اب بھلا یہ کیا بات ہوئی کہ مشکی رنگ نازو ادا دکھائے، تو محاوروں کی سان پر چڑھے اور دودھیا رنگت عشوہ طرازیاں دکھائے، تو نزاکت کے زمرے میں آئے۔ اُس کا حسن بھی کچھ ایسا ہی تھا نزاکت سے بھی چار ہاتھ اوپر کے خانے میں فٹ بیٹھنے والا۔ ایک کریلا دوسرا نیم چڑھا۔ ایک انتہا درجے کی خوبصورتی اوپر سے غرور اور تکبرمیں لُتھڑی ہوئی۔ برنارڈشا کے کہنے کے برعکس ذہین بھی بہت تھی۔ بہترین ادبی ذوق کی حامل، ورڈز ورتھ، شیلے اور کیٹس کی دیوانی، انگریزی ادب میں ایم-اے کی اسٹوڈنٹ اور لندن جانے کی شدید خواہش مند۔  تفصیل سے پڑھیے
اچھے اچھوں کو گھاس نہیں ڈالتی تھی۔ چچیرے، ممیرے اور خلیرے بھائی، تو بے چارے کسی گنتی شمار ہی میں نہیں تھے۔ یوں بھی ابھی کچھ تو پڑھ رہے تھے اور کچھ جو بے چارے نوکریوں پر لگے تھے بس یونہی سے تھے۔ کبھی جو کوئی ازراہِ مذاق کسی کا نام لے دیتا، تو کومل سی ناک کے نتھنے نخوت بھرے انداز میں سکیڑتے آنکھوں میں جہان بھر کی حقارت سمیٹتے اور لہجے میں زہر گھولتے ہوئے کہتی۔
’’مذاق کا بھی کوئی معیار ہونا چاہیے۔ اب ایسے ایسے ٹٹ پونجیے تو راستوں میں ہاتھ باندھے کھڑے ہیں جو یقینا جوتیاں مارنے کے قابل ہیں۔ کوئی بہت امیر بہت پڑھا لکھا بہت انٹلیکچوئل اور بہت ڈیشنگ قسم کا بندہ ہونا چاہیے۔‘‘
یہ اتنے بہت سارے کہیں تیرا پٹڑا نہ کردیں۔ کوئی منہ پھٹ سی سہیلی یہ کہنے سے باز بھی نہ رہتی۔
لندن جانے کی اس خواہش کی آتش کو تیز کرنے میں نعیمہ جان کا بہت ہاتھ تھا۔ نعیمہ جان جس نے تیرہ سال لندن میں گزارے تھے اور جس کی ہربات کی تان لندن کے ذکر پر ٹوٹتی تھی۔ وہ انگلینڈ کی خوبصورتیوں اور رعنائیوں کے قصے سمیرا کو سناتی۔ جسے وہ دم سادھے سنا کرتی اور پھر تشنہ سی آرزوئوں میں لپٹا لمبا آزردہ سا سانس کہیں نیچے سے نکال کر خارج کرتے ہوئے کہتی۔
نمو جان تم کتنی خوش قسمت ہو۔
وہ تو میں ہوں۔ نعیمہ جان آنکھیں نیم وا کرتی اور اپنی ممی کو دوسو صلوا تیں سناتی جو ان لوگوں کو پاکستان لے آئی تھیں۔
میری جان زندگی کا ایک حصہ وہاں گزار کر آئے ہیں یہاں کا ماحول نہ آنکھوں کو بھلا لگتا ہے نہ دل کو جچتا ہے۔
اور سمیرا ایک زوردار دوہتڑ اس کے شانے پر مارتے ہوئے کہتی۔
’’بند کر اپنی یہ بکواس۔ تونے میرا دماغ خراب کردینا ہے۔‘‘
اور نعیمہ جان آنکھیں مستی میں گھماتی اور کہتی۔
’’میں نے کیا کرنا ہے وہ تو پہلے ہی ہے۔‘‘
توقیر سمیرا کا فرسٹ کزن تھا اس کے گھر کے قریب واقع بینک میں سیکنڈ آفیسر تھا۔ اچھی شکل و صورت کا لڑکا تھا۔ یوں بھی بہت محنتی اور ذمہ دار تھا۔ سمیرا کو بہت پسند کرتا تھا۔ اکثر بینک سے چھٹی ہونے پر ان کے گھر کا چکر ضرور لگاتا وہ کبھی برآمدے میں پام کے پودوں کے پاس کبھی باغیچے میں جوہی کی کلیوں کے پاس اسے ملتی وہ خوشدلی سے ہنستا اور کہتا:
’’ارے کامریڈ کیا شعرو شاعری کے چکر میں پڑی رہتی ہو۔ زندگی دو اور دو چار کا نام ہے۔‘‘ وہ اس کے قریب آکر بیٹھ جاتا۔ پام کے پتوں کو اپنی انگلیوں سے چیرتا اور اسے غورسے دیکھتا۔
وہ اس کی اس حرکت پر تلملا کر رہ جاتی۔ بس نہ چلتا وگرنہ پٹخ کر اس کا سرزمین پر مارکر دو ٹوٹے کردیتی۔غصیلی آواز میں چیخ کر کہنے ہی پر اکتفا کرتی۔
’’گنوار کہیں کے! بوٹوں کا ناس مت مارو۔‘‘
’’تمھیں بوٹوں کے ناس مارے جانے کی فکر ہے۔ انسانوں کا بھی کبھی سوچ لیا کرو۔ تمھاری بے رخی سے ان کا ستیاناس نہ ہوجائے۔‘‘
’’مائی فُٹ۔‘‘
وہ پیر پٹختی اُٹھ جاتی اور توقیر مسکراتے ہوئے اسے جاتے دیکھتا رہتا۔
وہ بہت اونچا اُڑنے کی متمنی تھی۔ آسمانوں کی لامحدود وسعتیں اس کے سامنے تھیں۔ نیچے دیکھنا اسے اچھا نہیں لگتا تھا۔ ایسے میں توقیر کے پسند آنے کے امکانات تو صفر تھے۔ یہ اور بات ہے کہ وہ بے چارہ بہت کچھ سمجھتے ہوئے بھی اپنے دل کے ہاتھوں مجبور سا تھا۔
جوئندہ پایندہ والی بات بالکل نہیں تھی۔ وہ اور نعیمہ جان اس چلچلاتی سہ پہر میں فلم دیکھنے نکلی تھیں۔ اسٹیرنگ نعیمہ کے ہاتھوں میں تھا۔ اُس نے موڑ تو مہارت سے کاٹا تھا مگر پھر بھی ایکسیڈنٹ ہوگیا۔ سڑک پر ایک نوجوان گرا پڑا تھا جس کے ہاتھوں میں پکڑے ہوئے لفافے دور دور تک بکھرگئے تھے۔ دونوں کے حلق سے خوفناک چیخیں نکلی تھیں۔ دونوں کے رنگ اُڑ گئے تھے اور دونوں اپنے اپنے دروازے کھول کر تیر کی طرح باہر نکلی تھیں۔ دونوں نے مضطرب ہوکر اس کو سیدھا کرنے کی کوشش کی۔ رش تو
نہیں تھا سڑک بھی صاف ہی تھی پھر یہ سب کیسے ہوا؟ سامنے بہت خوبصورت نئے ماڈل کی بوٹل گرین ٹیوٹا کھڑی تھی۔ لباس، شکل و صورت، چہرے پر ٹپکتی وجاہت سبھی اس کے اعلیٰ جینٹری سے تعلق ہونے کا پتا دے رہے تھے۔ وہ بے ہوش تھا کہیں خون وُون بھی نکلا نظر نہیں آرہا تھا۔ نعیمہ جان اضطراب اور پریشانی سے ہاتھوں کو مسلتے ہوئے ان چار پانچ راہگیروں کے چہرے دیکھ رہی تھی جو اس پر جھکے یہ دیکھ رہے تھے کہ چوٹ کہاں لگی ہے۔ دکانیں بھی یہاں نہیں تھیں تو پھر گاڑی روک کر اس نے کیا
خریدا تھا۔ سمیرا نے اپنے آپ سے یہ سوال کیا تھا۔ لفافے سڑک پر بکھرے ہوئے تھے مگر ان میں جو کچھ بھی تھا وہ باہر نہیں نکلا تھا۔اس نے نظریں اِدھر اُدھر دوڑائیں۔ کچھ ہی دور اسے وہ چھوٹا سا کھوکھا نظر آگیا تھا جہاں عمدہ قلمی آم بڑے بڑے ٹوکروں میں سجا رکھا تھا۔
راہگیروں نے اسے ہسپتال پہنچانے کے لیے کہا۔ دو تین تنومند قسم کے مردوں نے اسے اٹھایا اور کار کی بیک سیٹ پر آڑھا ترچھا لٹا دیا۔ دو مردوں کو انھوں نے ساتھ چلنے کے لیے کہا۔ نعیمہ جان ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھنے لگی تو سمیرا نے سرگوشیانہ انداز میں ڈانٹ پلائی۔
’’کمبخت پیچھے ہٹو۔ یہ لندن ہے جو بگٹٹ گاڑی بھگائے جاتی ہو۔‘‘
’’میں نے تو ایسی ذلیل سڑکیں کہیں نہیں دیکھیں۔‘‘
’’یہاں تو دیکھ رہی ہو نا۔‘‘ سمیرا نے کار اِسٹارٹ کر دی۔
ایمرجنسی میں داخلہ ہوگیا۔ ڈاکٹر معاینہ کرنے لگا۔ جب اسے یہ خیال آیا، اللہ پتا نہیں کن کا بیٹا ہے۔ کہاں رہتا ہے؟ کہاں جارہا تھا؟ جیبیں دیکھنی چاہئیں شاید کوئی اتا پتا مل جائے۔
’’سنو نعیمہ‘‘ اس نے دھیمی آواز میں کہا۔
’’اس کی جیبیں دیکھیں شاید اس کا کارڈ وارڈ ہو۔ گھر کا پتا چلے تو اطلاع کریں۔‘‘
اور نعیمہ نے تیکھی نظروں سے اسے گھورا۔
’’کروک۔ انھوں نے اُٹھا کر پولیس میں رپٹ لکھوادی تو بتائو پولیس اسٹیشن کے دھکے کھاتی پھروگی؟ شکر کرو راہگیر بے چارے سیدھے سے تھے وگرنہ کوئی تیز طرار ہوتا تو آج پھنس گئے تھے۔‘‘
’’تو اب کیا ہونا چاہیے۔‘‘
’’ذرا صورت حال واضح ہوجائے تو بھاگ چلتے ہیں۔‘‘
’’یہ غلط بات ہوگی۔ اس کی نئی نویلی گاڑی وہاں کھڑی ہے۔ چوری ہوسکتی ہے۔ اس کی حالت بھی خطرناک ہوسکتی ہے۔ ایسے میں بھاگ جانا انسانیت کے خلاف ہے۔ ہمت سے صورت حال کا مقابلہ کرتے ہیں۔ بہتر یہی ہوگا۔‘‘
ڈاکٹر نے سوالات کی بھرمار کردی تھی۔ سمیرا ذہین تھی۔ بات کو خوبی سے نبھا گئی تھی اس کے اس سوال پر کہ معاملہ کچھ خطرناک تو نہیں، اس نے کہا۔
’’دیکھیے۔ آپ ذرا یہ دوائیں لے آئیں۔‘‘
اس نے نعیمہ کو دوائیں لانے کے لیے دوڑایا اور خود اس کی جیبوں کی تلاشی لینی شروع کی۔پینٹ کی جیب سے چابی نکل آئی تھی بٹوہ بھی مل گیا جس میں اس کا کارڈ تھا۔
اللہ کرے اب یہ کارڈ اسی کا ہو۔ چابی اور بٹوہ دونوں اُس نے اپنے بیگ میں ڈال لیے۔
نعیمہ دوائیں لے آئی اس نے دونوں چیزوں کے بارے میں اسے بتایا۔
فیصلہ یہ ہوا کہ وہ اس کے ورثا کو اطلاع دے اور نعیمہ اس کے پاس ہی رہے۔
نعیمہ نے منہ بسورا۔
’’دیکھو مجھے ڈر لگ رہا ہے۔ کسی مصیبت میں نہ گھِر جائیں۔ پلیز سمی ایسی ہمدردی کا کوئی فائدہ نہیں جس میں انسان کسی آفت میں مبتلا ہوجائے۔
مگر سمیرا نے پھر ڈپٹا۔
’’تمھیں یہاں چھوڑنے کا مقصد ہے کہ کسی دوائی کی فوری ضرورت پڑسکتی ہے۔ مریض کو ہوش آسکتا ہے۔‘‘
یہ کہانی موبائلوں کے دور سے قبل کی ہے۔ ہسپتال سے باہر نکل کر اُس کا پہلا کام قریبی میڈیکل اسٹور سے کارڈ پر لکھے گئے نمبر پر رابطے کی کوشش تھی۔ ایک لمبی سی ٹون سننے کو ملی۔ پندرہ بیس منٹ تک اس سعی لا حاصل نے اُسے زچ کردیا۔ وہ باہر آگئی۔ سڑک پررواں دواں انسانوں اور گاڑیوں کے پُرشور ہجوم کو خالی خالی نظروں سے دیکھتے ہوئے سوچنے لگی۔ اب کیا کیا جائے۔
گھر پر پاپا ضرور تھے پر دل کے مریض جنھیں وہ کوئی ایسی خبر سنانے کی روا دار نہ تھی۔ مما مسز زبیری گرلز کالج میں تاریخ کی پروفیسر، خاصی جی دار اور تیز طرار خاتون، پر وہ اس وقت کالج میں تھیں۔ تھوڑی دیر قبل سمیرا ہی نے انھیں کالج کے کسی فنکشن میں ڈراپ کیاتھا۔نوید اُس کا بھائی ابھی ایف ایس سی کااسٹوڈنٹ اور نویرا نوید سے بھی چھوٹی۔
سمیرا جب گھر سے نکلی، تو نوید ٹیوشن کے لیے چلا گیا تھا۔ پل بھر کے لیے اُسے نعیمہ کا بھاگ جانے کا مشورہ معقول لگا۔
’’غلطی کی۔ کس جھنجھٹ میں پھنس گئے ہیں۔‘‘
پر اگلے ہی لمحے ایک بے حد وجیہہ اور دلکش چہرہ آنکھوں کے سامنے تھا۔ کسی ماں کا بیٹا جو خالصتاً نعیمہ کی بے پروائی کا شکار ہوا تھا۔ وقت کو تیزی سے آگے بڑھتے دیکھ کر اُس نے فی الفور سر جھٹکا۔ برقی انداز میں کچھ سوچا۔ اپنی گاڑی میں سوار ہونے کے بجائے رکشے میں جانا بہتر جانا۔ راستے میں اُس نے کارڈ کو پرس سے نکال کر ذرا تفصیل اور سکون سے دیکھا۔
مجید اشرف۔
ارے کیسا پینڈوانہ سا نام ہے۔ ذرا لگا نہیں کھاتا شخصیت سے۔
حادثے والی جگہ پر گاڑی کھڑی تھی۔ اُس نے چابی لگائی۔ دروازہ کھولا اس میں بیٹھی۔ ایسی شاندار گاڑی دل یوں دھڑکا جیسے ابھی گوشت پوست کو چیرتا ہوا باہر آجائے گا۔ پیشانی پسینے میں تر بتر ہوئی۔ سانس رُکتا ہوا محسوس ہوا۔ چند لمحے وہ ساکت بیٹھی خود کو نارمل کرنے کی کوشش میں لگی رہی۔
نچلے متوسط گھرانے کی پروردہ، پڑھے لکھے ملازم پیشہ والدین کی بیٹی جن کے پاس گاڑی تو ضرور تھی پر چھوٹی سی اکلوتی بیچاری اُس محنت کش انسان جیسی جو اپنے پریوار میں دو تین کو جوتے لے کر دیتا، تو دو تین کپڑوں سے رہ جاتے ہیں۔ گوشت خریدتا ہے، تو پھل پر ڈنڈی بج جاتی ہے۔
خود پر قابو پانے کے بعد اُس نے سارے سسٹم کا جائزہ لیا اور پھر اللہ کا نام لے کر گاڑی اسٹارٹ کردی۔ تھوڑی دیر تک آہستہ آہستہ چلی پھر اعتماد سے فراٹے بھرنے لگی۔
گھر ڈھونڈنے میں زیادہ دشواری نہ ہوئی۔ یہ پوش ایریا تھا یہیں سمیرا کی ایک دوست بھی رہتی تھی۔ کارڈ پر درج نمبر کے عین مطابق جب اُس نے تھروگیٹ سے اندر کا منظر دیکھا، تو اُسے ایک بھرپور جھٹکا سا لگا۔ وسیع و عریض لان اور محل نما گھر اُس کے سامنے تھا۔باوردی گارڈ سے سوال جواب ہوئے اور اُس نے جانا کہ مجید اشرف کے
والدین لندن میں ہیں، بڑے دونوں بھائی امریکا اور جاپان میں۔ ان کا لمبا چوڑا بزنس ہے جس کے لیے سبھی باری باری یہاں آتے رہتے ہیں۔ خود مجید اشرف ابھی چار دن پہلے بنکاک سے آیا تھا۔ اُس کے بارے میں ضروری معلومات کے ساتھ اُس نے یہ بھی دیکھا کہ بہت سے نوکر اُس کے گرد اکٹھے ہوگئے ہیں۔ وہ اس کے تفتیشی انداز پر پریشان اور اپنے مالک کے بارے میں فکرمند تھے اور جب اُس نے یہ کہا کہ اُن کی مسز تو یہاں ہوں گی اُن سے میری بات کروادیں۔ اُن میں سے جو نسبتاً زیادہ سمجھدار تھا اُس کی طرف یوں دیکھتے ہوئے جیسے اُس نے کوئی بہت ہی احمقانہ بات کردی ہو،کہا:
’’لو بیٹا اُس کی بیوی کہاں سے وہ تو ابھی کنوارا ہے۔‘‘
اُس لمحے بس اُسے یوں لگا جیسے موسم اور اس حادثے کی تلخی سبھی انجانی سی راحت میں بدل گئی ہیں اور سینے میں ٹھنڈک سی اُتر گئی ہے۔
چلو مجھے فون کروائو اور ہاں ڈرائیور بھی اگر ہے، تو بُلوالیں۔
ایک سمجھدار سا ادھیڑ عمر کا مرد اُسے لان میں چھوٹی سی جھیل نما تالاب پر بنے چوبی پُل سے گزارتا ہوا اندر لے گیا۔ راہداری سے گزرتے ہوئے اُس نے چند مزید جھٹکے کھائے۔اُس نے اپنے گھر فون کیا۔ اپنی ماں کو انگریزی میں مختصراً بتایا کہ وہ تیارہوں۔ تھوڑی دیر میں وہ انھیں لینے آتی ہے۔
جب وہ ریسیور کانوں سے لگائے مائوتھ پیس پر باتیں کر رہی تھی، اُس کی نظریں سامنے والے کمروں کی طرف اٹھی تھیں جن کے دروازے کھلے تھے اور اندر جس طرح کا ماحول نظر آتا تھا وہ اُس نے ہالی وڈ کی فلموں ہی میں کہیں دیکھا تھا۔ سحرزدہ مبہوت کرنے والا۔ ملازموں کو اس نے ایکسیڈنٹ کے بارے میں بتایا ضرور پر پریشان کرنے والے انداز میں نہیں۔ یہ بھی بتایا کہ وہ تو بس راہگیر تھیں انسانی ہمدردی کے ناتے یہ سب کررہی تھیں اور یہ تاکید کرنا بھی نہیں بھولی کہ کسی بھی صورت والدین یا بھائیوں کو
اطلاع نہیں دینی۔ بلا وجہ پریشان کرنے سے فائدہ! عجیب سی بات تھی۔ اُس کا ذہن برق رفتاری سے کام کرنے لگا تھا۔ معاملات کو اُس نے جیسے خود ہینڈل کرنے کا منصوبہ ذہن میں مرتب کرلیا تھا۔ ڈرائیور اُس کی راہنمائی میں پہلے اس کے گھر گیا۔ مسز زبیری تیار تھیں۔ انھیں لیا۔ راستے میں اُس نے اپنی ماں کو جس انداز میں اُس کی امارت کی تفصیل اور اس کے غیر شادی شدہ ہونے کا بتایا وہ اُس کی حسرتوں کا غماز ہونے کے ساتھ ساتھ کچھ احساس کی بھی چغلی کھاتا تھا کہ انھیں قدرت نے یہ موقع فراہم کیا ہے اور انھیں
اس سے فائدہ اُٹھانا چاہیے۔ اُسے یہ بھی خدشہ تھا کہ ایسا نہ ہو چوٹ زیادہ گہری ہو۔ خدانخواستہ کوئی سنجیدہ معاملہ نہ ہوجائے اور وہ دھرلی جائیں۔
مسز زبیری بھی کچھ متفکر ہوئیں۔ پھر سامنے دیکھتے ہوئے بولیں۔
’’گھبرائو نہیں بہتر ہی ہوگا۔‘‘
مسز زبیری کی دوست کا بیٹا اسی ہسپتال میں سرجن تھا۔ وہ اس کا معلوم کرنے کے لیے ریسپشن پر رُک گئیں، سمیرا سے یہ کہتے ہوئے تم چلو، میں توصیف کا معلوم کرکے آتی ہوں۔
نعیمہ اسٹول پربیٹھی تھی اور چہرے پر بارہ بج رہے تھے۔ وہ ابھی تک بے ہوش ہی تھا اسے تنہا اور پریشان آتے دیکھ کر وہ اپنی جگہ سے اُٹھ کر اس کے پاس لپکی۔
’’کچھ بنا؟‘‘
بڑی مایوسی سے وہ ہنس پڑی۔ میں تو گئی تھی نماز بخشوا نے اور روزے بھی گلے پڑگئے۔ معاملہ بڑا ٹیڑھا ہوگیا ہے اور اس نے اسٹول پر بیٹھ کر ساری بات اس کے گوش گزار کرتے ہوئے کہا۔
’’ممی میرے ساتھ ہی آئی ہیں۔ چلو اب فکر کی کوئی بات نہیں۔‘‘
’’میری مانو تو کھسک جائیں۔‘‘
’’نعیمہ تمھاری عقل گھاس چرنے تو نہیں گئی کیسے چھوڑ جائیں اُسے۔‘‘
’’سمیرا چلو پھر مجھے جانے دو میں دوپہر کی گھر سے نکلی ہوئی ہوں۔ ممی پریشان ہورہی ہوں گی۔‘‘
نعیمہ چلی گئی۔ اور اب وہ اس کے پاس بیڈ کے قریب رکھے اسٹول پر بیٹھ گئی۔
کسی پرائیویٹ ہسپتال میں لے جانا چاہیے۔ خدا معلوم کتنی گہری چوٹ ہے جو اب تک ہوش نہیں آیا۔ میرے اللہ رحم کر۔ اور رحم ہوگیا تھا کیونکہ اس نے آنکھیں کھولی تھیں اور بے حد حیرت سے اپنے ارد گرد دیکھا تھا۔ سمیرا لپک کر اس کے قریب ہوئی۔ اس لمحے اسے یہ احساس نہیں تھا کہ وہ ایک اجنبی ہے۔ شاید جو حادثہ پیش آیا تھا اور اس کی جو حیثیت سامنے آئی تھی اس نے اجنبیت کی ساری دیواروں کو جیسے گرا دیا تھا۔ وہ جیسے سمیرا کی ذمہ داری تھی۔
’’آپ کون ہیں؟اور میں کہاں ہوں؟‘‘
’’میں جوبھی کوئی ہوں یہ آپ کو معلوم ہوجائے گا۔ یہ بتائیے کہ کہیں درد تو نہیں محسوس ہو رہا؟‘‘
’’درد!‘‘ اس نے زیرلب دہرایا۔
’’ہاں ہاں! ذرا بازوئوں کو ہلائیں، ٹانگوں کو دیکھیے کہیں تکلیف محسوس ہوتی ہو۔‘‘
اس کے کہنے پر چند لمحے جیسے وہ اپنے سارے وجود کا جائزہ لیتا رہا اور پھر بولا۔
’’سر کے دائیں حصے میں یہاں۔‘‘ اس نے کنپٹی کے اوپر ہاتھ رکھ دیا۔
اس نے پھر آنکھیں بند کرلیں تھیں سمیرا کو یوں لگا جیسے دو جلتے چراغ بجھ گئے ہوں۔
’’اللہ میرے! کس قدر دلآویز شخصیت ہے۔‘‘
عین اسی وقت ممی بھی آگئیں۔ سمیرا نے ہوش میں آنے کی ساری تفصیل ماں کو بتائی۔
مسز زبیری نے پرائیویٹ ہسپتال لے چلنے کا کہا۔
کوئی گھنٹا بھر میں ساری شفٹنگ ہوگئی۔ ڈاکٹروں نے فوری معاینہ کیا پروہ لوگ ابھی کچھ بتانے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔
کوئی بارہ بجے تک وہ اس کے پاس ٹھہرے پھر نوید وہاں رہا، وہ دونوں گھر چلی آئیں۔
صبح سویرے بغیر ناشتا کیے وہ پھر کلینک بھاگی۔ وہ جاگ رہا تھا اور نوید سو رہا تھا۔
’’ہیلو! صبح بخیر، کیسی طبیعت ہے؟‘‘ وہ اُس کے بیڈ کے قریب آکر اس پر جھکتے ہوئے بولی۔
سنجیدہ سے چہرے پر کچھ سوال تھے جنھیں اُس نے نظر انداز کرتے ہوئے پوچھا۔
’’کچھ کھائیں گے؟‘‘
جواب میں خاموشی تھی۔
اُس نے چائے کپ میں انڈیلی اور آہستگی سے اُس کے سر کو سہارا دے کر اُٹھاتے ہوئے کپ اُس کے ہونٹوں سے لگایا۔ چھوٹے چھوٹے گھونٹ لیتے ہوئے اس نے کپ خالی کردیا۔
اس کی سنجیدگی اور متانت سمیرا کو کھلی تھی۔ اس کی بہت سے باتوں کے جواب میں اُس کے ہونٹوں پر مدھم سی مسکراہٹ اُبھرتی یا پھر مختصر سا جواب۔ سمیرا جیسی ذہین لڑکی کے لیے یہ کچھ ایسی حوصلہ افزا صورت نہ تھی۔ پر یہ اجنبی اُس کے دل کو بے طرح بھایا تھا۔ سنجیدہ سا۔ اتنی سی عمر میںآدھی سے زیادہ دنیا دیکھ چکا تھا۔ کہیں بھی کوئی پہلو کمزور نہیں تھا۔ اُس دن جب وہ اُس کے لیے گھر سے سُوپ بنا کر لائی، کمرے میں موجود تین غیر ملکی جن کے ساتھ وہ گفتگو میں مصروف تھا، ایسی خوبصورت
انگریزی ایک تسلسل سے بول رہا تھا کہ اصلاً نسلاً کسی انگریز کی اولاد لگتا تھا۔ کاروباری گفتگو میں اُس نے کوئی دس ملکوں کے حوالے دے ڈالے تھے۔ اُس کی پسندیدگی کے جذبات اس واقعے سے کچھ اور ہوا ہوئے۔ اُسے سوپ کا پیالہ دیتے ہوئے اُس نے کہا۔
’’آپ کو اتنا بولنا نہیں چاہیے تھا۔‘‘
’’مجبوری تھی۔‘‘ بس اس سے زیادہ اُس کے پاس کہنے کو کچھ نہ تھا۔
اُس رات اپنے بیڈ پر لیٹتے ہوئے وہ بڑی بددل سی تھی۔ دھیرے سے اس نے اپنے آپ سے کہا۔
’’مجھے تو لگتا ہے جیسے میں خواب بننے لگی ہوں۔‘‘
پر کہیں ایک چھوٹی سی اُمید کی کرن بھی تھی۔
اتنے ڈھیروں نوکروں کے باوجود اس کے کھانے پینے کی سب چیزیں سمیرا کے گھر سے تیار ہوکر آتی تھیں۔ ایک اجنبی نوجوان کی اس درجہ دیکھ بھال پر سمیرا نے پہلے ہی دن اس کے ہوش میں آنے پر یہ واضح کردیا تھا کہ وہ اس کے ساتھ پیش آنے والے حادثے کی ذمہ دار ہے۔ ہسپتال کا بل دینے کی تو ان میں استطاعت نہیں پر اس کی خدمت سے وہ اپنی بے پروائی اور غلطی کا کفارہ ادا کرنے کی خواہش مندہے۔
اُس کی اِس وضاحت کے جواب میں اُس کے ہونٹوں پر مدھم سی مسکراہٹ اُبھری تھی اور جواباً اس نے صرف اتنا کہا تھا۔
’’شاید میری بھی غلطی ہو۔‘‘
دو بار زبیری صاحب آئے۔ زبیری صاحب کے ساتھ حالاتِ حاضرہ پر اُس کی خوب باتیں ہوئیں۔ مسززبیری بھی خدمت میں پیش پیش تھیں۔
بس اگر شاکی تھی تو صرف سمیرا۔ جو کسی اشارے کسی بول کسی اُمید بھرے الفاظ کی منتظر تھی۔ پر وہاں خاموشی تھی۔ سناٹا تھا اور کسی آس میں رہنے کے لیے کچھ نہیں تھا۔
یہ غالباً ساتواں روز تھا جب وہ کمرے میں داخل ہوئی اُسے یوں محسوس ہوا جیسے اس کے پائوں کے نیچے سے زمین سرک گئی ہو۔ وہ ہونقوں کی طرح دیکھتی تھی۔ کمرا خالی تھا۔ وہ ڈسچارج ہونے کے لیے، تو گزشتہ دو دنوں سے بضد تھا۔ اُس کا کہنا تھا کہ وہ بالکل ٹھیک ہے اور یہ پرائیویٹ ہسپتال والے بلاوجہ ہی پیسے بٹورنے کے لیے فضول کے اُلجھائو میں اُسے ڈالے ہوئے ہیں۔
سمیرا نے جواب میں نیوروسرجن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بہتر ہے اس کے مشورے کے مطابق چلا جائے۔
اور اس کا لہجہ سمیرا کو حیران کرگیا تھا جب اس نے کہا۔
’’سب ڈھکو سلے اور بکواس ہیں۔ مجھے تو آج تک کبھی ہلکا سا ٹمپریچر تک نہیں ہوا یہ چوٹ جانے کیسے لگ گئی۔ ہمارے پیچھے دعائوں کے لیے بے شمار ہاتھ ہیں۔‘‘
تو پھر وہ چلا گیا اُسے کوئی اطلاع دیے بغیر۔ کس قدر کم ظرفی کی بات تھی۔ وہ اس اسٹول پر بیٹھ گئی جس پر ہمیشہ بیٹھتی تھی۔
حیرت تھی اسے خود پر۔ اس کا وہ طنطنہ اس کی پھنکاریں سب جیسے صابن کے جھاگ کی طرح تھیں جنھیں امارت اور وجاہت کے پانیوں نے گھول کر رکھ دیا تھا۔ کیسا کٹھور انسان تھا اتنے دن خدمت کی، کیا اس قابل بھی نہیں سمجھا کہ جانے کا ہی بتا دیتا۔ اُس کا اندر جیسے زخمی تھا سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیسے ان پر پھاہے رکھے۔
کتنی احمق ہوں میں۔ سب کچھ تو نظر آتا تھا۔ پائوں تلے توریت ہی ریت تھی میں کیوں نہ سمجھی اسی ریت پر گھروندے بنانے لگ گئی اب ٹوٹنے تو تھے ہی۔ پتا نہیں کہاں سے جیسے آنسوئوں کا ایک ریلا سا آگیا۔ ہر چیزدُھندلی ہوتی گئی۔ اُس نے اپنا سر پیچھے کی طرف پھینک دیا اور ریلے کے اس تیز بہائو کے سامنے بند لگانے کی کوشش نہ کی۔ دیر بعد جب ہلکی ہوئی تو باتھ روم میں جاکر منہ دھولیا۔ باہر نکلی۔ ریسپشن سے پتا چلا کہ ابھی کوئی گھنٹا بھر پہلے ڈسچارج ہوئے ہیں۔
کیا تھا تھوڑا سا انتظار کرلیا جاتا۔ فون پر اطلاع دے دی جاتی۔ اُسے معلوم بھی تھا کہ میں کم وبیش اسی وقت آتی ہوں۔ یہ سب قصداً کیا گیا کہ میری دل آزاری مطلوب تھی۔ اپنا آپ اُسے اُس سمے ہوائوں میں اُڑتے کاغذوں جیسا ہلکا محسوس ہوا، بے وقعت بے وزن اور بے آبرو جیسا۔ محسوسات کی شدت نے اُس کی آنکھوں میں پھر نمی اُتاردی تھی۔ چلتے چلتے اُس نے کئی بار خود کو لعن طعن کی۔
گھر آئی تو مسز زبیری کہیں گئی ہوئی تھیں۔ پر والد موجود تھے۔ جنھوں نے اُسے بتایا کہ مجید اشرف کا فون آیا تھا۔ وہ شکر گزار تھا ہم سب لوگوں کے خلوص اور محبت کا۔ میں نے اُسے کسی دن اپنے گھر آنے کے لیے بھی کہا۔ اُس سے بات چیت کرکے اچھا لگتا ہے۔
سمیرا کے چہرے پر عجیب سے یاس بھرے رنگ بکھرگئے۔ تاسف بھرے لہجے میں اُس نے کہا۔
’’ارے پاپا آپ نے کیوں اُسے گھر آنے کی دعوت دی۔ یہ امیر لوگ پتا نہیں اپنے آپ کو کیا سمجھتے ہیں۔ ہم جیسے لوگ تو شاید انھیں انسان ہی نہیں لگتے۔‘‘
اور جب وہ روکھی سی آواز میں اپنے باپ سے یہ سب کہتی تھی اُسے قطعی یاد نہیں تھا کہ وہ کب ماڑے موٹے انسانوں کو خاطر میں لاتی تھی۔ اُن کا مذاق اُڑانا اور انھیں حقیر جاننا اس کی سِرشت میںداخل تھا۔
ارے نہیں بیٹے وہ تو بڑا منکسرالمزاج لگتا ہے۔ دوبار کی ملاقات نے مجھ پر تو اس کا بہت اچھا تاثر چھوڑا ہے۔ فون پر بھی اُس کا لہجہ ملتجی اور متانت میں گھلا ہوا تھا۔
اُس نے بحث نہیں کی۔ اپنے کمرے میں چلی گئی۔
بات صرف اتنی سی ہے کہ اُسے محسوس ہوگیا تھا کہ میں اُسے پسند کرنے لگی ہوں اور یقینا میں اس کی پسند نہیں تھی، سو اُس نے اپنا ردِعمل واضح کرتے ہوئے سب کچھ مجھے سمجھادیا تھا۔ اب میں ہی پاگل بنی رہی۔
مسز زبیری گھر آئیں۔ چائے کی طلب نے گھر میں گھستے ہی انھیں چھوٹی بیٹی نویرا کو پکارنے پر مجبور کردیا۔ دو تین آوازوں پر بھی کوئی جواب نہ پاکر اُس کے کمرے میں آئیں، تو ٹھٹک سی گئیں۔ سامنے صوفے پر سمیرا گم سم بیٹھی تھی۔ پژمر دہ سی۔ افسردگی کی چادر میں جیسے لپٹی ہوئی۔
’’کیا بات ہے۔ بیٹے تم اس وقت یہاں کیسے۔ ہسپتال سے کب آئیں؟‘‘
ماں کے اتنے میٹھے محبت بھرے لہجے میں استفسار پر آنسو ایک قطار کی صورت اُس کے گالوں پر آگئے۔ وہ بھی گھبرا گئیں۔
’’کیا ہوا؟‘‘
مضطرب لہجے میں پوچھتیں پاس ہی بیٹھ گئیں۔
بھرائے ہوئے لب و لہجے میں اُس نے دل میں حشربرپا کرتے طوفان کے بارے میں مختصراً ماں کو بتایا۔ لڑکا انھیں بھی پسند آیا تھا۔ دل و جان سے چاہتی تھیں کہ ان کی خوبصورت پڑھی لکھی شائستہ رکھ رکھائو والی بیٹی اس لڑکے کے دل میں گھر کرلے۔
اب اپنی طرف سے تو بہتیری کوشش کی۔ رات دن کی مسلسل مشقت اور روپے پیسے کا فراوانی سے خرچ اب اس سے زیادہ کیا کرسکتی تھیں۔ نچلا متوسط گھرانہ جہاں،’’کیا ننگی نہائے گی اور کیا نچوڑے گی‘‘جیسی صورت ہمہ وقت ہی درپیش رہتی تھی۔
’’چلو چھوڑو بیٹی جو نصیب میں ہوتا ہے وہی ملتا ہے۔‘‘
انھوں نے بیٹی کی آزردگی کو کم کرنے کی کوشش کی۔
’’اُف ممی اتنا ہینڈ سم، اتنا ڈیشنگ، ایسا انٹلیکچوئل اتنا امیر، کہیں آپ اُس کا گھر دیکھتیں، تو دنگ رہ جاتیں۔ مجھے تو یوں لگتا ہے جیسے کوئی پھولوں پھلوں سے لدا پھندا نخلستان میرا مقدر بننے والا تھا پر کسی نے یکلخت مجھے تپتے ریتلے صحرا میں پھینک دیا ہو۔ جیسے میں حیات بخش شربت کا گلاس منہ کو لگانے والی تھی کہ اُسے مجھ سے چھین لیا گیا۔‘‘
بیٹی کی اس حدتک دل گرفتگی پر مسز زبیری کا دل کٹ کٹ جارہا تھا۔ چند لمحوںبعد انھوں نے کہا۔
’’میرا خیال ہے۔ میں فون کروں۔‘‘ انھوں نے اپنی خواہش میں بیٹی کی تائید چاہی۔
پر سمیرا نے نفی میں سر ہلایا۔
چھوڑئیے کوئی فائدہ نہیں اُس نے پاپا کو فون پر شکریے کے چند لفظوں سے اپنے حسابوں ہمارے احسان کا بدلہ اُتاردیا ہے۔
باایں ہمہ مسز زبیری نے اپنے طور پر فون کیا۔ نوکر نے سُنا اور بتایا کہ صاحب اس وقت چند غیر ملکی لوگوں کے ساتھ مصروف ہیں۔ میں آپ کا پیغام دے دوں گا۔
ایک آدھ دن مسز زبیری کو بھی انتظار رہا۔ پھر اُنھیں بھی سمجھ آگئی کہ وہ ہی لوگ بیوقوف تھے جنھوں نے صرف شکل اور تعلیم کے بل پر اتنا بڑا خواب دیکھ لیا تھا۔ مخمل میں ٹاٹ کے پیوند کون لگاتا ہے۔
جلد ہی فائنل امتحان شروع ہوگئے۔ بے دلی سے وہ اس کی تیاری میں اُلجھ گئی۔ پر نہ تو اس اُلجھائو نے اور نہ گزرتے دنوں نے اس کی بے کلی کو گھٹایا البتہ بڑھانے کا کام ضرورکیا۔ اُس کے دل سے ایک لمبی سی ہوک اُٹھتی۔ جو آنکھوں کو گیلا کر جاتی۔
پھر ایک دن عجیب سا واقعہ ہوا۔ شام ابھی گہری نہیں ہوئی تھی سمیرا پیپر دے کر گھر آئی۔ گیٹ کے سامنے سیاہ چمچماتی نئی نویلی لمبی سی گاڑی کھڑی تھی۔ اُس کا دل جس انداز میں دھڑکا اُسے محسوس ہوا جیسے گوشت کی تہیں ہٹاتا ابھی پُھدک کر باہر آگرے گا۔
کون آیا ہے؟ مجید اشرف۔ اس کا سوال خود سے تھا اور جواب بھی اُس نے خود ہی اپنے آپ کو دیاتھا۔
بھلا اُس نے یہاں کیا لینے آنا ہے؟
تو پھر کون ہوسکتا ہے۔ شاید کریم صاحب کا کوئی عزیز ہو؟
بائیں طرف کے ہمسائے کریم صاحب کے کینیڈا میں بسنے والے رشتہ داروں کی کبھی کبھار ایسی ہی لمبی گاڑیاں ان کے گھر کے سامنے کھڑی دیکھنے کو ملتی تھیں۔
وہ اندر داخل ہوئی۔ ڈ رائنگ روم سے پاپا کے اونچے اونچے باتیں کرنے کی آوازوں نے اُسے بتادیا تھا کہ مہمان کون ہے؟
وہ اپنے کمرے میں آگئی۔ وہ متضاد سی کیفیات کا شکار تھی۔ جس کی چاہت میں ہلکان ہورہی تھی اُس کی آمد کا مفہوم آیندہ کسی نوید کا باعث بھی ہوسکتا تھا۔ اس آمد کا کرٹسی کے طور پر بھی امکان تھا۔ اُس نے بیگ تپائی پر رکھا اور لیٹ گئی۔ وہ کمرے کے اندر ضرور تھی پر اُس کی ساری حسیات اور سماعتیں کمرے سے باہر تھیں۔ پھر جیسے اُسے گاڑی کے اسٹارٹ ہونے کی آواز آئی اور اس آواز کے ساتھ ہی جیسے وہ ایک جھٹکے سے اُٹھ بیٹھی۔
تو کیا وہ چلا گیا؟ مجھ سے ملے بغیر۔
پر اس تلخ سوچ کے منفی اثرات اُس کے اندر باہر پھیلنے سے پہلے ہی اُس کی ماں بہن اور بھائی کے جگمگاتے کلکاریاں مارتے چہروں نے کمرے میں داخل ہوتے ہی دھنک کے سارے رنگ یہاں وہاں بکھیردیے۔ ابھی مسز زبیری اور نویرا میں سے کسی نے بھی اپنے چہروں پر رقصاں بے پایاں خوشی کی توجیہہ کے بارے میں کچھ بتانے کے لیے لب کھولے نہیں تھے کہ زبیری صاحب ایک بڑا اٹیچی کیس دھکیلتے ہوئے اور چہکتی ہوئی آواز میں کہتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئے۔
’’ارے بھئی ہم نے تو کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ ہماری سمیرا اتنی بخت آور ہوگی۔‘‘
’’اس کا نصیب تو کسی مہارانی جیسا دکھتا ہے۔‘‘
مسز زبیری بیڈ پر بیٹھتے ہوئے بولیں۔
دراصل وہ تو اگلے دن لندن اپنے والدین کے پاس چلا گیا تھا۔ اُس نے تو کھلے لفظوں میں بتایا ہے کہ سمیرا اور اس کے گھر والے اُسے بہت پسند آئے تھے پر اپنے ماں باپ کی رائے کے بغیر وہ کوئی قدم اُٹھانا نہیں چاہتا تھا۔ اپنی پسند پر ان کی اطمینان بھری رائے لے کر وہ ہمارے ہاں آیا ہے۔
اسی دوران نویرا نے اٹیچی کیس کھول لیا تھا اور پورا خاندان اس میں رکھے گئے ہیروں کے چھوٹے بڑے سیٹ اور انتہائی قیمتی کپڑوں کو دیکھ کر انگشت بدنداں رہ گیا۔
سمیرا کو یہ بھی معلوم ہوا تھا کہ وہ نکاح اور شادی کی تاریخوں کا تعین بھی خود ہی کرگیا تھا۔ درمیان میں صرف دس گیارہ دن تھے جس میں فوری طور پر اُس کا پاسپورٹ اور ویزا بننا تھا۔ ایک ہفتہ اپنے والدین کے پاس لندن میں قیام کے بعد انھیں پیرس جانا تھا جہاں اس کے بڑے بھائی کی ڈریس ڈیزائن نمائش ہورہی تھی۔
وہ ایک بار پھر گم سم سی بیٹھی تھی۔ قدرت کے اس معجزے پر حیرت زدہ، مقدر اس قدر تابناک ہوسکتا ہے یہ حقیقت ہے یا خواب۔ اُس نے خود سے سوال کیا تھا۔
اور آنے والے چند دن ایسے ہی تھے کہ جن کے ہر ہر دن پر اُسے خواب کا سا گمان گزرتا اور وہ ہر ہر مرحلے پر اپنے آپ سے یہی سوال دہراتی تھی…
بیٹی کے والدین کی حیثیت سے اُس کا خاندان کسی بھی مرحلے پر نہ تو مالی لحاظ سے اور نہ ہی جسمانی لحاظ سے زیر بار ہوا۔ انتظامات انتہائی اعلیٰ پیمانے کے تھے جن میں اُن کی شمولیت ہر فکر اور پریشانی سے مبرا تھی۔ اُس کے رشتہ دار خصوصاً اس کا پھوپھی زاد بھی دنگ تھا۔
اور وہ شادی کے تیسرے دن جہاز میں بیٹھی لندن کی طرف رواں دواں تھی۔ دفعتاً عقبی نشست سے کسی نے غالباً اپنے ساتھی سے کہا تھا:
’’دیکھو ذرا نیچے ہم شاید لبنان کے اوپر سے گزررہے ہیں۔ ‘‘
اُسے جیسے بجلی کا کرنٹ لگا، وہ سیدھی ہوئی اور کھڑکی سے نیچے جھانکنے لگی۔ اُسے تو کچھ بھی نظر نہ آیا۔ اُس نے مجید اشرف کے بازو پر اپنا ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
مجیّ واپسی پر اگر ہم جبران کے لبنان میں چند دن رکیں۔ مجھے اس کا دیس دیکھنے کی کتنی حسرت ہے شاید تم اس کا اندازہ نہ لگا سکو۔
’’بھئی کون جبران؟‘‘ اُس کی خوبصورت آنکھوں سے چھلکتی حیرت سمیرا کے لیے حددرجہ استعجاب کا باعث تھی۔ اُس نے ذرا سے نک چڑھے انداز میں کہا۔
’’تم نے جبران کو نہیں پڑھا؟‘‘
’’نہیں۔‘‘
نارمل سے لہجے میں یہ لفظ کہہ کر اُس نے چند لمحے تو قف کے بعد جب اپنی بات کو آگے بڑھایا، تو اُس کے لہجے میں بھر پور اعتماد کی جھلک بھی نمایاں تھی اور طمانیت بھی۔
’’میں نے صرف ساتویں جماعت تک پڑھا ہے۔ ہم لوگ سُنارہیں۔ اندرون مغلپورہ میں ہمارا پانچ مرلے کا چھوٹا سا گھر تھا۔ بازار میں چھوٹی سی دکان تھی۔ پھر میرا بڑا بھائی باہر چلا گیا۔ اُس نے سمگلنگ شروع کردی۔‘‘
مجید اشرف نے قصداً رُک کر اُسے دیکھا جو پھٹی پھٹی آنکھوں سے اُسے دیکھ رہی تھی۔
’’ارے بھئی ہیروئن کی سمگلنگ نہیں۔ سونے اور ہیروں کی۔‘‘
آسمان کی چھت پھٹ گئی تھی اور اس میں سے ہُن برسنا شروع ہوگیا تھا۔
’’پڑھائیاں تو اُڑنچھو ہوئیں اور ہم اس میں مصروف ہوئے۔ دھیرے دھیرے ہم نے سب غیرقانونی دھندے ختم کیے کاروبار کو قانونی صورت دی۔ الحمد للہ آج ہمارا ایک پائوں امریکا ہے تودوسرا جاپان۔ تیسرا آسٹریلیا اور چوتھا فن لینڈ۔‘‘
سمیرا کے سر پر جیسے بم پھٹا۔ ہکلاتے ہوئے وہ بولی۔
’’تو تم پڑھے لکھے نہیں ہو۔ تم نے شیلے، کیٹس اور ورڈزورتھ کو نہیں پڑھا۔‘‘
’’ہرگز نہیں۔‘‘
اُس کے چہرے پر شوخی سے لبریز مسکراہٹ تھی جیسے وہ محظوظ ہو رہا ہو۔
’’نہیں مجیّ یہ کیسے ہوسکتا ہے۔ مذاق مت کرو۔ دیکھو میرا سانس سینے میں اٹک رہا ہے۔ مجھے اختلاج سا ہورہا ہے۔ تم تو آکسفورڈ کے پوسٹ گریجوایٹ ہو۔‘‘
بڑی جارحانہ سی مسکراہٹ تھی۔ جس سے اُس نے سمیرا کو دیکھا تھا۔ بڑا جارحانہ سا انداز تھا جب اُس نے کہا۔
’’حقیقت یہی ہے جو میں نے تمھیں بتائی ہے۔‘‘
اور وہ جیسے پھٹ پڑی۔
’’یہ کتنا بڑا فراڈ ہے۔ کتنا بڑا دھوکا ہے۔‘‘
مجید اشرف کا چہرہ پلک جھپکتے میں تانبے جیسا سرخ ہوا۔ اُس کی آنکھوں میں جیسے قہر ٹوٹ پڑا۔
وہ انگریزی میں دھاڑا۔
“How dare you to say”
’’تم اپنے حواسوں میں تو ہو۔ میرے تینوں بھائی انڈر میٹرک اور میری تینوں بھابھیاں دو ڈاکٹر اور ایک سی-اے اور وہ بھی لندن کے امیر کبیر پاکستانی خاندانوں کی۔ تم ادھورے ایم-اے کے ساتھ۔ بھوکے ننگوں کی بیٹی۔ آیندہ اگر ایسی بکواس کی تو گردن مروڑ دوں گا۔ زندگی شیلے اور کیٹس کو پڑھنے کا نام نہیں ہے۔ زندگی دو اور دو چار کا نام ہے۔ سمجھیں۔‘‘
وہ پھر دھاڑا۔
’’تمھیں سمجھ آگئی ہے۔جواب دو۔‘‘
پھٹی پھٹی آنکھوں سے اُسے دیکھتے ہوئے سمیرا کی آواز ایسی ہی تھی جیسے کسی گہرے کنوئیں سے کسی حرماں نصیب کی کوئی سسکی اُبھر کر باہر آئی ہو اور جب اس نے پشت سیٹ سے ٹکائی اُسے محسوس ہوا تھا جیسے اُس کے ہنستے کھلکھلاتے وجود کو کسی نے پل بھر میں تو ڑ پھوڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کردیا ہے۔ اس کے سارے ارمان کرچیوں کی صورت اُس کے سامنے بکھر گئے ہیں اور اس کے مردہ وجود میں سے ایک آواز نکلی۔
’’ہاں زندگی صرف دو اور دو چار کا نام ہے۔‘‘ ٔ
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers