صبح بیکری پر دلچسپ منظر دیکھا۔ ایک پک اپ پر پانی کی بوتلیں لد کر آئی تھیں اور انہیں اتارا جانا تھا۔کیا دیکھتے ہیں کہ پک اپ کے گرد جمگھٹالگا ہے، تمام افراد کے چہروں پر پریشانی ہے اور ان میں سے ہر ایک تھوڑی دیر بعد آواز لگاتا ہے ’’او آصف، جلدی آ،یار!‘‘ آخر ماجرا کیا ہے؟ ہمیں بھی تجسس ہوا۔  تفصیل سے پڑھیے
تھوڑی دیر مزید غورکرنے سے معلوم ہوا کہ پک اَپ کے گرد گھیرا ڈالے افراد میں سے ایک تو ڈرائیور ہے، آصف کو آوازیں لگانے والابیکری کا ملازم ہے جس کے ذمہ پانی کی بوتلیں اتارناہے۔ سپروائزر اور دیگر عملہ اس کے علاوہ ہیں۔ آصف کو پکارنے والا شخص تھوڑی تھوڑی دیر بعد بے بسی سے سپروائزر کی جانب دیکھتا ہے اور شکوہ کرتا ہے ’’دیکھیں نا سر، آصف آ ہی نہیںرہا۔‘‘
پک اپ والے کی ’’ جلدی کرو استاد، ہمیں آگے بھی جانا ہے‘‘ بیکری ملازم کی ’’آصف یار!جلدی آ۔‘‘ فریادیں اور پکاریں صورت حال کی سراسیمگی میں مزید اضافہ کر رہی ہیں اور ہم سوچ میں ہیں یہ آصف صاحب ہیں کون، جن کے نہ آنے سے کاروبار زندگی معطل ہے۔ تحقیق سے معلوم ہوا کہ آصف کے ذمے پک اَپ سے اتاری گئی بوتلوں کو آگے پہنچانا ہے اور وہ اس وقت ناشتاکر رہا ہے، لہٰذا اپنے فرائض انجام نہیں دے سکتا۔
ارے! بس اتنی سی بات۔ آصف نہ سہی ، یہ جو دیگر بیکری ملازم گھیرا ڈالے کھڑے ہیں، ان سے کام لے لیاجائے۔ یہ نہیں ہو سکتاتو جس کے ذمے بوتلیں اتارنا ہے، وہ بوتلیں اتار کر پک اپ والے کو فارغ کردے۔ جب آصف صاحب ناشتے سے فراغت پا لیں گے تو ڈھیر کی ہوئی بوتلوں کو اپنی منزل تک پہنچا دیں گے۔ ہم یہ سوچتے رہے، لیکن ان لوگوں کو کہنے کی ہمت نہ ہوئی۔
انہی خیالات میں غلطاں تھے کہ آصف طعام کافریضہ انجام دے کر اپنے دیگرفرائض کی انجام دہی کے لیے آن پہنچا۔پک اپ سے بوتلیں اتاری گئیں، آصف صاحب نے انہیں گھسیٹ کرچند گز دور ڈھیر کردیا۔ ہم نے،پک اپ والے نے اور سپروائزرنے سکھ کا سانس لیا، باقی ملازمین بھی اپنے اپنے کام میں مشغول ہوگئے۔ آزادی کی چھیاسٹھویں سالگرہ مناتے ہوئے غور کریں، تو ہم سب ہی اپنے معاملات زندگی میں کسی نہ کسی آصف کا انتظار کر رہے ہیں۔
تقریباً ہم سبھی اپنا اپنا کام اس لیے ملتوی کرتے چلے جاتے ہیں کہ آصف ناشتاکرنے گیا ہوتا ہے۔ کیا ہی اچھا ہو، کہ ہم دفتری اوقات میں ناشتانہ کیا کریں یا آصف ناشتاکرنے چلا جائے، تو بھی ہم اپنے حصے کا کام مکمل کر لیں یا اپنے کام کے ساتھ ساتھ آصف کا کام بھی کر ڈالیں۔  اُس رات ہم دودوستوں کے ہمراہ کھانا کھانے گئے تو ہوٹل پر رش ایسا تھا گویا سیاسی جلسے کا سونامی ہو۔ کھوے سے کھوا چھل رہا تھا۔
میزوں کے گرد لوگ یوں جمع تھے جیسے کسی بڑے سیاسی لیڈر کے گرد اس کے چمچے جمع ہوتے ہیں۔ عجیب پریشانی نے آن گھیرا۔ کبھی ادھر جائیں تو کبھی اُدھر لپکیں،کہیں امید نظر آنے پر خالی کرسی کی جانب جست لگائیں تو وہ ہمارے پہنچنے سے پہلے ہی کسی اور کے قبضے میں چلی جائے۔جب کچھ سمجھ نہ آئی تو معصومانہ انداز میں کھڑے نظریں گھمانے لگے۔ جی چاہا کہ کرسی پر قبضے کے جو طریقے پاکستان میں رائج ہیں، ان میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں، لیکن ازلی شرافت آڑے آ گئی اور ہم لاچار کھڑے رہے۔
آخر ہوٹل والے کو ہم پر ترس آ ہی گیا۔ اس نے اپنے چھوٹے کو خصوصی آرڈیننس کے ذریعے ہمارے لیے جگہ بنانے کا حکم جاری کر دیا۔ ابھی ہم حیران ہی ہو رہے تھے کہ جہاں تل دھرنے کی جگہ نہیں ہے ، وہاں تین اچھے’’ خاصے‘‘ افراد کی جگہ کیسے بن پائے گی کہ چھوٹے نے ہمیں ایک جگہ بنا کر دے ہی دی۔ خیر جگہ کیا تھی، ایک میز تھی، جس کے گرد اتنی کرسیاں تھیں جتنی کہ کبھی وزارتیں ہوا کرتی تھیں۔ پھر بھی، شکر کیا اور کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ گفتگو کا دور چلا۔ ایک صاحب نے پبلک مقام پر سگریٹ نوشی بھی شروع کر دی، اس بات سے قطع نظر کرتے ہوئے کہ چھوٹی سی میز کے گرد بیٹھے جمِ غفیر پر اس کا کیا اثر پڑ رہا ہو گا۔ دوسرے صاحب نے بھی فلسفیانہ سا پوز بنا کے عالم کی بے ثباتی پر سوچنا شروع کر دیا۔ رہ گئے ہم، تو اس چھوٹے کا انتظار کرنے لگے جس نے ہم سے آرڈر لے کے اشیائے طعام کو میز پر سجا دینا تھا۔
کچھ عرصہ ہم تینوں دوست چھوٹے کا انتظار کرتے رہے۔ چھوٹے کو بھی آرڈر لینے سے زیادہ خوش گپیوں میں دلچسپی تھی جس کی وجہ سے میزوں کے گردبے صبرے ہجوم کا ضبط جواب دیتا جا رہا تھا۔خیر کچھ دیر میں چھوٹا ہوٹل والے کی احتسابی نظروں میں آ گیا۔ ڈانٹ ڈپٹ کے ایک سیشن کے بعد ہمارا آرڈر بھی لے لیا گیا۔ اب ہم صبر اور بے صبری کی عجیب کیفیت سے دوچار ہو گئے۔ صبر اس بات کا کہ کچھ ہی دیر میں کھانا ہمارے سامنے ہو گااور بے صبری اس کی کہ یہ کچھ دیر کتنی دیر میں ہو گی۔
ایسے میں سموکنگ کرنے والے صاحب کو بھی ایک فکر نے آن گھیرا۔ پوچھنے لگے ’’یار اس چھوٹی سی میز پر اتنے لوگوں کا کھانا کیسے سمائے گا۔‘‘ عالم کی بے ثباتی پر غور کرنے والے صاحب نے خوب جواب دیا ’’کوئی بات نہیں یار! ایڈجسٹ کر لیں گے۔زندگی کی اکثر چیزوں میں ہم ایڈجسٹ ہی کرتے ہیں، شادی کے بعد نبھ نہیں رہی،کوئی بات نہیں ایڈجسٹ کرو،بے تحاشا لوڈشیڈنگ ہے، ایڈجسٹ کرو، رشوت اور لوٹ مار کا بازار گرم ہے، ایڈجسٹ کرو، فلاں نے اپنے نااہل اہل خانہ کو ملازمتیں دلوا دیں، ایڈجسٹ کرو… لہٰذا ایک بار کھانا آجائے، چھوٹی سی میز پر ایڈجسٹ کر ہی لیں گے۔‘‘ خیر صاحب، ہم بھی ڈھیٹ بن کر ایڈجسٹ کرتے چلے جا رہے ہیں، کیونکہ ہمارا آصف بھی ناشتاکرنے گیا ہواہے؟
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers