اگر دیکھا جائے تو خوف ایک فطری احساس ہے۔ خوف اگر حد سے بڑھ جائے تو شخصیت میں ٹوٹ پھوٹ کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔
انسان کسی چیز سے نہیں ڈرتا بلکہ وہ اپنی لاشعوری خواہشوں سے خوف محسوس کرتا ہے۔ وہ جن خواہشوں یا ان کے خوف سے مقابلہ نہیں کر سکتا، ان کو خارجی دنیا کی کسی بھی چیز میں منتقل کر کے اس سے ڈرنے لگتا ہے۔ بعض اوقات جن چیزوں سے خوف آتا ہے اور ذہن میں وہ بار بار دہرائی جاتی ہیں تو وہ حقیقت بھی بن جاتی ہیں۔ تفصیل سے پڑھیے

نفسیات کی جدید تحقیق کے مطابق ذہن کی سوچ اپنا راستہ خود بناتی ہے۔ سوچ جس قدر پختہ ہو گی ویسی ہی حقیقت دریافت کر لے گی۔
لوگ اکثر انجانے خوف میں بھی مبتلا دکھائی دیتے ہیں جیسے اونچائی، بند جگہیں، پانی کا خوف، لوگوں سے بیماری لگنے کا خوف، طوفان، گرج چمک کا خوف، اندھیرا، جانوروں سے ڈر یا ٹرین کی آواز سے گھبراہٹ محسوس کرنا وغیرہ شامل ہے۔ دراصل انسان کے لاشعور میں کوئی نہ کوئی ایسا حادثہ محفوظ ہوتا ہے جو مستقل انجانے خوف میں سمٹ کر پریشان کرتا رہتا ہے۔ خوف یا ڈر زندگی کی حقیقتیں ہیں۔ خوف illusion الیوژن ذہن کا واہمہ ہے۔ خود فریبی کی کیفیت ہے۔ جن چیزوں سے ڈر لگتا ہے انسان ان سے دور بھاگتا ہے۔ دور بھاگنے کی کوشش درحقیقت اس سوچ کو اور بھی پختہ کر دیتی ہے۔ 
ڈر حقیقت میں ذہنی کیفیت ہے جو بدل سکتی ہے۔ جو لوگ ڈرتے ہیں ان کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ انھیں ڈرپوک سمجھ کر مسترد کر دیا جاتا ہے جب کہ ڈر ایک فطری جذبہ ہے۔ جو ہر انسان میں بدرجہ اتم موجود رہتا ہے مگر اس کی نوعیت مختلف ہوتی ہے۔ کچھ لوگ خوف کی کیفیت کو دبانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، جو خود کو بزدل کہلوانا نہیں چاہتے۔ خوفزدہ لوگوں کا مذاق اڑانے یا خوف کو برا سمجھنے کے بجائے ہمیں اس کیفیت کو حقیقت پسندی کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ اکثر بچوں و بڑوں پر Panic Attack اضطراری حملے ہوتے ہیں، وہ نیند سے اچانک جاگ جاتے ہیں، بعض اٹھ کر بھاگنے لگتے ہیں۔ زور سے چلانے لگ جاتے ہیں۔ بعض اوقات گھر کے افراد ان کیفیات کو نہیں سمجھ پاتے۔ یہ اضطراری حملے لاشعوری خوف کی پیداوار ہیں۔ جن کی وجہ موجودہ حالات بھی ہو سکتے ہیں۔ خون خرابے پر مبنی فلمیں، ویڈیو گیمز یا کتابیں بھی ان ذہنی کیفیات کا محرک بنتی ہیں۔
خوف کے بہت سے مثبت پہلو بھی ہیں۔ خوف انسان کو تغیر عطا کرتا ہے۔ وہ خوف سے لڑنے کے لیے راستے بدلنا شروع کرتا ہے۔ وہ تخلیق کا سہارا لینے لگتا ہے۔ ذات کے اظہار کے ذرایع تلاش کرنے لگتا ہے
ز ند گی کے تجربے و مشاہدے ہمارے لاشعور میں مستقل موجود رہتے ہیں۔ چاہے ہم انھیں محسوس نہ کریں لیکن پھر بھی وہ ہمارے رویوں سے غیر ارادی طور پر عیاں ہونے لگتے ہیں۔ اگر انسان اپنے لاشعور سے دوستی کر لے اور ان تمام تر دبی خواہشات، احساس محرومیوں اور ندامتوں کو ذہن کے کونوں کھدروں سے نکال کر روشنی میں لے کر آئے تو شعور نہ فقط انھیں حقیقت پسندی سے قبول کرے گا بلکہ وہ لاشعور سے بھی دوستی کر لے گا۔ یہ حقیقت ہے کہ ذاتی تجزیہ، حقیقت پسندانہ سوچ اور ناپسندیدہ حالات سے سامنا کرنے کی جرأت انسان کی زندگی بدل دیتی ہے۔

Labels: ,
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers