ہر چھوٹے بڑے سرکاری ملازم کی خواہش ہوتی ہے کہ اسے کے Entitlementمطابق رہائش ملے۔ چودھری غلام رسول جب نان گزیٹڈ افسر تھے، تو گلی کے اس آخری ڈی ٹائپ کوارٹر میں رہائش پذیر ہوئے لیکن اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے عہدے پر ترقی پانے کے باوجود اسے چھوڑنے پر آمادہ نہیں تھے۔ دراصل وہ یہاں اپنی دیہاتی زندگی کا لطف اُٹھا رہے تھے۔ تین اطراف سے کھلے کوارٹر کے اردگرد وسیع گرین بیلٹ کے بڑے حصے پر انہوں نے باغیچہ لگا رکھا تھا جس میں پھول اور سبزیاں کاشت کیا کرتے۔ دیسی مرغیوں کے علاوہ دو بھینسیں بھی پال رکھی تھیں۔ نام ہی کے چودھری تھے‘ آبائی زمین کچھ زیادہ نہیں تھی۔    تفصیل سے پڑھیے
بھاری بھر کم چودھری صاحب کی رنگت بھی اگر کالی ہوتی تو کئی طرح کے مغالطے پڑ سکتے تھے۔ دھوتی بنیان میں ملبوس اپنی بھینسوں کے پاس کھڑے ہوتے، تو ڈیل ڈول اور فطری بھولپن کے باوصف انہی کے سگے دکھائی دیتے۔ بھینسیں ان سے خاصی مانوس تھیں اور وہ خود بھی جانوروں سے کچھ زیادہ ہی پیار کرتے تھے۔ شاید اسی لیے وہ اصل کے بجائے جی آر بھینس کے نام سے زیادہ مشہور ہوئے۔ سامنے والے گھر میں رہائش پذیر انٹیلی جنس بیورو کے فاروقی صاحب نے جی آر بھینس کا لاحقہ زبانِ زدِ عام کرنے میں خاصا کردار ادا کیا۔ وہ اِس گھرانے کو موٹی کھال
والے بھی کہا کرتے اور اُن کی بڑی بیٹی ثنا تو کچھ زیادہ ہی دلچسپی لیا کرتی۔ دھان پان سی ثنا بلا کی ذہین تھی۔ تاہم چہرے پر بھرپور روشنی پڑنے کی صورت میں بھی کوئی نیک روح ہی اُس کی رنگت کو سانولی قرار دینے کی روادار ہو سکتی تھی۔ نین نقش کے بارے میں رائے دینے والے کی صواب دید پر منحصر تھا۔ بخیل کو قائل کرنا محال تو سخی کے لیے از خود ہی کلمۂ خیر ادا ہو جاتا۔
کالونی میں ملک کے ہر علاقے سے تعلق رکھنے والے لوگ مقیم تھے لیکن چودھری صاحب والی گلی میں صرف ایک پٹھان اور ایک گلگتی کے علاوہ باقی تمام بنگالی اور اردو سپیکنگ رہتے تھے۔ کوئی چھوٹا بڑا‘ مرد‘ عورت‘ چودھری غلام رسول کو جانے نہ جانے‘لیکن جی آر بھینس کو سب جانتے تھے۔ ہر کسی کی تمنا تھی کہ دودھ ان کے ہاں سے ملے۔ چونکہ اس کے خالص ہونے میں کسی کو اعتراض نہیں تھا۔ آس پاس کے سب گھروں میں سے ثنا کو یہ انفرادیت حاصل تھی کہ وہ سر چڑھ کر بھی اپنے گھر کی ضرورت کے مطابق دودھ حاصل کر لیتی۔ حالانکہ وہ اس
گھرانے پر ریمارکس پاس کرنے میں بڑی سنگ دلی کا مظاہرہ کرتی۔ اپنی چھوٹی بہن کے برعکس وہ شوخ طبیعت کی مالک تھی اور ہر وقت سہیلیوں میں گھرے رہنا پسند کرتی۔ ماں بہت پہلے انتقال کر چکی تھی تاہم عمر رسیدہ نانی اپنی زندگی کے باقی دن ان کے رحم و کرم پر بسر کر رہی تھی۔ طبعاً وضع دار خاتون‘ ضعف ِ بصارت کے باعث ایک طرح سے گوشہ نشین ہو کر رہ گئی تھی۔
سہیلیوں کے حلقے میں ثنا‘ رویے اور اطوار کے اعتبار سے ان کی قائد قرار دی جا سکتی تھی۔ اُس کا موضوعِ سخن زیادہ ’’تر جی آر بھینس ‘‘اور اُن کا گھرانا ہی ہوا کرتا۔ وہ انہیں ڈھگے کہہ کر پکارتی۔ چودھری صاحب کو اولڈ ڈھگا اور اُن کے بیٹے کو ینگ ڈھگا کہا کرتی۔ اُن کے کھانے پینے کی عادات پر سیرحاصل معلومات رکھتی تھی۔ وہ فی کس کتنا دودھ پیتے ہیں اور ان کے ہاں کس مقدار میں گوشت پکایا جاتا ہے اور وہ کیسے سارے کا سارا چٹ کر جاتے ہیں۔
چودھری صاحب کی بیوی صوفیانہ مزاج کی حامل خاتون تھیں۔ پرائمری تک پڑھی ہوئی تھیں۔ قرآنی آیات اور احادیث اکثر دہرایا کرتیں تاہم انہیں صوفیا کا خاصا کلام بھی ازبر تھا۔ مسلک کے حوالے سے وہ اپنے ذہن میں گویا افق تا افق وسعتیں سمیٹے ہوئے تھیں۔ ذخیرۂ اشعار محض مسلمان صوفی شعرا کے کلام ہی پر مشتمل نہیں تھا بلکہ بھگت کبیرکے دوہے اور بابا گرو نانک کے کئی اشلوک بھی بڑی عقیدت سے سنایا کرتیں۔ اس خاتون کے سینے میں نہ جانے اس قدر سوز و گداز سے معمور دل کیسے دھڑکتا تھا۔ وہ اکثر ایسے اشعار سنایا کرتیں۔
آکھ نی مائے آکھ نی
میرا حال سائیں اگے آکھ نی
پریم دے دھاگے انتر لاگے
سُولاں سیتی ماس نی
نج جنیندئیے بھولیے مائے
جن کر لائیو پاپ نی
ہر کام عبادت جان کر کیا کرتیں۔ گویا اس نیک بخت نے اپنی ازدواجی زندگی کو بھی اس انداز سے گزارا کہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل ہو سکے۔ چھ بیٹیاں اور ایک بیٹا بھی اسی جذبے سے پیدا کیا اور انہیں پال پوس کر جوان کیا۔ تمام بیٹیاں مرحلہ وار بیاہ دیں۔ ان میں سے انٹر سے زیادہ تعلیم وہی حاصل کر سکی جس کا رشتہ آنے میں مِن جانب اللہ تاخیر ہو گئی۔ بیٹے کا نام عبداللہ رکھا تھا، لیکن اللہ دتہ کہہ کر پکارتیں۔ وہ اِسی نام سے مشہور ہوا۔ اصل نام صرف متعلقہ دستاویزات میں ہی لکھا رہ گیا۔ ہر وقت زبان سے نیک کلمات ادا کیا کرتیں۔ اپنے خاوند اور بیٹے کے علاوہ مرغیوں اور بھینسوں کے لیے بھی قدم قدم پر بسم اللہ بسم اللہ پکارتیں۔ چودھری صاحب یا عبداللہ گھر میں قدم رکھتے تو ان کے ایک ایک عمل پر بسم اللہ کا ورد کرنے لگتیں۔ گھر میں آنے والے ہر مہمان کو بھی وہ اسی طرح خوش آمدید کہا کرتیں۔ ثنا انہیں اپنے گھر اور حلقے میں بسم اللہ خاتون کہہ کر یاد کرتی۔ ان کی محتاط طبیعت کے باعث البتہ بیٹے کا تعلیمی سفر ہموار نہ رہ سکا۔ کوئی ایک بھی امتحان ڈھنگ سے پاس نہیں کرنے دیا۔ رات جب بھی وہ پڑھنے بیٹھتا‘ بڑے پیار سے سو جانے کا مشورہ دیا کرتیں۔ جب تک وہ سو نہیں جاتا تھا پاس بیٹھی رہتیں یا حیلے بہانے وقفے وقفے سے کمرے کے چکر لگایا کرتیں۔
اللہ دتہ اپنی ماں کے مزاج کو اچھی طرح سمجھتا تھا‘ اس لیے کبھی اُن کی دل آزاری نہیں کی۔ ذرا بارش کا سماں بنا‘ زیادہ گرمی ہو گئی یا خنکی بڑھی تو بیٹے کو گھر پر روک لیا۔ شہر میں کہیں کسی ہنگامے کی خبر کان میں پڑ گئی‘ تب بھی باہر نہیں جانے دیا۔ ثنا بھی اس سلسلے میں خصوصی کردار ادا کیا کرتی۔ تفریحِ طبع کے لیے اس گھرانے کو تختۂ مشق بنانے سے باز نہیں آتی تھی۔ کالج میں لڑکوں کا گروپ الجھ جاتا یا کہیں طلبہ تنظیموں کے مابین ذرا سی کشمکش رونما ہو جاتی تو وہ جھٹ آ دھمکتی۔ ’’خالہ! آج کل حالات ٹھیک نہیں‘ خدا خیر کرے۔ نہ جانے لڑکے کیا گل
کھلاویں۔‘‘ گھر جا کر وہ مزے لے لے کر بتایا کرتی۔ ’’ینگ ڈھگا تو گیا کام سے۔‘‘ کئی بار اس کی سہیلیوں نے عبداللہ کو کالج جانے کے لیے تیار کھڑے پایا لیکن ثنا نے شرط بِد کر اُس کی چھٹی کروا دی۔ یہی وجہ تھی کہ آسان ترین مضامین رکھنے کے باوجود عبداللہ ابھی گریجویشن نہیں کر سکا تھا۔ حالانکہ وہ غبی نہیں تھا۔ بلکہ اس کے برعکس خاصا ذکی اور حاضر جواب تھا۔ گھر میں حدِ ادب ملحوظ رکھتے ہوئے وہ خوب ہنسی مذاق کیا کرتا۔ بہنوں اور بہنوئیوں سے بھی بڑی دوستی تھی۔ جب وہ کچھ دن ان کے پاس گزارنے کے لیے آ جاتے تو خوب رونق رہتی۔
چودھری صاحب اپنے سرکاری کام میں خاصے ماہر تھے۔ تاہم ایک سادہ لوح درویش صفت انسان کے طور پر مشہور ہوئے۔ خاصے خوش خوراک تھے۔ انہوں نے اپنی بیگم سے کہہ رکھا تھا کہ جب وہ چپاتیاں پکاتے ہوئے تھک جائیں، تو بلا جھجک کہہ دیا کریں۔ کھانے کے وقت بیگم انہیں یوں دعوت دیا کرتیں۔ ’’چودھری جی! آئو بسم اللہ۔‘‘ چودھری صاحب بسم اللہ پڑھ کر شروع ہو جاتے لیکن الحمدللہ کا کلمہ ادا کرنے میں خاصی تاخیر کر دیتے، تو بیگم صاحبہ بڑی رسان سے کہتیں۔ ’’ماشاء اللہ۔ چودھری جی! اُٹھو بسم اللہ کر کے‘ پڑھو شکر الحمدللہ۔‘‘ اور چودھری جی فرمایا کرتے۔ ’’اچھا جی! لو جی! اُٹھ گئے… الحمدللہ… اور کوئی حکم؟‘‘
کہتے ہیں ایک بار چودھری صاحب ٹوکرا بھر کچی گوبھی کھا گئے۔ بات کا بتنگڑ بنانا کوئی ہم لوگوں سے سیکھے۔ اصل قصہ یہ تھا کہ گھر میں بہت سے رشتہ دار اور بیٹیاں آئی ہوئی تھیں اور خاتونِ خانہ کے ہم راہ کسی کام سے باہر چلی گئیں۔ پانچ کلو گوشت اور تازہ گوبھی کے آٹھ دس پھول بھی گھر میں رکھے تھے۔ چودھری صاحب کو بھوک نے ستایا تو گوبھی سے شغل فرمانے لگے۔ بیگم صاحبہ مہمانوں کے ساتھ گھر لوٹیں، تو گوبھی کا آخری پھول فنا ہونے کو تھا۔ گوبھی کے آٹھ دس پھول چھوٹے تھے یا بڑے لیکن بلاتردد ان کا وزن دس بارہ کلو تصور کر لیا گیا اور جس
ٹوکری میں سبزی رکھی تھی اسے بڑی فراخ دلی سے ٹوکرا تسلیم کر لیا گیا۔ گویا بلاتحقیق اور بے دریغ یہ بات ایک سے دوسرے شخص تک بڑھا دی گئی کہ جی آر بھینس گوبھی سے بھرا پورا ٹوکرا ڈکار گئے۔ اِس بات کو پھیلانے میں ثنا نے زیادہ تندہی کا مظاہرہ کیا۔ اُس نے اپنی سہیلیوں کے ہم راہ گھر گھر جا کر یہ فریضہ ادا کیا۔ چودھری گھرانے کا مسئلہ یہ تھا کہ جو باتیں بڑی آسانی سے اپنے تک محدود رکھی جا سکتی تھیں وہ بھی بیان کر دیتے۔ اللہ کے بندے یہ سمجھنے سے قاصر تھے کہ لوگ ان کی سادگی پر ہنستے ہیں اور کالونی میں ہر مرکزی محکمے اور وزارت کا چھوٹا بڑا ملازم رہائش پذیر ہے‘ اس لیے گزشتہ روز جو بات ثنا کی کوئی سہیلی اپنے گھر میں سنا چکی ہوتی‘ وہ آج دفتر کی ایک میز سے دوسرے تک سفر کرنے لگتی۔
مرکزی حکومت کے جس عہدے پر چودھری صاحب فائز تھے‘ وہاں سے صرف حق حلال کی تنخواہ ہی گھر لایا کرتے۔ مزید کی توقع تھی اور نہ ہی اس سے زیادہ کی بیگم نے کبھی تمنا کی۔ ویسے بھی خاتون حلال اور حرام میں تمیز کا وہی معیار رکھتی تھیں جو کسی ولی اللہ کا نصیب ہوتا ہے۔ دودھ کو اللہ کا نور قرار دیا کرتیں اور ایک قطرہ پانی کی آمیزش ناقابلِ معافی جرم کے مترادف سمجھتی تھیں۔ چودھری صاحب نے زندگی بھر کھینچ تان کر ہی اخراجات پورے کیے تھے۔ خصوصاً بیٹیوں کی پرورش‘ تعلیم اور شادیوں کے مراحل سے نکلے، تو زیر بار ہو چکے تھے۔ اس لیے
آبائی علاقے میں جو تھوڑی بہت جائداد تھی وہ بھی سکڑ کر رہ گئی۔ گو وہ لوگ سادہ زندگی بسر کرتے لیکن طبعاً وضع دار اور بامروت تھے اس لیے آئے گئے کی آئو بھگت بڑے کھلے دل اور خندہ پیشانی سے کیا کرتے۔ ہر روز شام کو گلی کے بیشتر لوگ ان کے ہاں محفل لگایا کرتے۔ جان پہچان کا حلقہ وسیع تھا۔ اپنے وقت کی سپر سٹار نیلو کے ایک کزن بھی فوکسی گاڑی میں سوار کبھی کبھار آیا کرتے۔ گلی محلے کے دیگر لوگوں کے علاوہ چودھری صاحب بلحاظِ عمر اور سرکاری عہدہ‘ فاروقی سے سینیئر تھے لیکن شروع شروع میں انھوں نے تم کہہ کر مخاطب کیا تو وہ
بولے۔ ’’کمال ہے بھئی!! آپ خود ’’ہم‘‘ اور ہم ’’تم‘‘ ہیں۔ اپنے نام کا بڑا پاس ہے؟‘‘ تیز طبع فاروقی صاحب نے جھٹ کہا۔ ’’ارے چودھری صاحب! یہ تو ہم پیار میں کہہ گئے۔‘‘ پیار کا لفظ سنتے ہی چودھری صاحب فوراً نہال ہو گئے اور بولے۔ ’’اچھا! اچھا! پیار میں جو مرضی ہے کہہ لیں۔‘‘
پچھلے پہر باہر کھلے میں معمول کی محفل جمی ہوئی تھی۔ فاروقی نے کہا۔ ’’ارے چودھری صاحب! وہ ملا تھا آج صدر میں… تمہارا دوست…کیا نام ہے سالے کا… ابے وہ نیلو کا کزن… تمہارا پوچھ رہا تھا۔‘‘ چودھری صاحب نے استفسار کیا کہ کیوں پوچھ رہا تھا، تو فاروقی نے بڑی سنجیدگی سے جواب دیا۔ ’’چودھری بھائی! وہ بول رہا تھا کہ کوئی فلم زیر تکمیل ہے اور آپ کو اس میں پارٹ دینا ہے۔‘‘ حاضرین محفل ہنسنے لگے لیکن چودھری صاحب بدک کر بولے۔ ’’کمال کر دیا اُس نے… میں اب اس عمر میں فلم ایکٹر بنوں گا؟‘‘ اتنا کہہ کر چودھری صاحب خاموش ہو گئے اور
یوں لگا جیسے کسی سوچ میں پڑ گئے ہوں، لیکن فاروقی نے زیرلب مسکراہٹ کے ساتھ باقی سب دوستوں کو آنکھ ماری اور بولے۔ ’’یار چودھری بھائی! مخلصانہ مشورہ ہے‘ سچ پوچھو تو ایکٹنگ بھی ایک پیشہ ہے۔ چار پیسے اضافی آجانے سے کئی کام سنور سکتے ہیں۔ کیا خیال ہے؟‘‘ چودھری صاحب نے سر پر ہاتھ پھیرا اور گردن جھکا لی۔ وہ ان دنوں واقعی ضرورت مند تھے۔ اپنے طور پر کچھ سوچ کر بولے۔ ’’یار فاروقی! پارٹ کیا ادا کرنا ہو گا۔ اُس نے کچھ بتایا؟‘‘ فاروقی صاحب اب خاصے سنجیدہ دکھائی دے رہے تھے۔ جھٹ بولے۔ ’’ارے بہت آسان ہے چودھری! الف لیلیٰ کے
جِنّ کا پارٹ ہے۔ بس گلا پھاڑ کر او او آہا آہا کی آوازیں نکالنی ہیں۔‘‘ چودھری صاحب کے لبوں سے بے ساختہ ایک موٹی سی گالی برآمد ہوئی اور سب لوگ قہقہے لگانے لگے۔ فاروقی صاحب نے کہا۔ ’’اچھا بھائی چودھری! تمہاری مرضی‘ ہم نے تمہارا ہی فائدہ سوچا تھا۔‘‘
سب لوگ اِدھر اُدھر کی باتیں کرنے لگے لیکن چودھری صاحب نے گفتگو میں حصہ نہیں لیا۔ اتنے میں عبداللہ اندر سے چائے لے آیا۔ محفل کی رونق میں مزید اضافہ ہو گیا۔ تاہم چودھری صاحب گہری سوچ میں گم ہو گئے۔ چائے کا دور اختتام پذیر ہونے پر فاروقی صاحب کو مخاطب کر کے بولے۔ ’’معاوضہ کیا ملے گا جِنّ کا پارٹ ادا کرنے کا؟ کچھ بتایا تھا اُس نے؟‘‘ سب لوگ زیرلب مسکرائے۔ لیکن فاروقی صاحب نے بڑی سنجیدگی سے جواب دیا۔ ’’ہاں پوچھا تھا میں نے۔ دس ہزار روپے بول رہا تھا۔‘‘ چودھری صاحب کے چہرے پر ایک رنگ سا آ گیا۔ تاہم جلد ہی سنبھل کر کہنے لگے۔ ’’یار فاروقی! پیسے خاصے معقول ہیں۔ چلو پھر ٹھیک ہے۔ میری طرف سے ہاں سمجھو۔ لیکن یار مجھے جھجک محسوس ہو رہی ہے۔ اب مزید بات چیت اُس سے تم نے کرنی ہے۔‘‘
جِنّ کا پارٹ ادا کرنے سے متعلق معاملہ محض فاروقی صاحب کے ذہن کی اختراع کے سوا کچھ نہ تھا‘ جس کے نتیجے میں لوگوں کو ہنسنے کے لیے ایک اور موضوع مل گیا۔
ثنا کے ذہن میں کیا پیچیدگی گھر کر گئی تھی کہ وہ عبداللہ کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ گئی۔ اپنے گھر کے سامنے برآمدے میں کھلنے والی کھڑکی میں سے ہر وقت نگاہ رکھا کرتی اور عبداللہ کو دیکھتے ہی کوئی نہ کوئی کٹیلا جملہ ادا کر دیا کرتی۔ عبداللہ نے ایک بار ثنا سے کہا کہ وہ تمیز کے دائرے میں رہے۔ وہ جل بھن کر بولی۔ ’’اب ڈھگے ہمیں تمیز سکھانے چلے ہیں؟‘‘
عبداللہ نے گھسٹتے ہوئے بی۔اے پاس کرلیا۔ اردو میں فرسٹ ڈویژن آئی۔ شاعری سے میلان شاید ماں کی طرف سے وراثت میں ملا تھا اس لیے چھوٹے بڑے مشاعروں میں شرکت کرنے لگا۔ ثنا کو
اس امر پر حیرت تھی۔ بقول اُس کے موٹی کھال والے گھرانے کا لڑکا اردو جیسی نفیس اور اعلیٰ زبان میں اشعار موزوں کرتا ہے۔ وہ اُن کے ہاں بے دھڑک آ جایا کرتی اور باہر بھی سامنا ہو جاتا، تو موقع پا کر بڑی بے دردی سے تبصرہ کر دیتی۔ ’’پنجابی ڈھگے اب اردو میں جگالی کرنے لگے۔‘‘ عبداللہ اپنی پڑوسن کے جذبات کو صحیح طور پر سمجھ نہیں پا رہا تھا‘ اس لیے کبھی بھی مناسب جواب نہ دے سکا۔ اُس نے ایک بار اسے کہا بھی کہ وہ پنجابی میں شاعری کر لیا کرے، تو بڑا سخت جواب ملا۔ ’’کیوں میں پنجابی کیوں بولوں؟ اپنی ماں سے غداری کروں؟‘‘ عبداللہ حیرت زدہ رہ گیا کہ اس میں ماں سے غداری کرنے والی کون سی بات ہے۔ اُس نے وضاحت چاہی اور کہا کہ وہ بھی پنجابی ہوتے ہوئے اردو بولتا ہے۔ کہنے لگی۔ ’’تم یہ احسان نہ ہی کرو اردو پر تو حضور کی عنایت ہو گی۔‘‘
عبداللہ کی چھب ڈھب اور رنگ و روپ غیرمعمولی نہ سہی‘ موزوں ضرور تھا تاہم قدرے فربہی مائل۔ اصل نام عبداللہ ہونے کے باوجود‘ محض اپنی ماں کی محبت میں اللہ دتہ کہلوانے پر بُرا نہیں مانتا تھا۔ لیکن ثنا نے اپنے سخت رویے سے اسے زِچ کر کے رکھ دیا تھا۔ وہ اسے عبداللہ کے بجائے اللہ دتہ کے نام سے پکارتی تو کوئی مضائقہ نہیں تھا لیکن جب اسے اے ڈی بھینس کے نام سے یاد کرتی تو بے چارے کو بڑی کوفت ہوتی۔ یا پھر اسے بلا جھجک ڈھگا کہہ دیا کرتی۔ اس کے علاوہ بھی اسے چھیڑنے کے لیے اپنے ترکش کو بڑے بھرپور ذخیرۂ الفاظ سے بھر رکھا تھا اور جوں ہی
موقع ملتا‘ کوئی نوکیلا لفظ زبان کے چلّے پر چڑھا کر طعن تشنیع کا تِیر چلا دیتی۔ رفتہ رفتہ اُس نے چومکھی جنگ لڑنا شروع کر دی۔ صرف زبان و کلام تک محدود نہ رہی بلکہ دیگر ذرائع بھی استعمال کرنے لگی۔ دونوں گھروں میں سرکار کی طرف سے ٹیلیفون کی سہولت موجود تھی۔ جب بھی چودھری صاحب اور ان کی بیگم باغیچے میں یا بھینسوں کے پاس ہوتے‘ فون کی گھنٹی ضرور بجتی۔ فون اٹھانے پر عبداللہ کو اس طرح کے الفاظ سنائی دیتے۔
’’چربیلے‘ جِنّ کے بچے‘ بھینسے۔‘‘ فون بند ہو جاتا۔ اب اسے بنگالی کی دکان اور قریبی لائبریری کی معرفت ہر روز خطوط موصول ہونے لگے۔ اسی طرح کے الفاظ لکھے ہوتے‘ خاکے اور کارٹون بنے ہوتے۔ ہاتھی‘ گینڈا‘ دیو اور پہاڑ بنائے گئے ہوتے اور مختلف اخبارات و رسائل سے ایسی ہی تصاویر کی کٹنگز کے ساتھ ریمارکس لکھے ہوتے۔ اُس کی فرمائش پر کچھ سہیلیاں بھی اِس مہم میں شریک ہو گئیں۔ خاصے واہیات خاکے موصول ہونے لگے‘ جن میں بڑا سا پیٹ نکلا ہوتا اور ساتھ کوئی نیا سے نیا نام دیا ہوتا۔ ’’چلتا پھرتا گوشت کا تودہ‘ پنجابی ڈھگا‘ جعلی شاعر۔‘‘ پہلے کی نسبت اب فون کالز زیادہ آنے لگیں۔ عبداللہ خود اُٹھاتا تو دوسری طرف سے پوچھا جاتا۔ ’’یہاں کوئی جِنّ نما موٹا مشٹنڈا اللہ دتہ رہتا ہے؟ جو اردو ادب کے ساتھ دھینگا مشتی کر رہا ہے۔‘‘ کئی آوازیں ایک ساتھ سنائی دے رہی ہوتیں۔ ’’کوئی ہٹا کٹا فربہ اندام پِیل پیکر ہے؟‘‘ اس کے بعد کئی لڑکیوں کے ہنسنے کی آوازیں سنائی دیتیں۔
عبداللہ خاصا بردبار تھا لیکن ٹیلیفون کالز اور خطوط کی بھرمار نے اسے پریشان کر دیا۔ بعض لڑکیاں ہنسی مذاق میں اخلاقی حدود سے تجاوز کر جاتیں اور اسے موصول ہونے والے کچھ خاکے پورنوگرافی کے زُمرے میں آتے تھے۔ ایک دن عشا کے وقت موقع پا کر عبداللہ ‘ ثنا کی کھڑکی کے سامنے جا کھڑا ہوا اور اُس سے مخاطب ہو کر بولا۔ ’’کلو! باز آ جائو۔ ورنہ پچھتائو گی۔‘‘ وہ اتنا کہہ کر واپس پلٹ آیا لیکن اسے یہ جملہ بہت مہنگا پڑا۔ اگلے ہی روز اس پر انتہائی سخت حملہ ہوا۔ فون اٹھاتے ہی کہا گیا۔ ’’تم پنجابی ہو اس لیے… ہو۔ تمہیں لڑکیوں سے بات کرنے کی تمیز نہیں‘ جاہل‘ اُجڈ‘ گنوار‘ گدھے‘ ڈھگے۔‘‘ یہ سب کچھ اس کے لیے ناقابلِ برداشت تھا اور ذہن کو منتشر کر دینے کے لیے کافی تھا۔
یہ ایک مشکل دور تھا۔ عبداللہ اردو ادب میں ایم اے کر رہا تھا۔ اس نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح یہ یک طرفہ جنگ بند ہو جائے۔ تنگ آ کر اپنے ایک دوست نما ہمدرد استاد سے مشورہ کیا، تو باہمی مشاورت سے نئی حکمت ِ عملی طے کر لی جس کے تحت اس نے فون اٹھانا چھوڑ دیا اور لائبریری یا بنگالی کی دکان کا رخ ہی نہیں کرتا تھا۔ وہ بہت سی لڑکیوں کو پہچانتا تھا جو ثنا کی سہیلیاں تھیں اور لائبریری کے آس پاس والے کوارٹروں میں رہتی تھیں جہاں ساتھ ہی بنگالی کی دکان تھی۔ لائبریری کے مالک اور بنگالی دوست کو اس نے سمجھا دیا کہ وہ اس کے نام سے آئے
ہوئے مکتوب وصول نہ کریں یا پھر تلف کر دیا کریں۔ بنگالی خاصا تیز دماغ شخص تھا۔ اسے کچھ اندازہ تھا کہ اس کی دکان میں باقاعدگی سے آنے والی کئی لڑکیاں کائونٹر پر پڑی ڈاک میں خصوصی دلچسپی لیا کرتی تھیں۔ وہ سرخ روشنائی سے ان پر جلی حروف میں واپسی کے ریمارکس درج کر کے کچھ دن تک کائونٹر پر رکھے رکھتا اور پھر پھاڑ کر ردی کی ٹوکری میں ڈال دیتا۔ تاہم اس نے ایک روز عبداللہ سے کہا۔ ’’عبداللہ بھوئی! لوڑکی لوگ تم سے بوڑا سخت محبت کرتا۔ وہ جولدی جولدی تم کو Love کرنا مانگتا۔‘‘ عبداللہ نے اتفاق نہیں کیا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ اس سے سخت نفرت کرتی ہے اور اسے زِچ کر کے مار ڈالنا چاہتی ہے۔
اس اثنا میں فاروقی صاحب کو ترقی دے کر مشرقی پاکستان بھیج دیا گیااور ثنا کی چھوٹی بہن کو وہاں میڈیکل میں داخلہ بھی مل گیا۔ عبداللہ کے لیے یہ خبر بڑی خوش آیند تھی کہ ایک مستقل عذاب سے نجات مل جائے گی لیکن فاروقی صاحب نے چودھری صاحب کو بتایا کہ وہ اپنی چھوٹی بیٹی کے ہم راہ بہت جلد مشرقی پاکستان چلے جائیں گے لیکن ثنا بضد ہے کہ وہ بی۔اے کا امتحان پاس کر کے یہاں سے جائے گی۔ لہٰذا وہ اپنی نانی اماں کے ساتھ پانچ چھ ماہ تک یہیں رہے گی۔ گلی محلے کے لوگ اچھے ہیں اور کچھ قریبی عزیز رشتہ دار بھی یہیں ہیں اور چودھری بھائی آپ بھی تو یہاں پاس ہیں۔ دونوں کا خیال رکھیے گا۔
اگلے ہفتے دونوں باپ بیٹی مشرقی پاکستان کے لیے روانہ ہو گئے۔ گھر میں دونوں نانی دوہتی رہ گئیں۔ ثنا اپنی سہیلیوں کے ہم راہ صبح کالج جانے کے لیے جس سٹاپ سے سوار ہوتی‘ عبداللہ بھی وہیں سے اومنی بس پکڑتا تھا۔ اُس نے اپنا راستہ بدل لیا۔ خواہ کچھ بھی ہو جائے وہ آنکھ اُٹھا کر اُن کی طرف ایک نظر بھی نہیں دیکھتا تھا۔ بس سٹاپ پر بہت دور ہٹ کر کھڑا ہوتا اور ڈبل ڈیکر کی اوپر والی منزل میں سفر کرنے لگا۔ اُس کی یہ حکمت ِ عملی کافی حد تک کامیاب رہی اور تابڑ توڑ حملوں میں خاطر خواہ کمی ہو گئی۔ لیکن ایک مسئلہ تھا کہ وہ گھر سے باہر نکلتا تو سامنے برآمدے میں کھلنے والی کھڑکی کے پیچھے اُسے کھڑے ہوئے دیکھتا۔ اُس نے اب اُدھر دیکھنا چھوڑ دیا لیکن یہ جانتا تھا کہ وہ وہاں موجود ہوتی ہے۔ رات کو اس نے کئی بار دیکھا کہ ثنا کے کمرے
میں اندھیرا ہے لیکن ایک موم بتی جل رہی ہے۔ اگلے روز ایک کے بجائے دو اور تیسرے روز تین۔ موم بتیوں کی تعداد بڑھتے بڑھتے اتنی زیادہ ہو گئی کہ کمرا چراغاں کا منظر پیش کرنے لگا۔ تب اُس نے کبھی کن انکھیوں سے اُس جانب دیکھا، تو ثنا کو اندھیرے میں پھلجھڑی جلائے کھڑے پایا۔ اب وہاں اندھیرے میں اکثر ایک ہیولا سا دکھائی دیا کرتا۔ عبداللہ مطمئن تھا کہ امن ہو گیا ہے۔ تاہم اُس نے محسوس کیا کہ شوخی‘ تیز طراری‘ جملہ بازی اور چلبلا پن سب ماند پڑ گیا ہے اور اِس کے برعکس ایک یاس اور افسردگی کی سی فضا چھا گئی ہے۔
چند ہفتوں وقفے سے اُسے گھر کے پتے پر خط موصول ہوا۔ ماں نے بند لفافہ اس کے حوالے کر دیا۔ نہ چاہتے ہوئے بھی اس نے کھولا تو نوٹ بک کے پانچ اوراق خوب بھر کر لکھے گئے تھے۔ مختلف الفاظ‘ سنگ دل‘ ظالم‘ کٹھور‘ بے رحم اور نہ جانے کیا کیا۔ جلے کٹے جملے اور اشعار کی بھرمار ہوئی پڑی تھی۔ عبداللہ نے خط تلف کر دیا اور اپنی تعلیم کی جانب یک سُوئی سے توجہ دینے لگا۔ اُس نے آنے والے دنوں میں نوٹ کیا کہ ثنا کالج نہیں جا رہی۔ اِس سے بھی بہت پہلے سے وہ دودھ لینے نہیں آ رہی تھی۔ عبداللہ کی اماں نے ایک برتن میں تقریباً ڈیڑھ پائو دودھ ڈالا اور خود جانے لگی، تو بیٹے نے منع کیا لیکن وہ بولیں۔ ’’اُس کا باپ اب گھر میں نہیں۔ جب تک وہ نانی دوہتی اِدھر ہیں‘ میں دودھ دینے جایا کروں گی اور اِس کا کوئی پائی پیسہ وصول نہیں کروں گی۔‘‘ اسے اپنی ماں کی سخاوت پسند نہیں آئی لیکن دل و دماغ میں اس خاتون کی عظمت کے نقوش بڑے گہرے ثبت ہو چکے تھے اس لیے ٹوکنا مناسب نہیں تھا۔
فاروقی صاحب کو مشرقی پاکستان گئے ابھی تین ماہ کا عرصہ بھی نہیں ہوا تھا کہ ثنا اور اس کی نانی اماں نے رخت ِ سفر باندھ لیا۔ حالانکہ طے یہ ہوا تھا کہ ثنا بی اے کا امتحان دے گی، تو انہیں پاس بلا لیا جائے گا۔ نانی دوہتی اس کے ہاں ملنے آئیں، تو عبداللہ سامنے کمرے میں موجود تھا۔ ثنا اس کی ماں سے گلے لگ کر بہت روئی۔ کہنے لگی۔ ’’اماں! کہا سنا معاف کر دینا۔ کون جانے اب کے بچھڑے تو کبھی ملنا نصیب بھی ہو گا۔‘‘
عبداللہ پیچ و تاب کھا کر رہ گیا۔ تاہم وہ حیرت زدہ بھی تھا کہ یہ کیسی ریاکاری ہے۔ اُسے وہ گالی اندر سے کچل رہی تھی جو محض نسلی حوالے سے دی گئی تھی۔ اسے یہ پسند نہیں آیا کہ وہ اس کی ماں سے لپٹ کر روئے اور ’’ماں‘‘ کہہ کر پکارے۔ وہ اس امر پر اپنی بہنوں سے بھی جھگڑا کیا کرتا کہ اب ان میں سے ہر کوئی اپنی اپنی ساس کو ’’ماں‘‘سمجھے اور میری ماں پر کلیم چھوڑ دے۔ وہ سمجھتا تھا کہ اب اس خاتون پر صرف اور صرف اس کا اپنا حق ہے کہ وہ اسے ماں کہے۔ لیکن یہاں منظر ہی کچھ اور تھا۔ اس کی ماں ثنا کو اپنے ساتھ لپٹا کر بڑے پیار سے سہلاتے ہوئے دلاسے دے رہی تھی۔ کتنے ہی لمحے اس طرح گزر گئے، تو انھوں نے ثنا کے ماتھے، چہرے اور سر پر بوسے دیے۔ دونوں شانوں سے تھام کر اپنے پاس چارپائی پر بٹھایا اور بڑی محبت سے باتیں
کرنے لگیں۔ نانی سے پوچھا کہ طے شدہ پروگرام سے پہلے کیوں چل دیے تو وہ بولی۔ ’’ارے! ہم کیا جانیں؟ اس دو بالشت کی لونڈیا سے پوچھو۔ پہلے باپ سے ضد کی کہ بی اے ادھرسے کرنا ہے اور اب اُس کا ناک میں دم کر رکھا۔ خط پہ خط اور فون پہ فون کہ ابھی کوچ کرنا ہے۔ سب ستیا ناس کر دیا پڑھائی کا اور چل دی ہمارا مردہ خراب کرنے۔‘‘
عبداللہ سے یہ سب کچھ برداشت نہیں ہو رہا تھا۔ وہ بغیر کچھ بولے گھر سے نکل گیا۔ کچھ بنگالی کی دکان پر اور زیادہ وقت لائبریری میں گزار کر رات گئے گھر آ گیا۔ اسے معلوم ہوا کہ دونوں کھانا کھا کر رخصت ہوئیں اور ثنا جاتے ہوئے بہت روئی۔ عبداللہ نے اپنی ماں سے گلا شکوہ کیا کہ وہ ایسی لڑکی کے ساتھ غیر معمولی مروت سے پیش آئیں جس کا رویہ درست نہیں‘ بلکہ یہاں تک کہہ دیا کہ وہ لڑکی ٹھیک نہیں۔ ماں نے فوراً ٹوک دیا اور کہا کہ وہ اللہ سے معافی مانگے۔ ایسے کلمات آیندہ کبھی بھی زبان پر نہ لائے۔ اس میں تکبّر کا رنگ نمایاں ہے۔ وہ تکبّر کے تصور ہی سے کانپ اٹھتی تھیں اور اکثر ادھورا شعر سنایا کرتیں‘ ’’چھوڑ تکبّر پکڑ حلیمی‘ پوی کڈائیں سوئے‘‘۔ وہ کہنے لگیں کہ ثنا بہت اچھی لڑکی ہے۔ اُس کے من میں محبت کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا ہے۔ جس تن میں محبت کرنے والا من ہوتا ہے‘ اس میں بُری سوچ پنپ نہیں سکتی۔ ’’دل دریا سمندروں ڈونگے کون دلاں دیاں جانے ہُو؟‘‘ ہم عامی‘ دلوں کے بھید کیا جانیں۔
عبداللہ نے سب کچھ بتا دینا چاہا لیکن ایسا نہیں کر سکا‘ تاہم کہنے لگا کہ وہ گالیوں پر اُتر آتی ہے۔ ماں نے بڑی متانت سے جواب دیا۔ ’’بُرا بول جو اُس کے لبوں سے ادا ہوا ہو گا‘ وہ اُس کا اپنا نہیں ہو سکتا۔ زبان اُس کی ہو گی اور سوچ کسی اور کی۔ جیسے کوئی بدروح کسی نیک پر غالب آ جاتی ہے۔‘‘ عبداللہ چپ رہا لیکن یوں دیکھ رہا تھا جیسے کچھ کہنا چاہتا ہو۔ اُس کی ماں نے کہا۔ ’’ثنا بہت اچھی لڑکی ہے۔ میرا بس چلے، تو میں اُسے ہمیشہ کے لیے پاس رکھ لوں۔ تمہارے لیے۔‘‘ عبداللہ آگے بڑھ کر ماں کے سامنے آ گیا اور آنکھوں میں جھانک کر بولا۔ ’’اماں! آپ اپنے اکلوتے بیٹے کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہتی ہیں؟ مجھے بڑا افسوس ہو رہا ہے۔ آپ ذرا غور سے دیکھیں اُس کالی پرچھائیں کو۔‘‘ ماں نے انگشت ِ شہادت لہراتے ہوئے کہا۔ ’’ناں! میرے بچے ایسا نہیں سوچتے۔
کالی کرماں والی۔ ورقے قرآن مجید دے چٹے‘ اُتّے سیاہی ربّ دی کالی۔ تیری اَکھ نہیں ویکھن والی۔‘‘ عبداللہ نے شرارت بھرے لہجے میں کہا۔ ’’پیاری اماں! ذرا سوچیں تو سہی۔ اس طرح پوتے پوتیوں اور کٹے کٹیوں میں فرق ہی نہیں رہے گا۔ بے چاری بھینسوں کو کیا کیا مغالطے پڑیں گے۔‘‘ ماں نے پھر وہی بات دہرائی اور کہنے لگیں۔ ’’ثنا کی ڈور اب کسی اور کے ہاتھ میں ہے۔ اُس کی حالت ایسی ہی ہے۔ سجن دے ہتھ بانہہ اساڈی‘ کیونکر آکھاں چھڈ وے اڑیا۔‘‘ وہ مزید بولیں۔ ’’اور سجن وہ اوپر والا خود ہے یا اس کا کوئی مجاز۔ یہ وہی جانے‘ اوڑک کم اللہ نال۔‘‘
ثنا جا چکی تھی لیکن اُس کا گھر ابھی تک خالی پڑا تھا۔ کسی کو الاٹ کیوں نہ ہوا؟ عبداللہ کو معلوم نہیں تھا۔ وہ اپنے گھر سے نکل کر برآمدے میں کھلی کھڑکی سے پار کمرے میں کسی ہیولے کو تلاش کرتا۔ یوں گمان گزرتا کہ وہاں پہلے کوئی اہم ہستی تھی جو وجودی طور پر ہوتے ہوئے بھی عنقا ہو گئی اور پھر وجودی طور پر بھی موجود نہ رہی۔ مزار بن گیا‘ جس پر چراغاں ہوا کرتا تھا۔
اب وہ مزار بھی اُجڑ گیا ہے۔ کوئی مجاور رہا نہ سوگوار۔ کسی بے نوا کے ارمانوں کا مرقد تھا یا گورِ غریباں۔ منظر سوگوار ہو گیا ہے۔ وہی گھر ہے‘ وہی شہراور دنیا کی وہی رونقیں۔ ایک کاغذی سی جان کے دم سے کتنی ہنگامہ آرائیاں تھیں‘ اب وحشتیں برستی ہیں۔ عبداللہ کہیں انجانی دنیا میں کھو جاتا اور اس کے نہاں خانۂ دل کے کسی گوشے سے پچھتاوا جنم لینے لگتا۔ لیکن وہ کچھ سمجھنے سے قاصر تھا کہ اسے کس بات کا ملال ہے۔ اگر کوئی خود ہی مہربان اور پھر نامہربان ہو کر ترش روئی پر اتر آئے تو دوش کس پر؟ وہ خطاکار ہوتا تو رضا جوئی کے لیے پیش قدمی کرنے میں تامل نہ کرتا۔
وقت سدا کا ہرجائی ہے‘ منہ موڑ کر یوں گزر جاتا ہے جیسے کوئی سروکار نہ ہو‘ کسی کا یار نہ ہو۔ کاش! ایسے ہی گزرتا رہتا۔ جہاں ہجر و فراق کی داستانیں مرتب ہوتیں وہاں وصالِ یار کی صورتیں بنتی بگڑتی رہتیں۔ لوگ اسے مقدر جان کر اپنے اپنے حصے کی خوشیاں اور غم دامن میں سمیٹ کر زندگی گزار لیتے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ وقت ایک غضب ناک عفریت کی طرح بپھر گیا اور اس نے بستیوں کی بستیاں اُجاڑ ڈالیں۔ سارے انسانی رشتوں کی حرمت تاخت و تاراج کر کے رکھ دی اور لاکھوں انسانوں کے خون سے پیاس بجھا کر بدمستی کے عالم میں یوں گزر گیا جیسے وہ نردوش ہو۔
انسان کے بس میں ہو، تو وہ لوحِ حافظہ کو یوں دھندلا دے کہ اس پر لکھے درد بھرے افسانے پڑھے نہ جا سکیں۔ ثنا ایک اور ہجرت کر کے لوٹ آئی تھی۔ وہ اپنے دکھوں پر اب روتی بھی نہیں تھی۔ شاید آنسوئوں کے سوتے خشک ہو گئے تھے۔ وہ شکر گزار تھی ستم شعار کی کہ اُس کی معصوم بہن کی نچی کھچی لاش آسانی سے مل گئی۔ ورنہ وہ عمر بھر انتظار کا عذاب جھیلتی۔ باپ کے فرائضِ منصبی ہی اُس کے قاتل ٹھہرے اور نانی اماں کو کسی نے قتل نہیں کیا۔ وہ آزادی کے اس دوسرے روپ کی تاب ہی نہیں لا سکیں۔
ایک روز ثنا کے دل میں نہ جانے کیا سودا سمایا کہ خط لکھنے بیٹھ گئی۔ مکتوب الیہ کو یوں مخاطب کیا۔ ’’تمہیں عبداللہ لکھوں کہ اللہ دتہ؟ یقین جانو! میں وہی کچھ لکھنا چاہوں گی جو تجھے پسند ہو۔ میں ایک اور ہجرت کرنا چاہتی ہوں۔ اُس شہر میں‘ جہاں لاکھوںلوگ بستے ہیں اور وہاں آباد اُس گلی کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتی ہوں جہاں میرا بچپن اور لڑکپن گزرا۔ جس گلی میں ایک پٹھان اور ایک گلگتی رہتا تھا۔ بہت سے بنگالی اور وہ لوگ بھی جن میں سے ایک میں تھی۔ اُس مکان کو ایک بار دیکھنا چاہتی ہوں‘ جس میں میری بہن اور میرا وہ باپ رہتا تھا‘ جو بچپن میں وطن کی تلاش میں ہجرت کرتے ہوئے یتیم ہوا، تو مشرقی پاکستان جا پہنچا۔ وہاں سے رزق کی تلاش میں یہاں چلا آیا اور پھر واپس لوٹ گیا۔ وہی گھر جس میں دوہری تہری ہجرتوں کے صدمے جھیلنے والی
نحیف و نزار میری نانی اماں مر کر بھی صرف اس لیے زندہ رہی کہ اپنی بیٹی کی اولاد کو دیکھتی رہے۔ جس گھر کے سامنے بسم اللہ خاتون رہتی تھیں۔ جن کے لمس میں ممتا کی تڑپ میں نے شدت سے محسوس کی تھی۔ جہاں باہر لان میں ایک درویش کے پاس گلی کے سبھی لوگ محفل لگایا کرتے تھے۔ اور اُن دونوں کا ایک بیٹا تھا‘ اللہ دتہ‘ جو اپنے آس پاس ہر دم منڈلانے والی دیوانی لڑکی ثنا سے نالاں تھا۔ میں اُسی ثنا کی بازگشت ہوں۔ وہاں آنا چاہتی ہوں۔ میں نے وہاں ایک اسکول میں ملازمت حاصل کر لی ہے۔ لیکن اگر تمہیں بُرا لگے ،تو میں کبھی نہیں آئوں گی۔ اور ہاں! یہ سب کریدنا چاہتے ہو کہ میں کن مراحل سے گزر کر یہاں پہنچی؟ تو یہ جان لو کہ ہر وہ عذاب جھیل کر جو وہاں ہم جیسوں کا مقدر بنا تھا۔‘‘ (ثنا فاروقی)
دولے مولے صاحب نے مکتوب الیہ کا نام پڑھنے کا تکلف ہی نہیں کیا۔ لفافہ پھاڑ کر خط پڑھنے لگے اور پڑھتے ہی چلے گئے۔ پڑھ چکے، تو سخت دل گیر ہو کر خط اپنی بیگم کی طرف بڑھایا اور خود یوں لیٹ گئے جیسے نڈھال ہو گئے ہوں۔ بیگم صاحبہ نے دو تین بار خط پڑھا اور خود کلامی کرنے لگیں۔ ’’کُوک دِلامتاں ربّ سنے چادرد منداں دِیاں آہیں ہُو۔‘‘ خاتون اُٹھیں اور صحن میں چہل قدمی کرنے لگیں۔ پھر باہر باغیچے میں چلی گئیں اور تھوڑی دیر بعد واپس آ کر صاحب کے سامنے بیٹھ کر بولیں۔ ’’صاحب! لڑکی نمانی نے بڑے دُکھ اُٹھائے ہیں۔ یہاں اور وہاں سینکڑوں اُس کے رشتہ دار ہوں گے۔ دکھوں کی ماری نے لاکھوں لوگوں میں سے ہمیں ہی کیوں پکارا ہے؟ اللہ اپنے بندے کے دروازے پر خود دستک دینے نہیں آتا۔ یقینا مالک سچے کے اِذن پر اُس کے دل نے گواہی دی ہو گی جو ہماری کُنڈی کھٹکھٹائی ہے۔‘‘
صاحب نے بوجھل لہجے میں کہا۔ ’’او جی! ہم سو بسم اللہ کر کے کُنڈی کھول دیتے ہیں، لیکن ساری بات ہے‘ جی سے جی ملنے کی۔ اصل میں اُس دل کا دروازہ کھلنا چاہیے جس پر دستک دی گئی ہے۔ ذرا سوچیں! اگر ایسا نہ ہو،ا تو ہم دین اور دنیا دونوں سے گئے۔‘‘
بیگم صاحبہ نے جواب دیا۔ ’’آپ فکر نہ کریں۔ ہمارا دین اور دنیا مالک سچے کے ہاتھ میں ہے۔ وہ بڑی اَنا والی ہے۔ خیرات قبول نہیں کرے گی۔ دل کا دروازہ نہ کھلا، تو پہلی دستک پر ہی لوٹ جائے گی۔ آپ بسم اللہ کر کے میری طرف سے خط لکھیں۔ میں خوش آمدید کہنے کے لیے بے تاب ہوں۔‘‘

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers