قومی سلامتی کے مسائل کا احاطہ کرنے سے پہلے ہمیں قومی طاقت (National Power) کے حقیقی سرچشموں کا جائزہ لینا ہو گا۔ ہم جب اِن سرچشموں کی دیکھ بھال نہیں کرتے ٗ تو بتدریج ضعف اور اضحلال کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ہر ملک اپنے مخصوص حالات اور دستیاب وسائل کے مطابق اپنا وجود قائم رکھتا اور عالمی برادری میں ایک مقام بنانے کے لیے تگ و دو کرتا رہتا ہے۔ عام طور پر قومی طاقت کے بڑے بڑے عناصر آبادی کا حجم ٗ رقبے کی وسعت ٗ صحت مند ٗ تعلیم یافتہ اور ہنر مند افرادی قوت ٗ جغرافیائی محلِ وقوع ٗ مضبوط معیشت ٗ عسکری قوت ٗ آئیڈیالوجی ٗ سیاسی استحکام اور قابلِ اعتماد قانونی اور عدالتی نظام سرِفہرست ہیں۔   تفصیل سے پڑھیے
پاکستان اِس اعتبارسے نہایت خوش قسمت ملک ہے کہ وہ ایک آئیڈیالوجی کی اساس پر قائم ہے ٗ اِس کا جغرافیائی محلِ وقوع غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ وہ آبادی کے لحاظ سے دنیا کا ساتواں بڑا ملک ہے۔ اِس کی فوج دنیا کی بہترین افواج میں شمار ہوتی ہے۔ یہاں کے باشندے سخت جان اور بے حد جفاکش ہیں اور ذہانت ٗ اُیچ اور جدت طرازی کی شہرت رکھتے ہیں۔ سونا اُگلتی ہوئی پانچ دریاؤں کی سرزمین بیش بہا آبی اور معدنی ذخائر اور صنعتوں اور حرفتوں کا وسیع سلسلہ ایک اچھی معیشت کی ضمانت دیتے ہیں۔ پاکستان جو سیاسی اور جمہوری عمل کے ذریعے وجود میں آیا ہے ٗ اِس لیے جمہوریت اِس قوم کے مزاج میں رچی بسی ہے۔ اِس عظیم الشان مملکتِ خداداد کو ایک اعلیٰ
درجے کا ریلویز سسٹم ٗ آبپاشی کا نظام اور پوسٹل سروس انگریزوں سے وراثت میں ملی ہیں اور اِس کے نابغہ نظر سائنس دانوں اور انجینئروں نے اِسے ناقابلِ تسخیر ایٹمی طاقت بنا دیا ہے۔
ایک ایسا ملک جو بحیرۂ عرب کی گزرگاہ پر واقع ہے ٗ شرقِ اوسط اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے درمیان ایک پُل کی حیثیت رکھتا ہے اور جس کے عظیم آبادی پر مشتمل چین ٗ روس اور بھارت اُس کے ہمسائے ہیں ٗ اُسے اپنی معیشت اور تجارت کو ترقی دینے اور اقتصادی خوشحالی کی شاہرائیں بنانے میں بہت ساری سہولتیں دستیاب ہیں اور وہ سفارتی سطح پر بھی ایک اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اِس نے آزادی حاصل کرتے ہی
مسلم کاز کے لیے اپنی سیاسی اور سفارتی سرگرمیاں تیز کر دی تھیں۔ اِس کے قیام کے بعد انڈونیشیا ٗ ملائیشیا ٗ الجزائر ٗ سوڈان اور افریقہ اور ایشیا کے متعدد مسلمان ممالک آزاد ہوئے جنہوں نے برصغیر میں مسلمانوں کی جدوجہدِ آزادی سے ولولہ ٗ راہنمائی اور سرشاری حاصل کی تھی۔ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مندوبین مسلمانوں کی تحریکِ آزادی کو قانونی فریم ورک فراہم کرنے میں پیش پیش رہے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ملائیشیا کا پہلا دستور پاکستان کے جسٹس جناب عبدالحمید نے تیار کیا تھا جو قانون کی حکمرانی کے بہت بڑے علمدار تھے۔ اِسی طرح پاکستان نے 1955ء میں چین کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے جبکہ دونوں عالمی طاقتیں اِس کی
دشمن تھیں اور تمام عالمی اداروں کے دروازے اِس پر بند تھے۔ یہ پاکستان ہی تھا جس کی مسلسل اور جرأت مندانہ کوششوں سے عوامی جمہوریہ چین کو اقوامِ متحدہ کی رکنیت حاصل ہوئی جس کے نتیجے میں عالمی طاقت کے اندر کسی قدر توازن پیدا ہوا۔ یہ بھی ایک عظیم حقیقت ہے کہ پاکستان کے ______ ماہرِ مالیات جناب انور علی نے سعودی عرب کو ایک مستحکم اور جدید مالیاتی نظام فراہم کیا اور سنگاپور اور گلف ائیر لائن کے قیام اور فروغ میں پی آئی اے نے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ پاکستان کے انجینئر ٗ ڈاکٹر اور اساتذہ سعودی عرب ٗ عراق اور امارات میں ناقابلِ فراموش خدمات سرانجام دیتے رہے۔ حرمین شریفین کی توسیع میں بھی پاکستانی منصوبہ
سازوں نے کارہائے نمایاں انجام دیے۔ پاکستان کے کریڈٹ میں یہ بات بھی جاتی ہے کہ اِس کی محنتی اور ہنرمند افرادی قوت برطانیہ ٗ کینیڈا ٗ امریکہ اور یورپ کے مختلف ملکوں کی معیشت کو فروغ دینے میں قابلِ قدر خدمات سرانجام دے رہی ہے اور آج اُن کے ہسپتالوں ٗ تعلیمی اداروں ٗ بینکوں اور سائنس کی رسدگاہوں میں پاکستان کے ڈاکٹر ٗ بینکار ٗ سائنس دان اور محققین ذمے دار عہدوں پر فائز ہیں۔
٭٭٭
ہم جب تک قومی طاقت کے سرچشموں سے پوری طرح فیض یاب ہوتے رہے ٗ ہماری قوت اور اہمیت میں اضافہ ہوتا رہا۔ ہماری پہلی دستور ساز اسمبلی نے قراردادِ مقاصد منظور کر کے ثابت کر دیا تھا کہ اسلام کے اندر جمہوریت کے اعلیٰ ترین اصول اور مبادیات موجود ہیں اور اسلامی ریاست اپنے شہریوں کو تمام بنیادی آزادیاں اور انسانی حقوق دیتی ٗ آزاد عدلیہ کی ضمانت فراہم کرتی ٗ اقلیتوں کی مذہبی اور ثقافتی آزادی کا تحفظ کرتی ہے۔ اِس قراردادِ مقاصد میں یہ اصول طے پایا تھا کہ اقتدار ایک مقدس امانت ہے اور اِسے فقط عوام کے چُنے ہوئے نمائندے ہی استعمال کرنے کے مجاز ہوں گے۔ اِس دوٹوک اور غیر مبہم اعلان نے ہر نوعیت کی آمریت اور
ابتدایت کی جڑ کاٹ دی گئی تھی ٗ مگر بدقسمتی سے وہ چھوٹا سا گروہ جو ایک لادینی ریاست قائم کرنا چاہتا تھا ٗ اُس نے بندوق کی طاقت سے اقتدار پر قبضہ کر لیا اور 1955ء ہی میں وفاقی عدالت نے اِس اقدام کو جائز قرار دے دیا تھا۔ اِس حادثے کے بعد قومی طاقت کے سرچشمے بتدریج خشک ہوتے گئے اور جمہوریت کا وہ مسلمہ تصور دھندلا گیا کہ عوام کی حکومت ٗ عوام کے ذریعے اور عوام کے لیے ہوتی ہے۔ قائداعظمؒ پاکستان کو اسلام کی ایک جدید تجربہ گاہ بنانا چاہتے تھے جس میں عہدِ حاضر کے پیچیدہ مسائل کا حل تلاش کیا جا سکے اور دنیا کے سامنے اِس بھائی چارے ٗ انسانی مساوات اور امن و آتشی کے اعلیٰ نمونے پیش کیے جائیں ٗ لیکن طالع
آزماؤں نے پاکستان کی آئیڈیالوجی میں اپنی ذاتی خواہشات کی ملاوٹ کا سلسلہ شروع کر دیا اور یوں جس نظریاتی قوت کو قومی طاقت کا اہم جزو لاینفک ہونا چاہیے تھا ٗ اُسے فکری انتشار پھیلانے کا ذریعہ بنا دیا گیا ٗ پھر یہ حادثہ بھی ہوا کہ دنیا کی بہترین ہماری مسلح افواج سیاست کی دلدل میں پھنستی چلی گئیں اور قومی طاقت کو ضعف پہنچانے کا باعث بنیں۔ پہلے 1965ء کی جنگ میں پاکستان ایک عبرت ناک شکست سے بال بال بچا جبکہ 1971ء کی خانہ جنگی اور بھارتی جارحیت کے سبب لیفٹیننٹ جنرل نیازی کو بھارتی کمانڈر اروڑا کے سامنے ہتھیار ڈالنا پڑے اور پاکستان دولخت ہو گیا۔ جنرل پرویز مشرف کی قیادت میں فوج کے کرتوت کچھ ایسا رنگ اختیار کر گئے کہ عوامی نفرت کے پیشِ نظر اور فوجی افسروں کے لیے وردی پہن کر باہر نکلنا تقریباً ناممکن ہو گیا تھا۔
قومی طاقت کے دیگر سوتے بھی خشک ہونے لگے۔ ہمارا اسٹریٹیجک محلِ وقوع بیرونی طاقتوں کی للچائی ہوئی نگاہوں کا مرکز بن گیا اور ملک میں شورشوں کی تخم ریزی کی جاتی رہی۔ نائن الیون کے بعد پاکستان کی مغربی سرحدیں غیر محفوظ ہوتی گئیں۔ بلوچستان میں گریٹ گیم کی تیاریاں دیکھنے میں آئیں اور فاٹا کے بعض علاقوں میں جنگجوؤں نے اپنی رِٹ قائم کر لی اور پاکستان بیرونی طاقتوں کی ریشہ دوانیوں کی آماجگاہ بن گیا جس میں ہمارے پچاس ہزار سے زائد شہری اور پانچ ہزار فوجی جامِ شہادت نوش کر گئے۔ بعض اوقات ایسے مرحلے بھی آئے کہ امریکہ نے ایک ایسی پالیسی اختیار کی جس نے ہماری علاقائی خود مختاری اور قومی سلامتی پر
سوالات کھڑے کر دیے اور چینی قیادت کو بار بار اعلان کرنا پڑا کہ ہم پاکستان کی آزادی اور خود مختاری کا پورا پورا تحفظ کریں گے۔ اِن جھمبیلوں میںہماری معیشت جس کی نمو ایک زمانے میں ایک قابلِ تقلید مثال کے طور پر پیش کی جاتی تھی ٗ اِس میں قومی دولت بائیس خاندانوں میں سمٹ کر رہ گئی اور ایک ہولناک طبقاتی کشمکش نے جنم لیا۔ اِسی طرح جنرل پرویز مشرف کے دورِ اقتدار میں بڑے بڑے کاروباری طبقے بہت مالدار ہو گئے جبکہ غربت کی لکیر کے نیچے رہنے والے عوام کی تعداد میں ہوشربا اضافہ ہو ا اور کنزیومر اکانومی نے ملکی وسائل موج میلے پر اُڑا دیے اور توانائی کا انفراسٹرکچر تعمیر نہیں ہوا ۔ پیپلز پارٹی کے پانچ سالہ ’’عہدِ زریں‘‘ میں حکومت نے اپنے اللوں تللوں کے لیے اِ س قدر قرضے لیے جو ساٹھ سالہ مدت میں لیے گئے مجموعی قرضوں سے کئی گنا زیادہ ہیں۔ اب دہشت گردی ٗ توانائی کے بحران اور بجلی کی لوڈشیڈنگ اور اشیائے صرف
کی آسمان سے باتیں کرنے والی قیمتوں نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے جس کے باعث قومی طاقت میں بڑی تیزی سے کمی آتی جا رہی ہے۔ تیس برسوں پر محیط فوجی حکومتوں ٗ سیاسی آمریتوں اور اعلیٰ سرکاری افسروں اور میڈیا کی بے راہروی نے پاکستان کو مسائلستان بنا دیا ہے اور حافظ آباد کے اسکندر نے جس طرح ساڑھے پانچ گھنٹے پولیس کو تگنی کا ناچ نچایا ٗ اُس نے ہماری سلامتی کے حصار میں گہرے شگاف ڈال دیے ہیں۔ پہلے جی ایچ کیو پر دہشت گرد چڑھ دوڑے ٗ پھر اُنہوں نے کراچی میں مہران نیول بیس کی طرف رُخ کیا اور کچھ دیر بعد وہ کامرہ ائیر بیس میں گھس گئے اور ہر بار یہی محسوس ہوا کہ ہمارے سیکورٹی کے انتظامات خطرناک حد تک ناقص ہیں۔ یہ زخم شاید ہی مندمل ہو سکے کہ امریکی ہیلی کاپٹر بلا روک ٹوک پاکستان کی حدود میں داخل ہوئے ٗ اسامہ بن لادن کے خلاف گھنٹوں آپریشن کرتے رہے اور ہمارا پورا دفاعی نظام بے حس و
حرکت رہا۔ اب کراچی محفوظ ہے نہ کوئٹہ ٗ بنوں سے لے کر پشاور تک پورا خطہ دہشت گردی کی زد میں ہے اور ہمارے ادارے دہشت گردوں کو پھانسی دینے کے خیال ہی سے کانپ رہے ہیں۔ کبھی کبھی یہ گمان ہونے لگتا ہے کہ ہمارے حالات بھی کولمبیا اور اٹلی جیسے ہوتے جا رہے ہیں جب ریڈ بریگیڈ اور میڈیلن کارٹل نے ریاست کو سرنگوں کر لیا تھا۔
٭٭٭
ہماری قومی اور عسکری قیادت کو اِس حقیقت کا پورا پورا ادراک ہونا چاہیے کہ اب قومی سلامتی کا دائرہ پہلے سے کہیں زیادہ وسیع ہو چکا ہے اور اِس میں دہشت گردی ٗ ہوم لینڈ سیکورٹی ٗ ایٹمی اثاثہ جات کی حفاظت ٗ آبی وسائل کی تقسیم اور آبی ذخائر کی تعمیر ٗ توانائی کے ارزاں وسائل کی دریافت ٗ نسلی اور فرقہ وارانہ تشدد ٗ بلوچستان کا بحران ٗ جنوبی اور شمالی وزیرستان میں آپریشن ٗ
عوام کو بااختیار بنانے کا عمل ٗ اسلام کی ایک معتدل اور جدید مذہب کے طور پر پراجیکشن ٗ بھارت کے ساتھ امن کے معاملات ٗ قضیۂ کشمیر ٗ افغانستان سے اتحادی فوجوں کا انخلا ٗ علاقائی جنگ چھڑ جانے کا خطرہ ٗ افغانستان میں ایک ہولناک عدم استحکام اور بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدہ ختم کرنے کی دھمکی جیسے حساس اور سنگین ایشوز شامل ہو گئے ہیں۔ اِن سے عہدہ برآ ہونے کے لیے چند بنیادی تقاضے پورا کرنے پر کامل توجہ دینا ہو گی۔ نازک صورتِ حال کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ
حکومت اور عسکری قیادت کے مابین کامل فکری ہم آہنگی اور اعتماد پیدا کیا جائے ٗ دوسرا یہ کہ ادارتی راہنمائی کے فقدان کی وجہ سے حکومت کے اسٹرکچر میں اسٹریٹیجک فکری ارتقا کا عمل مفقود ہے ٗ فوری طور پر اِس کے احیا کا اہتمام کیا جائے۔ تیسرا اہم تقاضا یہ ہے کہ حکومت کے کارندوں میں سخت حالات کے سامنے جو تربیت اور ترغیبات کی کمی ہے جس کے باعث مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو پا رہے ٗ اُن کو بنیادی اہمیت دی جائے۔ چوتھا تقاضا یہ ہے کہ ایسے آزاد تھنک ٹینکس قائم کیے جائیں جو قومی سلامتی سے متعلق تمام ایشوز کو مکمل طور پر احاطے میں لانے کیصلاحیت رکھتے ہوں۔ پانچواں تقاضا یہ ہے کہ ہم ایک ایسی حکمتِ عملی وضع کریں جس کے ذریعے خطرے کی وقت سے پہلے روک تھام کی جا سکے۔ نئی صورتِ حال میں سب سے اہم تقاضا یہ ہے کہ ایک ایسا مرکزی ادارہ وجود میں لایا جائے جو تیزی سے اُبھرتے ہوئے داخلی اور خارجی چیلنجوںسے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہو۔
وزیر اعظم کی صدارت میں کابینہ کی دفاعی کمیٹی کا جو اجلاس ہوا ٗ اِس میں انہی اہداف کی طرف پیش قدمی کا راستہ اختیار کیا گیا ہے اور دفاعی کمیٹی کانام تبدیل کر کے کابینہ کمیٹی برائے قومی سلامتی رکھ دیا گیا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اِس کمیٹی کو نیشنل سیکورٹی کونسل کا نام دینے سے عمداً اجتناب کیا گیا ہے ٗ حالانکہ اِس کے بنیادی عناصر غیر معمولی مشابہت رکھتے ہیں۔ دراصل نیشنل سیکورٹی کونسل کی ایک تاریخ ہے ۔ یہ کونسل سب سے پہلے چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر جنرل یحییٰ خاں نے 1969ء میں قائم کی تھی اور میری یادداشت کے مطابق اِس کے سربراہ میجر جنرل عمر تعینات کیے گئے تھے۔ یہ کونسل 1971ء تک قائم رہی جو
سقوطِ مشرقی پاکستان کے بعد ختم ہو گئی۔ غالباً اِس کا مقصد سیاسی معاملات پر فوج کی گرفت مضبوط رکھنا تھا۔ میں نے 1983ء میں نیشنل سیکورٹی کونسل کی جو تجویز دی تھی ٗ اِس میں وزرائے اعلیٰ کے علاوہ اپوزیشن لیڈر کو بھی شامل کیا گیا تھا۔ وفاقی وزراء میں وزیرِ اطلاعات و نشریات کی افادیت بھی واضح کی گئی تھی۔ جنرل ضیاء الحق نے آئین میں جو صدارتی حکم کے ذریعے بہت ساری ترامیم کی تھیں ٗ اِن میں نیشنل سیکورٹی کونسل کا قیام بھی شامل تھا ٗ مگر جب 1985ء کے غیر جماعتی انتخابات میں پارلیمنٹ وجود میں آ گئی ٗ تو ترامیم کی منظوری لینے کا سخت مرحلہ درپیش آیا ٗ تو جنرل ضیاء الحق بہت مجبوری سے کونسل کے قیام سے
دستبردار ہو گئے ٗ مگر وہ نجی گفتگو میں اِس کی افادیت کے بہت زیادہ قائل تھے۔ صدر فاروق احمد خاں لغاری نے جب 1996ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت ختم کی ٗ تو اُنہوں نے وسیع البنیاد نیشنل سیکورٹی کونسل قائم کی جس کی بساط جناب نواز شریف نے اقتدار میں آتے ہی لپیٹ دی کیونکہ اِس کے سربراہ صدرِ پاکستان تھے۔ 1998ء میں حکومت کو بعض مشکل مسائل کا سامنا ہوا ٗ تو جنرل جہانگیر کرامت نے لاہور کی نیول اکیڈیمی میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ حالات نیشنل سیکورٹی کونسل کے قیام کا تقاضا کر رہے ہیں۔ وہ ایک انٹیلکچوئل (intellectual)جرنیل تھے اور گہرے تجزیے اور مختلف اداروں کے مابین مشاورت کو اہمیت دیتے
تھے ٗ اِس لیے اُنہوں نے نیشنل سیکورٹی کونسل کا تصور پیش کیا تھا۔ یہ تصور ایک فوجی سربراہ کی طرف سے آیا تھا ٗ لہٰذا وزیر اعظم نواز شریف نے اِس پر شدید ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے جنرل
کرامت سے استعفیٰ طلب کر لیا جو اُنہوں نے کسی لیت و لعل کے بغیر پیش کر دیا۔ اِس واقعے نے فوج اور وزیر اعظم کے درمیان بے اعتمادی کی خلیج حائل کر دی جس کا جنرل پرویز مشرف نے فائدہ اُٹھایا اور اپنے فوجی ساتھیوں کی حمایت سے حکومت کا تختہ اُلٹ دیا ٗ کیونکہ وزیر اعظم نواز شریف نے اِس وقت جنرل پرویز مشرف کو برطرف کر دیا تھا جب وہ سری لنکا کے دورے سےواپس آ رہے تھے اور ابھی طیارے ہی میں تھے۔ دراصل فوجی کمانڈوز جنرل جہانگیر کرامت کی برطرفی پر سخت ناراض تھے اور اِس لیے اُنہوں نے جنرل پرویز مشرف کی برطرفی قبول نہیں کی تھی۔

Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers