علامہ اقبالؒ ایک دینی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ اقبال کے والد عبادت گزار اورصوفی منش آدمی تھے۔ ان پر تصوف کا رنگ غالب تھا۔ اقبال بچپن ہی سے گھر میں صوفیانہ گفتگو سنتے رہے تھے۔ اس لیے ان کا اپنا میلان بھی تصوف کی طرف تھا۔وہ اپنی اس خاندانی خصوصیات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنے بیٹے جاوید اقبال سے یوں مخاطب ہوتے ہیں:
جس گھر کا مگر چراغ تو ہے
ہے اس کا مذاق عارفانہ-   تفصیل سے پڑھیے

اقبال اولیاء اللہ سے بہت عقیدت رکھتے تھے چنانچہ انھوں نے حضرت مجدد الف ثانی ؒ کا ذکر اپنے اشعار میں عقیدت و احترام کے ساتھ کیا ہے۔ اپنی زندگی کے ابتدائی دور میں اقبال عمومی طور پر تصوف کے نظریۂ وحدت الوجود کے قائل نظر آتے ہیں اور کثرت میں وحدت کو تلاش کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں
؎حسنِ ازل کی پیدا ہر چیز میں جھلک ہے
انساں میں وہ سخن ہے، غنچے میں جو چٹک ہے
کثرت میں ہو گیا ہے وحدت کا راز مخفی
جگنو میں جو چمک ہے، وہ پھول میں مہک ہے
یہ تصوف کی وہ مقبولِ عام صورت ہے جو انسان کو رہبانیت، گوشہ نشینی، نفیٔ ذات، ذلت آمیز فقر و فاقہ، توکل کی تسکین، لاتعلقی اور بے عملی کا سبق دیتی ہے اور اسے زندگی کی جدوجہد اور خیرو شر کی کشمکش میں حصہ لینے سے روکتی ہے۔ دنیا میں انقلاب بپا کرنے کی حوصلہ شکنی کرتی ہے۔ اقبال اپنی زندگی کے ابتدائی حصے میں یعنی 1905ء تک تصوف کے اسی تصور
سے متاثر نظر آتے ہیں، جب ان کا مشاہدہ اور مطالعہ محدود تھا اور قلب و نظر میں وسعت پیدا نہیں ہوئی تھی۔ اس کے بعد وہ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے یورپ چلے گئے۔ ان کا زیادہ ترقیام کیمبرج اور لندن میں رہا۔ 1908ء میں انھوں نے لنکنز اِن سے بارایٹ لا کی ڈگری حاصل کی۔ اس دوران آپ میونخ یونیورسٹی میں ریسرچ اسکالر کے طور پر بھی رجسٹر ہو چکے تھے۔ ان کی تحقیق کا موضوع تھا ’’ایران میں فلسفہ مابعد الطبیعات کا ارتقا۔‘‘ چنانچہ 1907ء میں ان کے تحقیقی مقالے پر میونخ یونیورسٹی کی طرف سے ان کو ڈاکٹریٹ کی ڈگری دی گئی۔
یورپ میں قیام کے دوران اقبال نے مغربی اقوام کی عملی سرگرمیوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور ان کی کوشش و محنت کے بہترین نتائج کا بھی مشاہدہ کیا، تو مسلمانوں کی تن آسانی، بے عملی، غفلت اور بے حسی کے احساس سے ان کو بڑی روحانی تکلیف ہوئی۔ انھوں نے غور کرنا شروع کیا کہ آخر اس صورتحال کا ذمہ دار کون ہے؟ دوسری اقوام مسلمانوں کی اس کم ہمتی اور گراوٹ کا ذمہ دار خود اسلام کو قرار دیتی تھیں۔ اس لیے اقبال نے قرآن اور تاریخ اسلام کا گہرا مطالعہ کیا اور وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ اس کم کوشی اور بے عملی کا ذمہ دار اسلام ہرگز نہیں۔ اسلام کی
تعلیمات تو انسان میں مسلسل حرکت اور جدوجہد، فکر و عمل کی بلندی اور تخلیق و تسخیر کا لازوال جذبہ پیدا کر دیتی ہیں۔ مسلمانوں کی موجودہ حالت اسلام سے دور ہٹ جانے اور غیر اسلامی نظریات کو اپنا لینے کا نتیجہ ہے اور اس میں بہت بڑا دخل غیر اسلامی تصوف کا ہے جو دراصل ایرانی تصوف ہے جس نے عیسائیت، ہندو مت اور بدھ مت کے راہبانی تصورات کو اپنے اندر جذب کر لیا اور دشمن اقوام نے مسلمانوں کو کمزور کرنے کے لیے مسلم دنیا میں اس کی ترویج و اشاعت کی۔ اقبال 30دسمبر 1915ء کو خواجہ حسن نظامی مرحوم کے نام اپنے خط میں تحریر کرتے ہیں:
’’میری نسبت بھی آپ کو معلوم ہے کہ میرا فطری اور آبائی میلان تصوف کی طرف ہے اور یورپ کا فلسفہ پڑھنے سے یہ میلان اور بھی تیز ہو گیا تھا کیونکہ یورپین فلسفہ بحیثیت مجموعی ’’وحدت الوجود‘‘ کی طرف رخ کرتا ہے۔ مگر قرآن میں تدبیر کرنے اور تاریخ اسلام کا بغور مطالعہ کرنے سے مجھے اپنی غلطی کا احساس ہو گیا اور میں نے محض قرآن کی خاطر اپنے قدیم خیال کو ترک کر دیا اور اس مقصد کے لیے مجھے اپنے فطری اور آبائی رجحانات سے ایک خوفناک دماغی اور قلبی جہاد کرنا پڑا۔ میں اسی غیر اسلامی تصوف کے خلاف صدا ئے احتجاج بلند کرتا ہوں۔‘‘
جوں جوں اقبالؒ کا علمی مطالعہ اور مشاہدہ وسیع ہوتا گیا۔ تصوف کے بارے میں ان کی رائے واضح اور مستحکم ہوتی گئی بالآخر وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ رائج الوقت تصوف ایک سراب کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ تصوف حقیقی اسلامی تصوف سے دور کا بھی تعلق نہیں رکھتا اور اس کا مزہ چکھ لینے کے بعد تو رہی سہی دینی حس بھی باقی نہیں رہتی۔ان کے نزدیک اسلامی تصوف کا صاف شفاف چشمہ ایرانی اور ہندی تصورات کی ملاوٹ سے گدلا ہو چکا تھا۔ یہی تصورات مسلمانوں کے قوائے عمل کو مفلوج کر رہے تھے۔ اس لیے انھوں نے سب سے پہلے ان تصورات و عقائد
کی بیخ کنی کو ضروری سمجھا۔ چنانچہ انھوں نے اپنے خیالات کا اظہار 1915ء میں مثنوی اسرارِ خودی میں کیا۔ ان کا مقصد عجمی اور ہندی تصورات کی نفی کرنا تھا تا کہ لوگوں پر ان کی ضرر رسانی واضح ہو جائے، لیکن جب انھوں نے حافظ شیرازی، شیخ محی الدین ابن عربی اور منصور حلاجّ کے صوفیانہ عقائد کی مخالفت کی، تو اس پر بہت لے دے ہوئی اور اہل تصوف نے ان کے خلاف ہنگامہ برپا کر دیا اور انھیں اسلامی تصوف کا مخالف قرار دے کر کفر کا فتویٰ بھی جَڑ دیا۔
اقبال 11جون 1918ء کو اکبر الہٰ آبادی کے نام اپنے خط میں تحریر فرماتے ہیں ’’میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ کون سا تصوف میرے نزدیک قابل اعتراض ہے اور میں نے جو کچھ لکھا ہے وہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔
مجھ سے پہلے حضرت علاء الدولہ سنجانی ؒ اور حضرت جنید بغدادی یہی بات لکھ چکے ہیں۔‘‘ یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ تصوف کے بارے میں خود اہل اسلام کے خیالات میں سخت اختلاف پایا جاتا ہے۔ ایک گروہ اس شدت سے مخالف ہے کہ وہ تصوف کو قطعاً غیر اسلامی چیز قرار دیتا ہے جب کہ دوسرا اتنا فریفتہ ہے کہ وہ اس کو شریعت کی قیود سے بھی آزاد سمجھتا ہے۔ اور جو باتیں لوگوں کی جہالت اور نادانی کی وجہ سے تصوف میں داخل ہو گئی ہیں ان کو بھی عین اسلام سمجھتا ہے۔ صوفیا علم کو دو اقسام میں تقسیم کرتے ہیں، ایک علم ظاہری یعنی شریعت اور دوسری علمِ
باطنی یعنی طریقت۔ مقام حیرت یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے اور اس کے ڈیڑھ سو سال بعد تک عبادات و احکام میں شریعت اور طریقت کی تقسیم موجود نہیں تھی۔ جو لوگ صحبتِ رسولﷺ کے فیض یافتہ اور تزکیۂ نفس کے اعلیٰ ترین مقام پر فائز تھے وہ صحابیؓ اور بعد کے ادوار میں تابعین اور تبع تابعین کہلاتے تھے۔ بعد میں جب مسلمان امت نے دین پر عمل کرنا چھوڑ دیا اور دنیا کی محبت نے ان کو اپنی طرف مائل کر لیا،تو خدا کے نیک بندوں نے اپنے اپنے حلقہ ہائے اثر میں لوگوں کو دین کی تعلیم اور تزکیۂ باطن کی تربیت کا کام شروع کر دیا۔ چونکہ ان بزرگوں کا مقصد دین
کو بدعات اور لغویات سے پاک کرنا تھا اور دلوں کی اصلاح اور صفائی کرنا تھا اس لیے ان کا نام صوفی پڑ گیا اور اس باطنی تعلیم کو تصوف کہا جانے لگا۔ سلف صالحین بزرگانِ دین جو علم عمل کے آفتاب اور زہد و تصوف کے روشن منار تھے، کے احوال و اقوال میں مکمل اتفاق پایا جاتا تھا۔ وہ خود ظاہر و باطن، ہر لحاظ سے کتاب و سنت کا اتباع کرنے والے تھے۔ ان لوگوں نے پابندیٔ شریعت کا حق ادا کیا۔ احکام خدا کی تعمیل، ممنوعات سے نفرت اور قضائے الہٰی پر راضی رہنا ان کا شعار تھا۔ بدعت اور رسم پرستی کی گرد ان کے دامن کو نہیں چھو سکتی تھی۔ یہ لوگ تھے جو تصوف اسلامی کے علمبردار اور صوفیا کے ارفع مقام پر فائز تھے۔
اس کے مقابلے میں آج کل کے تصوف اور صوفیا کے بارے میں مولانا عبدالماجد دریا آبادی کا بیان پڑھنے کے قابل ہے، ’’مشکل یہ ہے کہ ادھر تصوف کا نام لیا اور اُدھر ذہن کے سامنے آج کل کے ان مشائخ، شاہ صاحبان اور سجادہ نشین پیرزادوں کی اور ان کی محفلوں کی تصویریں آ جاتی ہیں۔ غالی عقیدت مند چاروں طرف سے حلقے میں لیے ہوئے ہیں۔ درمیان میں شاہ صاحب گیروے کپڑوں یا صندلی لباس میں تشریف فرما ہیں، کوئی کام ہے نہ کاج، نہ دینی تذکرے، نہ پندو مواعظ، نہ نماز نہ قرآن، نہ ادائے حقوق العباد اور جائز کسب کی کوئی فکر و اہتمام۔ قوالی کی محفل گرم ہے۔ ستار اور ہارمونیم کے ساتھ گانا سنا جا رہا ہے۔ فاسقوں کا مجمع ہے۔ عُرس کی تاریخیں آ گئی ہیں، قبروں پر چادریں چڑھ رہی ہیں، منتیں مانی اور مُرادیں مانگی جا رہی ہیں۔ مٹھائیاں، حلوے، توشے کے خوان پیش ہو رہے ہیں۔ نذر و نیاز، چڑھاوے کے نام سے روپیہ پیسہ کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں…‘‘
مذکورہ بالا بحث کا حاصل یہ ہے کہ اقبال اس صوفیا تصوف سے بیزار ہیں جو عجمی تصورات کا معجون مرکب اور اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ اس کے برعکس اقبال اسلامی تصوف کے حد درجہ مداح ہیں کیونکہ یہ اخلاص فی العمل کا نام ہے۔ اور دل میں قوت اور تحریر و تقریر میں زور پیدا کرتا ہے۔ وہ اس بے خودی کے قائل ہیں جو خودی کے عرفان سے پیدا ہوتی ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کے احکام کی مکمل تعمیل اور تسلیم و رضا کے جذبے سے جنم لیتی ہے۔ وہ اسی کو اسلامی تصورات کا ’فنا‘ کہتے ہیں۔ جن صوفیا نے ہندو مت اور بدھ مت کی تعلیم سے متاثر ہو کر ’فنا‘ کی تفسیر پیش کی ہے اس کے مسلمانوں پر تباہ کن اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اقبال اس کو بغداد کی تباہی سے زیادہ خطرناک سمجھتے ہیں اور اس کی مخالفت کرتے ہیں۔
اقبال کہتے ہیں کہ عجمی تصوف کی راہبانی تعلیم نے اسلام کے بنیادی اصولوں اور انسانی زندگی کی جڑوں پر وار کیا ہے۔ جب انسان دنیا کو خیر باد کہہ کر جنگلوں، غاروں یا خانقاہوں کے اندر ہاتھ پیر توڑ کر بیٹھ جائے گا، تو وہ غیر معمولی صلاحتیں جو خدا نے اس کو عطا کی ہیں ضائع ہو جائیں گی اور ممکنات کی وہ دنیا جو اس کے اندر پوشیدہ ہے، کبھی حقیقت کا روپ اختیارنہیں کرے گی۔
یہ ساری کائنات انسان کے عمل کی جولاں گاہ ہے۔ وہ اگر حرکت چھوڑ کر جمود اور نفیٔ ذات کا راستہ اختیار کر لے گا اور گوشۂ عافیت میں بیٹھ کر چند اوراد و وظائف کر لینے ہی کو اپنی زندگی کا نصب العین سمجھ لے گا اور کاروبارِ دنیا کو خدا کے سپرد کر دے گا، تو پھر وہی ہو گا جو اس وقت دنیا میں مسلمانوں کے ساتھ ہو رہا ہے۔ اسلام نے اپنے سنہری دور میں اگر دنیا کا نقشہ بدلا، نئی تہذیب کی بنیاد رکھی، عدل و مساوات کے اصول وضع کیے، علوم و فنون سے دنیا کو آشنا کیا، تو یہ سب کچھ ان مومنین اور مصلحین کی کوششوں کا نتیجہ تھا جو شریعت محمدیﷺ کے پابند اور بے پناہ عملی قوتوں کے حامل تھے۔ جو جدھر سے گزرے انھوں نے باطل کے ایوانوں کو زمین بوس کر دیا اور آدھی سے زیادہ دنیا فتح کر لی اور ابھی ان کا سفر جاری تھا۔
اسی لیے اس مبارک دور میں ہمیں ابوبکر صدیقؓ اور عمر فاروقؓ تو ملتے ہیں کوئی حافظ شیرازی یا منصور حلاج نظر نہیں آتا۔
اقبالؒ قرآن کی تعلیم پر یقین رکھتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ خدا نے انسان کو دنیا میں اپنا خلیفہ بنایا، قرآن کے ذریعے اس کو علم اور حکمت کا درس دیا تاکہ وہ دنیا کا انتظام سنبھالے اور کائنات کو تسخیر کرے۔ اس لیے نہیں کہ وہ عجمی تصوف، خلوت گزینی اور توکل پر بھروسا کر کے بیٹھا رہے اور ترک دنیا سے تسکین حاصل کرے۔ اقبال نفیٔ ذات اور سکون، دونوں کو موت کے مترداف قرار دیتے ہیں۔ اثباتِ خودی اور سعیٔ پیہم کو زندگی سے تعبیر کرتے ہیں۔ معرفتِ خداوندی نفس کشی سے نہیں معرفت یعنی خودشناسی سے حاصل ہوتی ہے۔
؎ ڈھونڈتا پھرتا ہوں اے اقبال اپنے آپ کو
آپ ہی گویا مسافر آپ ہی منزل ہوں میں
اقبالؒ کا اسلامی تصوف خودی کے اثبات، اس کی معرفت، تربیت اور استحکام پر مبنی ہے۔ انھوں نے اپنا یہ تصور جرأت رندانہ کے ساتھ ’’اسرارِ خودی‘‘ میں پیش کیا۔
اقبالؒ جبر و تقدیر کے معاملے میں جبر کے بجائے اختیار کے قائل ہیں۔ اطاعتِ خدا کے عروج پر پہنچ کر بندہ، خدا کا ہاتھ، پائوں، آنکھ اور زبان بن جاتا ہے۔
؎خدائے کے لم یزل کا دستِ قدرت تو زبان تُو ہے
یقین پیدا کر اے غافل کو مغلوِب گماں تُو ہے
اقبالؒ کہتے ہیں کہ زندگی اور دنیا آرزو کی پیداوار ہے۔ زندگی اپنی تمام تر مشکلات اور مصائب کے باوجود ایک نعمت ہے اس میں سے نفیٔ ذات، ترکِ آرزو اور فنا کا تصور کیسے نکل سکتا ہے۔ جس طرح خدا کا کام تخلیق و آفرنیش ہے، اس کے نائب اور خلیفہ کو بھی انہی صفات میں کمال پیدا کرنا چاہیے۔ اس کے لیے تازہ بتازہ آرزوئوں کے ذریعے زندگی کو وسعتوں سے ہمکنار اور ترقی و تسخیر سے مالا مال کرنا چاہیے۔ اقبالؒ خودی کی نشوونما کے لیے عشق کو ضروری سمجھتے ہیں۔ یہ عشق گوشہ نشینی، تنہائی اور محویت والا عشق نہیں بلکہ متحرک، فعال، ہمہ گیر، خارجی اور باطنی فطرت کا رمز آشنا اور فکر و نظر میں انقلاب برپا کرنے والا عشق ہے۔ عشق جو خدا کی اطاعت و بندگی سے شروع ہوتا ہے خدا تک پہنچ کر ختم ہوتا ہے اور یہ منزل صفاتِ خدا کو اپنے اندر جذب کر لینے سے حاصل ہوتی ہے۔
,؎ در دشتِ جنون من جبریل زبوں صیدے
یزداں بہ کمند آور اے ہمتِ مردانہ
اقبالؒ کا پیغام خودی ہمارے لیے آج بھی مشعل راہ ہے۔ کیونکہ دراصل یہ اقبال کا نہیں قرآن کا پیغام ہے، جس پر عمل کرنا محمدﷺ کے شیدائیوں کا فرض ہے۔ ہم آج بھی اگر اپنے اندر آتشِ عمل کو بھڑکا لیں، تو وسائل کی کمی کے باوجود ہم اپنا وجود دنیا سے منوا سکتے ہیں اور علم و حکمت کے ہتھیار سے جہادِ زندگانی کا آغاز کر سکتے ہیں۔ اخلاصِ نیت اور جذبۂ عمل تعداد اور سازو سامان پر ہمیشہ سبقت لے جاتا ہے کیونکہ
؎ کہ جہاں میں نانِ شعیر پر ہے مدارِ قوت حیدری

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers