شادی  وہ پھل ہے جسے کھانے والا بھی پچھتاتا ہے اور نہ کھانے والا بھی پچھتاتا ہے۔ لیکن بھلائی اسی میں ہے کہ کھا کر ہی پچھتایا جائے۔ منگنی ہوتے ہی انسان کا دماغ خواہ مخواہ خراب ہو جاتا ہے ایسے لگتا ہے جیسے منگنی نہ ہوئی ہو بلکہ امریکا کی صدارت مل گئی ہو حالانکہ ساری دنیا کو علم ہے کہ امریکی صدر کو بھی اپنی قوم سے معافی مانگنا پڑی۔ تفصیل سے پڑھیے
منگنی کے بعد اکثر خواب میں دوشیزائیں نظر آتی ہیں مگر ساتھ ہی ساتھ ساس کا ’’بھرپور‘‘ چہرہ بھی نظر آتا ہے ساس انسان کی بربادی کی ’’اساس‘‘ ہوا کرتی ہے۔ لڑکے کے والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ بیٹے کی شادی خوب دھوم دھام سے ہو بے شک شادی کے بعد پاکستان کی طرح ڈیفالٹر ہی کیوں نہ قرار دیے جائیں اور والدین کی یہ بھی تمنا ہوتی ہے کہ بیٹا وہ تمام کام ’’تمام‘‘ کر دے جو اُن سے اُن کے عمری تقاضے کی وجہ سے نہیں ہو پا رہے ہیں۔
ولیمے پر ایسے ایسے کھانے بنائے جاتے ہیں۔ جن سے صرف اور صرف ولیموں پر ہی ملاقات کا شرف حاصل ہوتا ہے۔ ولیمے پر لوگ ایسے کھاتے ہیں، جیسے غریب غصہ کھاتے ہیں اور کچھ لوگ تو کھانا کھاتے ہوئے اپنے کپڑوں پر شوربے اور چٹنی کی کڑھائی کا اعلیٰ نمونہ بھی پیش کر رہے ہوتے ہیں۔ آج کل ولیمے پر بوتلیں کھلے عام اور مرغ چوری چھپے اڑائے جاتے ہیں۔ اب ولیمہ ہورہا ہو، تو پتا نہیں چلتا کہ ولیمہ ہو رہا ہے یا کسی فلم کا ہاف ٹائم ہو رہا ہے۔
شادی کے دن دُولھا کو اتنا سجایا جاتا ہے کہ وہ اپنی بربادی کو بھول کر اپنی سجاوٹ پر دل ہی دل میں خوش ہوتا رہتا ہے۔ کبھی وہ منہ پررومال رکھتا ہے تو کبھی پسینہ صاف کرتا ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ دُولھا نے کئی شادیاں کر رکھی ہوتی ہیں، وہ اپنی سابقہ بیویوں سے منہ چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔ کچھ کا خیال ہے کہ دُولھا منہ پر رومال اس لیے رکھتا ہے کہ اسے دُولھن کے گھر سے خاص قسم کی بُو آرہی ہوتی ہے۔دُولھا کے سر پر سہرا اور ہاتھ میں چھڑی دی جاتی ہے تاکہ وہ بوقت ضرورت اپنی سالیوں کے خلاف اپنا دفاع کر سکے۔
دُولھا میاں سہاگ رات عجیب کشمکش میں گزارتے ہیں، گھر والے باہر اور باہر والے دُولھا کو اندر بھیجتے ہیں اور دُولھا پنڈولم کی طرح ساری رات اندر اور باہر کے چکروں میں گزار دیتے ہیں۔ دُولھا میاں اندر جاتے ہیں تو گھاگھ قسم کی عورتیں صبر کی تلقین کر کے باہر بھیج دیتی ہیں اور باہر جاتے ہیں تو دور اندیش بزرگ اندر جانے کی وصیت کرتے ہیں۔ اسے کہتے ہیں دھوبی کا کتا ’’گھر کا نہ گھاٹ کا۔‘‘
جب شادی گزر جاتی ہے تو پھر گھر کے تمام افراد پٹواریوں کی طرح رجسٹر پکڑ کر فرشتوں کی طرح حساب کتاب شروع کر دیتے ہیں کہ کس نے کیا دیا اور کیا لیا؟ کچھ لوگ شادی کے فوراً بعد ہنی مون منانے کے لیے دور دراز علاقوں میں چلے جاتے ہیں۔ ایسے لوگ جو ہنی مون کے شوقین ہوتے ہیں کہ ان کو ’’ہنی مونیا‘‘ کا مریض کہا جاتا ہے۔ ’’ہنی مونیا‘‘ بھی نمونیا کی بگڑی ہوئی شکل کا نام ہے فرق ان دونوں میں صرف یہ ہے نمونیا میں آدمی کو ’’پالا‘‘ لگتا ہے اور ہنی مونیا میں ’’پالا پڑ‘‘ جاتا ہے۔
عموماً شادی سے پہلے اور خصوصاً شادی کے بعد لوگ اپنے آپ کو خوش نصیب سمجھتے ہیں۔ مگر ان کی یہ خوش فہمی جلد ہی شادی کے چند روز بعد دور ہو جاتی ہے۔ جب دُولھن شاپنگ کا مطالبہ کرتی ہے اور یوں دُولھا میاں Default ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ سمجھ دار لوگ خود شاپنگ کرتے ہیں چاہے اس کام کے لیے ان کو خود نقاب پہن کر ہی کیوں نہ جانا پڑے۔
دُولھا میاں جب سسرال جاتے ہیں، تو سسرال والے ایسے ڈراتے ہیں جیسے ڈالر ہمارے بھولے بھالے روپے کو ڈراتا ہے۔ خاص طور پر دُولھا میاں ’’سسر‘‘ کے سامنے تو ’’سسری‘‘ کی طرح سو جاتے ہیں بعض اوقات اس کو تھوڑی دیر کے لیے شدید غصہ آتا ہے لیکن پھر بیوی کو دیکھتے ہی غصہ جلدی سے ایسے اُتر جاتا ہے جیسے اذان کے بعد خواتین کے سر سے دوپٹہ۔
ایک بزرگ فرما رہے تھے کہ شادی بچوں کا کھیل نہیں ہے۔ حالانکہ اگر سوچا جائے تو شادی ہے ہی بچوں کا کھیل اور شاید یہ کھیل کھیلا ہی بچوں کے لیے جاتا ہے۔ حسین رقابتوں کی غلطیاں جب سامنے آتی ہیں، تو انسان کو خواہ مخواہ شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔ شادی سے پہلے ہر لڑکی خوبصورت نظر آتی ہے اور شادی کے بعد معلوم نہیں کیوں مردوں کی آنکھوں میں موتیا اتر آتا ہے کہ کسی بھی لڑکی کو دیکھنے سے پہلے کنکھیوں سے بیوی کی طرف دیکھنا پڑتا ہے۔ اگر ایسے مواقع نہ آئیں تو شاید شوہر حضرات کبھی بیوی کی طرف دیکھنے کی زحمت گوارا نہ کریں۔
عورت وہ مخلوق ہے جو ہماری پسلی سے پیدا ہو کر ہماری ہڈی پسلی ایک کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ حضرت آدمؑ نے شجرِ ممنوعہ کو چھوکر جو غلطی کی وہ تو ہے ہی مگر اپنی پسلی سے اس آتشیں مخلوق کو جنم دے کر ہم سب کو مخمصے میں ڈال دیا ہے کہ اگر اس شجرِ ممنوعہ کوچھوا تو نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات یعنی درجن بھر بچے ہو گا اور اگر نہ چُھوا تو لوگ ہماری جوانی اور مردانگی پر شک کریں گے۔ اسے کہتے ہیں
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers