اُردو  شاعری کے سر سے ایک ولی کا سایہ اُٹھ گیا۔ مجید امجد کی علالت اور کمزور صحت سے اچھی طرح واقف ہونے کے باوجود یقین نہ آتا تھا کہ موت ان پر اتنی آسانی سے فتح پا لے گی۔ میرا اَب بھی ایمان ہے مجید امجد موت کے ہاتھوں شکست نہیں کھاسکتے۔ البتہ گزشتہ چار پانچ ماہ سے کچھ ایسی باتیں ضرور ہوئیں کہ گمان گزرتا تھا کہ اب مجید امجد اور ہماری ظاہر بین نگاہوں کے درمیان حجاب پڑنے والا ہے، وہ ہم سے بہت دُور، بہت دُور جانے والے ہیں، اتنی دُور کہ ہمیں ان ہی کی زبان میں کہنا پڑے:-    تفصیل سے پڑھیے
تم پھر نہ آ سکو گے بتانا تو تھا مجھے
تم دُور جا کے بس گئے میں ڈھونڈتا پھرا
راتیں ترائیوں کی تہوں میں لڑھک گئیں
دن دلدلوں میں دھنس گئے میں ڈھونڈتا پھرا
لیکن اب میرے یا آپ کے ڈھونڈنے سے کیا ہوتا ہے؟ وہ تو امر ہوچکا۔  کچھ عرصہ پیشتر مجھے ساہیوال سے مراتب اختر کا خط ملا جس میں مجید امجد کی شدید بیماری کا یوں سمجھئے کہ بس روتے ہوئے ذکر تھا۔ مجھے اس اطلاع میں مراتب کی مجید امجد کے سلسلے میں پُرخلوص فکرمندی کا عنصر بھی شامل نظر آیا اس لیے کچھ زیادہ پریشان نہ ہوا۔
دفتر گیا تو پتا چلا کہ لاہور سے شہزاد احمد کا فون آیا تھا۔ فوراً بات کروں۔ شہزاد بھی مجھ سے یہی بات کرنا چاہتے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ لاہور میں مجید امجد کی بیماری کا تذکرہ عام ہے اور لوگ خاصے فکرمند ہیں۔ انتظار حُسین اور احمد مشتاق کہیں ساہیوال گئے تھے۔ واپسی پر انتظار نے ’’مجید امجد درپریشانی و آشفتہ حالی‘‘ کے نام سے ایک کالم لکھا اور
احمد مشتاق غزلوں میں ایسے مصرعے کہنے لگا:
اسے دیکھ کے میلے کپڑوں میں مجھے اپنے کپڑے بُرے لگے
اسی شام لاہور سے شامی صاحب کا فون بھی آیا۔ مسئلہ دراصل یہ تھا کہ مجید امجد کے علاج اور معاشی مسائل کے سلسلے میں بہت سی تجاویز تھیں۔ مگر سوال یہ تھا کہ اس غیرت مند ، مردِ قلندر سے بات کرنے کا حوصلہ کون کرے۔ احباب کی نظر انتخاب مجھ پر پڑی، مجھے پہلی بار معاملے کی سنگینی کا اندازہ ہوا اور اُس دن میں بہت رویا۔  ساہیوال پہنچا تو امجد معمول کے مطابق اسٹیڈیم ہوٹل میں احباب کے درمیان موجود تھے۔
ان کی چائے سے انکار ممکن نہ تھا مگر وہ ساتھ کباب اور بِسکٹ کھلانے پر بھی مصر تھے۔ مجھے علم ہوچکا تھا انھیں ریٹائر ہوئے ڈیڑھ سال ہوگئے ہیں اور ابھی تک پنشن کے کاغذات مکمل نہیں ہوسکے۔ مگر اتنی ہمت کہاں تھی کہ مسلسل انکار کرکے ان کی وضعداری اور اندازِ محبت کو ٹھیس پہنچاتا۔ اسٹیڈیم ہوٹل ہم لوگوں کا پُرانا ٹھکانا ہے۔ یہاں روزانہ آنا امجد کا معمول ہے اور یہ معمول آخری وقت تک قائم رہا۔ ان کی سائیکل کے دو پہیے راستہ ٹٹولتے ہوئے ہوٹل پہنچتے اور پھر شام ڈھلے واپس روانہ ہوجاتے کہ بینائی اتنی کمزور ہوچکی تھی کہ دن کو بھی دُور تو دُور قریب کی چیزیں بھی ٹھیک طرح نظر نہیں آتی تھیں۔ پر انھیں اس سے نفرت تھی کہ کوئی انھیں سہارا دے۔ وہ ساری زندگی بغیر کسی سہارے کے تنہا دُنیا سے نبردآزما رہے: 
دل نے ایک ایک دُکھ سہا تنہا
انجمن انجمن رہا تنہا
اسٹیڈیم ہوٹل کے مالک صادق حُسین جوگی امجدسے بڑی محبت کرتے تھے۔ اگر کسی دن وہ گھر سے نہ آتے تو آدمی بھیجتے کہ ’’چُپ چاپ دیکھ کر آئو امجدکس حال میں ہیں، مگر انھیں یہ نہ بتانا آپ کو دیکھنے آیا ہوں۔‘‘ امجدکی بیماری کے دوران جوگی نے ڈاکٹر سے لے کر ہر اُس شخص سے رابطہ رکھا جو امجد سے متعلق تھا۔ چناںچہ بیماری کی اصل نوعیت کے بارے میں صحیح خبر احباب کو انھیں کی معلومات کی بنا پر پہنچی۔
صادق حسین نے اپنے ہوٹل کے ملازمین سے کہہ دیا (اور یہ آخری دنوں کی بات ہے) کہ دیکھو رزق خدا کا ہے، اس سے فائدہ ہوتا ہے تو میرا تمھارا کچھ نہیں جاتا، یاد رکھو اِس درویش کی خدمت کرو گے تو اِس کا اجر صرف خدا سے پائو گے۔ میں تمھیں کچھ نہیں دے سکتا۔ امجد کو پتا چلا کہ ان سے بِل نہیں لیا جارہا تو ہوٹل آنا چھوڑ دیا۔ اس شخص کو کسی کا بھی تو احسان گوارا نہ تھا۔
میں کہہ رہا تھا مجید امجدآخری وقت تک اپنے دستور و روایات پر قائم رہے مثلاً سردی ہو یا گرمی وہ صبح کی سیر کے لیے ضرور جاتے حتیٰ کہ بارش ہو رہی ہو تو بھی ایک نحیف و نزار شخص آپ کو سیر کرتا ہوا ضرور نظر آئے گا۔ صحت زیادہ خراب ہوئی تو احباب نے مشورہ دیا، ابھی کچھ عرصہ سیر سے احتراز کریں، انہی دنوں انھوں نے یہ شعر کہا:
بچا کے رکھا ہے جس کو غروبِ جاں کے لیے
یہ ایک صُبح تو ہے سیرِ بوستاں کے لیے
سحر کو نکلا ہوں ’مینہ میں‘ اکیلا کس کے لیے؟
درخت، ابر، ہوا ،بوئے ہمرہاں کے لیے
جس بوئے ہمرہاں سے امجد کو اتنی محبت تھی، وہ ہمرہاں بھی امجد سے ٹوٹ کر پیار کرتے تھے۔ شاعروں، ادیبوں، کا تذکرہ کیا، میں آپ کو ایک واقعہ سُناتا ہوں۔ اسٹیڈیم ہوٹل میں کسی شاعر نما حاسد نے یہ دیکھ کر کہ اِردگرد کسی سخن فہم کا وجود نہیں، امجدکے بارے میں کچھ نامناسب بات کردی۔ پاس ہی شہر کا ایک نوجوان بیٹھا تھا۔ واجبی سی تعلیم شاید میٹرک بھی نہیں، اپنا کوئی چھوٹا موٹا کاروبار کرتا ہے۔ اس نے سُنا تو غصے میں اپنی کُرسی سے اُٹھا اور چِلانے لگا ’’اپنی زبان بند کرو… امجد ولی ہے ولی… ہم اس کے خلاف کوئی بات نہیں سن سکتے۔‘‘ اور پھر وہ بڑبڑاتا ہوا واپس اپنی کرسی پر چلا گیا۔
’’جھنگ نے دو ولی پیدا کیے ہیںــ۔ ایک سلطان باہو اور دوسرے مجید امجد۔‘‘ یہ فقرہ تو میں نے بہتوں کی زبان سے سُنا، آخر کوئی بات تو ہو گی امجد میں جو لوگ یوں  مجھتے تھے۔ میں نے ان جیسی شریف النفس، وضعدار اور مرنجاں مرنج شخصیت اور کوئی دوسری نہیں دیکھی۔  بات کہاں سے کہاں نکل گئی۔ بات چلی تھی امجدمیں کچھ ایسی تبدیلیوں سے جو اِس ساعتِ فراق کی خبر دیتی تھیں۔ خیر تو احباب نے میرے ذمہ جو ذمہ داری لگائی تھی۔ سب کی حیرانی کی انتہا نہ رہی کہ امجدنے بالآخر کسی بات کا انکار نہ کیا۔ انھوں نے نہایت وضاحت سے اپنی بیماری اور پنشن وغیرہ کے معاملات کی تفصیل بتائی اور میری تجویز کو بھی رد نہ کیا۔
شاید انھیں صرف اس مان کی لاج رکھنا مقصود تھا جو مجھے ان کے سامنے یہ سب کچھ کہنے کا حوصلہ دے رہا تھا یا دوستوں کو میرے بارے میں جو حُسنِ ظن تھا وہ از راہِ محبت اسے توڑنا نہیں چاہتے تھے۔ بہرحال میں اس دن بہت خوش تھا۔  مجھے ڈیڑھ دو ماہ کے لیے لاہور ہی ٹھہرنا پڑا ’زندگی‘ بند جو ہوچکا تھا تو مجھے دو باتوں کا شدید احساس ہوا۔ پہلی تو یہ کہ امجد کے مزاج میں ایک محسوس تبدیلی آ چکی تھی۔ مثلاً یہ کہ پہلے وہ کبھی اپنے بارے میں بات نہیں کرتے تھے، مگر اَب اکثر اپنے ماضی کے قصے سُناتے تھے۔ ’زندگی‘ بند ہونے کے بعد وہ میرے بارے میں زیادہ فکرمند تھے۔
بعد میں مراتب نے بتایا کہ روز یہی تذکرہ لے بیٹھتے… میں آیا تو مجھے سمجھانے لگے بلکہ شاید پہلے کچھ اِس طرح ڈانٹ پلائی، کہنے لگے ’’دیکھو ابھی کل ہی کی بات ہے، ریواز ہوسٹل کی سیڑھیوں سے اُتر رہا تھا اور آج عمر بیت گئی ہے۔ تمھیں ابھی وقت کا احساس نہیں ہے۔ وہ باتیں کر رہے تھے اور میرے ذہن میں اُن کا یہ شعر گونج رہا تھا جو انھوں نے انہی دنوں کہا تھا:
اور اَب یہ کہتا ہوں یہ جُرم تو روا رکھتا
میں عمر اپنے لیے بھی تو کچھ بچا رکھتا
پھر وہ اپنے قصے سنانے لگے کہ کس طرح انھوں نے ایک طالب علم کی حیثیت سے مختلف تحریکوں میں حصہ لیا، یہ سب باتیں ہمارے لیے نئی تھیں۔ ایک جلوس کی رُوداد سنائی جس میں امجد ان چار طالب علموں میں سے ایک تھے جو مولانا ظفر علی خان کے کہنے پر لاہور کی سڑکوں پر احتجاج کرنے نکلے تھے۔ امجدپہلے تو ایسی باتیں سنانے سے ہچکچاتے تھے اور بھی بہت سی باتیں کہ یوں لگتا تھا امجد نے جس شے کو تمام عمر سمیٹ رکھا ہے اب بکھر رہی ہے اور میں ڈر گیا۔
میں اس بات پر بھی چونکا تھا کہ لاہور میں امجد کا تذکرہ بہت بڑھ گیا ہے۔ ٹی وی اور ریڈیو والے انٹرویو کے لیے ساہیوال آ رہے تھے۔ حلقۂ اربابِ ذوق میں امجد پر نظمیں اور مضمون پڑھے جا رہے تھے۔ ’سویرا‘ کے ظفر اقبال، امجد کی 25,20نظمیں ’سویرا‘ میں چھاپنے کے لیے لے گئے تھے۔ یہ لوگ تو شاید بیماری کی خبر سے متحرک ہوئے تھے مگر میں ڈر گیا کہ امجد کبھی شہرت کا احسان مند نہیں ہوا، اب لوگوں کا ممنون کرم کیسے ہوگا؟ افتخار جالب گزشتہ دنوں کراچی آئے تو کہنے لگے۔ مجھے تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے بتائو امجد سے بڑا شاعر آج کوئی ہے۔
بھئی کوئی نہیں ہے ان کا مجموعہ چھپنا چاہیے۔ کوئی ڈھنگ کا پبلشر نہیں ملتا تو خود مل کر ہی چھاپ دیں اور امجد صاحب کو یہ نہ بتائیں کہ کیسے چھاپا ہے۔ میں نے دوست احباب سے مل کر اِس بار اس طرح کے بہت سے منصوبے بنائے تھے مگر یوں لگتا ہے امجد کو اس کی خبر ہوگئی اور وہ بھلا کسی کے ممنون احسان کیوں ہونے لگے سو دُنیا ہی سے چل دیے اور اَب ہم ساری زندگی یہی داغ سینے میں لیے رہیں گے کہ افسوس ان کی زندگی میں اس کے لیے کچھ نہ کرسکے۔
امجدکے قُرب نے ہماری بھی کچھ ایسی تربیت کر رکھی تھی کہ میں تو عموماً ان کا تذکرہ کرنے سے اس لیے کنی کتراتا رہا کہ لوگ یہ نہ کہیں ذاتی تعلقات کی وجہ سے میں انھیں اس دور کا سب سے بڑا شاعر سمجھتا ہوں۔ حالاں کہ مجھے قسم ہے اس دور کی کہ جس میں خودزندہ ہوں، امجد اس دور کا سب سے بڑا شعری ذہن ہے۔ گزشتہ چار پانچ ماہ سے جب مختلف نشستوں میں امجد کے اس تذکرۂ عظمت کو اپنے لبوں پر آنے سے روک نہ سکا تو ایک دن خوف سا ہوا تھا کہ میرے اندر سے بھی وہ اُصول کرچی کرچی ہو کر بکھر رہا ہے جو امجد ہی کے قرب نے مجھے سکھایا تھا۔ میں ڈر گیا، امجد میرے تذکرۂ لب کے احسان مند نہیں ہوسکے۔ کہیں وہ روٹھ ہی نہ جائیں۔
مجھے وہ دن کبھی نہیں بھولتا جب ایک چلچلاتی دوپہر، مراتب اختر اور میں امجد کو ملنے ان کے دفتر جا ر ہے تھے، میرے لبوں سے یہ حرف دُعا نکلا ’’اگر کبھی ہم امجد کا بُرا سوچیں تو اے خدا ہم سے ہماری سب صلاحیتیں چھین لینا۔‘‘ مراتب اختر کے منہ سے بے ساختہ آمین نکلا۔ میں نے ایسی دُعا کسی کے لیے نہیں مانگی جو اپنے لیے بد دعا بھی ہوسکتی ہو۔ لیکن میں کیسے بتائوں وہ کتنے بڑے تھے، مجھے خود پر قابو کہاں ہے کہ بات کر سکوں۔ گزشتہ دس سال کی رفاقت کا لمحہ لمحہ میرے سامنے کئی سوال لیے کھڑا ہے۔ بس اتنا جانتا ہوں جب تعصبات و تعلقات کی گرد بیٹھے گی تو اِس عہد کے شاعروں میں روشن ترین نام مجید امجد کا ہوگا۔ اسے ابھی مرنا نہیں چاہیے تھا۔
اس کے بغیریہ عہد اپنا مفہوم کھو بیٹھا ہے۔ حرف مر گیا تو معافی کی خوشبو کہاں ڈھونڈنے جائیں اور جب یہ خوشبو قابو میں نہ رہے تو زمینیں بنجر ہوجاتی ہیں اور اُن پر گُلاب کھلنا بند ہوجاتے ہیں۔ مصطفی زیدی نے
اپنی ایک نظم میں امجد کو یوں مخاطب کیا تھا:
اے واقفِ اسرارِ دلِ ہوز و ابجد
مگر آج تو ہوز و ابجد کے دل ہی کی دھڑکن رُک گئی۔ اب اس کے اَسرار کیسے کھلیں گے؟
میں اس وقت اپنے شہر سے دُور یہ حرف لکھ رہا ہوں، وہ شہر جہاں امجد نے رُبع صدی گزاری۔ مجھے نہیں خبر وہاں مراتب اختر پر کیا بیتی ہوگی، قیوم صبا کس حال میں ہوگا؟ ناصر شہزاد اور اشرف قدسی نے اس خبر کو کیسے سُنا ہوگا۔ اسٹیڈیم ہوٹل کا بیرا طفیل کس طرح رویا ہوگا؟ بھائی گوہر ہوشیار پوری تم تو بڑا زور دار نوحہ لکھ کر اپنا غم ہلکا کر لو گے میں اپنا دُکھ میلوں دُور بیٹھ کر کیسے کہوں، کس سے کہوں؟ ٹھیک ہے کہ یہاں بھی کہرام مچ گیا ہے۔ سلیم احمد سر پکڑے بیٹھے ہیں، قمر جمیل رُو رہے ہیں اور احمد ہمیش بوکھلایا بوکھلایا پھر رہا ہے، مگر میرا دُکھ کون سنے گا؟
غبارِ رنگ میں رَس ڈھونڈتی کرن، تری دُھن!
گرفتِ سنگ میں بَل کھاتی آب جُو ترا غم
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers