ـ’’خوش‘‘  کا سابقہ اُردو زبان میں جس لفظ کے ساتھ بھی آجائے اس سے مسرت و شادمانی کا تصور ابھرتا ہے جیسے خوش خط، خوش شکل اور خوش مزاج وغیرہ سوائے’’خوش دامن‘‘ کے۔ ساس (جسے ہمارے کرم فرما خواجہ صاحب Sauceکے وزن پر ادا کرتے اور بولتے وقت تلخی محسوس کرتے ہوئے برا سامنہ بھی بناتے ہیں) نامی مخلوق کو پہلے خوش دامن کس نے کہا۔             تفصیل سے پڑھیے
تاریخ اس بارے میں خاموش ہے۔ ہمارا خیال ہے خاموش نہیں مبہوت اور بھونچکی سی رہ گئی ہے۔ تاریخ سے ہی شکوہ کیوں اردو ادب، میرا مطلب ہے سنجیدہ اردو ادب میں خوش دامن کے عنوان سے کوئی تحریر دکھادیں۔ ہاں ہجو، مرثیے، مزاح میں تذکرہ مفصل انداز میں مل سکتا ہے۔
خواجہ کا کہنا ہے ہر عاقل و بالغ خوش قسمت مردو زن کی زندگی میں خوش دامن کا ہونا ضروری ہے۔ میں نے روایتی انداز میں خوش قسمت کے لفظ پر اعتراض کیا تو کہنے لگے آخرت پر یقین نہیں رکھتے؟ میری جان یہاں سختی کاٹ لوگے تو آگے سُکھی رہوگے۔
سچ تو یہ ہے کہ مغرب میں تو میاں بیوی
اکٹھے نہیں رہتے ساس کے ساتھ خاک
رہیں گے۔ اور ساس بھی ایک مستقل
ہوتو ٹھیک وہاں ہر برس ساس بدل جاتی
ہے یا یوں کہیں صرف نام بدل جاتا ہے
خصائص و نقائص وہی چلتے رہتے ہیں
خواجہ نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا خوش دامن کے موضوع پر ادب میں بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ تسنیم خان جھٹ سے بولے مرنے کے بعد ہی لکھا گیا ہوگا۔ خواجہ بولے خوش دامن کے مرنے کے بعد؟ میں نے کہا نہیں مصنف کے مرنے کے بعد۔ کیونکہ کوئی شخص اپنی زندگی میں اتنی جرأت اور حماقت کا بیک وقت مظاہرہ نہیں کرسکتا۔
مشرق کے ادب میں تو احترام اور عزت کے پیرائے میں ملفوف تنقید کی جاتی ہے لیکن مغربی ادب جہاں ملفوف اور ملبوس ہونے کا رواج کم ہے وہ کچھ کہہ گزرتا ہے کہ نوک قلم جل کر رہ جائے اور صریر خامہ صورِ اسرا فیل بن جائے۔
اور تو اور خاردار پتوں والے پودے کو جس کا ایک مشکل سا لاطینی نام ہے ساس کی زبان “Mother -in- Law’s Tongue” سے موسوم کیا گیا۔ مکان میں آگ لگنے کی صورت میں ان 10 چیزوں کی فہرست میں جنھیں فوراً بحفاظت باہر نکالنا چاہیے۔ ساس کا 10واں نمبر ہے۔
آپ کو یہ جان کر بھی خوشی ہوگی کہ پہلے نمبر پر بیوی کی سہیلی ہے اس کے بعد بیوی کی باری ہے۔ اس درمیان میں پالتو کتا اور طوطا وغیرہ شامل ہیں۔ خیر ہم اس مغربی بے ادبی کو صرف ’’نقل کفر کفر نباشد‘‘ کے عنوان کے تحت تحریر کررہے ہیں۔
مشرق میں ساس وہ ہستی محترم ہیں جن کے وجود سے اس بزم و رزم کی رونق ہے۔ ہنگامہء امر وز و فردا کی روح رواں آزمودہ کار گر تیروں سے لبریز ترکش، چہرے کے تیور سے اپنی بات کہنے کے فن سے آراستہ، برسوں سے ساس در ساس منتقل ہونے والے محاوروں اور ضرب الامثال سے پُر حافظے کی مالک، برجستہ طنزیہ جملوں سے لیس۔
ناکامیوں اور تلخیوں سے کشید کردہ عرق ہلا ہل سے تر مروجہ زبان…اب قلم یوں رواں ہے جیسے اس کی اپنی بھی کوئی ساس ہے۔ خیر اگر آپ ان خوش قسمتوں میں سے ہیں جو بقول خواجہ ’’فان مع العسر یسراً کی آیت پر یقین رکھتے ہوئے آج کل اپنی خوش دامن صاحبہ کے زیر سایہ زندگی گزار رہے ہیں تو یقین مانیں آپ اکیلے نہیں۔ دنیا، قوم، معاشرے یا محلے کی بات نہیں کررہا۔
آخر صدیوں کے بعدبھی اس محترم رشتے میں یگانگت اورمحبت کیوں پیدا نہ ہوسکی؟ شادی سے پہلے ہاتھوں ہاتھ لی جانے والی دلھن کو بعد میں آڑے ہاتھوں کیوں لیا جاتا ہے؟ جس حسینہ کی درازیٔ زلف کاقصہ ہر پڑوسن کو سنایا جاتا تھا اب اس ڈائن کی درازیٔ زبان کے قصے کیوں عام ہیں؟
اِن سوالات کا جواب نہ تاریخ دے سکتی ہے اور نہ مستقبل سے خوش امیدی ہے۔
اِدھر سہرے کے پھولوں کی رنگت پھیکی پڑی اُدھر بہو بیگم نے رنگ دکھانے شروع کیے۔ کہنے کو تو ایک نیا بندھن بنا لیکن جو خلیج بنی وہ صرف شوہر کو ہی نظر آتی ہے ایک طرف بہو ہیں دوسری طرف ان کی ساس اور درمیان میں ایک پل سراط کے مانند تنگ راستہ جس پر صبح شام چل کر شوہر ایک طرف سے دوسری طرف جاتاہے۔
اگر اس مضمون کو زنانہ نگاہیں دیکھ رہی ہیں اور آپ تازہ نووارد بہو ہیں تو میری نصیحت ہے کہ…؟آپ کا خیال ہے یہ کوئی اخلاقی مضمون ہے کہ اچھی نصیحت کی جائے۔ آپ فوراً زبان تیز کرناشروع کردیں۔ ابتدا میں مچھر مکھیوں اور کیڑوں کو بے نقط سنائیں یوں زبان رواں ہوگی۔
کچھ عرصے بعد ملک و قوم کے دشمنوں، ٹی وی کے ڈراموں میں ویمپ اور ولن کا کردار ادا کرنے والوں کے نام لے لے کر کوسنے دیں۔ منہ سرخ کرکے آستینیں چڑھا کر ہاتھ ہلا ہلا کر ان غیر مرئی کرداروں پر ہوائی حملہ کریں۔ چند ماہ میں ہی سسرال کو اندازہ ہوجائے گا کہ بہو بیگم کی وسعتِ بیان اور درازیٔ زبان کی حدود کیا ہیں۔
موجودہ دور میں اسے Nuclear Deterrenceکہتے ہیں، کہ اپنے مہلک ہتھیاروں کی جھلک دکھا دو تاکہ دشمن خبردار رہے۔ اسے معلوم ہو جائے کہ کوئی بھی حملہ Mutually Assured Destruction (جسکا مخفف MADہے ) کی سمت لے جائے گا، لہٰذا کوئی پاگل پن کامظاہرہ نہ کرے۔
سسرال کو خبر ہوجائے گی کہ یہ بظاہر سرسبز شاداب پہاڑی دراصل آتش فشاں ہے جس کے دہانے سے بچنا ہے۔
کیونکہ یہ گوشئہ عافیت نہیں Foot Hillہے۔ کدو، ٹینڈے سے مشابہ شخصیت آپ اپنے دفتر یا کاروبار میں کوئی مہا توپ قسم کی چیز بھی ہیں تو گھر آتے ہی آپ کی حیثیت اور چال ڈھال مِکی مائوس جیسی ہو جاتی ہے آپ کا معاشرے میں آئفل ٹاور جیسا مقام گھر میں گائے کے کھونٹے سے زیادہ نہیں رہتا۔
عزت نفس، شان و شوکت اور احساس تفاخر ایسے کافور ہوتا ہے کہ بس صبح گھر سے نکل کر ہی یہ چیزیں واپس ملتی ہیں بلکہ سچ تو یہ ہے کہ دفتر پہنچ کر پہلا گھنٹہ تو اسی مظلومانہ کیفیت میں گزرتا ہے۔ دن مہینوں میں اور مہینے برسوں میں تبدیل ہوتے ہیں اور چند ہی برسوں بعد آپ کی شخصیت کی تصویر کدو یا ٹینڈے سے مشابہ ہو جاتی ہے ۔ صدحیف، اشرف المخلوقات کا یہ انجام جائے عبرت ہے۔
لیجیے… اس مشورے کے پیسوں سے ایزی لوڈ کروا دیں۔ آپ کا انسانوں سے لڑنے کا دل چاہے تو آپ کے چہیتے شوہر حاضر ہیں۔ آپ کے حسن نے جو ٹیکہ انہیں لگا دیا ہے وہ کافی عرصہ مدہوش اور بے ہوش ہی رہیںگے۔ ان کی تکلیف کا نہ سوچیں ان کی زندگی ایسی اجیرن بنادیں کہ وہ دفتر میں ہی خوش رہے۔
دیر سے گھر آیا کرے، محنت کرے، یوں قومی ترقی میں اپنا کردار ادا کرے۔ آپ کا رویہ اس سے ایسا ہو کہ سڑک پر جھڑکیاں دینے والا پولیس کا عام سپاہی، بدتمیزی سے بات کرنے والا ویگن کا کلینر، ٹریفک کا شوروغل اور ڈانٹ ڈپٹ کرنے والا بالا افسر سب کچھ اسے پھولوں کی سیج لگنے لگیں۔
اگر آپ تازہ داماد ہیں تو میرا صائب مشورہ یہ ہے کہ سسرال میں اپنے سسر کو ہی اپنا خیر خواہ جانیں کہ آپ دونوں میں قدرے مشترک وہی ہیں، دُکھ سانجھا ہے سمع خراشی یکساں ہے۔ یادرکھیںآپکی ساس لاکھ کہیں کہ آپ اچھے داماد ہیں آپ دل ہی دل میں لاحول پڑھ کر اس کا ورد کرتے رہیں۔
اچھا داماد اچھا بیٹا نہیں ہوسکتا اور Vice Versaنمبر SMSکریں آپ کو اب تک معلوم ہوگیا ہوگا کہ یہ گھر (سسرال) آپ کی اہلیہ کے لیے Refuelling Station ہے۔ اس دورے کے بعد جو غش آپ کے گھر والوں کو پڑیں گے وہ اللہ ہی جانتا ہے۔ مونالیزا کی غائبانہ مسکراہٹ سجائے آپ کی ساس آپ کی والدہ کی جگہ ہیں۔ اور آپ کی والدہ جتنی ہی ناخوش۔ عدم کا شعر یاد کریں۔
؎مسکرا کر خطاب کرتے ہو
کیوں عادتیں خراب کرتے ہو
سسر…دُشمن کا دُشمن
آپ نے کبھی اپنے سسر کی حالت دیکھی ہے یہ وہ عظیم الحوصلہ شخصیت ہوتی ہے جس نے اس نابغۂ روزگار شخصیت کے ساتھ اپنی عمر گزار دی، جس نے بڑی سے بڑی بات ایک جنبش گردن اور بڑی سی ہونہہ کہہ کر ٹال دی، جس نے کرب کا اظہار الٹرا سانک فریکونسی پر کیا کہ انسان نہ سن لیں اور صرف سمیع البصیر تک صدا جائے۔
کسی کو اتنی زیادہ تکلیف میں دیکھ کر اپنا دکھ کم محسوس ہوتا ہے اس کا ثبوت آپ کے ساتھ آپ کے سسر محترم کا سلوکِ شفقت اور محبت ہے۔ یہ دراصل آپ کے ساتھ ہمدردی کے جذبات ہیں جو خوف خلق سے شفقت میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ یہاں خلق سے مراد وہی ہیں۔
اگر آپ کو یہاں انگریزی کا وہ محاورہ یاد آرہا ہے کہ میرے دشمن کا دشمن میرا دوست ہے تو اس میں ہمارا قصور نہیں۔
وقتِ رخصت آپ کی ساس کے آنسوآپ کے لیے نہیں آپ کی اہلیہ کی جدائی و فرقت کے لیے ہیں۔
آنسوئوں کی دوسری لہر سسرال میں اسکی زور آوری اور احساس فتح کے تشکر کے لیے ہے۔ سسر کے آنسو خاموش التجا ہیں کہ خدارا مجھے بھی ساتھ لے چلو، رہ گئے اہلیہ کے آنسو تو گاڑی میں بیٹھتے ہی ہوا کے پہلے جھونکے سے خشک ہوجائیںگے۔
آنسوئوں کی ان جھیلوں کے درمیان آپ کی خشک آنکھوں کا جزیرہ اور ہونٹوں پر مسکراہٹ عارضی ہے۔ ساس صاحبہ کی آپ کی درازیٔ عمر کی دعائیں اپنی بیٹی کے سہاگ کے لیے ہیں کہ گھوڑے کے بغیر راکب اور سوار چہ معنی دارد۔
اگر آپ کافی عرصے سے بہو ہیں تو آپ کا یہ گھر یعنی رزم گاہ ایک تربیت گاہ بھی ہے۔ کل کلاں ان شاء اللہ آپ بھی ساس بنیں گی وہ واری جانے والی جو وار کرنے کے لیے بے تاب ہو۔
اگر آپ بہت عرصے سے داماد ہیں تو اب تک آپ دونوں سرحد کے آرپار رہتے ہیں جو نہ آسانی سے عبور ہوسکتی ہے نہ نظر آتی ہے نہ بیان کی جاسکتی ہے۔
اُلفت اور رنجش کے درمیان کا جذبہ جس کے لیے کوئی لفظ ایجاد نہیں ہوسکا۔ یہ بھی تو امکان ہے کہ آپ ہی وہ ساس ہوں جن کے بارے میں ایک دُنیا نے پروپیگنڈا کر رکھا ہے۔ ہوسکتا ہے یہ سلوک کی منازل آپ نے اپنی ساس کے سامنے طے کی ہوں ممکن ہے آپ اپنی ساس کی شفقت سے بچ گئی ہوں اور قدرت نے یہ خوبیاں ازخود آپ میں پیدا کردی ہوں۔
دُنیا کی تنقید سے تو اللہ کے نیک بندے بھی نہیں بچے۔ بس کیا کریں یہ رشتہ ہی بدنام ہوچکا ہے اوپر سے مغرب کی تقلید، ماڈرن تعلیم، ٹی وی ڈراموں اور والدین کی تربیت نے رہی سہی کسر نکال دی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن میں سسرال کو اللہ کے احسانات میں سے ایک قرار دیا گیا ہے اور اس طرح ساس تو نعمتِ خداوندی میں سے ایک ہوئی۔
پھر یہاں اور کتنی نعمتوں کا شکر ادا کیا جاتا ہے جو آپ ہی ملول ہوں۔ کثرتِ گناہ سے انسان پر وبال پڑتا ہے اور نعمتیں بھی زحمت لگنے لگتی ہیں۔
ہم نے تسنیم خان سے پوچھا کہ تمھارے خاندان میں اس رشتے کی کیا حیثیت ہے۔ کہنے لگے ہماری طرف چھوٹی عمروں میں شادی ہوتی ہے۔ ساس کے ابھی آٹھ میں سے پانچ بچے ہی پیدا ہوئے ہوتے ہیں، بچاری کو روایتی ساس بننے کا موقع ہی نہیں ملتا ۔
میری شادی تائی یعنی بڑی ماں کے گھر ہوئی ہے اور میں تو انہیں بڑی ماں ہی کہتا ہوں۔ تم اپنی ساس کو کیا کہتے ہو؟ اس نے خواجہ سے پوچھا: جو منہ میں آئے۔ خواجہ نے کہا۔ کیا مطلب خان نے پوچھا۔ مطلب یہ کہ ساس سامنے نہ ہو تو سب کچھ کہتے ہیں، سامنے ہو تو منافقت میں خاموش رہتے ہیں ۔
اگر بفضلِ خدا آپ شادی کے مرحلے سے نہیں گزرے تو یاد رکھیں اقبالؒنے تمنا آبرو کی ہو اگر گلزار ہستی میں والا شعر ساس کے حوالے سے ہی کہا تھا۔ اگر آپ اسے ہمارا خوش دامن فوبیانہ سمجھیں تو عرض ہے کہ اقبالؒ نے وجودِ زن سے تصویرِ کائنات میں جس رنگ کا ذکر کیا ہے وہ زن دراصل خوش دامن ہیں۔
کیونکہ جو شگوفے خاندان میں کھلتے ہیں ان کی باغبانی اور آبیاری انہی کے سپرد ہے۔ آپ کی بد حالی کی تصویر کی مصور یہی ہیں۔ یہ کائنات آپ کا پیارا گھر ہے، جس ساز پر آپ رقص کناں ہیں وہ میوزک انہوں نے ہی کمپوز کیا ہے آپ زندگی کے سوز دروں کی تلاش میں ہیں۔
ساس بہو کے جھگڑے کی بڑی وجہ کم بچے!
خواجہ کہتے ہیں فی زمانہ ساس بہو کے جھگڑے کی بڑی وجہ بچوں کی کم تعداد بھی ہے۔ پہلے نووارد دُلھن کا واسطہ 6؍ نندوں،8؍ دیورانیوں اور جیٹھانیوں سے پڑتا تھا۔14؍ گھنٹے کے دن میں ہر ایک کے حصے میں ایک گھنٹہ ہی تو آیا۔ اب ایک بہو ایک ساس گویا ہر ایک کے حصے میں 7-7گھنٹے۔
پہلے وسیع و عریض حویلی، قریب قریب اچھے پڑوسی رشتہ داروں کے گھر۔ کہیں چلے گئے اور دل بہل گیا۔ اب 4؍ مرلے کا گھر اجنبی پڑوس اور مقابلہ دو بدو لہٰذہ Hatred Density بھی عروج پر ہوتی ہے۔ خواجہ صاحب اس مسئلہ کو فزکس کے علاوہ ریاضی کے حوالے سے بھی حل کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔
کیونکہ خواجہ صاحب متاثرہ سسرال یا یوں کہیں کہ ساس گزیدہ ہیں اس لیے ایک دن رنجیدگی اور سنجیدگی سے کہنے لگے یار یہ دونوں ساس بہو اگر ضرب و تقسیم کے چکر میں رہیں تو ایک تقسیم ایک یعنی دونوں اکیلی، ان کے آپس میں تفریق ہوئی تو دونوں صفر اور اگر پیار سے جمع ہوجائیں تو دوگنی ہوسکتی ہیں لیکن ایسا کیونکر ہوسکتا آخر؟
سسرال چلے جائیے اور شرم سے ڈوب کر پا جائیے سراغِ زندگی۔
خیر اللہ آپ کو آپ کی ساس کے ساتھ خوش رکھے۔ میں ذرا اس ادارے پر نالش کرنے چلا جس نے میرا نام استعمال کرکے یہ مضمون چھاپ دیا ہے۔ خوف خدا نہیں رہا ایک صاحبِ ساس کو سرِعام بدنام کرتے ہوئے خیال نہیں آیا اِنھیں…
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers