کمار شالا اسکول کے کھیلوں کے استاد، کانو بھوسر ذہنی طور پر ہار کے لیے تیار تھے، تجربہ بہت کچھ سکھا دیتا ہے، ان کا تجربہ بتا رہا تھا کہ کبڈی کا یہ میچ وہ ہار جائینگے لیکن جب کھیل شروع ہوا تو ایک نیا ہی کھیل نظر آیا ’’یہ ٹیم ہماری لگ ہی نہیں رہی تھی‘‘ بھوسر نے بتایا ’’وہ سب ایک اکائی کی طرح کھیل رہے تھے، وہ اگلی ٹیم کی چالوں کو پہلے ہی سے بھانپ جاتے یہاں تک کہ یہ ایک آسان فتح ثابت ہوئی، آسان لیکن حیرت انگیز توجہ، پلاننگ اور شدید محنت نے تجربے اور ہنر کو شکست دی ’’میں جانتاتھا کہ یہ فتح صرف ایک لڑکے کی وجہ سے ہے- تفصیل سے پڑھیے
اور اس نوجوان کا نام تھا نریندر و مودرداس مودی‘‘کھیل کے میدان بدلتے رہے لیکن جیت کا جنون باقی رہا یہاں تک کہ ایک چھوٹے سے پسماندہ علاقے کے ریلوے اسٹیشن پر چائے بیچنے والا لڑکا انتخابات میں کامیابی کے بعد سب سے بڑی جمہوریہ کا وزیراعظم بننے جا رہا ہے۔
بھارت کے 2014 کے موجودہ انتخابات سولہویں لوک سبھا (ایوان زیریں) کے لیے منعقد ہوئے۔ 543 پارلیمانی نشستوں کے لیے نو مراحل میں 7 اپریل سے 12 مئی 2014 تک انتخابی عمل جاری رہا۔ بھارتی تاریخ کے طویل ترین انتخابات عمل میں آئے۔ بھارتی الیکشن کمیشن کے مطابق 814.5 ملین افراد حق رائے دہی کے حامل قرار پائے۔ 2009 کے بعد سے اب تک ان میں 100 ملین کا اضافہ ہوا، انتخابات میں کھڑے ہونیوالے امیدواروں کی تعداد 8,251 تھی، حق رائے دہی استعمال کرنیوالوں کا اوسط 66.38 فیصد رہا۔ واضح رہے کہ یہ تعداد کسی بھی ترقی یافتہ جمہوریہ سے کہیں زیادہ ہے۔ امریکا سے بھی۔
گزشتہ انتخابات میں امریکا میں یہ تعداد 55 فیصد تھی جس طرح یہ انتخابی معرکہ تاریخی اور حیرت انگیز ہے اسی طرح اس کے انتخابی نتائج کا اعلان 16 مئی کو کیا گیا۔ 989 مراکز پر ووٹوں کی گنتی کی گئی، نتائج کے مطابق حیرت انگیز طور پر نئے جمہوری اتحاد ’’نیشنل ڈیموکریٹک الائنس‘‘ نے 543 میں سے 336 نشستیں حاصل کیں۔ اس سے بھی حیرت انگیز امر یہ رہا کہ بھارت کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کانگریس کے سوا کوئی اور جماعت سادہ اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکی، یہ بھارتیہ جنتا پارٹی ہے، بھارتیہ جنتا پارٹی نے 282 نشستیں حاصل کی ہیں۔ سادہ اکثریت کے لیے 272 نشستوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
دوسری جانب ’’یونائیٹڈ پروگریسیو الائنس‘‘ کو 58 نشستیں حاصل ہوئیں، ان میں سے کانگریس کی صرف 44 نشستیں ہیں، انڈین نیشنل کانگریس نے انتخابی نتائج تسلیم کرلیے ہیں لیکن ان کے لیے یہ ایک تاریخی شکست وہزیمت ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی موجودہ فتح نریندر مودی کے بغیر ممکن نہیں تھی۔ اگر جنتا پارٹی کی قیادت سے مودی کی نفی کردی جائے تو نتائج اس کے عین برعکس ہوتے۔ کبڈی کے کھلاڑی اور چائے والے کی جیت کا جنون سر چڑھ کر بول رہا ہے اگرچہ موجودہ انتخابی نتائج خود کانگریس کی بے عملی نیز ’’انا ہزارے‘‘ اور ’’بابا رام دیو‘‘ کی تحاریک کا نتیجہ بھی ہیں لیکن مودی کے شخصی سحر، پلاننگ اور شدید جد وجہد کی نفی کسی طرح بھی ممکن نہیں۔
یہ آج ہی کی بات نہیں۔ 1995 اور 1998 کے گجرات کے ریاستی انتخابات میں ’’بی جے پی‘‘ کو فتح سے ہم کنار کروانیوالی شخصیت مودی ہی کی ہے، اسی طرح 2009 کے انتخابات میں بھی اور آج بھی اصل کرشماتی کردار ادا کرنیوالے مودی ہی ہیں۔دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو۔ ایک مرتبہ پھر ماضی کا سفر کرتے ہیں، یہ 27 فروری 2002 ہے۔ بابری مسجد کے قریب واقع ہندوئوں کی مقدس جگہ ایودھیا سے مذہبی رسومات کی ادائیگی کے بعد یاتری گھروں کو لوٹ رہے ہیں۔ یہ سبامتی ایکسپریس ہے۔ جوں ہی ٹرین نے گودھرا کا اسٹیشن چھوڑا کسی نے ٹرین کی زنجیر کھینچی اور ٹرین آئوٹر سگنل کے قریب رک گئی، عین اسی لمحے ایک ہجوم ٹرین پر حملہ آور ہوا۔
اک غول بیابانی جس نے کسی مسافر کو مہلت ہی نہ دی کہ وہ مزاحمت کر سکے۔ ’’پوما ہوتی ماہ نیگ‘‘ سے واپسی پر یہ حال ہوسکتا ہے۔ کسی کے سان گمان میں بھی نہ تھا۔ اچانک حملہ آوروں نے آگ برسانا شروع کر دی، دیکھتے ہی دیکھتے ٹرین کی 4 بوگیوں نے آگ پکڑلی، اندر بھی موت تھی باہر بھی موت رقص ابلیس جاری رہا۔ 59 افراد ہلاک ہوئے ان میں 27 خواتین اور 10 بچے بھی شامل ہیں۔ بات یہیں ختم نہیں ہوتی، فوری طور پر خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل جاتی ہے کہ مسلمانوں نے ہندو یاتریوں کو ٹرین میں زندہ جلادیا۔ خبر پھیلتے ہی مسلم کش فسادات پھوٹ پڑتے ہیں۔ یہ گجرات ہے اور یہ گجرات بھی نریندر درمودر داس مودی کا ہے، اس سے گجرات کا ہر ہر مسلمان یہ سوچ رہا تھا کہ اس کی جان، مال اور عزت محفوظ نہیں۔ ایک اندازے کے مطابق 200 مسلمان ہلاک کیے گئے۔ اربوں کی املاک کا نقصان ہوا۔
زخمی اور بے گھر ہونیوالوں کی تعداد بھی ہزاروں میں ہے۔ فسادات پر قابو پانا مودی حکومت کے بس میں نہیں تھا۔ انھوں نے فوج طلب کرلی اور کرفیو نافذ کر دیا گیا۔ کرفیو بھی شدید نوعیت کا۔ خلاف ورزی کرنیوالے کو دیکھتے ہی گولی ماردینے کا حکم تھا۔ غیر جانب دار حلقوں اور حقوق انسانی کی تنظیموں کا کہناہے کہ فسادات رکوائے جاسکتے تھے۔ مودی جیسے پلاننگ کے ماہر اور ان کے مشیروں سے اس بھیانک غلطی کی توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ فسادات پر قابو پانے کے لیے ’’کارسیوک‘‘ کے دستوں کو آگے کر دینگے۔ وہی کارسیوک جنھیں ٹرین میں جلاکر بھسم کیا گیا۔ وہ دن ہے اور آج کا دن باوجود نفی کے مودی خود کو کبھی بھی مسلم کش فسادات کی بحث سے علیحدہ نہیں کرسکے۔ خاص کر گل برگ سوسائٹی کے سانحے سے۔
گل برگ سوسائٹی چمن پورہ احمد آباد کے ساتھ ہے 28 فروری 2002 کو یہاں ایک ہجوم حملہ آور ہوتاہے، گھروں کو آگ لگادیتاہے، مکینوں سمیت زندہ جلنے والوں میں کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ’’احسان جعفری بھی شامل تھے‘‘ ہلاک ہونیوالوں کی کل تعداد 69۔ یہ ہجوم 9 بجے جمع ہوا تھا اور اس نے شام سے کچھ پہلے آگ لگائی ہے۔ اس دوران احسان جعفری پولیس کو اور مقتدر حلقے کو بلاتے رہے لیکن انھیں اور 69 دیگر بد نصیبوں کو موت کے حصار سے نکالنے کوئی بھی نہیں آیا۔ سوال یہ ہے کہ سب کہاں تھے؟ سوال یہ ہے کہ یہ کس زبر دست پلانر کی پلاننگ تھی؟ یہ 23 نومبر 2005 ہے ایک بس حیدرآباد (بھارت) سے شانگلی جارہی ہے۔
یہ ایک عام مسافر بس ہے، اس میں سہراب الدین شیخ اپنی بیوی کوثر کے ساتھ مہاراشٹر جارہا ہے۔ ڈیڑھ بجے کے قریب بس کو گجرات پولیس کا اے ٹی سی روکتا ہے۔ میاں بیوی کو بس سے اتار لیا جاتاہے۔ کوثر اپنے شوہر کے ساتھ رہنا چاہتی ہے لیکن اسے زبردستی علیحدہ کرکے کسی اور جانب لے جایا جاتاہے۔ 3دن کے بعد اخبارات کے ذریعے اطلاع ملتی ہے کہ معروف دہشتگرد، اسلحے کا بیوپاری، انڈر ورلڈ سے تعلق رکھنے والا سہراب الدین شیخ پولیس مقابلے میں ہلاک ہو گیا۔ بھارت میں اس طرح کے پولیس مقابلے عام ہیں۔ وہاں انھیں ’’ان کائونٹر‘‘ کہا جاتا ہے اور ایسے ان کائونٹر کرنے والے پولیس والے ’’ان کائونٹر اسپیشلسٹ‘‘ کہلاتے ہیں۔
شیخ کی لاش احمد آباد کے قریب وشالہ سرکل کے ہائی وے پر دیر تک پڑی رہی۔ اس کی بیوی کوثر مبینہ طور پر اسول کے دیہات میں خود کو آگ لگاکر ہلاک کرلیتی ہے۔ یہ ان کائونٹر بھی دیگر بہت سے ان کائونٹرز کی طرح خفیہ ہی رہتا لیکن اس کی اطلاع ایک صحافی پر اشفت دیول کو ہوگئی۔ اسے پولیس والوں کے ساتھ بیٹھ کر شراب نوشی کا خبط ہے۔ شاید وہ اسی طرح اپنے لیے اطلاعات بہم پہنچاتاہے۔ القصہ ایسے ہی کسی موقعے پر ایک بڑ بولے پولیس والے نے سہراب الدین شیخ کی ہلاکت کا راز عالم مستی میں طشت ازبام کردیا۔ دیول کو سرا ملنے کی دیر تھی۔ اس نے پوری اسٹوری کھود نکالی اور اسے شایع بھی کردیا پھر اس اسٹوری کو گجرات میں نومبر 2006 میں ’’وینک بھاسکر‘‘ نے جگہ دی۔
بلاشبہ یہ گجرات کے اخبارات کا سب سے بڑا گروپ ہے، اور خبر بھی بڑی تھی ہی ۔ امیت شاہ جو مودی کے ایک قریبی ساتھی ہیں اس کارروائی میں ملوث بتائے جاتے ہیں۔ 2005 میں مودی امریکا کا قصد کرتے ہیں۔ ان کا سفارتی ویزا امریکی حکام کی جانب سے رد کردیا جاتاہے۔ اس سے قبل جاری کیا جانے والا بی ون۔ بی ٹو ویزا بھی منسوخ کردیا جاتاہے۔ اس انکار کی وجہ بھی مودی کا وہی تاثر بتایا جاتا ہے جو گجرات کے فسادات کے باعث سامنے آیا۔
جمہوریت کے بارے میں تاثر یہ دیا جاتا ہے کہ اس ’’بلونی‘‘ سے معاشرے کا بہترین طبقہ مکھن کی طرح اوپر آجاتا ہے۔ اگر جمہوری عمل تسلسل سے جاری رہے تو بہتر سے بہتر افراد سامنے آتے ہیں۔ میرا سونیا گاندھی سے اور جمہوریت کے دیگر متوالوں سے سوال یہ ہے کہ جمہوریت کے تسلسل اور جمہوریت کی ’’بلونی‘‘ سے آج نریندر مودی صاحب برآمد ہوئے ہیں۔ وہ موہن داس کرم چند گاندھی سے بہتر ہیں؟ اس پائے کے ہیں یا کم تر؟ یہ نہرو وغیرہ سے بہتر سیاستدان ہیں یا سونیا گاندھی کے لقب کے مطابق ’’موت کے سوداگر‘‘ ہیں۔
Labels: ,
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers