تابوت عربی اور عبرانی زبان میں صندوق کو کہتے ھیں۔ صندوق سکینہ یا توبات سکینہ کا ذکر قرآن کریم میں تابوت سکینہ کے نام سے کیا گیا ھے ۔تابوت سکینہ کو انگریزی زبان میں دی آرک آف کو وننٹ یعنی میثاق کا صندوق کہتے ھیں۔
اس مقدس تابوت میں مختلف متبرکات رکھی تھیں جن میں وہ لوح بھی تھی کہ جس پر تورات کی آیات کندہ تھی اور جو کوہ طور پر حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ھوئی۔اس صندوق میں حضرت ہارون علیہ السلام کی چھڑی اور معجزاتی خوراک من بھی رکھی گئی تھی۔    تفصیل سے پڑھیے

تبرکات کے علاوہ یہ صندوق اس لئے مقدس ٹھہرا کیونکہ اس کی تقدس اور مقام کا تعین اللہ تعالیٰ نے کیا ۔وادی سینا میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ کے حکم پر ایک مقدس خیمہ نصب کیا جو بنی اسرائیل کے لئے ایک عارضی قبلہ مقرر کیا گیا تھا ۔اس مقدس خیمہ کے تین حصے تھے جن مین آخری حصہ کو قدس الاقداس یعنی ھولی آف ھولیز کہا گیا جس کے اندر یہ مقدس تابوت رکھا گیا ۔
جب بنی اسرائیل نے اللہ کے حکم سے انکار کر تے ھوئے فلسطین کے کفار کے ساتھ جہاد سے انکار کر دیا تو اللہ تعالیٰ نے سزا کے طور پر چالیس سال تک بنی اسرائیل کو جزیرہ نما سینا کے وادی سینا میں خمیہ بستی میں رہنے کا حکم دیا ۔اس دوران یہ مقدس خیمہ بنی اسرائیل کا قبلہ رھا ۔جب چالیس سال کے دوران حضرت ہارون اور حضرت موسیٰ علیھم السلام وفات پا گئے اور بنی اسرائیل کی وہ غلام ذدہ باغی نسل بھی مر گئی اور اس خیمہ بستی میں ایک محنت کش، جفا کش اور مجاھد نسل پیدا ھوئی اور پروان چڑھی۔حضرت موسیٰ علیہ اسلام نے اپنی وفات سے پہلے حضرت یوشع بن نون کو نیا آمیر مقرر فرمایا ۔نئی نسل کے عظیم سالار حضرت یوشع بن نون اللہ کے پیغمبر بھی تھے۔حجرت یوشع بن نون کے حکم پر لبیک کہتے ھوئے بنی اسرائیل کے مجاھد جہاد کا علم بلند کر کے فلسطین پر حملہ آور ھوئے اور بہت سے علاقوں کو فتح کیا ۔
ایک بات نوٹ فرمائیں کہ بنی اسرائیل کے لشکر کے آگے یہ تابوت سکینہ ھوتا جس کی برکت سے دشمنوں پر رعب طاری ھوتا اوربنی اسرائیل کے مومنوں کے دل کو تسکین حاصل ھوتی۔ اسی لئے اس مقدس صندوق کو پرسکون کر نے والی صندوق یعنی تابوت سکینہ کہا گیا ۔
نبی اسرائیل جب جب جن جن کافروں کے خلاف جہاد کرتے تو تابوت سکینہ ہمیشہ لشکر کے ساتھ بلکہ آگے آگے ھوتا ۔
فلسطین کے کافروں کو بھی پتہ چل گیا تھا ۔پھر وہ بھی اس کوشش مین لگ گئے کہ کسی طرح اس با برکت صندوق کو حاصل کر کے اس کے ذرائعہ فتوحات حاصل کرسکیں۔
جب یہ مقدس صندوق کافروں کے ھاتھ لگا تو بجائے فائدہ کے ان پر عذاب نازل ھو تا رھا ۔چنانچہ بالاخر انہوں نے ایک بیل گاڑی میں یہ مقدس صندوق رکھ کر بیلوں کو جانے دیا ۔چلتے چلتے بیل گاڑی بنی اسرائیل کے علاقے پہنچی ۔یہ وہ دور تھا کہ جب حضرت سموئیل علیہ السلام بنی اسرائیل کے لئے جناب طالوت کو بادشاہ مقرر کر چکے تھے۔
المختصر جب بعد میں سلیمان علیہ السلام نے بیت المقدس میں پرانی بنیادوں پر ایک عظیم الشان قبلہ اور مسجد تعمیر فرمائی تو اس اسرائیلی قبلہ کے قدس الاقداس کے اندر تابوت سکینہ کو رکھا۔
سلیمان علیہ السلام کی وفات کے بعد جب بنی اسرائیل من حیث القوم گمراہ ھو گئے اور ارتکاب کفر و شرک کر نے لگے تو اللہ نے بابل یعنی عراق کے بادشاہ بخت نصر کے لشکر کو ان پر مسلط کر دیا جن نے بیت المقدس شہر اور مسجد الاقصیٰ اور اسرائیلی قبلہ کو تباہ کر دیا ۔اور بنی اسرائیل کو غلام بنا کر اپنے ساتھ فلسطین سے عراق لے گئے جہاں وہ ستر سال تک غلام بنے رھے ،جب ایران کے عظیم بادشاہ خورش یعنی سائرس اعظیم نے بابل کو فتح کیا اور بنی اسرائیل کی باقیات یعنی یہودیوں کو واپس فلسطین جانے کی اجازت دی تو ان کو مسجد اور قبلہ کی تعمیر کے لئے امداد بھی دی ۔
اکثر یہودیوں نے عراق اور ایران کی پر تعیش زندگی اور کاروبا ر کو چھوڑ کر فلسطین جانے کی بجائے عراق اور ایران مین رہنے کو ترجیح دیں۔ صرف چند ھزار یہودی واپس فلسطین لوٹے۔جہاں زروبابل اس کا سر براہ بنا اور حضرت عزیر اور نحمیاہ بنی کے زیر نگرانی دوبارہ مسجد الاقصیٰ کو تعمیر کیا گیا لیکن وہ شاندار عمارت تعمیر نہ ھو سکی۔
سب سے اھم اور قابل افسوس بات یہ تھی کہ یہودی قبلہ اس مرتبہ تابوت سکینہ سے محروم تھا جو بخت نصر کے حملے کے دوران لا پتہ ھو گیا تھا ۔
تابوت سکینہ کا سراغ تک نہین مل سکا کہ وہ سلامت بھی ھے یا تباہ کیا جا چکا ھے۔ تاھم اسرائیلی روایات اور عقیدے کے مطابق تابوت سکینہ نہ گم ھوا ھے نہ تباہ ۔ ۔ ۔ ۔بلکہ اس کو اسرائیلی مومنوں نے محفوظ کر دیا تھا ۔آج کے اسرائیلیوں کا دعویٰ ھے کہ تابوت سکینہ مسجد الاقصیٰ میں گنبد صخریٰ Dom of the Rock کے نیچھے کسی تہہ خانے میں محفوظ ھے ۔یہودیوں کا عقیدہ ھے کہ آخر دور میں جب ہیکل سلیمانی کی تعمیر کا وقت آجائے گا تو اس مقام سے ایک دھواں نکلے گا جس کو تمام یہودی دوردور سے دیکھ لیں گے اور وہ تابوت سکینہ تک پہنچ جائیں گے جس کو نکال کر وہ نئی تعمیر شدہ ہیکل کے قدس الاقداس میں ایک بار پھر رکھ دیں گے ۔
یہ یاد رھے کہ تابوت سکینہ کا سراغ لگانے کے لئے یہودیوں نے مسجد الاقصیٰ کے نیچھے بہت سی کھدائیاں کر رکھی ھیں

Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers