ستمبرمجھے ہمیشہ ہی سے اچھا لگتا ہے۔ گرمیاں دم توڑ رہی ہوتی اور سردیاں جھانک رہی ہوتی ہیں۔ نہ گرمی ہوتی ہے، نہ سردی۔ گرمی سطحی ہوتی ہے کہ اب واپس نہیں آسکتی لیکن سردی چونکہ ہلکی ہلکی اور میٹھی میٹھی ہوتی ہے اس لیے اس کی تانک جھانک اچھی لگتی ہے۔ اسلام آباد میں برسات تازہ تازہ ختم ہوئی تھی جو حبس کو بھی ساتھ ہی لے گئی تھی۔ اس لیے موسم کھلتے ہی باہر نکلنے کو دِل چاہ رہا تھا۔ برسات کے بعد تو اِسلام آباد ویسے بھی دیکھنے والا ہوتا ہے ہر چیز سبز ہوجاتی ہے حتیٰ کہ لوگ بھی سبز۔ ویسے بھی دِل سبز ہوجائے تو ہر چیزسبز ہی نظر آتی ہے، تفصیل سے پڑھیے
پندرہ ستمبر ایسا ہی دن تھا۔ تھا بھی اتوار سب کا دل باہر نکلنے کو چاہ رہا تھا۔ عمر نے کل ہی بتا دیا تھا کہ دوپہر دو ایک بجے نکلیں گے۔ اس قسم کے پروگرام ہمارے بچے ہی بناتے ہیں۔ بچے بھی صرف ہمارے لیے بچے ہیں ورنہ بچے کہاں ہیں۔ سب سے چھوٹا عمر ہے جو خود ما شا اللہ ایک بچے کا باپ ہے۔ لیکن ہمارے لیے تو بچہ ہی ہے، بہرحال ہفتے کے دن ہی سارا پروگرام طے ہوگیا۔ ہمیں تو صرف بتا ہی دیا جاتا ہے اس لیے کہ ہم نے کچھ کرنا نہیں ہوتا۔ سارا بندوبست تو بچوں نے ہی کرنا ہوتا ہے۔ ہم نے تو صرف لطف اندوز ہونا ہوتا ہے، کبھی ہم بھی بندوبست کرتے تھے اور یہ لطف اندوز ہوتے تھے۔
اتوار کی صبح موسم بڑا خوشگوار تھا سب خوش تھے کہ پکنک کا مزہ آئے گا۔ لیکن دس بجے کے قریب اچانک بارش شروع ہوگئی۔ بارش اتنی تیز اور طوفانی کہ سارا پروگرام بہا کر ساتھ ہی لے گئی۔ چلی بھی اتنی لمبی کہ ہم لوگ مایوس ہوگئے۔ ایسے موسم میں پکنک کیسے منائی جاسکتی تھی اس لیے سب آرام سے بیٹھ گئے۔ کر ہی کیا سکتے تھے۔ عین اس وقت جب ہم لوگ مایوس ہوگئے تھے موسم نے اچانک کروٹ بدلی اور کھل گیا۔ بادل جتنی جلدی آئے تھے اتنی ہی جلدی غائب بھی ہوگئے۔ موسم بارش کی وجہ سے اور بھی خوشگوار ہوگیا۔ ہر چیز جیسے دُھل کر نکھر گئی۔ موسم
کے ساتھ ہی عمر کا بھی موڈ بدل گیا۔ تین بجے اس کا فون آیا کہ تیار ہوجائیں چار بجے نکلیں گے۔ کچھ نہیں تو ایک چکر ہی لگائیں گے موسم اور سبزے ہی سے لطف اندوز ہولیں گے۔ تیاریاں شروع ہوگئیں۔ مجھے آفس میں کچھ کام تھا۔ آفس نزدیک ہی ہے۔ بھاگم بھاگ گیا اور کام سمیٹ کر واپس آگیا۔ سب لوگ چار بجے کے حساب سے تیار تھے۔ ہم لوگ تھے ہی کتنے۔ میں، بیگم اور صائمہ بیٹی۔ تین ہی توتھے۔ اتنے ہی عمر وغیرہ تھے۔ عمر، اس کی بیوی سدرہ اور ان کا تین سالہ بیٹا شایان۔ ہم سب ایک ہی گاڑی میں آرام سے آجاتے تھے۔ چار بجے عمر نہ آیا، تو سب کے چہرے
پر تشویش کی ایک لہر سی دوڑ گئی۔ وہ وقت کا سخت پابند ہے۔ اگر اسے دیر ہوجائے،تو سب سمجھ لیتے ہیں کہ کوئی گڑبڑ ہے۔ سوا چار بجے تک وہ نہ آیا ،تو بے چینی شروع ہوگئی۔ سب سمجھ گئے کہ کچھ نہ کچھ ہوگیا ہے ورنہ وہ لیٹ نہیں ہوتا۔ کوئی اسے فون بھی نہیں کررہا تھا کہ پریشان نہ ہو۔ یہ بھی پتا تھا کہ وہ عادت کے مطابق پہلی فرصت میں اطلاع دے گیا۔ اگر اسے کوئی پریشانی تھی تو فون کرکے اس کی پریشانی میں اضافہ کرنا منا سب نہ ہوتا۔ ویسے بھی اگر کوئی بڑا حادثہ ہوگیا ہوتا، تو وہ ضرور اطلاع دیتا۔ اتنی تسلی تھی کہ وہ بلاوجہ لیٹ نہیں ہوتا۔ اس لیے پروگرام میں تاخیر یا اس کے ملتوی ہونے کا افسوس نہیں تھا۔
کوئی ساڑھے چار بجے عمر کا فون آیا۔ اس نے بتایا کہ ایک کتا اس کی گاڑی کے نیچے آگیا ہے جس کی دونوں پچھلی ٹانگیں ٹوٹ گئیں ہیں۔ اب وہ اس کو ویٹرنری ہسپتال لے جانا چاہتا تھا کہ اس کا علاج ہوسکے۔ اس نے ہم لوگوں سے ویٹرنری ہسپتال کے متعلق پوچھا لیکن ہم میں سے کسی کو بھی اس کے متعلق پتا نہیں تھا۔ کبھی ضرورت ہی نہیں پڑی تھی۔ وہ جلدی میں تھا اس لیے کہ کتا تکلیف کی وجہ سے شور مچا رہا تھا۔ وہ اسے جلد سے جلد ہسپتال پہنچانا چاہتا تھا۔ عمر کی کال کے بعد ہم لوگ سوچنے لگ گئے کہ کتا کیسے اس کی گاڑی کے نیچے آیا ہوگا؟ وہ تو بہت اچھا اور محتاط ڈرائیور ہے۔
جانوروں وغیرہ کا بھی بہت خیال رکھتا ہے۔ پچھلے سال اس نے ایک بلی کو بچانے کے لیے اپنی گاڑی کا نقصان گوارا کر لیا، لیکن بلی کو بچالیا تھا۔ آج کتا کیسے اس کی گاڑی کے نیچے آگیا؟ پھر بات ہونے لگی کہ وہ کتے کو ہسپتال کیسے لے جائے گا؟ کسی بوری وغیرہ میں ڈالنا پڑے گا۔ پتا نہیں کتا ہوگا کتنا بڑا۔ درد کی وجہ سے کہیں پاگل ہی نہ ہوا ہو۔ کہیں اسے کاٹ ہی نہ لے۔ طرح طرح کی باتیں ذہن میں آتی رہیں۔ سب کی خواہش اور دُعا تھی کہ کتا بچ جائے۔ ہم لوگ اسلام آباد کے سیکٹر10-Lمیں رہتے ہیں۔ یہاں آوارہ کتوں کی بہتات ہے۔ جس گلی اور سڑک پر دیکھیں پھر رہے ہوتے ہیں۔ پتا نہیں سی ڈی اے(CDA)کو کیوں نظر نہیں آتے؟ بڑے لمبے وقفے کے بعد عمر کا فون آیا۔ اس نے ہم لوگوں کو تیار ہونے کے لیے کہا تاکہ کہیں باہر نکل سکیں۔ حادثے کی تفصیل اور کتے کے متعلق پوچھا، تو اس نے کہا ملنے پر بتائوںگا۔
ہمیں گھر سے لے کر نکلا، تو راستے میں عمر نے بتایا کہ وہ چار بجے سے کچھ پہلے ہمیں لینے کے لیے گھر سے نکلا۔ سدرہ اور شایان بھی گاڑی میں اس کے ساتھ تھے۔ جیسے ہی اس نے گاڑی سٹارٹ کی اور آگے بڑھا تو اسے لگا جیسے گاڑی کے پہیے کے نیچے کوئی پتھر آیا ہو۔ ساتھ ہی آواز بھی آئی۔ اس نے گاڑی روکی اور واپس آیا، تو اس نے دیکھا کہ کتے کے تین پِلّے تھے۔ ان میں سے ایک گاڑی کے پہیے کے نیچے آگیا تھا اور اس کی دونوں ٹانگیں بُری طرح کچلی گئی تھیں۔ دوسرے دونوں کچھ فاصلے پر بیٹھے اِس کو خوفزدہ نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ زخمی پِلا
بُری طرح چیخ رہا تھا۔ انھیں اس کی حالت دیکھ کر بہت افسوس ہوا۔ اس گلی میں آوارہ کتوں کی بہتات ہے۔ ہر وقت اِدھر اُدھر پھرتے نظر آتے ہیں۔ اکثر گرمی اور دھوپ سے بچنے کے لیے گاڑیوں کے نیچے سوئے ہوتے ہیں جیسے ہی گاڑی میں بیٹھیں یا گاڑی سٹارٹ ہو بھاگ جاتے ہیں۔ پتا نہیں یہ بے چارہ کیوں نہ بھاگ سکا۔ مجھے پتا نہ چلا اور کُچلا گیا۔ پِلا سخت تکلیف میں تھا۔ ان کچلی ہوئی ٹانگوں کی وجہ سے شاید اس نے مرنا تو نہیں تھا لیکن اس کی باقی زندگی ان کو گھسیٹتے ہوئے گزرنی تھی۔ اس طرح کے کتنے ہی کتے ہمیں سڑکوں پر نظر آتے ہیں۔ اس نے سوچا کیوں نہ
اس کو اس عذاب سے نجات ہی دلا دی جائے۔ یہ سوچ کر وہ پسٹل لینے کے لیے اندر جانے لگا، تو سدرہ نے اسے روک دیا۔ اسے اس پِلے پر ترس آرہا تھا۔ آخر انھوں نے اسے بچانے کا فیصلہ کیا۔ اسے فوراً ویٹرنری ہسپتال پہنچانا ضروری تھا۔ لیکن اسے کیسے لے جائیں۔ چھوٹا سا تھا اس لیے سوچا کوئی تھیلا یا بوری لے لیتے ہیں اس میں ڈال لیں گے۔ تھیلا لینے کے لیے اندر جانے لگا، تو راستے ہی میں موٹر سائیکل پر ڈالنے والے کپڑے پر نظر پڑگئی۔ پِلے کو اسی میں لپیٹ کر پچھلی سیٹ کے آگے رکھ لیا۔ اب ہسپتال کی تلاش شروع ہوئی۔ گلی میں ایک دو سے پوچھا لیکن کسی کو
پتا نہیں تھا۔ اس سیکٹر میں سی ڈی اے(CDA)کا ایمرجنسی سنٹر ہے ان سے پوچھا انھیں بھی پتا نہیں تھا۔ 1122سے پوچھا، تو انھوں نے15سے رابطہ کرنے کو کہا۔ ایدھی سنٹر گئے ان کو بھی پتا نہیں تھا۔ کسی نے بتایا کہ یہ الشفا ہسپتال کے پاس ہے۔ الشفا جارہے تھے کہ راستے میںl-9میں ’’علی ہسپتال ‘‘ نظر آگیا۔ وہاں سے پوچھا، تو انھوں نے بتایا کہ یہ الشفا کے پاس نہیں مری روڈ پر کمیٹی چوک کے پاس ہے۔ کمیٹی چوک روانہ ہوگئے۔ پِلا مسلسل چیخ رہا تھا جو ان کے لیے بھی تکلیف کا باعث تھا۔ مری روڈ پر ایک دو جگہ رُک کر تصدیق کی کہ واقعی ویٹرنری ہسپتال کمیٹی
چوک کے پاس ہے بھی یا نہیں۔ تصدیق کے بعد پھر آگے روانہ ہوئے۔ ایک جگہ اچانک پِلے کی چیخیں بند ہوگئیں۔ سدرہ نے کہا شاید مر گیا ہے۔ جس کپڑے میں لپٹا ہوا تھا اس کو ہاتھ لگایا، تو پھر حرکت کرنے اور چیخنے لگا۔ تصدیق ہوگئی کہ زندہ ہے۔ جلدی جلدی کمیٹی چوک پہنچے۔ چوک میں پہنچ کر پوچھا تو ایک گلی بتائی گئی۔ اس طرف چلے لیکن ہسپتال پہنچنے سے کوئی ایک منٹ پہلے پِلا پھر خاموش ہوگیا۔ شک پڑنے پر اسے ہلایا جلایا گیا لیکن نہ اس نے حرکت کی نہ چیخا۔ غالباً مر چکا تھا۔ جلدی سے اسے ہسپتال کے اندر لے گئے۔ ہسپتال میں صرف ایک ہی آدمی موجود
تھا جس نے بڑے ’’ماڈرن‘‘ طریقے سے اس کو چیک کیا۔ پِلے کا کان پکڑ کر کھینچا۔ پِلے نے کوئی حرکت کی نہ آواز نکالی، تو اس نے تصدیق کردی کہ ’’مر چکا ہے۔‘‘ بہت افسوس ہوا کہ اسے بچا نہ سکے۔ لیکن یہ اطمینان تھا کہ ہم نے کوشش پوری کی۔ آگے اس کی قسمت۔ اس ویٹرنری ہسپتال کو دیکھ کر بہت مایوسی ہوئی۔ ایک کمرے کا ہسپتال تھا اور اس میں ایک ہی بندہ تھا۔ شاید اتوار کی وجہ سے اکیلا ہو۔ میرے خیال میں تو ان کے پاس اس پِلے کو بچانے کے لیے کچھ تھا بھی نہیں۔ زیادہ سے زیادہ اس کو بے ہوشی کا انجکشن لگا دیتے تاکہ اسے وقتی طور پر درد سے نجات مل
جائے یا اس کا علاج ممکن نظر نہ آتا، تو اسے زندگی ہی سے نجات دلا دیتے۔ یہ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اس کی اگر صرف ٹانگیں ہی ٹوٹی تھیں تو یہ مر کیسے گیا۔ یا تو درد سے مر گیا ہوگا یا پھر گاڑی اس کی ٹانگوں پر سے ہی نہیں باقی جسم پر سے بھی گزری ہوگی۔ عمر نے بتایا کہ انھوں نے تو اس کی آگے کی بھی منصوبہ بندی کرلی تھی۔ اگر اس کی مرہم پٹی ہوجاتی، تو وہ اسے گھر لے جاتے۔ وہ چل پھر تو سکتا نہیں تھا اس لیے چھت پر ایک جگہ مخصوص کر لی جہاں پر اسے رکھا جاتا۔ پھر ٹھیک ہونے پر اسے کہیں چھوڑ دیا جاتا۔ لیکن وہاں تک تو بات ہی نہ پہنچ سکی۔
کسی سیانے کا قول ہے’’ خوبصورت وہ ہے جو خوبصورت کام کرتا ہے۔‘‘ بے حِسی، خود غرضی اور نفسا نفسی کی اس دُنیا اور زمانے میں جہاں لوگ انسانوں کو تڑپتا چھوڑ کر گزر جاتے ہیں ایک چھوٹے سے آوارہ کتے کے لیے اتنی بھاگ دوڑ، مجھے اپنا بیٹا اور بہو اُس لمحے بڑے ہی خوب صورت لگے تھے۔

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers