زندگی قدم گھسیٹ گھسیٹ کے چل رہی تھی اور دن لمبے ہوتے جارہے تھے۔ ایک دن ایک سال کے برابر۔ ایک گھنٹا…ایک دن جتنا۔ وقت پھیل گیا تھا نجانے کیوں؟ طول و عرض کی لمبائی کی طرح بے حد لمبا۔ سرکاری ہسپتال کے پہلے وارڈ کی بدبو دار فضا میں وقفے وقفے سے بیڈ نمبر تیرہ کی گھوں گھوں ماحول کی بدنما خاموشی کو بے ڈھنگے پن سے توڑتی جارہی تھی۔    تفصیل سے پڑھیے
’’یہ بڈھا رات کو بھی سکون سے نہیں سونے دیتا۔‘‘ دن رات آخ تھوکی زور دار آواز سے بلغم نکالنے والے نحیف وکمزور ہڈیوں کے ڈھانچے، بڈھے نے چادر سے منہ نکال کے ناگواری کا اظہارکیا اور چہرہ دوسری طرف کرلیا۔
’’گھوں گھوں…گھوں…‘‘ یہ اس کا جواب تھا۔
اس کے لیے رات بڑی طویل ہوتی تھی۔ شیطان کی آنت کی طرح لمبی۔ سوسو بار کھانس لیتا۔ مگر صبح ہو کر نہ دیتی۔ نیند بھی نہیں آتی تھی۔ آخر کار کوئی دو سو بار کھانسنے کے بعد صبح کی سپیدی کھڑکی کے اُس پار نمودار ہوئی اور کچھ دیر میں کمرا روشن ہوگیا۔ ساڑھے آٹھ بج رہے تھے۔ فہد نے نو بجے آنا تھا۔ جانے اس آدھے گھنٹے کو گزرنے میں کتنے گھنٹے لگنے تھے۔ وہ نظر یں گھڑی پہ جمائے لمحے گننے لگا۔ دروازے سے داخل ہونے والے ہر شخص پہ اسے اپنے بیٹے کا گمان ہوتا پھراسے نہ پاکر مایوسی سے سر ہلاتا ا نووارد کی طرف متوجہ ہوجاتا۔
انتظار تمام ہوا اور اس کا مطلوبہ چہر ہ دروازے میں نمودار ہوا۔ جب تک وہ اس کے بستر کے قریب پہنچتا اس نے اپنے اوپری جسم کو اُس کے استقبال میں اٹھانے کی پوری کوشش کی اور ناکام ہوکے پھر تکیے پہ گِر گیا۔ مگر نظروں اور دیگر اعضاسے بے تابی پھوٹی پڑ رہی تھی۔
’’السلام علیکم ابا جی! کیسی طبیعت ہے آپ کی ؟‘‘ نووارد کے خوش نما چہرے پہ گہری سنجیدگی چھائی ہوئی تھی۔ وہ اس کے قریب بیٹھ کے تھیلے میں سے چیزیں نکالنے لگا۔
’’ وعلیکم السلام پُتر۔ میں تو تیرے سامنے ہوں… گھوں گھوں…تو مجھے اپنے بچوں کا بتا…اور شمس کا…بھی… گھوں گھو…‘‘ جھری زدہ ابھری نس والا ہاتھ اس کے گھٹنے پہ ٹک گیا۔
’’سب ٹھیک ہیں ابا جی‘‘ اس نے بستر سے ملحق میز کی دراز سے پیالہ نکال کر تھیلی میں بندھی گدلی سی یخنی اس میں انڈیلی۔
’’توانھیں مجھ سے ملوانے کیوں…نہیں لاتا؟ انھیں لے آیا کر پُتر…گھوں گھوں… اور شمس… کو بھی۔‘‘
’’ہاں لائوں گا ابا جی‘‘ اس نے چمچ بھر بھر یخنی ان کے منہ میں ڈالنی شروع کی۔
وہ انھیں نہیں بتا سکتا تھا کہ انھوں نے بچوں کے دلوں میں اس قدر دہشت بٹھا رکھی ہے کہ کوئی ان سے ملنے نہیں آنا چاہتا۔ البتہ شمس کی بات اور تھی۔
’’شمس کو بھی لائے گا ناں…؟‘‘ اس نے اپنے پوپلے منہ میں گلکاری کی طرح یخنی کچھ دیر کلے میں دبائے رکھنے کے بعد اندر دھکیلتے ہوئے اُس سے پوچھا۔
’’شمس…‘‘ باپ کے ہونٹوں کے کناروں سے ٹپکتے قطرے رومال میں منتقل کرتے ہوئے اس کے ہاتھ لمحہ بھر کو تھمے تھے۔
’’وہ…ابا جی…ہاں وہ شمس…کہہ رہا تھا کہ مصروفیت کے باعث چکر نہیں لگا سکتا۔ ورنہ وہ… آنا تو بہت چاہ رہا تھا۔‘‘
’’تو سچ …سچ کہہ رہا ہے…پُتر؟‘‘
’’ہاں ابا جی۔‘‘
’’تو ایسا کر…ابھی …فون کر اسے …گھوں گھوں …میرے سامنے…‘‘
’’ابھی ؟؟؟‘‘
’’آہو۔ آواز اونچی رکھیو…بہت دن ہوئے… گھوں گھوں …آواز نہیں سنی اُس کی۔‘‘
فہد نے تذبذب کے عالم میں موبائل اُٹھا کے باپ کا چہرہ دیکھا۔ وہاں آس کے نجانے کتنے چراغ روشن تھے۔ اس نے انگوٹھے کی مدد سے نمبر ملائے اور چند لمحوں میں مردانہ آواز گونجی۔
’’ہاں کیا بات ہے؟‘‘ اس نے اِسپیکر کھول دیا۔
’’شمس…وہ ابا جی کی طبیعت بہت خراب ہے۔ تمھیں یاد کررہے ہیں۔ ڈاکٹرز ان کی طرف سے بہت…‘‘
’’چاچا مَرا تو نہیں ہے نا ابھی؟‘‘ فہد کی بات کے جواب میں دوسری طرف شمس نے توپ کا گولا اُگلا اور چاچا اس حملے سے دہرا ہوگیا۔ یوں لگا جیسے کسی نے ماضی کے قفل لگے دروازے کو دھماکے سے اُڑا دیا ہو اور وہ ماضی میں داخل ہوگئے ہوں۔
’’یہی …بالکل یہی…ہاں یہی الفاظ تو تھے جو کبھی ان کی زبان سے گولی کی صورت نکلا کرتے تھے۔
مکافاتِ عمل…
تاریخ کا خود کو دُہرانا…
یا کچھ اور…سب سے پہلے یہ الفاظ اس کے باپ اور اپنے سگے بھائی کے لیے استعمال کیے تھے۔ انھیں یاد آیا۔
اس زمانے میں خاندانی چپقلش کے باعث دونوں گھرانوں کے درمیان کشیدگی ہوگئی تھی۔ ملنا ملانا سب ختم ہوگیا تھا۔ قریب سے بھی گزرتے، تو یوں بچتے بچاتے گویا اگلا کوئی اچھوت ہو۔ اسی دوران انھیں بڑے بھائی کے دل کے دورے کی خبر ملی، تو انھوں نے افواہ سمجھا اور جب اگلے دورے پہ شکیلہ بھابھی نے معافی مانگتے ہوئے بھائی صاحب کی طبیعت سے مطلع کرتے ہوئے بتایا کہ بھائی صاحب انھیں بہت یاد کرتے ہیں، تو وہ غرور سے تن گئے۔ انھیں لگا وہ بہت اونچے ہوگئے ہوں۔ بھائی صاحب ان کے سامنے جھک گئے تھے۔ ان کی انا کو بڑی تسکین محسوس ہوئی تھی، مگر جھکنا بھائی صاحب کی مجبوری تھی ان کی تو نہیں۔
تب انھوں نے بڑے غرور سے کہا تھا۔
’’ بیمار ہیں تو میں کیا کروں؟ مرے تو نہیں ہیں نا۔‘‘
انھیں علم تھا کہ جو ان جہاں بھائی نے کون سا واقعی مرجانا ہے۔ مگر بھائی صاحب ان لفظوں کا بوجھ سینے پہ لیے اگلے دورے پر دنیا سے رخصت ہوگئے۔
بھائی تھے وہ ان کے…کتنی ہی دیر تو انھیں ان کے جانے کا یقین نہ آیا اور جب آیا ،تو ان کے دل نے بتایا کہ ہر کسی نے اپنے وقت پہ جانا ہے لہٰذا بھائی صاحب بھی قدرت کی طرف سے مہلت ختم ہونے پہ وفات پاگئے۔ تب وہ بڑے کروفر سے ان کے جنازے میں شریک ہوئے تھے۔
وہ ایسے ہی تھے… جو منہ میں آیا سب غلط ملط کہہ جانے والے۔ چھوٹوں کے لیے کوسنے، لعنتیں، بددعائیں… اور بڑے…اور بڑوں کو وہ ناک پر سے مکھی کی طرح اُڑا دیا کرتے تھے۔
’’چاچا سے کہہ دو فکر نہ کرے۔ مرجائے گا،تو جنازے میں ضرور آئوں گا۔‘‘
شمس نے دوسری طرف سے کہا اور رابطہ منقطع ہوگیا۔
’’ابا…ابا جی…آپ آرام سے لیٹیں… ڈاکٹر …ڈاکٹر…‘‘ ان کے ٹیڑھے ہوتے ہاتھ پیر اور حلقوں سے ابلی آنکھیں دیکھ کے فہد بے طرح چلایا تھا۔ لمحوں میں بیڈ نمبر تیرہ ڈاکٹروں کے گھیرے میں چھپ گیا تھا۔
انھیں مختلف شکلیں نظر آنے لگیں۔ وہ لوگ یاد آنے لگے جو اپنی ناکردہ وہ غلطیوں کی معافیاں مانگتے قبر میں جالیٹے تھے۔ انھیں وہ زندہ لوگ یاد آئے جو ان کی زبان کے تیر کھا کے اب ان کی شکل بھی نہ دیکھنا چاہتے تھے۔
’’معافی…گھوں گھوں…معافی…‘‘غنودگی کے عالم میں ان کے ہونٹوں سے نکلا۔
مگر اب معافی کس سے ملے؟ فی الحال وہ سکون آور انجکشن کے زیر اثر سوگئے تھے۔ مگر کل پھر انھیں جاگنا تھا۔ سال برابر دن گزارنے کی کوفت سہنے کے لیے۔ اپنوں کی راہ تکنے کے لیے۔ اور…اور معافی کی بھیک مانگنے کے لیے

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers