مان لیا کہ ملالہ کی تقریر لکھی ہوئی تھی، کسی گورے کی لکھی ہوئی تھی۔۔ مان لیا کہ ملالہ کو خوامخواہ شہرت دی گئی۔۔ مان لیا کہ ملالہ کا یوں منظر عام پر آنا "عالم اسلام" کے خلاف ایک بھیانک سازش ہے۔۔ چلیے یہ بھی درست کہ اسے برطانوی شہریت اسی وجہ سے دی گئی کیونکہ یہ کسی بڑے منصوبے کا حصہ ہے،، میں یہ بھی مان لیتا ہوں کہ وہ "ڈائیری" جو بی بی سی اردو میں ملالہ کہ نام سے شائع ہوئی وہ بھی من گھڑت ہے۔۔ ہاں۔۔!!   تفصیل سے پڑھیے
امریکی سفیر یا دیگر غیر ملکی نمائندوں سے اپنے ماں باپ کے ساتھ ملاقاتیں بھی ایک سنگین "پاپ" ہے۔۔ مزید یہ کہ ملالہ کا باپ جو سکول چلاتا تھا وہ بھی ایک "صیہونی" ادارے کی مالی مدد سے چلتا تھا، اور ملالہ کا حصول تعلیم کا شوق بھی "تہتر" کے آئین کی رو سے گناہ کبیرہ
یہ بھی درست کہ ملالہ کو کبھی کوئی گولی لگی ہی نہیں اور اسکا ثبوت وہ چند تصویریں ہیں جن میں ایک جگہ سٹریچر پر ملالہ نے نیلے رنگ کے کپڑے پہن رکھے ہیں اور پھر جب اسے فوجی ہیلی کاپٹر کے ذریعے ملٹری اسپتال منتقل کیا جا رہا تھا تو اس کے کپڑوں کا رنگ گلابی تھا۔۔ اور یہ بھی کہ کوئین الزبتھ اسپتال برمنگھم سے روزانہ کی بنیاد پر ملالہ کی صحت کے بارے جو پیغامات اور ویڈیوز نشر ہوتی تھیں وہ بھی ایک ڈرامہ تھا۔۔ مزید کچھ؟؟ چلیں یہ سب مان لیا۔۔ ان اعتراضات پر من و عن ایمان لایا جانا چاہیے۔۔ کیونکہ اس کے بغیر ایمان ادھورا رہ جانے کا قوی خدشہ ہے۔۔
اب ذرا آئیں بارہ جولائی دوہزار تیرہ کی جانب ۔۔۔ اقوامِ متحدہ نے بارہ جولائی کو جو کہ ملالہ کا یومِ پیدائش ہے، ’ورلڈ ملالہ ڈے‘ یا عالمی یومِ ملالہ قرار دیا ہے اور اس دن کا مقصد دنیا میں ہر بچے کے لیے تعلیم کے حصول کو ممکن بنانے کے لیے جدوجہد کرنا ہے۔۔ اس دن ملالہ نے تقریبا ایک سو ممالک سے آئے ہوئے ایک ہزارے سے زائد مندوبین سے اقوام متحدہ میں خطاب کیا۔۔ اس موقع پر برطانیہ کے سابق وزیر اعظم اور دنیا بھر میں تعلیم کے سفیر گورڈن براون اور اقوام متحدہ کے جنرل سیکڑی بان کی مون بھی موجود تھے۔ مذہب اور پاکستان کے ٹھیکے داروں کے اعتراضات کی روشنی میں ملاحظہ کیجیے کہ سولہ سالہ ملالہ نے دنیا بھر کے سامنے کیا کہا۔۔
"In the name of God, The Most Beneficent, The Most Merciful. Honourable UN Secretary General Mr Ban Ki-moon, Respected President General Assembly Vuk Jeremic Honourable UN envoy for Global education Mr Gordon Brown, Respected elders and my dear brothers and sisters; Aslam o aleekum "
اور پھر یہ بچی پوری دنیا سے کچھ یوں مخاطب ہوئی۔۔
"I don't know where to begin my speech. I don't know what people would be expecting me to say. But first of all, thank you to God for whom we all are equal and thank you to every person who has prayed for my fast recovery and a new life. I cannot believe how much love people have shown me. I have received thousands of good wish cards and gifts from all over the world. Thank you to all of them. Thank you to the children whose innocent words encouraged me. Thank you to my elders whose prayers strengthened me".
لہجے کا اعتماد، ذہن کی پختگی اور عمدہ تربیت کیسے ملالہ کے الفاظ سے ٹپکی۔۔ ذرا دیکھیے۔۔
“Dear brothers and sisters do remember one thing. Malala day is not my day. Today is the day of every woman, every boy and every girl who have raised their voice for their rights. There are hundreds of Human rights activists and social workers who are not only speaking for human rights, but who are struggling to achieve their goals of education, peace and equality. Thousands of people have been killed by the terrorists and millions have been injured. I am just one of them”.
اور مندرجہ ذیل سطروں کو عقل کی عینک لگا کہ پڑھییے ۔۔
"Dear sisters and brothers, I am not against anyone. Neither am I here to speak in terms of personal revenge against the Taliban or any other terrorists group. I am here to speak up for the right of education of every child. I want education for the sons and the daughters of all the extremists especially the Taliban. I do not even hate the Talib who shot me. Even if there is a gun in my hand and he stands in front of me. I would not shoot him. This is the compassion that I have learnt from Muhammad-the prophet of mercy, Jesus Christ and Lord Buddha. This is the legacy of change that I have inherited from Martin Luther King, Nelson Mandela and Muhammad Ali Jinnah."
وہ بولی "میں تو طالبان اور دنیا بھر کے دیگر ایسے عناصر کے بیٹوں اور بیٹیوں کے لیے بھی تعلیم چاہتی ہوں، مجھے ان سے کسی قسم کی نفرت نہیں۔۔ اگر میرے ہاتھ میں بھی بندوق ہو تو میں اس طالب پر بھی کبھی گولی نہ چلاوں جس نے مجھے قتل کرنے کی کوشش کی"۔۔ اب یہاں میرا پہلا سوال ان تما م لوگوں سے جنہیں "ملالہ " ایک سازش دکھتی ہے۔۔ جناب۔۔ دشمن کو معاف کرنا، اور تعلیم کا درس دینا کس ہستی نے ہمیں سکھایا۔۔؟؟ کونسا مذہب ایسے رویے کی تلقین کرتا ہے۔۔؟؟ آپ اس سوال کا جواب اپنے پنڈتوں سے پوچھیے۔۔ میں ذرا مزید سوال اٹھانا چاہوں گا۔۔ اور ذرا ذہنی پستی یا گراوٹ کا اندازہ کیجیے کہ عقل کے اندھوں نے اس بات پر بھی اعتراض کیا کہ ملالہ نے سرکار دو عالم کے ساتھ حضرت عیسی اور بدھا کا ذکر کیوں کیا۔۔ سبحان اللہ۔۔ یاللعجب۔۔ اور پھر ملالہ نے کہا۔۔
"Let us pick up our books and pens. They are our most powerful weapons". "One child, one teacher, one pen and one book can change the world".
اقرہ۔۔ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَق۔
یہ آیت مبارکہ باقی خلاصہ مکمل بیان کر دینے کے لیے کافی ہے۔۔ لاسٹ بٹ ناٹ دی لیسٹ۔۔ ذرا یہ بتا دیجیے۔۔ کہ اس سولہ سالہ سازشی نے عالم اسلام کے خلاف کونسی گھناونی سازش رچا رکھی ہے۔۔؟؟ یہ بچی کونسے گناہ کبیرہ کی مرتکب ہو رہی ہے۔۔؟؟ نظریہ پاکستان کی کس شق پر آہنی وار کر رہی ہے۔۔؟؟ اور سچے پکے اور کھرے مسلمانوں کے بچوں کو کونسا غیر اخلاقی درس دے رہی ہے۔۔؟؟ آپ کو تو یہ بھی یاد ہو گا کہ وہ کونسے عالم فاضل حضرات تھے جنہوں نے قائد اعظم کو بھی ایک "ایجنٹ" اور پاکستان کو ایک "سازش" قرار دیتے ہوئے اس کے وجود کو ہی تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔۔ آج انہی کے "سپوت" یہاں اسلام اور پاکستان کے ٹھیکے دار بنے بیٹھے ہیں۔۔ یعنی حد ہے۔۔ !! نا چیز نے آغاز میں اعتراف کیا کہ تمام اعتراضات درست ہیں۔۔ لیکن۔۔!! اگر ملالہ ایک سازش کا نام ہے تو اس سازش سے کونسی آفت ٹوٹ پڑی ہے۔۔؟؟ یہ بچی ان حضرت سے تو لاکھ درجہ بہتر جو باجماعت پنجگانہ نماز پڑھتے ہیں لیکن واپس دکان پر آکر مہنگا اور ملاوٹی سامان بیچتے ہیں۔۔ ان عالم دین سے بہتیرا اعلی اور ارفع جن کی منافقت کے کارن گلی محلے ، دیہات اور شہروں میں مسلمان آپس میں دست و گریبان ہیں۔۔
ارے۔۔ وہ کونسا پلیٹ فارم رہ گیا تھا جہاں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی تذلیل ہونا باقی ہے؟؟ پوری دنیا آ پ پر آپ کے اعمال کے باعث لعن طعن کرتی ہے۔۔ اگر ایسے میں ایک سولہ سالہ بچی نے چند دانشمندانہ باتیں پوری دنیا کے سامنے کہہ دیں تو یہ قابل ٖفخر ہے یا قابل ندامت۔۔ ؟؟ یعنی آپ کے دشمن بھارت اور امریکہ سمیت پوری دنیا کے مندوبین نے ملالہ کو خراج تحسین پیش کیا اور اسے پورے عالم کے لیے قابل فخر قرار دیا۔۔ شاید ہی کوئی ایسا ملک ہو جہاں اس بچی کا چرچا نہ ہو۔ یعنی دنیا بھر سے چار ملین بچوں نے دستخط کر کے ملالہ کے عزم اور اس کے مشن کو تقویت دی۔۔ لیکن یہ بچی خود جس ملک سے تعلق رکھتی ہے وہاں کا ملا "ذہن" اسے "سازش" قرار دے رہا ہے۔۔ دلیل اور منطق جب دم توڑ جائے تو بجا ہے کہ ہر شے "سازش" دکھتی ہے۔۔ ہیچ آرزو مندی۔۔۔ !! مجھے یہ کہنے دیجیے کہ ملالہ کا لب و لہجہ اس کے اندر کی شخصیت کی خوب غماضی کر رہا تھا۔۔ بلا کا سا اعتماد اور ذہنی پختگی اس کے ہر لفظ سے عیاں تھی۔۔ جو باتیں بھی اس نے کہیں یقینا ایک عالم گیر "شخصیت" ہی ایسے خیالات کا اظہار کر سکتی ہے۔۔ پاکستان کی اس بیٹی کو پوری دنیا خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔۔ ملالہ تمہیں سلام۔۔ تم جیو ہزاروں سال۔۔
سو زخم شوق کو جلتا ہوا تو رکھنا ہے۔۔
نہ ٹوٹ جائے کہیں سلسلہ تمنا کا۔۔ جون ایلیا

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers