عجیب سا خواب تھا۔ وقت کا پتا ہی نہیں چل رہا تھا۔ کچھ خبر نہیں تھی کہ صبح کا دھندلکا ہے یا شام کا ملگجاسماں۔میرے گرد ایک کہرا م سا مچا تھا۔ صدمے اور دکھ سے بھری ہوئی بہت سی آوازیں تھیں۔ میراگھرلوگوں سے بھرگیا تھااور گھر میں موجود ہر شخص اشک بار، ہر دل نوحہ کناں تھا۔ عجیب افراتفری کا عالم تھا۔ لوگ میرا نام پکار پکار کر بین کررہے تھے۔میری چارپائی کے گرد بہت سے لوگ جمع تھے۔ مسلسل رونے کی آوازیں گھر کے ہر کونے سے وقفے وقفے سے بلند ہورہی تھیں۔ فضا میں ایسا الم چھایا تھا کہ لگتا تھا آج آنسوؤں کی یہ برسات میرے سارے گھر کو بہا کر لے جائے گی۔ غم و اندوہ کے اس منظر کا مرکزی کردار میں تھاجس کی چارپائی کے گرد سب رو رہے تھے۔ تفصیل سے پڑھیے
’’ جنازہ جمعہ کے بعد ہوگا۔‘‘مجھے اپنے اس کزن کی آواز آئی جس سے میری بول چال ختم ہوئے کئی برس گزر گئے تھے۔ سفید لٹھے کے اکڑے ہوئے شلوار ُکرتے میں ملبوس وہ میرے سرہانے آکر کھڑا ہوگیا۔ کچھ دیر تو وہ سوگوار سی صورت لیے میرے چہرے کو دیکھتا رہا پھر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا۔ وہ مجھ سے بار بار معافی طلب کررہا تھا۔ گڑ
گڑا کر سب نفرتیں، سب کدورتیں ختم کرنے کی درخواست کررہا تھا۔ وہ اپنی خودسری پر نادم تھا۔ وہ اس بری طرح رو رہا تھا کہ ایک لمحے کے لیے میرا دل بھی پسیج گیا۔ میرا جی چاہا کہ میں اٹھ کر اسے گلے لگا لوں۔ مگر جانے کیا سوچ کر میں چپ چاپ دم سادھے پڑا رہا۔ میں نے دل میںسوچا کہ وقت نے جو فرق ہمارے سینوں میں ڈال دیا تھا اس کو مٹانے کے لیے یہ آنسو ناکافی ہیں۔
اتنے میں میری نظر اپنے باس پر پڑی۔ اسے اپنے گھر میں دیکھ کر میری حیرت کی انتہا نہ رہی۔ یہ وہ شخص تھا جس نے کئی برس سے میری ذہانت پر اپنی حماقت کے پہرے بٹھا رکھے تھے۔ میرا افسر ہونے کے باوجود وہ مجھ سے حسد کرتا تھا۔ میری تعریف کو اپنی تضحیک سمجھتا تھا۔ برسوں پہلے سرکارکے ایک غلط فیصلے کی وجہ سے وہ جس منصب پر پہنچ چکا تھا اس عہدے کی طاقت کا ماتحتوں پر اظہارکرنا اس کا محبوب مشغلہ تھا۔ہر روز ایک نئے سوٹ میں ملبوس یہ شخص مجھ سے ہاتھ ملانا تو درکنار
میرے سلام کا جواب دینے کا بھی روادار نہ تھا۔ مجھے اکثر ایسا لگتا تھا کہ اس کی افسری کا واحد مقصد مجھے نیچا دکھانا، کم ظرف اور جاہل ثابت کرناہے۔ اس کے کہے ہوئے بہت سے جملوں کی کاٹ، سرکاری دستاویزات پر میرے خلاف لکھے ہوئے ریمارکس ہمیشہ میرے دل میں کسی زخم کی طرح تازہ رہتے، پتھر کا بنا یہ شخص آج میرے گھر میں ایک ٹوٹی ہوئی کرسی پر بیٹھا ہر آنے والے سے میری فطانت، کام سے فطری محبت اور دیانت داری کی کچھ اس طرح تعریف کررہا تھا کہ مجھے یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ اس جیسے سنگدل شخص کی کایا کیسے پلٹ سکتی ہے، سوچ اس حد تک کیسے بدل سکتی ہے۔
اتنے میں دروازے سے چیخ پکار کا ایک نیا طوفان بلند ہوا۔ یہ اس با ت کا اعلان تھا کہ سکھر والی ساجدہ خالہ اپنے گھر والوں کے ہمراہ گھر میں داخل ہوچکی ہیں۔ یہ وہی خالہ ہیں جنھوں نے چند ماہ پہلے اچانک منہ پھاڑ کر میری بیوی سے کئی لاکھ روپے بطور قرض مانگ لیے تھے۔رقم اتنی زیادہ تھی کہ ہمارے پاس معذرت کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں تھا۔ انکار کے بعد یہی خالہ جو مجھے ’’راج دلارا‘‘ کہتے کہتے نہ تھکتی تھیں،اُنہی نے سارے خاندان میں مجھے توم کر رکھ ڈالا تھا۔خالہ نے ہر آئے گئے سے میری
کمینگی اور خود غرضی کی وہ داستانیں بیان کیں کہ مجھے خاندان میں منہ دکھانے کے قابل ہی نہ چھوڑا۔ میں ان کی بدولت اب اپنے لوگوں کی نظروں میںایک ایسا شخص بن گیا تھا جسے مال و زر کی ہوس نے اندھا کردیا تھاجس کے دل میں غریب رشتہ داروں کے لیے کوئی نرم گوشہ نہیں تھا۔ اسی’’ ظالم شخص‘‘ کی یاد میں ساجدہ خالہ کچھ اس طرح دھاڑیں ماررہی تھیں جیسے واقعی ہی میری موت واقع ہوگئی ہو۔
میری بیوی میرے سرہانے وہ سیاہ لباس پہنے بیٹھی تھی جس کو ٹیلر سے وقت پر نہ لانے کی وجہ سے وہ مجھ سے کئی دن تک ناراض رہی تھی۔سرپر دوپٹہ لیے غم ناک آنکھوں کے ساتھ بیٹھی ہر آئے گئے سے اپنا سب کچھ لٹ جانے کا رونا رو رہی تھی۔اس کی گفتگو میرے لیے سخت حیرانی کا سبب تھی۔ اس لیے کہ تمام عمر اس کے پاس میرے لیے صرف شکایتیں ہی شکایتیں تھیں۔ وہ میری طبیعت کے ہر پہلو سے نالاں اور ہر عادت سے بیزار سی رہتی تھی۔ زندگی میں خوشی کے لمحے ہم نے کم ہی گزارے
تھے۔ شایدکبھی مسرتیں ہمارے دروازے پر دستک بھی دیتی تھیں مگر اس کے لہجے کا کٹیلا پن بہت سے ایسے لمحوں کو گھر میں داخل ہونے سے روک دیتا تھا۔ہمارا ازدواجی رشتہ ایک ایسی زنجیر کی شکل اختیار کرگیا تھا جس سے آزادہوناہم دونوں کے بس میں نہیں رہا تھا۔بندھی بندھی سی اس زندگی میں یہ سفر کاٹ دینا ہی واحد رستہ تھا۔ وہی عورت آج ہر شخص سے میرا ذکر اس محبت سے کررہی تھی کہ مجھے ہنسی کا دورہ پڑنے لگا۔ ایک دفعہ تو دل نے چاہا کہ وہیں کھڑے ہوکر سب کے سامنے اپنی شادی شدہ زندگی کا پول کھول دوں۔ مگر پھر اس خیا ل سے چپ رہا کہ اتنے سارے لوگوں کے سامنے یہ سب کچھ کہہ دینے کے بعد وہ میرا جینا محال کردے گی۔
چارپائی کی دوسری جانب میری ماں نڈھال سی بیٹھی تھی۔ رو رو کر اس کی بوڑھی آنکھیں اب خشک ہوگئی تھیں۔ اس کے سفید بال بکھرے ہوئے اورچہرے پر شدید غم کی کیفیت تھی۔ میری ماں بچپن سے میری دوست تھی۔میرے ہر دکھ سکھ کی ساتھی تھی۔وہ مجھے بہن بھائیوں میں سب سے عزیز جانتی تھی مگر جب سے میری شادی ہوئی تھی اس کی دوستی اب دشمنی میں بدل چکی تھی۔ماں میری بیوی کو ہماری دوستی میں حائل سمجھتی اور مجھے رن مرید کہتی تھی۔ میری بیوی کی بھی ماں سے کچھ زیادہ نہیں بنتی تھی۔
وہ دونوں کبھی اکٹھی نہیں رہ سکتی تھیں۔ لیکن آج دونوںایک دوسرے کے غم میں اس طرح شریک تھیںکہ جیسے انہیں مسرتوں کی نہیں کسی سانجھے غم کی تلاش تھی۔
میرا بوڑھاباپ دیگر بہن بھائیوں کے ساتھ ایک غم میں ڈھلے مجسمے کی طرح کونے میں بیٹھا تھا۔ اس کی آنکھوں میں غم اور ہونٹوں پر دعائیں تھیں۔ اس کے ہاتھ تیزی سے تسبیح کے دانوں کو حرکت دے رہے تھے۔ اس کے چہرے سے عیاں تھاکہ وہ اپنا سب کچھ لٹا چکا اور آج کے دن سب آنسوبہا چکا ہے۔
پھر اچانک کمرے میں وہ داخل ہوئی۔ ماتمی رنگ کا لباس پہنے وہ سوجی سوجی مغموم آنکھوں کے ساتھ ایک کونے میں اس طرح بیٹھ گئی جیسے جسم میں جان ہی نہ رہی ہو۔ اس کی آنکھوں کے سیاہ حلقے اس کے لباس کے ہم رنگ ہورہے تھے۔ یوں لگتا تھا جیسے وہ بہت دیر روئی ہو۔ مگر اب سب کے سامنے اس کو آنسو بہانے کی ہمت نہیں ہورہی تھی۔ اس کے ساتھ وہ بیٹا بھی تھا جس کا نام اس نے میرے نام پر رکھا تھا۔ وہ بار بار اپنے بیٹے کے ماتھے کو چومتی اور پھر دوپٹے کے کونے سے اپنی آنکھوں کے گوشوں
سے بہتے آنسوؤں کو چھپا لیتی۔ وہ میرا چہرہ دیکھنے میرے قریب بھی نہیں آئی۔ شاید اس خیال سے کہ کہیں کوئی یہ سوال نہ کرلے کہ وہ میری کیا لگتی ہے ؟ میری اور اس کی محبت کا راز ہمارے دلوں میں بچپن سے محفوظ تھا وہ اپنے گھر میں رہتی تھی مگر سارا وقت میرے بارے میں ہی سوچتی رہتی تھی۔ اُسے اپنی محبت پر بڑا اعتماد تھا وہ کہتی تھی ’’ مل جانا ہمارا مقدر ہے۔ ہم ایک دوسرے کے لیے بنے ہیں ‘‘۔ مگر آج وہ ان تمام لفظوں کی یاد کو دل میں سمائے بھیگی بھیگی آنکھوں سے چوری چوری میرے اس
وجود کو دیکھ رہی تھی جو چارپائی پر پڑا تھا اور جس کے ارد گرد ماتم کرنے والوں کا ہجوم تھا۔میری بیوی کو کچھ عرصے سے اس راز کی سُن گُن مل گئی تھی۔ کوئی اور وقت ہوتا، تو وہ اس کے آنے پر ایسی قیامت مچاتی کہ سارا محلہ سنتا۔ مگر آج جب کہ وہ سہمی سمٹی ایک کونے میں آنسو بہارہی تھی تومیری بیوی نے اٹھ کر اس شدت سے اس کو گلے لگایا جیسے وہ اپنا اور اس کا غم بٹا نا چاہتی تھی۔فاصلے کی ہر لکیر کو آنسوؤں سے مٹانا چاہتی تھی۔
میرا واحد دوست تنویر کسی غم زدہ فرشتے کی صورت بنائے ہمیشہ کی طرح سارے انتظامات سنبھالے ہوئے تھا۔ کرسیوں کے انتظام سے لے کر دیگوں کی پکوائی، دور پار کے رشتے داروں کے قیام کاانتظام اور قل کے وقت کے تعین تک ہر کام اس کی نگرانی میں ہورہا تھا۔ آج وہ دوستی کا آخری ثبوت دینا چاہتا تھا۔ اس نے دھیرے سے آکر میرے باپ کے کان میں کہا’’ جمعے کا وقت ہوگیا ہے اب جنازہ اٹھانا چاہیے۔‘‘میرا باپ پہلے توکچھ دیر ہیجانی انداز میں اس کی بات سنتا رہا پھر تنویر کو گلے لگا کر پھوٹ پھوٹ کے رو پڑا۔ تنویر کے چہرے پر بھی آنسو موتیوں کی طرح بکھرنے لگے۔
جنازہ اٹھنے سے ایک بار پہلے پھرچیخ پکار کا ایک طوفان برپا ہوگیا۔ گھر والے، دوست اور رشتہ دار آخری بار میرا چہرہ دیکھ کر آہ و بکا کرنے لگے۔ میرے باپ اور بھائیوں نے کلمہ ٔ شہادت بلندکرتے ہوئے میری چارپائی اٹھائی۔ جدائی کے اس لمحے میں میری ماں اور بیوی پر غشی کے دورے پڑنے لگے۔ جب مجھے باہر لایا گیا، تو میری سانس میں سانس آئی۔ چھوٹے سے اس کمرے میں اتنے لوگوں کی موجودگی میں یوں لگتا تھا کہ دم گھٹنے ہی سے میری موت واقع ہوجائے گی۔ میرے جنازے کے ساتھ لوگوں کی
کثیر تعداد نے اب ایک ہجوم کی صورت اختیار کرلی تھی۔ اس ہجوم میںبہت سے ایسے چہرے تھے جن کو میں جانتا بھی نہیں تھا۔ان میں سے کچھ محلے دار ہوں گے، کچھ قریبی دفاتر کے ملازم، کچھ دور پار کے رشتہ دار اور شاید کچھ اس روزِ سعید جنازہ پڑھنے کی سعادت حاصل کرکے ثواب کے متلاشی ہوں گے۔کلمۂ شہادت کا ورد اب بلند ہورہا تھا۔ سب لوگ سر جھکائے دکھی دکھی قدموں سے اس قریبی مسجد کی طرف بڑھ رہے تھے۔جس میں جانے کی توفیق مجھے عید کے عید ہوتی تھی۔ مسجد کے مولانا نہ صرف
مجھے ملحد اور دہریہ سمجھتے تھے بلکہ ان خیالات کا اظہار محلے کے بیشتر افراد سے بھی کر چکے تھے۔انہی مولانا نے میری چارپائی کو سامنے رکھ کر نمازِ جنازہ پڑھانے کے بعد میری دین سے محبت اور نیکوکاری کے بارے میں ایک طویل تقریر فرمائی۔ وہ لوگ جو مجھے قریب سے نہیں جانتے تھے اس تقریر کے سبب میری ذات کو کسی ولی کا سا درجہ دے رہے تھے۔تمام اہل محلہ کو میرے نقشِ قدم پر چلنے کی تلقین کے ساتھ مولانا نے خود آکر میرے جنازے کو کندھا دیا، تو حیرت کے مارے میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔
مسجد سے جنازگاہ کا راستہ اتنا طویل نہیں تھا مگر سوگواروں کے ایک بڑے ہجوم کی وجہ سے سب نے یہ راستہ چیونٹی کی رفتار سے طے کیا۔چارپائی پر میری موجودگی کا ایک فائدہ ضرور تھا کہ جہاں سے یہ ہجوم گزرتا وہاں ٹریفک تھم جاتی۔ لوگ مجھے آگے بڑھنے کا موقع دیتے۔ آج صرف مجھے فوقیت حاصل تھی اور ایسا منظر میں نے ساری زندگی میںپہلی بار دیکھا تھا۔
قبرستا ن میں قبر پہلے سے کھدی ہوئی تھی۔قبر کے اِردگرد تازہ کچی مٹی کے ڈھیر لگے تھے۔ گورکن نے گیلی مٹی گوندھ کر بڑے بڑے ڈھیلے بنا کرالگ سے رکھے ہوئے تھے۔ قریب ہی پتھر کی سلیں ترتیب سے پڑی ہوئی تھیں۔ تنویر کے ہاتھ میں عرقِ گلاب کی بوتلیں اور پھولوں کی پتیاں تھیں۔ تدفین سے پیشتر ایک دفعہ پھر آخری دیدار کا سلسلہ شروع ہوا۔ بہت سی آنکھیں اشک بار ہوئیں اورآنسو تازہ کھدی ہوئی مٹی میں مل گئے۔ میرے بھائیوں نے سفید کفن میںلپٹا ہوا میرا جسم قبرمیں اتار دیا۔ سلیں میرے سر سے کچھ
بلندی پر ترتیب سے لگا دی گئیں۔ گورکن نے چابکدستی سے گیلی مٹی کی مدد سے خالی جگہ کو پُر کرنا شروع کردیا۔بہت سی مٹی تھوپنے کے باوجود روشنی ابھی تک قبر میں آرہی تھی۔ میں باہرکا منظر ابھی تک دیکھ سکتا تھا۔ پھر مٹی ڈالنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ سب سے پہلی مٹھی بھر کر میرے باپ نے ڈالی اور پھروہیں بیٹھ کر رونے لگا۔ درزوں سے گرتی ہوئی یہ مٹی سیدھی میرے چہرے اور آنکھوں پر پڑی۔ ٹھنڈی سی اس مٹی کو میں نے چہرے سے ہٹانا چاہا، تو میرا ہاتھ جنبش سے قاصر رہا۔ میں نے گھبرا کر اٹھنا چاہالیکن جسم بے جان پڑا رہا۔ تب مجھ پر انکشاف ہوا کہ میں خواب نہیں دیکھ رہا۔
میں مٹی بھری آنکھوں میں حیرانی لیے قبر میں لیٹا تھا اور باہر مولوی صاحب میری مغفرت کے لیے دعا کررہے تھے۔
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers