دنیا الله نے میرے لئے بنائی ہے. اتنی رنگین بنائی کہ بچ نکلنا مشکل نہیں نا ممکن ہے. الله پاک خود ہی فرماتا ہے کہ میری دنیا کے کناروں سے نکل سکو تو نکل کے دکھاؤ. اسی لئے شائد میں نے تو تہیہ کر لیا ہے نکل کے جانا ہی نہیں ہے. جب میں نے چھوڑ کر جانا ہی نہیں تو مجھے پوری تیاری کرنی ہے کہ ایسا ہو جو کے مستقل ہو. بھرپور ہو. میں بڑا سا گهر بناؤں گا. بڑی گاڑی. زیادہ سارے پیسے سب میرے لئے ہی تو ہیں. جانا جو نہیں ہے. ہمیش کی زندگی ہے. میں یہ کہتا تو نہیں ہوں مگر کہ میرے کرتوت تو یہی بیان کرتے ہیں. "اساں مرنا ناہی، گور پیا کوئی ہور .  تفصیل سے پڑھیے
" یہ سمجھنا ویسے مشکل ہے کہ اس دنیا میں کیسے رہا جاے. دل کیسے نہ ہی لگایا جاے. کیسے دل لگاے بغیر رہا جاے. جانے کو خالی خولی کہا نہ ہی جاے مانا بھی جاے. کسی کے ماننے کا کیسے معلوم پڑتا ہے. کسی کا خود کا ہی. کسی کی بات چھوڑو. خود کی بات کرو. خود میرا کیا حال ہے. مجھے لگتا ہے میری باری نہیں آنی. میں شائد دنیا کا آخری شخص رہ جاوں گا اور سب اوپر چلے جائیں گے. مگر میں اکیلا رہ کر کیا کروں گا. مزے کروں گا خوب عیش خوب خرچ، ساری رونق صرف میرے لئے رہ جاے گی. نہ کوئی مقابلہ نہ ڈر. یہ مزاج ہے نہ کہ گفتگو.

بات یہ نہیں ہے کہ کب کیا کرنا ہے. بات یہ ہے کہ ہم کو زندگی کیسے گزارنی چاہیے.یہ دراصل بات بھی نہیں ہے، سوچ ہے. جب تک اندر سے آواز نہیں آے گی سمجھ نہیں آنی. دنیا میں رہنا ہے تو کچھ تو دل لگانا ہی ہے. اتنا جاننا ہے کہ کہاں تک دل کا لگانا جائز ہے. دنیا میری ہے، میرے فائدے کی جگہ ہے. مجھے فائدے کا معلوم ہی نہیں پڑتا میں اس میں گھستا چلا جاتا ہوں بغیر حفاظتی تدابیر کئے. پھر کیا؟ پھر پھنس جاتا ہوں، دھنس جاتا ہوں، کھبُ جاتا ہوں دلدل میں اور نیچے ہی جاتا جاتا ہوں. خود کی نظر میں، دنیا کی نظر میں، دنیا بنانے والے کی نظر میں ہور .

سچ ہے ہر وقت اگر یہی دیکھو کہ کہیں دنیا تو زیادہ نہیں ہو گئی تو دم گھٹنے لگتا ہے. گھر کی ہر شے ہی زیادہ لگنے لگتی ہے. دو گلاس کیوں اور تین جوڑے جوتے کیوں؟ میز پہ دو کھانے کیوں. کھانے کے ساتھ سلاد کیوں؟ کھانے کے بعد میٹھا کیوں؟ میٹھے کے ساتھ کافی کیوں؟ میں تو کیوں کیوں کی آواز سے نکل ہی نہیں پاتا. سمجھ میں نہیں آ رہا کہ کیا رکھوں اور کیا کی تلقین کروں خود کو کسی کو. مجے اعتدال کا ہی نہیں معلوم. یہ تو معلوم ہے کہ ہر کا اعتدال الگ الگ ہے. مگر کیا ہے سمجھ نہیں آ رہی. خود کے اعتدال کی، کسی اور کے اعتدال کی. اوپر والے کی طرف دیکھوں تو خود کی ہر شے صحیح لگتی ہے. جائز اور دین کےعین مطابق. نیچے والے کی طرف دیکھوں تو ہر شے میں دنیا زیادہ، گناہوں کا پلندہ لگتا ہے خود کا گھر خود کی ہر شے. جاوں تو کہاں؟؟ میرے سوالات ہی مجھے جینے نہیں دیتے .

یہ دل میں آ رہا ہے کہ ابھی ابھی جو دل میں آ رہا ہے کہ زیادہ ہے دے ڈالوں. جیسے سمجھ آتی ہے کر ڈالوں. کسی سے کوئی فتویٰ نہ لوں. کسی سے نہ پوچھوں کیا کرنا چاہئے. دل کو جس نے گھڑ کے پاک بنا لیا. وہ اس کا استاذ ہوا. اس کی اب آواز ماننی ہی پڑے گی. ہاں یہاں دماغ بھی استعمال کرنا ہے .

کہیں کمی زیادتی خود کے ساتھ ہی نہ ہو جاے. بات تو سچ ہے، ایسا ہو ہی جاتا ہے خود کے ساتھ سلوک کی کبھی سمجھ نہیں آتی. خود کے ساتھ زیادتی کا بھی مجھ کو کوئی حق نہیں. اس کا بھی حساب دینا ہو گا روز جزا کو. میں نے جو خود کو تیار کیا ہے حق کے راستے پر تو مجھ کو تو خود کے فیصلے پر متفق ہونا ہے. مجھے پریشان نہیں ہونا. کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی فیصلہ نہ ہو پانے اور میں مشکوک ہی رہ جاوں گا. جینا ہے خود کو خراب نہیں کرنا. جو کھاتا ہے کہلاتا بھی ہے. خود کے لئے رکھتا ہے دیتا بھی ہے. بھرپور زندگی گزارتا ہے مگر ہمیشہ موت دل و ذہن میں موجود رہتی ہے اس کا جینا ٹھیک ہی ہے. ایسے جانچ لو خود کو. یہی نقش قدم چھوڑو پیچھے والوں کے لئے.

جیو اور جینے کا سہارا بنو

Labels: ,
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers