پاکستان مذہب کے ٹھیکیداروں کی آماجگاہ ہے ، خراج تحسین پیش کرنا ہوگا جناب جنرل ضیا الحق صاحب کو جنہوں نے اس ٹھیکیداری کی داغ بیل رکھی جس کے بعد آنے والوں نے اس ٹھیکیداری کو اپنا اولین مقصد سمجھتے ہوئے جاری رکھا ۔دنیا بھر میں کوئی بھی واقعہ رونما ہو مذہبی ٹھیکیدار اپنا ردعمل ظاہر کرنے میں معمولی سی بھی تاخیر برداشت نہیں کرتے۔ تفصیل سے پڑھیے
عافیہ صدیقی کا معاملہ ہو یا ریمنڈ ڈیوس کا ،اسرائیل کی مظلوم فلسطینیوں پر جارحیت ہو یا امریکی ڈرون حملہ،واشگنٹن کی پاکستان کو دھمکی ہو یا یورپی لیڈروں کاپاکستان مخالف بیان ، ہر معاملے میں مذہبی قوتیں اپنا ردعمل ظاہر کرنا بنیادی فرض سمجھتی ہیں ۔مثال کے طور پر عافیہ صدیقی قوم کی بیٹی ہے ،اس کو آزاد کرانے کے لئے آواز اٹھانی ہے تو مذہبی جماعتوںنے ،ڈرون طیارہ میزائیل پھینک کر چلا جائے تو سڑکوں پر نعرے لگانے ہیں تو مذہبی جماعتوںنے ، اسرائیل فلسطینیوں کو مارے تو ریلی نکالنی ہےمذہبی جماعتوں نے ،برطانیہ انتہا پسندی کے خاتمے کی بات کرتا ہے تو مغربی حکمرانوں کے پتلے جلانے ہیں انہیں مذہبی جماعتوں نے ، اسی طرح ممتاز قادری قانون کو اپنے ہاتھ میں لیتا ہے تو اس کو بچانا ہے تو صرف مذہبی جماعتوں نے ۔۔۔۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان ٹھیکیداروں کا بنیادی مقصد اور ایجنڈا کیا ہے، عافیہ صدیقی کی رہائی کے لئے احجتاج کا حق ان کو کس نے دیا ہے؟اگر حکومت اس معاملے میں خاموش ہے تو قصور وار حکومت ہے جو کہ اللہ کو جواب دہ ہے ، آپ کون ہوتے ہیں شہر قائد میں ریلیاں نکال کر عام شہری کی زندگی عذاب بنانے والے ؟ریمنڈ ڈیوس کے ہاتھوںمارے جانے والا خاندان دیت کی رقم وصول کر کے غائب ہوتا ہے تو آپ کو کس نے اختیار دیا ہے کہ آپ سڑکوں پر آئیں ؟امریکہ ڈرون حملہ کرتا ہے تو حکمران خاموشی اختیار کرتے ہیں آپ کون ہیں جو سڑکوں پر ٹائر جلا ڈالیں ؟ممتاز قادری قانون کو ہاتھ میں لیتا ہے اور گورنر کو قتل کرتا ہے آپ کہ پاس کیا اختیار ہے کہ آپ قادری کے حق میں بینرز لگا عام شہریوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کریں؟ حیرت اس بات پر ہے اس قسم کے تمام مظاہروں میں مذہبی تنظیموں کے افراد ہی کیوں سڑکوں پر آتے ہیں ؟ طالب علم ، ڈاکٹر، انجینئر، اساتذہ کیوں سڑکوں پر نہیں آتے؟

متعدد نام نہاد مذہبی جماعتوں کا ایجنڈا دین کی خدمت ہرگز نہیں ، دین قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت نہٰیں دیتا ، دین بھلائی ، امن ، پیار کا درس دیتا ہے ، ٹھیکیداروں کا کلچر صرف مذہبی منافرت ہے۔ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف بھاری قیمت چکائی ہے حالات کا تقاضا ہے کہ متحد ہو کر بیرونی چیلنجز کا سامنا کیا جائے ،سڑکوں پر آنے سے نہ تو امریکہ ڈرون پھینکنے بند کرے گا ، نہ ہی عافیہ کو چھوڑے گا، نہ ہی اسرائیل فلسطینیوں کو معاف کرےگا، نہ ہی دنیا انتہاء پسندی اور دہشتگردی کے مطالبے سے دستبردار ہو گی ،مذہبی ٹھیکیداروں سے گزارش ہے کہ اپنا طرز عمل تبدیل کریں ،ہرایشو پر ردعمل ظاہر کرنے کا اختیار آپ کو ہرگز نہیں۔ پاکستان خطرات مٰیں گھرا ہوا ہے بیرونی جارحیت کے آثار یقینی ہوئے تو اٹھارہ کروڑ عوام سڑکوں پر آنے کے لئے تیار ہے لیکن آپ پیسے کی خاطر سڑکوں پر آنا بند کریں۔ پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں معمول ہیں ،عوام کے پاس کھانے کو کچھ نہیں ، مفلسی غریب کو پھندے سے جھولنے پر مجبور کر رہی ہے ،قتل و غارت گری عام ہے ،گیس ، پانی ، بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہے ، وڈیرے غریبوں پر کتے چھوڑ رہے ہیں ، نجی ٹارچر سیلز میں بدترین تشدد ہو رہا ہے ، بوری بند لاشیں مل رہی ہیں ، سڑیٹ کرائمز بے قابو ہو چکے ہیں ،پنچائت کے فیصلے ملکی قانون کے متوازی ہیں ، لڑکیوں کو ونی کرنا معمول ہے ۔۔۔ تو اے مذہبی ٹھیکیدارو۔۔ اس پر سڑکوں کی خاک کیوں نہیں چھانتے

Labels: ,
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers