ستّر سے زائد خوفناک اور عبرت آموز کہانیوں کے مصنف فضل الٰہی بیتاب اچھے بھلے اپنی روش پر گامزن تھے کہ کسی حاسد نے طعنہ دے دیا کہ آپ انسانوں کی کہانیاں لکھ نہیں سکتے اس لیے جنوں بھوتوں کی کہانیاں لکھتے ہیں۔ یہ طعنہ کیا تھا تازیانہ تھا۔ بس پھر کیا تھا۔ آئو دیکھا نہ تائو۔ انسانوں کی کہانیاں لکھنے لگے۔   تفصیل سے پڑھیے
شروع شروع میں لوگ یہی سمجھے کہ منشی صاحب جنوں بھوتوں کی نئی اقسام سے متعارف کروا رہے ہیں۔ بعد میں جب لوگوں کی سمجھ میں اصل معاملہ آیا تو احتجاج شروع ہو گیا۔ سب سے بڑا اعتراض یہ ہوا کہ منشی صاحب انسانوں کو مسخ کر کے پیش کر رہے ہیں۔ یہ جنوں بھوتوں کے مسائل ہیں جنہیں وہ آدمیوں کے سر منڈھ رہے ہیں۔ ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ وہ عشقیہ مناظر بھی ڈرائونا بنا کر پیش کرتے ہیں اور ہمیشہ ہیرو ہیروئن کی ملاقات قبرستان میں کرواتے ہیں۔
’’آدھی رات کا وقت۔ نہ آدم نہ آدم زاد۔ ہُو کا سماں۔ سناٹے کی راجدھانی۔ کہیں الّو بول رہا ہے۔ کہیں گیدڑ آہیں بھر رہے ہیں۔ قبرستان میں اکھڑی ہوئی قبریں۔ سرسراتے ہوئے سائے۔ کھڑکھڑاتے ہوئے پتے۔ شرجیل انٹا غضیل نے گھڑی دیکھی۔ رات کے پونے بارہ بجے تھے۔ مگر دُور دُور تک بھاگ بھری عُرف مہ پارہ کی آمد کے کوئی آثار نہیں تھے۔ اچانک ایک قبر ٹوٹ کر گری۔ گیدڑ چیخے۔ الّو بولا۔ پتے کھڑکھڑائے۔ سائے لہرائے۔ اور پھر یکلخت سناٹا چھا گیا۔‘‘
جب ان کی کہانیوں میں سائے کچھ زیادہ سرسرانے اور پتے کچھ زیادہ کھڑکھڑانے لگے تو لوگوں نے حضرت جگر سوز مراد آبادی کو جا پکڑا کہ آپ دونوں مل کر معاشرے کو خوفزدہ کر رہے ہیں تقریباً آدھی آبادی اختلاج قلب میں مبتلا ہو گئی ہے۔ باز آ جائیے۔ ورنہ انجام بُرا ہو گا۔
حضرتِ اوّل یعنی جگر سوز مراد آبادی تو فوراً تائب ہو گئے۔ حضرتِ دوم یعنی منشی فضل الٰہی بیتاب باز نہیں آئے۔ ادب کی خدمت جاری رکھی۔ آخر لوگوں نے ان کا سوشل بائیکاٹ کر دیا یعنی ان کی کہانیاں پڑھنی چھوڑ دیں۔ اس معاشی حملے نے مصنف کو چاروں خانے چت کر دیا۔ چپ چاپ کان لپیٹ کے شاعری کرنے لگے۔
شروع میں مہتاب تخلص رکھا۔ لوگوں نے کہا۔ شرم کیجیے۔ فوراً آئینہ منگوا کر دیکھا۔ مہتاب کی جگہ بیتاب ہو گئے۔ لوگوں نے ان کی شاعری میں نقص نکالنے شروع کیے۔ پہلے تو انہیں زبانی کلامی شرمندہ کیا جاتا رہا پھر ان کے خلاف کالم لکھے جانے لگے۔ جہاں یہ مشاعرہ گاہ میں پہنچے، چار چھ بدخواہ پہنچ گئے۔ یہ شعر عرض کرتے ہیں۔ا دھر سے گیدڑوں کی آواز آتی ہے۔ یہ کہتے ہیں۔ ’’حضرات، مصرعہ دیکھیے گا۔‘‘ اُدھر سے آواز آتی ہے۔ ’’ہُوائوں۔ ہوائوں۔ ہوائوں۔‘‘ بالآخر اس صورتِ حال سے زچ ہو گئے۔
یہی حل سوچا کہ مخالفین کو مخاطب کر کے ببانگِ دہل ایسے اشعار پڑھے جائیں جن سے ان کی مٹی پلید ہو۔ یہ عمل گویا جلتی پر تیل ڈالنے کے مترادف تھا۔ لوگ جو پچاس فیصد آپ کے خلاف تھے، سو فیصد ہو گئے۔ پہلے مشاعروں میں ہُوٹ ہوتے تھے۔ پھر اپنے محلے میں ہُوٹ ہونے لگے۔
یہ بڑی تشویش ناک صورت حال تھی۔ اور اس کا فوری سدباب ضروری تھا۔ چنانچہ پہلے تو آپ نے محلے کے معتبرین کی شان میں نظمیں لکھیں۔ پھر اصلاحی فلاحی کمیٹی میں جا گھسے۔ چھ سات نظمیں فلاحی کمیٹی کی شان میں عرض کیں۔ پھر ایک اجلاس میں اپنا مسئلہ سب کے سامنے رکھ دیا کہ میں تو سنجیدگی کے ساتھ ملک و قوم اور شعر و ادب کی خدمت کرنا چاہتا ہوں۔
لڑکے نہیں چھوڑتے۔ عجیب و غریب آوازیں نکال کے چھیڑتے ہیں۔ اس مسئلے پر معتبرین کنکھیوں سے ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرائے۔ گھر جا کے اپنے اپنے لڑکوں کو ڈانٹا کہ کم بختو!آوازیں نکال کے چھیڑتے ہو۔ شرم نہیں آتی۔ صاف ان کا نام لے کر کیوں نہیں چھیڑتے۔ لیجیے صاحب۔ اس اذن چھیڑ خانی کا ملنا تھا کہ حضرت بیتاب نہ گھر کے رہے نہ گھاٹ کے۔
مشاعرے میں جاتے ہیں تو لڑکے چھیڑتے ہیں گھر سے نکلتے ہیں تو کونوں کھدروں میں چھپے ہوئے لڑکے نام پکار پکار کے چھیڑتے ہیں۔ بیچارے بیوی بچوں سے الگ شرمندہ کہ یا الٰہی یہ نام بناتے بناتے نام ڈبونے کا سلسلہ کیا چل نکلا۔ بہت پریشان اور آزردہ خاطر ہو کر ایک لمڈھینگ ملازم رکھ لیا۔
اس لٹھ بردار ملازم کو لے کر نکلنے لگے مشاعروں میں بھی وہ ان کا باڈی گارڈ ہوتا۔ ایک آدھ بار لڑکوں نے چھیڑ چھاڑ کی کوشش کی تو لمڈھینگ لٹھ لے کر ان لقندروں پر پل پڑا۔ دوسروں نے عبرت پکڑی۔ نام لے کر چھیڑنا درکنار، آوازیں نکالنا تک بند کر دیا۔
اس شاندار فتح سے خوش ہو کر حضرت نے ڈنکے کی چوٹ مشاعروں میں جا کر ایسے اشعار پڑھنے شروع کیے جن میں نام بنام اہل محلہ اور ہم عصر شاعروں کے بارے میں خوفناک ترین جذبات کا اظہار کیا گیا تھا۔ لٹھ بردار کی موجودگی میں احتجاج کون کرتا؟ سب حضرات دم سادھ کے بیٹھے رہتے۔ بلکہ بعض تو جبراً وقہراً واہ واہ بھی کرتے۔
دیکھتے ہی دیکھتے محلے میں اور ادبی دنیا میں آپ کی دھاک بیٹھ گئی جن تنظیموں نے آپ کا بائیکاٹ کر رکھا تھا وہ بھی اپنے مشاعروں میں بطور خاص آپ کو مدعو کرنے لگیں۔ جن انجمنوں نے آپ کو کبھی اہمیت نہیں دی تھی وہ آپ کو مسندِ صدارت تک پیش کرنے لگیں۔ مضافات کے مشاعروں سے بلاوے آنے لگے۔
آپ اور آپ کے باڈی گارڈ کا کرایہ آمد و رفت دیا جانے لگا۔ قیام و طعام میں خصوصی توجہ دی جانے لگی۔ الغرض، آپ شہرت کی بلندیوں تک جا پہنچے۔ اگر اچانک ایک واقعہ آپ کی زندگی میں نہ آتا، تو بلاشبہ آپ ہمیشہ شعر و ادب سے وابستہ رہتے اور استادِ فن، نمبر ون کہلاتے۔
واقعہ کچھ یوں ہے کہ ایک روز آپ سو کر اٹھے تو دیکھا کہ لمڈھینگ غائب ہے اور بیگم بھی موجود نہیں۔ پورا دن آپ نے انہیں آوازیں دے دے کر گزارا۔ شام کوسسرال گئے۔ معلوم ہوا کہ بیگم صبح سے یہاں براجمان ہیں۔ لیکن آنے کو تیار نہیں۔ وجہ پوچھی تو کہا گیا۔ ’’اس شخص کے ساتھ کیا رہنا جو اپنی حفاظت کے لئے دوسروں کا محتاج ہو۔ شوہر تو محافظ ہوتا ہے۔ اگر محافظ کو بھی محافظ کی ضرورت پڑ جائے تو کیا یہ بہتر نہیں کہ انسان محافظ کے محافظ کو اپنا محافظ بنا لے؟‘‘
آپ نے خاصا زور بیاں دکھایا۔ بڑے بڑے مشکل الفاظ بولے۔سیکڑوں محاورے اور ضرب الامثال پیش کیں۔ مگر کچھ پیش نہ گئی۔ ناچار گھر لوٹ آئے اور حد درجہ دل برداشتہ ہو کر ایک بار پھر خوفناک، دہشت ناک اور وحشت ناک کہانیاں لکھنا شروع کیں۔
مگر اب کے ہر کہانی کا مرکزی خیال ایک ہی تھا کہ جن بھوت قابلِ اعتبار نہیں ہوتے کبھی کبھی باڈی گارڈ کے روپ میں ظاہر ہوتے ہیں اور ایسا غچّہ دیتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ ایک بار پھر آپ نے حضرت جگر سوز مراد آبادی کو مختلف قسم کے جھانسے دے کر تعلقات بحال کر لیے ہیں اور اکثر ان کے کھنڈر نما پریس میں منڈلاتے دکھائی دیتے ہیں
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers