ہم جو ایسے ہی انگڑائی لیتے لیتے بستر پر اٹھ بیٹھتے ہیں. کچھ انگڑائیاں لیتے ہیں اور پھر بستر سے اتر جاتے ہیں، کوئی چائے کی طرف بھاگتا ہے کوئی لسی کی طرف. چند گھونٹ گلے میں ُانڈیل کے، جیسے کہ ہوش آنے لگتا ہے. کوئی فکر تھوڑا ہی نہ ہے کہ نماز نکل گئی. یہ کوئی نئی بات تھوڑا ہی نا ہے جو آج ادھر دھیان جاۓ. ابھی تو بس یہ معلوم ہے کہ رات دیر ہو گئی تھی اور ابھی تک تھکان ہے. تفصیل سے پڑھیے
تو ایسا بھی ہے ،بلکہ ایسا ہی ہے. دین کونسا بھاگا جا رہا ہے. ارے بھائی صبح تو بھاگ ہی جاتی ہے، دور ، دور ، اور دور. اس کے دور جانے کا بھی کسی کو غم نہیں. کوئی نہ اس کی دوری محسوس کرتا ہے نہ ہی جدائی . ظاہر ہے جب کمی محسوس ہی نہیں ہو گی تو پانے کی جستجو کیسے ہو گی. نہیں ہو گی. اصل میں ہر روز جو اٹھتے ہی دیکھتے ہیں مانگے ِبنا ہی صبح ہو گئی اور بھلے اس سے اچھا نہ کرو. صبح دینے والے کا شکر نہ کرو، اس کو یاد نہ کرو وہ تو یاد کرتا ہے. روشن صبح دیتا ہے.
یہی حال رہے گا تو کیسے معلوم پڑے گا کہ ُاجالا کس کے لئے ہوتا ہے ، دن کس کے لئے نکلتا ہے. صبح پو پھٹنے سے پہلے سجدہ کیوں کرنا ہے . دن کیسے شروع کرنا ہے. یہ سب سوال دل میں بنتے ہیں .بنواۓ نہیں جا سکتے. آنکھ کھلتے ہی ہم نہ جانے کس نہ معلوم افراتفری کی جانب نکل پڑتے ہیں. اور پلک جھپکتے کہاں ُگم ہو جاتے ہیں. کوئی ہم سے الگ قسم کا انسان ہو تو بتاے کہ جو بھی ہو رہا ہے سب غلط ہے . پر کوئی بات نہیں . ہم کو خود کو اور ان سب کو ملا کے کام کرنا ہے. ان سب کو بتانا ہے وہ راز جس سے سب ہی ناواقف ہیں. وہ ہے اس بات کا احساس کہ یہ صبح ہماری ہے. یہ زندگی بھی ہماری ہے اور زندہ رہنے کی جنگ بھی. ہم کو ہر حق ہے کہ خود کو محفوظ رکھیں. ذہنی طور پر محفوظ محسوس کریں. مجھ سمیت ہمیں کوئی فکر نہیں کہ زمانہ کہاں جا رہا ہے. ملک کہاں جا رہا ہے اور ہماری سوچ کو کیا ہو گیا ہے. زنگ لگ گیا ہے ہر شے کو.
خود کی آنکھ کھلتے ہی ہم معلوم نہیں. کوئی بات ہی نہیں ہے اگر زنگ لگ گیا ہے. اس کو نہیں رونا. زنگ اتارنا ہے. مجھے نہیں گمراہ ہونا کہ کچھ نہیں ہو سکتا. سب کچھ ہو سکتا ہے. امی مجھے کہتی تھیں اکیلا کوئی کچھ نہیں کر سکتا. وہ ڈرتی تھیں میرے لکھنے سے. میں ڈٹا رہا. دیکھو ہوا. ہوا اور ہو رہا ہے. لوگ آتے ہیں سنتے ہیں. ناکامیاں میرے گهر چھوڑ جاتے ہیں اور نئےعزم کے ساتھ واپس جاتے ہیں. میں ان کے جانے کے بعد ان کی ناکامیاں تنور میں ڈال کے روٹیاں پکاتا ہوں، مزے سے کھاتا ہوں. امید کی کرن ناامیدی کے اندھیرے کو چیرتی ہوئی سب ماحول کو روشن کر دیتی ہے اور سب کے من کو بھی. دیکھو جی امید بھرے کو ہی نہ امیدی ملتی ہے. جس نے کوئی داؤ نہیں کھیلا اس کو کیا. وہ جلے یا کوئی اور. میں نے آنکھ کھولی تو کان میں آواز پڑی' اس قوم کا کچھ نہیں ہونے والا' یہی سنتے سنتے جوان ہوا. سنانے لگا، دیکھنے لگا اور سب سے پتے کی بات. سوچنے لگا. نکلنے کے راستے ڈھونڈنے لگا.
آج میں سب کے سامنے ہوں. مجھے معلوم ہے میرا تو سب کچھ ہونے والا ہے. مجھ سے اور بہت سے ہیں جن کا سب کچھ هونے والا ہے. ہم کو معلوم ہو گئی ہے خود کی حقیقت. صبح کی روشنی کی بھی. ہر صبح میری ہے ،میرے وجود کی ہے. کوئی کون ہو جو مجھے ِنراش کرے. میرے رستے میں آے یا میرا دل میلا کرے. الله تعالی نے دن میرے کام کرنے کے لئے بنایا ہے. رات میرے آرام اور تفکر کے لئے. میں سب سے فائدہ اٹھاوں گا. گھبرا کے کسی کے پاس نہیں جاوں گا. مجھے معلوم ہو گیا ہے. کرنے والا الله ہے. سہارا دینے والا اور تھامنے والا بھی وہی ہے. سب جانچ پڑتال، کھوج، ایجاد سب میرے لئے ہے میری آسانی کے لئے. مجھے کوئی کیوں کہے کہ اس قوم کا کچھ نہیں هونے والا. میرا تو سب کچھ هونے والا ہے اور میری قوم کا بھی. ابھی اندھیرا کھاتا چاہتا ہے، ُاجالا ہوا ہی چاہتا ہے. بس پو پھٹے کا انتظار ہے. پھر دم سادھے نہ رہ جاؤ تو بتانا. مجھ سے نئے راستے نئے انداز پوچھنے آنا ہو گا. نئی ُاڑآن، نئی پرواز، نئی ڈبکی نئی تری. نیا تجربہ نہیں نیا جذبہ نئی سبھا میری صبح تمہاری صبح. اٹھو جاگو،یہ صبح تمھاری ہے

Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers