1978ءکو نیویارک میں ایک کتاب شائع ہوئی،جس کا نام تھا :” ایک سو“۔اس کا مصنفDr.Michael H, Hart تھاجو کہ امریکی یہودی اور سائنس دان تھا۔اس نے اس کتاب میں ایک سو ایسی شخصیات کا ذکر کیا جنھوں نے اس کے نزدیک تاریخ پر سب سے زیادہ اثرات چھوڑے۔جس شخصیت کو اس نے اپنے غیر معمولی کارناموں کی وجہ سے اپنی فہرست میں سب سے پہلے رکھا وہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔مصنف کے نزدیک:    تفصیل سے پڑھیے
”آپ تاریخ کے تنہا شخص ہیں جو انتہائی حد تک کامیاب رہے ،مذہبی سطح پر بھی اور دنیوی سطح پر بھی۔“
Dr.Michael H , Hart (The 100 ,New York 1978))
اسی طرح مغرب کے منصف مزاج محققین نے تسلیم کیا ہے کہ مغرب کا رینی ساں براہ راہ راست عربوں کی دین ہے۔یعنی اہل مغرب کی سائنسی ترقی میں بنیادی کردار مسلمانوں نے اداکیا۔اس لیے کہ سائنس یا تجربی علم مسلمانوں کی ایجاد ہے۔وہ اس علم کی طرف پہلی بار پہنچے اور اسے یورپ سمیت دوسری اقوام کومنتقل کیا۔
چنانچہ مشہور مستشرق فلپ ہٹی (Philip Hitti)نے اپنی کتاب ہسٹری آف دی عربس(1970ء)میں لکھا :
”قرون وسطیٰ میں کسی بھی قوم نے انسانی ترقی میں اتنا حصہ اد ا نہیں کیا جتنا عربوں نے اور عربی زبان بولنے والوں نے کیا۔“
عربی زبان او رمطالعہ اسلام کے مشہور مغربی پروفیسرمانٹگومری واٹ (Monotgomery Watt) نے لکھا :
”خلافت عباسی کے دور میں بغداد میں دنیا کا پہلاطبی کالج قائم کیا گیا۔قاہرہ میں ایک ہسپتال بنایا گیاجس میں بیک وقت 8000آدمی رہ سکتے تھے ۔اس میں عورتوں اور مردوں کے الگ وارڈ بنے ہوئے تھے۔اسی طرح مختلف بیماریوں کے لیے الگ الگ شعبے تھے۔اس میں دوسرے انتظامات کے ساتھ لائبریری اور لیکچر روم بھی موجود تھے۔“
The Majesty that was Islam,London,1984.P227 by Monotgomery Watt))
رابرٹ اسٹیفن بریفالٹ (Robert Stephen Briffault)نے لکھا ہے:
”ہماری سائنس کے لیے عربوں کی دین صرف یہ نہیں ہے کہ انھوں نے انقلابی نظریا ت دیے۔سائنس کے لیے عرب کلچر کی دین اس سے بھی زیادہ ہے ۔وہ اپنے وجود کے لیے عربوں کی مرہون منت ہے۔“” یہ بہت زیادہ قرین قیاس ہے کہ عربوں کے بغیر جدید صنعتی تہذیب سرے سے پیدا ہی نہ ہوتی۔“(The Making of Humanity By Robert Briffault P 190 )
اگر ہم غو رکریں تو معلوم ہوگا کہ اسلام کے دور اول کے مسلمان اسلام کا صحیح فہم رکھتے تھے، اسی لیے انھوں نے بنی نو ع انسان پر مذہبی اور دنیوی سطح پر بے پناہ مثبت اثرات قائم کیے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آج پھر اسلام کا وہ فہم عام کیا جائے اور زمین وآسمان کے اندر کارفرما قوانین قدرت دریافت کر کے انھیں بروئے کار لا کر بنی نو انسان کے لیے اس کے ثمرات عام کئے جائیں۔اسی سے دنیا میں مسلمانوں کا تاثر بھی درست ہونا شروع ہوجائے گا جو تشویش ناک حد تک خراب ہوچکاہے

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers