاہ پر ہی جاے تو جاگ اٹھتا ہے اندر. وگرنہ تاریکی آواز نہیں دیتی. انسان بھی ایسا ہے کہ جب معلوم پڑ ہی گیا. ایک نے کسی ایسی حالت کا ذکر کیا تھا جو ہر کے اندر ہے. اس کا فائدہ ہی ہے. ہر کسی کو وہ حالت نصیب نہیں ہوتی. پھر بھی کوئی کوئی بلکہ ایک فیصد ہی اس راہ پہ نکلتا ہے. جو جاتا ہے وہ پاتا ہے. اب سوال یہ ہے کہ جاتا کون ہے. یہ ایک فیصد کیسے جاتا ہے. کوئی اس کو کیسے بلاتا ہے. سب سے پہلے یہ کہ ایک فیصد ہے کون. وہ کون لوگ ہیں جو خود کے اندر کو بنانا سنوارنا چاہتے ہیں اور کیوں. کیا یہ خود کا احساس ہے یہ کوئی محسوس کراتا ہے. آسانی یوں ہے. کسی کے دل میں جب سوال جواب هونے لگتے ہیں تو بات خود ہی شروع ہو جاتی ہے. تانک جھانک سے ہی سفر شروع ہوتا ہے. ہر طرف خاموشی. خود کے اندر کا بھی کہنا سننا اور باتیں بنانا بند. جب سب کام بند تو خود سے ملاقات شروع . یہاں سے خود کشی کا سفر شروع بھی اور راہ پر قیام بھی. جو اس پر چڑھ گیا. خود کے دل کی طرف جس نے نظر ڈالی. اب وہ لاکھ جان چھوڑاے کہ میں کس چکر میں ڈل گیا. کچھ نہیں ہونے والا. خود کے بارہ میں اس نظر کرنا ایک مرتبہ آپ کا کام ہے. باقی خود بخود ھوا کرے گا. خود کشی ہو گئی سمجھو. خیر ہی خیر. خود کش کون ہوا. خود ُکشی کیا ہے. خود ُکش تو میں ہی ہوں. جو خود کی طرف دھیان نہیں ڈالنا چاہتا اور خود کو اس ناداں اور ناتواں دنیا کے حوالے کر دیتا ہوں. فانی دنیا کو بھی مانتا ہوں اور فنا کے معنی بھی جانتا ہوں. بس ذرا بھول جاتا ہوں اور اس میں ہو ُگم ہو جاتا ہوں. کبھی تو گم ہوا میں، خود کو اس ُچنگل سے نکال پاتا ہوں اور کبھی یہیں دم دے دیتا ہوں. بنا معلوم پڑے ہی میری خود ُکشی ہو جاتی ہے اور مجھے معلوم نہیں پڑتا. خود ُکش حملہ ایسا ہی ہوتا ہے. خود کو دماغی طور پر ماؤف کر دینا ہی خود کو مارنا ہے. ویسے تو خود کا ساتھ مانگنا ہماری فطرت میں الله نے ڈالا ہے. میں خود کی فطرت کو ُسلانے میں بڑا ماہر ہوں. میرے ارد گرد والوں کو میرے سونے کا تو معلوم پڑتا ہے. نہ میرے اندر کے مرنے کا اور نہ ہی خود کے مرنے کا میرے اردگرد والوں کو معلوم پڑتا ہے. جس دن میں ہوش سمبھالتا ہوں مجھے معلوم پر جاتا ہے کہ میرا اندر بھی ہے اور باہر بھی. اس کائنات کی ہر شے ایسی ہی ہے. سب کا اندر ہے اور سب کا باہر. انسان کے علاوہ سب ہی خود کے اندر سے واقف ہیں. ان کو جن کاموں پر کھڑا کیا ہے کھڑے ہیں. ہم ہیں کہ فطرت سے انحراف پر کھڑے ہیں. خود کے اندر اترتے ہی نہیں. اگر ُکل انسانیت خود سے دوستی کر لے تو دنیا جنت ہو جاے. انسانوں کو شائد معلوم ہی نہیں کہ خود کے باطن سے رابطہ نہ کرنا خود سے ُمنہ موڑنا ہے. اگر بر وقت ُمنہ سیدھا نہ کیا جاے تو خود کی ملاقات ہمیشہ کے لئے رہ جاتی ہے. اوپر جا کہ بندہ الله کو کیا ُمنہ دکھاۓ گا. خود کی خود سے ملاقات کا حاصل کیا ہے. یہ جاننا بہت ضروری ہے. کچھ لوگ خود کو وقت دینا یا خود کے بارے میں فکرمند رہنا، لے کر پیدا ہوتے ہیں. ہم ِان کو سست الوجود بھی کہتے ہیں. خود کے بارے میں سوچنا نہ الله کے بارے میں سوچنا ہے. نہ ہی خود کی صحت یا کام کے بارہ میں. نہ ہی خود کی کوتاہیوں اور خود کی خوبیوں کے بارے میں. خود کا ساتھ خود خود کا ساتھ دینے سے ہی معلوم پڑے گا کہ کیا ہے. اس کے لئے نہ ملا کے پاس جاؤ نہ صوفی کے پاس نہ ہی فلسفی کے پاس. خود کے پاس او

Labels: ,
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers