بھارت کو وجود میں آئے66برس بیت چکے ، مگر میںیہ دیکھ کے کڑھتا رہتا ہوں کہ ہماری حکومتیں قومی سلامتی کو لاحق بیشتر اندرونی و بیرونی خطرات دور نہیں کر سکیں۔ وجہ کیا ہے؟ کیا ہمارے نظریات میں کوئی خرابی ہے؟ یا ہمارا نظام حکومت صحیح طرح کام نہیں کرسکا۔ میری رائے میں یہ دونوں نکات ہماری ناکامی کا سبب ہیں۔ بھارت کئی وجوہ کی بنا پر ایک ترقی یافتہ، مستحکم اور خوش حال ملک نہ بن سکا۔ ایک اہم وجہ مضبوط حکومت کی عدم موجودگی ہے۔ حکومتوں نے متضاد پالیسیاں تشکیل دیں اور غیر متوازن انتظامی نظام وضع کیے۔ اسی باعث حکومت اور شہریوں کے مابین اعتماد کا رشتہ استوار نہ ہوسکا۔ 127اضلاع میں مائو نوازوں کی بغاوت محض ایک اندرونی مسئلہ ہے۔  تفصیل سے پڑھیے
بیرونی طور پر بھی ہماری بین الاقوامی سرحدوں پر امن کم ہی رہا۔ ہمیں آزاد ہوئے چھیاسٹھ برس بیت چکے، لیکن دنیا میں طویل ترین سرحدوں میں سے ہماری ایک سرحد تنازعات کا شکار ہے۔ لیکن اب وقت آگیا ہے کہ اب مسائل حل کرنے کی سمت قدم بڑھائیں تاکہ بھارت کو ترقی یافتہ ملک بناسکیں۔ راقم ان مسائل اور خطرات کا تذکرہ کرنا چاہتا ہے جو ملک و قوم کو درپیش ہیں۔ انھیں دور کرنے سے ہم جمہوریت کے ثمرات پاسکتے ہیں۔
ہمارے مسائل کی جڑیں
1947ء میں ہماری دیرینہ خواہش تھی کہ ہندوستان کے ٹکڑے نہ ہوں۔ تاہم مسلم لیگ کے مطالبے پہ اُسے دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ یوں تقسیمِ ہند ہماری قومی سلامتی پر پہلا حملہ ثابت ہوا۔ ہندوستان کو پہلے مشرق اور شمال میں کوہ ہمالیہ اور بحرِ ہند کے باعث جغرافیائی تحفظ حاصل تھا۔ بٹوارے سے یہ تحفظ جاتا رہا۔ ہندوستانی فوج اور اسلحے کی تقسیم سے ہم پر دوسرا وار ہوا۔ برطانویوں نے دو سو سال کی محنت اور کثیر سرمائے سے ہندوستانی فوج تشکیل دی تھی۔ مگر اُسے صرف 45دن کے عرصے میں پاکستان اور بھارت کے مابین تقسیم کر دیا گیا۔ یہ ایک عظیم الشان فوج کا الم ناک انجام تھا۔
تیسری بڑی غلطی یہ ہوئی کہ گاندھی جی اور پنڈت نہرو کی ایما پر بھارت نے خصوصاًعالمی معاملات میں امن پسندانہ پالیسی اختیار کر لی۔ چین سمیت سبھی ممالک ایٹم بم بنانے کی کوشش کرتے رہے۔ اِدھر ہم ’’چینی۔ ہندی بھائی بھائی‘‘ کے نعرے لگاتے نہ تھکتے۔ شکر ہے کہ نہرو کی موت کے بعد ہم تصوراتی دنیا سے نکل کر حقائق آشنا ہوگئے۔ چوتھے آزادی کے فوراً بعد بھارت اندرونی خانہ جنگیوں کا نشانہ بن گیا۔ فسادات سَن سینتالیس، حیدرآباد دکن، جونا گڑھ، میزورام… غرض خانہ جنگی نے حکومتوں کا پیچھا نہ چھوڑا۔ انھوں نے قانون کی حکمرانی اور حکومتی رَٹ کو بہت نقصان پہنچایا۔ بہت سے مسائل سیاست دانوں اور جرنیلوں کی ناتجربہ کاری کے باعث پیدا ہوئے۔
پانچویں آزاد بھارت طویل عرصہ مضبوط اور بڑی فوج تیار نہ کرسکا۔ برطانوی ہند کی حکومت اس سلسلے میں بہت کامیاب رہی۔ بڑی فوج رکھنے کے سبب ہی انگریزوں نے نہ صرف پورے ہندوستان میں امن و امان بحال رکھا، بلکہ افغانستان، برما، مشرق وسطیٰ اور دونوں عظیم جنگوں میں لاکھوں (ہندوستانی) فوجی بھی بھجوائے۔ مزیدبرآں آزادی کے بعد کئی بار ہنگاموں میں شہری انتظامیہ کی مدد کرنے کے واسطے فوج کو بلوایاگیا۔ یہ امر فوج کا اثر کم کرتا اور اُسے اپنے بنیادی کردار… دفاع سے ہٹا دیتا ہے۔ نیز عوام میں اس کی عزت و توقیر بھی گھٹاتا ہے۔
لیکن جب پنڈت نہرو نے حکومت سنبھالی، تو درج بالا مسائل ثانوی نوعیت کے تھے۔ ان کی پہلی تمنا یہ تھی: ’’قانونی طریقوں سے ایک انصاف پسند معاشرہ تخلیق کیا جائے۔‘‘ حقیقتاً نہرو ایک غیر حقیقی دنیا کے باسی تھے۔ انھوں نے غیر وابستہ تنظیم کے قیام میں بھرپور حصہ لیا۔ وہ ’’ایشیائی اتحاد‘‘ کے داعی تھے۔ حتیٰ کہ جب چین نے حملہ کیا، تو انھوں نے بیجنگ میں بھارتی سفیر، کے ایم پانیکر کو پیغام بھجوایا ’’میں بھارت اور چین کو بہ حیثیت دوست دیکھنا چاہتا ہوں۔‘‘
1947ء سے 1964ء تک پنڈت نہرو کا دور اقتدار رہا۔ وہ بادشاہ یا آمر نہیں تھے، مگر بھارت میں سیاہ سفید کے مالک ضرور رہے۔ انھوں نے جذبہ ٔ حبُ الوطنی کے تحت بھرپور سعی کی کہ ملک و قوم کو ترقی دیں۔ تاہم ان سے غلطیاں بھی سرزد ہوئیںجنھیں درست کرنے والا کوئی نہ تھا۔ نہرو کے بعد بھارت ایک مختلف دور میں داخل ہوگیا۔
آزادی کے بعد جنگیں 1947ء سے اب تک ہم چین اور پاکستان سے جنگ کر چکے ہیں۔ بدقسمتی سے آزادی کے بعد جلد ہی بھارت اور پاکستان ایک دوسرے کو ’’دوست‘‘ نہیں ’’دشمن‘‘ کی نظر سے دیکھنے لگے۔ حالانکہ بعض اختلافات اور مسائل کے باوجود دونوں ممالک کے بانیوں کا یہ نقطۂ نظر نہ تھا۔ حکومت پاکستان نے خصوصاً ہر معاملے میں بھارت کی مخالفت کرنا دیرینہ پالیسی بنایا۔
پاک بھارت جنگ 1948ء
آزادی کے وقت کشمیربرطانوی ہند کا حصہ نہیں تھا، اسی لیے وہ بھارت یا پاکستان میں شامل نہیں ہوسکا۔ اس کا حکمران، مہاراجا ہری سنگھ نا اہل تھا، وہ فیصلہ ہی نہیں کر سکا کہ کس مملکت کا حصہ بنا جائے۔ سو کشمیر پر قبضے کی خاطر دونوں نو آزاد ملک آپس میں لڑ پڑے۔ لیکن حقیقت میں یہ جنگ برطانوی دماغوں کے مابین کھیلی گئی، کیونکہ دونوں جانب افواج کی کمان انگریز جرنیلوں کے ہاتھ میں تھی۔ بھارت اور پاکستان کی حکومتیں عسکری امور سے نابلد تھیں؟ اسی لیے مسئلہ کشمیر مزید پیچیدہ ہوگیا۔
22اکتوبر 1947ء کو قبائلیوں نے کشمیر پر حملہ کر دیا۔ 26اکتوبر کو وہ بارہ مولا تک آپہنچے جو تب وادیٔ کشمیر کا سب سے بڑا تجارتی مرکز تھا۔ وہاں سے سری نگر ایک گھنٹے کی مسافت پر تھا۔ لیکن قبائلیوں نے وہاں انگریزوں اور ہندوئوں کی دُکانیں لوٹنے میں تین دن لگا دیے۔ اس کے بعد کشمیر میں پاک بھارت جنگ چھڑ گئی۔ اس جنگ میں بھارتی قیادت نے تدبر و ذہانت کا مظاہرہ نہیں کیا۔ اسی باعث سابقہ کشمیر سلطنت کا بہت بڑا حصہ پاکستان کے قبضے میں چلا گیا۔ چناں چہ عالمی سطح پر بھارت کا وقار مجروح ہوا اور مسئلہ کشمیر ہمارے شانوں پر پیر تسمہ یا بن کر سوار ہوگیا۔ حقیقتاً یہ جنگ ہمارے مسائل میں اضافہ کر گئی۔
ہمالیہ میں مقابلہ
ہماری آزادی کے دو سال بعد ہی کمیونسٹ چین کا قیام عمل میں آیا۔ تب ہماچل پردیش، آسام اور کشمیر میں دونوں ممالک کی سرحدیں غیر واضح اور غیر معین تھیں۔ یہ معاملہ رفتہ رفتہ دونوں ایشیائی طاقتوں کے مابین وجہ نزاع بن گیا۔ اس مسئلے پر وزیراعظم چین، چو این لائی اور پنڈت نہرو کے مابین خط کتابت ہوئی اور ملاقاتیں بھی، مگر وہ حل نہ ہوسکا۔
چینی بھارتی جنگ میں کئی عسکری، انتظامی اور اخلاقی غلطیوں کے باعث بھارت کو شکست ہوئی۔ پہلی وجہ یہ کہ بھارتی فوج چینیوں کے مقابلے میں عسکری طور پر کمزور تھی۔ دوم ملٹری ہیڈکوارٹر اور حکومت کے مابین ہم آہنگی و تعاون کا فقدان تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس جنگ میں ہماری سیاسی و عسکری قیادت اور افسرشاہی مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی۔ انھوں نے نہایت غیر ذمہ دارانہ رویے کا مظاہرہ کیا جسے معاف کرنا ممکن نہیں۔ چین سے عبرت ناک شکست کے اثرات سے ہم آج تک نہیں نکل پائے۔
پاک بھارت جنگ1965ء
یہ بھارت اور پاکستان کی پہلی بین الاقوامی جنگ ہے جس میں وہ سرحد پار کرکے ایک دوسرے پر حملہ آور ہوئے۔ یہ جنگ صرف تین ہفتوں پر محیط تھی مگر اس نے برِصغیر ہندوپاکی کایا پلٹ ڈالی۔ پہلی باقاعدہ پاک بھارت جنگ کا قطعی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ تاہم یہ آشکار کرتی ہے کہ برف کے ہلکے پھلکے گالے جب جمع ہوجائیں، تو کیونکر برفانی طوفان (Avalanches)پیدا کر ڈالتے ہیں۔ جنگ1965ء نے بھی چھوٹی چھوٹی جھڑپوں سے جنم لیا اور جب شروع ہوئی، تو آخرکار اس نے تمام انسانی ارادوں اور فیصلوں کو تہ و بالا کر ڈالا۔
1962ء کی جنگ نے پنڈت نہرو کو بہ حیثیت انسان اور وزیرِ اعظم دونوں طرح سے تباہ کر دیا تھا۔ وہ غور و فکر کرنے والے، ہمدرد اور حساس انسان تھے۔ مگر ان میں اتنی اہلیت نہیں تھی کہ جنگ میں قوم کی قیادت کر سکیں۔ حقیقت یہ ہے کہ چین سے دشمنی مول لے کر پنڈت نہرو نے بھارت کو دائمی مصیبت میں مبتلا کر ڈالا۔ کیونکہ اب بھارت کو مشرقی محاذ پر چین اور مغرب میں پاکستان… گویا دو دشمنوں کا سامنا ہے جو عموماً مل کر قدم اُٹھاتے ہیں۔ اور اب یہ دونوں ایٹمی اسلحے کے حامل ملک بن چکے۔
کئی عسکری ماہرین کے نزدیک جنگِ ستمبر1965ء پاکستانی و بھارتی ’’باہمی غلطیوں و نااہلی‘‘ کا شاہکار ثابت ہوئی۔ جب پاکستان نے عین دوران آپریشن جبرالٹر کشمیر میں دو ڈویژن فوج کی کمان جنرل اختر ملک کے بجائے جنرل یحییٰ خان کو سونپی، تو حملے کا زور ٹوٹ گیا۔ 6ستمبرکی شب پاکستانی فوج اکھنور سے صرف چھے کلو میٹر دور تھی۔ اگر پاکستان اس علاقے پر قبضہ کر لیتا، تو بھارت کو بڑا نقصان اُٹھانا پڑتا۔ لیکن کمان کی تبدیلی سے وقت ضائع ہوا اور پاک فوج اپنے مِشن میں ناکام رہی۔
اُدھر بھارتی عسکری قیادت سے بھی کئی غلطیاں سرزد ہوئیں۔ مثال کے طور پر بھارتی فوج لاہور کے قریب پہنچ چکی تھی، مگر وہ اپنے حملے کو برقرار نہ رکھ سکی۔ پھر بھارتی خفیہ ایجنسیاں یہ دریافت نہیں کرسکیں کہ پاکستان دوسرا بکتربند (آرمرڈ) ڈویژن رکھتا ہے اور یہ کہ پاک فوج کے پاس صرف ایک ہفتے کا اسلحہ رہ گیا ہے۔ گویا جنرل چودھری پریشانی و گھبراہٹ کے مارے جنگ بندی کا مطالبہ نہ کرتے، تو پاک افواج کے پاس اسلحہ ختم ہوجاتا۔
بنگلہ دیش کا جنم
مغربی پاکستانی حکمرانوں نے مشرقی پاکستان کے باشندوں سے ناروا سلوک کیا، اسی واسطے انھوں نے بغاوت کر ڈالی۔ مغربی پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت نے باغیوں کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا، اُسے دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ مشرقی حصے کو الگ کرنے کا فیصلہ ہوچکا تھا۔ چناں چہ تجزیہ سے بالآخر یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ قیامِ بنگلہ دیش کی سب سے بڑی ذمے دار پاکستانی قیادت ہے۔ مشرقی پاکستان میں خصوصاً پاک برّی فوج کی تعداد مناسب تھی۔ لیکن جب صوبے کی عوام اس کے خلاف ہوگئی، تو وہ لڑنے کا جوش و جذبہ کھو بیٹھی۔ یوں مکتی باہنی اور بھارتی فوج کے لیے پیش قدمی کی راہ ہموار ہوگئی۔
بھارت کے تباہ کن عشرے
مشرقی پاکستان میں فتح کے بعد بھارتی حکومت نے خوشی کے شادیانے بجائے۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ جلد ہی بھارت میں حالات خراب ہونے لگے اور رفتہ رفتہ قابو سے باہر ہوگئے۔ اس کاآغاز ریاست گجرات میں طلبہ کے احتجاج سے ہوا۔ وہ طلبہ مہنگائی کے خلاف جلوس نکالنے لگے۔ جلد ہی یہ احتجاج دیگر ریاستوں میں بھی پھیل گیا۔ آخر فروری1974ء میں اندرا گاندھی حکومت نے ریاستی حکومت برطرف کر ڈالی۔ تاہم بھارتی طلبہ مطمئن نہ ہوئے اور اب وہ بہار میں احتجاجی مظاہرے کرنے لگے۔ بھارتی سیاست میں گھن چکر نے 12جون1975ء کو جنم لیا۔
اس دن الہٰ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس، جگموہن لال سنہا نے قرار دیا کہ اندرا گاندھی نے پچھلے عام انتخابات کے دوران دھاندلی کی تھی۔ نیز جیتنے کے لیے غیرقانونی ذرائع اختیار کیے۔ چناںچہ انھیں چھے سال کے لیے الیکشن لڑنے سے روک دیا گیا۔ وزیراعظم اندرا گاندھی کو اگلا چرکا 13جون کے دن لگا۔ اس روز ریاست گجرات کے انتخابات میں کانگریس ہار گئی۔ اسی ماہ اپوزیشن (جنتا پارٹی) حکومت کے خلاف احتجاجی جلسے منعقد کرنے لگی۔ وزیرِ اعظم نے جواباً جو قدم اُٹھایا، وہ بہت بڑی غلطی ثابت ہوا۔ انھوں نے 26جون کو ملک بھر میں ایمرجنسی لگا دی۔
بغاوتوں کا جنم
عشرہ انیس سو اسّی میں بھارت کئی ریاستی بغاوتوں سے دوچار رہا۔ ان میں آسام، پنجاب اور جموں و کشمیر کی بغاوتیں قابلِ ذکر ہیں۔ بدقسمتی سے اندراگاندھی نے سبھی کو غلط طریقے سے برتا اور حالات گمبھیر بنا ڈالے۔ یقینا انھیں خمیازہ بھی بھگتا پڑا، مگر غلطیوں کا سب سے زیادہ نقصان ملک ہی کو ہوا۔ پنجاب میں جرنیل سنگھ بھنڈراوالا کانگریس ہی کا پروردہ تھا۔ وہ اُسے اکالیوں کے مقابلے پر لائی۔ مگر جرنیل سنگھ رفتہ رفتہ پرپُرزے نکالنے لگا۔ مہنگائی اور بے روزگاری سے تنگ آئے سکھ نوجوان اس کے گرد جمع ہوگئے۔ اندرا گاندھی حکومت نے اہلِ پنجاب کے حالات سدھارنے کی خاطر کوئی معاشی اقدامات نہیں کیے۔ اُلٹا جرنیل سنگھ کے خلاف ’’آپریشن بلیو اسٹار‘‘ شروع کر ڈالا۔
میں تب فوجی آپریشن کی سخت مخالفت کرتا رہا۔ لیکن میری آواز نقار خانے میں طوطی کی صدا ثابت ہوئی۔ دوران آپریشن نہ صرف کئی سکھ مارے گئے، بلکہ گولڈن ٹیمپل کو بھی نقصان پہنچا چناں چہ قدامت پسند سکھوں کے جذبات کو قدرتاً بہت ٹھیس پہنچی۔ اس المیے کا انجام یہ نکلا کہ 31اکتوبر1984ء کو اندرا گاندھی اپنے ہی دو سکھ محافظوں کے ہاتھوں ماری گئیں۔ یہ صریح غداری تھی۔ کسی کو توقع نہ تھی کہ گرونانک کے دلیر پیروکار ایسی بزدلی کا مظاہرہ کریں گے۔ تب ضرورت اس امر کی تھی کہ کانگریسی حکومت عوام کے بپھرے جذبات قابو کرنے والے اقدامات کرتی۔ مگر کانگریسی راہنمائوں کی تقاریر نے جلتی آگ پر تیل چھڑکنے کا کردار ادا کیا۔ سو دہلی اور شمالی بھارت میں ہندو سکھوں پر حملے کرنے لگے۔
بھارتی فوج سری لنکا میں
اندراگاندھی اور راجیو گاندھی، دونوں ماں بیٹے نے سری لنکا میں تامل مسئلے کو جس طرح برتا، وہ بین الاقوامی سطح پر بھارت کی پوزیشن کو مزید نقصان پہنچاگیا۔ 1983ء میں جافنا (سری لنکا) میں بدھوں اور تاملوں کے مابین فساد ہوا۔ تب وزیراعظم اندرا گاندھی خفیہ طور پر سری لنکن تاملوں کی تنظیم، ایل ٹی ٹی ای کو اسلحہ و مالی امداد دینے لگیں۔ حتیٰ کہ بھارتی سرزمین پر خصوصی کیمپ قائم کیے گئے تاکہ وہاں سری لنکن تامل گوریلوں کو عسکری تربیت دی جاسکے۔
سوال یہ ہے کہ وزیرِاعظم اندرا گاندھی نے یہ ناجائز و غیر قانونی قدم کیوں اُٹھایا؟ ایک رائے یہ ہے کہ بھارت سری لنکا میں تاملوں کا تحفظ چاہتا تھا تاکہ انھیں سرکاری ظلم و ستم سے بچا سکے۔ پھر ایک خیال یہ بھی تھا کہ اگر بھارتی حکومت ایل ٹی ٹی ای کی حمایتی نہ بنی، تو شورش ریاست تامل ناڈو میں بھی پھیل سکتی ہے۔ تاہم جب راجیو گاندھی برسرِاقتدار آئے، تو وہ ایل ٹی ٹی ای کی حمایت میں بتدریج کمی کرنے لگے۔ حتیٰ کہ انھوں نے سری لنکن حکومت سے جولائی 1987ء میں معاہدہ دوستی کر لیا تاکہ تامل گوریلا تنظیم کو مذاکرات کی میز پر لایا جاسکے۔
انڈین پیس کیپنگ فورس نے سری لنکا میں 10اکتوبر 1987ء کو ’’آپریشن یّون‘‘ کا آغاز کیا۔ یہ اگلے تین برس تک جاری رہا مگر اپنے اہداف حاصل نہ کرسکا۔ بلکہ بھارتی فوجیوں سے جنگ نے ایل ٹی ٹی ای کے گوریلوں کو زیادہ تربیت یافتہ اور جنگجو بنا دیا۔ اس ناکام عسکری کارروائی میں 1230بھارتی فوجی ہلاک جبکہ آٹھ ہزار سے زائد زخمی ہوئے۔
آپریشن یّون نے بین الاقوامی سطح پر بھارت کی تصویر خاصی داغ دار ڈالی۔ یہی نہیں، اسی کی وجہ سے راجیوگاندھی کو اپنی زندگی سے ہاتھ دھونے پڑے۔
بس میں لاہور کا سفر
بیسویں صدی کے آخری برسوں میں بھارت سیاسی ابتری کا شکار رہا۔ 1996ء تا1999ء صرف تین برس میں ملک و قوم کو تین عام انتخابات کے اخراجات کا بوجھ اُٹھانا پڑا۔ آخر الیکشن 1999ء کے بعد بی جے پی کی مستحکم حکومت قائم ہوئی۔ اِسی دوران مئی 1998ء میں پہلے بھارت اور پھر پاکستان نے ایٹمی دھماکے کر ڈالے۔ ان دھماکوں کے باعث شروع میں خاصی ٹینشن رہی، پھر حواس بحال ہونے لگے۔ چناں چہ جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس ہوا، تو اسی موقع پر وزیراعظم پاکستان، نوازشریف اور وزیرِ اعظم اٹل بہاری واجپائی کی ملاقات ہوئی۔
اسی ملاقات میں یہ تجویز سامنے آئی کہ واجپائی پاکستان کا دورہ کریں۔ وزیراعظم نوازشریف نے اس تجویز کا خیر مقدم کیا۔ میں نے بہ حیثیت وزیرِ خارجہ لقمہ دیا کہ اس دورے کو انقلابی اور اچھوتا ہونا چاہیے۔ اس موقع پر وزارتِ خارجہ میں امورِ پاکستان کے انچارج، ویوک کاتجو میری بغل میں بیٹھے تھے۔ وہ سرگوشی کرتے ہوئے بولے: ’’مشورہ دیجیے کہ بس میں امرتسر سے جائیے۔‘‘
میں نے تجویز بیان کر دی۔ دونوں وزرائے اعظم نے فوراً اُسے قبول کر لیا۔ یوں بس سے سفر کا بیج بویا گیا، اب چیلنج یہ تھا کہ پاکستان و بھارت کی افسر شاہی اُسے ختم نہ کرنے پائے۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں ممالک میں مروج انگریزوں کی یادگار، افسر شاہی نظام سادہ معاملے کو بھی پیچیدہ بنانے میں مہارت رکھتا ہے۔ اسی باعث سفر کے آئیڈیے کو عملی جامہ پہنتے ہوئے آٹھ ماہ لگ گئے۔
کارگل جنگ
قسمت کی ستم ظریفی ہے کہ صرف دو ماہ بعد لوک سبھا میں واجپائی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش ہوئی۔ اور صرف ایک ووٹ کے باعث حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔ چناں چہ نئے الیکشن ناگزیر ہوگئے۔ اگلے ہی مہینے خطۂ کشمیر فائرنگ اور گولہ باری سے لرزنے لگا۔ شروع میں ہم یہی سمجھے کہ دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان یہ معمول کی نوک جھونک ہے۔ تاہم بٹالیک سیکٹر کے مقامی لوگوں سے پتا چلا کہ وہاں اجنبی افراد گھوم پھر رہے ہیں۔
4مئی کو تفتیشی دستہ بٹالیک پہنچا۔ اُسے ’’گھس بھیٹھیوں‘‘ نے گولیوں کا نشانہ بنا ڈالا… یوں کارگل جنگ کا آغاز ہوگیا اور دورہ لاہور سے جو امن و محبت کے پھول کھلے تھے، وہ بہت جلد مرجھا گئے۔ اس جنگ سے پاکستان کو کچھ فائدہ نہ ہوا، بلکہ وہ مزید مسائل میں گرفتار ہوگیا۔ نیز اس کے بین الاقوامی امیج کو بھی نقصان پہنچا۔
کھٹمنڈو سے قندھار تک
24دسمبر1999ء کو میری بہو، چترا کے ہاں بیٹی تولد ہوئی اور میں نانابن گیا۔ تب سہ پہر کے سوا تین بجے تھے۔ شام سوا پانچ بجے مجھے خبر ملی کہ کھٹمنڈو جانے والی ائیرانڈیا کی پرواز اغوا کر لی گئی ہے۔ ہائی جیکر پرواز آئی سی814-کو پہلے لاہور، پھر دبئی اور آخرکار قندھار لے گئے۔ جہاز پر 161مسافر سوار تھے۔ بچے اور خواتین دبئی ائیرپورٹ پر اُتار دیے گئے۔
قندھار میں ہائی جیکروں نے مطالبات پیش کیے۔ وہ بیس کروڑ ڈالر اور بھارتی جیلوں میں قید 38 ’’دہشت گردوں‘‘ کی رہائی چاہتے تھے۔ شروع میں بھارتی وزرا کا یہی خیال تھا کہ ہائی جیکروں کی مانگیں ہرگز پوری نہ کی جائیں۔ آخر تین دہشت گرد رہا کرنے کا فیصلہ ہوا۔ میں انھیں جہاز پر سوار کرا کے قندھار پہنچا۔ یہ ایک خطرناک سفر تھا، لیکن وزیر خارجہ ہونے کے ناتے میرا فرض تھا کہ اُسے خود ہی انجام دوں۔ ہائی جیکروں کا مطالبہ تھا کہ پہلے تینوں دہشت گرد رہا کیے جائیں۔ سو انھیں اترنے دیا گیا۔ بعدازاں ائیرانڈیا کے یرغمال مسافروں کی رہائی عمل میں آئی۔ یوں بھارت پر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا ایک اور کاری وار کامیاب ثابت ہوا۔
آگرہ ملاقات
یہ 23مئی 2001ء کی بات ہے، وزیرِ اعظم واجپائی نے نائب وزیرِ اعظم کے ایل ایڈوانی اور مجھے ظہرانے پر بلوایا۔ اس موقع پر پاکستان کے متعلق تفصیلی بات چیت ہوئی۔ اس دوران وہاں جنرل پرویز مشرف کی فوجی حکومت آ چکی تھی… اسی جرنیل کی سربراہی میں جس میں کارگل جنگ کا آغاز کیا گیا۔ پاکستان میں جمہوریت دوبارہ یتیم ہوگئی تھی۔
ملاقات میں طے پایا کہ جنرل مشرف کو بھارت آنے کی دعوت دی جائے۔ گو پاکستانی فوج سے ہمیں کئی چرکے لگے تھے، مگر ہمارے نزدیک امن کے سوا اور کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔ بہرحال دعوت قبول ہوئی اور 14جولائی کو چیف ایگزیکٹو پاکستان بھارت آ پہنچے اور آگرہ شہر میں قیام کیا۔
ہم چاہتے تھے کہ ’’اعلان لاہور‘‘ کے مانند ’’اعلان آگرہ‘‘ بھی کیا جائے تاکہ دونوں ملکوں کے مابین سلسلہ افہام و تفہیم جاری رہے۔ اس اعلان پر تیاری ہو رہی تھی کہ 16جولائی کی صبح جنرل مشرف نے مختلف اخبارات کے ایڈیٹروں سے تبادلہ خیال کیا۔ یہ بات چیت ٹی وی چینلوں پر براہ راست نشر کی گئی۔ بدقسمتی سے اس ملاقات نے بھارتی عوام پر منفی تاثر مرتب کیا۔ وجہ یہ کہ اس میں جنرل موصوف جنگجو اور جارحانہ مزاج رکھنے والے حکمران کی حیثیت سے نمایاں ہوئے۔ انھوں نے شملہ معاہدے اور اعلان لاہور کو ذرا اہمیت نہیں دی۔ نیز کارگل جنگ کو معمولی قرار دیا اور یہ اصرار کیا کہ جموں و کشمیر میں مجاہدین موجود نہیں۔
ایڈیٹروں سے نامناسب گفتگو اور جنرل مشرف کی آمرانہ ذہنیت کے باوجود ہماری خواہش تھی کہ کسی قسم کا دوستانہ اعلان تیار ہوجائے۔ میرے معاصر، پاکستانی وزیرِ خارجہ، عبدالستار تجربے کار سفارت کار تھے۔ ہم دونوں مل بیٹھے اور ایک اعلان تیار کرنے کی تیاری کرنے لگے۔ اعلان عبارت تیار کرنے میں خاصا وقت لگا۔ میں کوئی جملہ تحریر کرتا، تو عبدالستار اسی میں ترمیم کرتے۔ بعدازاں ان کے جملے میری ایڈیٹنگ سے گزرتے۔ آخر جب اعلان کا ابتدائی خاکہ تیار ہوگیا، تو پہلے جنرل مشرف نے اُسے ملاحظہ کیا۔ بعدازاں وزیرِ اعظم واجپائی کی نظروں سے گزرا۔
وزیرِ اعظم واجپائی کو اس امر پر اعتراض تھا کہ اعلان میں جموں و کشمیر میں جاری دہشت گردی کا واضح تذکرہ ہونا چاہیے۔ اور یہ بھی کہ اُسے ختم کرنے کی تدابیر اختیار ہونی چاہئیں۔ مگر جنرل مشرف اس بات پر تیار نہیں ہوئے۔ سو ’’اعلان آگرہ‘‘ ہوتے ہوتے رہ گیا۔ بعدازاں بھارتی و پاکستانی میڈیا نے اس کاغذی اعلان کے متعلق خاصی افواہیں پھیلائیں جو میں نے عبدالستار کی معیت میں تیار کیا تھا۔
حالانکہ وہ محض ابتدائی خاکہ تھا اور بس! انہی دنوں ایک پریس کانفرنس میں مجھ سے سوال ہوا کہ جنرل مشرف کو حضرت خواجہ غریب نوازؒ کے مزار پر اجمیر شریف جانے سے کیوں روکا گیا؟ میں نے جواب دیا: ’’یہ سبھی کو علم ہے کہ حضرت خواجہ غریب نواز جس کو طلب کریں، وہی اجمیر شریف جاسکتا ہے۔ شاید جنرل صاحب کا ’’سمن‘‘ تک جاری نہیں ہوا۔‘‘ آگرہ ملاقات سے ہمیں بعض اسباق حاصل ہوئے۔ ان میں پہلا یہ تھا کہ پاک۔بھارت سربراہوں کی ملاقات دھوم دھڑکے سے نہیں ہونی چاہیے۔ دوسرا سبق یہ کہ معاملات میڈیا والوںسے دور رہ کر طے پانے چاہئیں ورنہ وہ بات کا بتنگڑ بنا دیتے ہیں۔
خاتمہ کلام
آج بھارت کئی مسائل کا شکار ہے، مثلاً کرپشن، دہشت گردی، خانہ جنگی، غربت وغیرہ۔ لیکن میرے نزدیک بھارت کا سب سے بڑا مسئلہ عمدہ گورنس یا انتظام کا فقدان ہے۔ اب بھارتی حکومت ’’کچھ نہ کرنے میں‘‘ میں مہارت حاصل کر چکی۔ وہ اخلاقی اور قانونی لحاظ سے کھوکھلی ہوگئی ہے۔ یہ صورت حال بھارت کے لیے بہت خطرناک ہے۔ وجہ یہ کہ نا اہل حکومت مسائل سے نمٹنے کی خاطر کبھی مؤثر پالیسیاں نہیں اپنا سکی اور معین و متعین پالیسیوں کی عدم موجودگی میں مسائل ریاست کو گھن کے مانند چاٹنے لگتے ہیں۔ سو مستقبل قریب میں کوئی مضبوط و مستحکم حکومت نہ آئی، تو مسائل گمبھیر ہوتے چلے جائیں گے۔
Labels: ,
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers