زندگی کا سفر شروع ہوتا تو سادہ سا ہی ہے . بس ماں کا پتہ ہوتا ہے، نیند کا اور بھوک کا، اور کچھ کا نہیں. مگر جیسے جیسے عمر آگے نکلتی جاتی ہے، دنیا کی سمجھ آتی جاتی ہے. ویسے نہیں آتی جیسے کہ آنی چاہئے، مگر کہ ویسے جیسے کہ دنیا دکھا رہی ہے یا میں دیکھنا چاہتا ہوں. چالاکی اور آگاہی اور پھنساونے اور خالی، خیالی پلاؤ، کہیں ٹھرنے ہی نہیں دیتے. معصومیت ایسے ُاڑ جاتی ہے- تفصیل سے پڑھیے
جیسا کہ تیز ہوا میں کبوتر کا پر. کبھی کسی پہ نظر کبھی کسی پہ. اتنا چل چلاؤ اتنی بھاگ دوڑ کہ خود کے گریباں میں جھانکنے کا لمحہ کب آتا ہے اور کب ہاتھ سے پھسل جاتا ہے معلوم ہی نہیں پڑتا. پیدائش کے وقت، ضرورت کا پتہ ہوتا ہے ، خواہشات اور بےپناہ خواہشات کا پتہ تو صرف غور کرنے سے اور جائزہ لینے سے یا ارد گرد پر غور و فکر کرنے سے ہی آہستہ آہستہ میرے اندر بھی جنم لینے لگ جاتا ہے
. خود کو تھامنے روکنے کا گمان بھی نہیں گزرتا. اور گزرے بھی کیسے جب ہر کوئی ہر طرف ایسا ہی ہو جیسا کہ میں بننے جا رہا ہوں. اور ایسے میں کوئی ساتھی کوئی راہنما بھی نہیں ٹکرتا کہ روک لے یا ٹوک ہی دے. اور ٹکرے بھی کیسے، آنے والا بھی ڈرے اور میں، وہ اپنانے سے بھی ڈروں.اس ڈرنے ڈرانے میں جھنڈ اتری کب اور کب بالوں میں سفیدی آ گئی معلوم ہی نہیں پڑا. کھینچی کھال چہرے کی کب ُچنے ڈوپٹے سی ہو گئی یہ معلوم کرنے کو ہاتھ کو وقت ملا نہ ہی نظر کو. خواہشات کا گھنیرا جنگل جوں کا توں بلکہ مزید گھنا اور گھناونا. اور میں اس میں پہلے سے بھی زیادہ تنہا. نہ کوئی فاصلہ کم ہوا نہ ہی کوئی بھوک پوری ہوئی. آج میرا تو چل چلا ہے ہی، نقش قدم ہیں کہ جانو کوئی فائدہ نہیں بھاگنے کا. رزق کا کوٹہ مقرر ہے اس کا ہی انتظام کرنا ہے اور بس. نہ اس سے زیادہ نہ ہی کم. اوپر والا اگر بڑھا دے تو بڑھا دے گھٹا دے تو گھٹا دے
. ہر کوئی خود ہی بے لگام سا ہے. کوئی بیکار کے خوابوں میں کوئی خود ہی کے جوابوں میں قید. کبھی کبھی کوئی دانائی سر اٹھاتی ہے، جھنجلاتی ہے، کہ کیا سراب ہے یارب کوئی کنواں کیوں نہیں دکھتا؟ مگر جلد ہی ہار مان جاتی ہے. سب کو کرتا دھرتا دیکھ کہ لگتا ہے وہی راستہ ہے. وہی زندگی ہے آخرت رخی اور یہی سچ ہے. یہ جنگل مجھ کو آگے دیکھنے ہی نہیں دیتا. لوگ جھنڈ در جھنڈ، رونقیں گلی گلی. اور میں کبھی کسی رخ کبھی کسی رخ. سمجھ نہیں آتا کہ یہ بھیڑ صحیح سمت ہے یا میں انجان کھڑا ہوں. یہاں سے تھک کہ گھر کی راہ کرتا ہوں تھکا ہارا. سوچتا ہوں کس کی جانب دیکھوں جو میری آنکھوں کے آنسو پڑھ لے اور ہاتھ تھام کے خاموشی میں کہے کہ سب ٹھیک ہے
. بھاگتے بھاگتے سانسوں کی بھی شام ہوئی جاتی ہے مگر عقل اکثر ہی ساتھ نہیں دیتی. یہ خیال نہیں گزرتا کہ سوچوں لالچوں امیدوں خواہشوں سے ذرا دامن ہٹا کے، [چھڑا کے نہیں کہا میں نے] دیکھوں تو سہی کہ افق کے اس پار کائنات کے کیا رنگ بکھرے ہیں. کھڑکی سے باہر نیچے دیکھوں تو کیچڑ ہی کیچڑ. اوپر دیکھوں تو ویران آسمان. نہ نیچے ہی امنگ کا کوئی بلبلہ نہ اوپر ہی کوئی چمکتا ستارہ. آج نظر بھی دھندلا گئی ہے اور عمر بھی بھاگتے بھاگتے کبھی بھیڑ کی نظر کبھی بیاباں کی. اب جو کہتا ہوں اس کو چہرے کی جھریوں میں بنا ہے ملا کے چمکتے تاروں میں پرویا ہے. یہ گیان کا وقت ہے اور دھیان کا بھی، زبان کو بند رکھو اور ذرا سوچ کو بھی جو کہیں ٹھرنے نہیں دیتی اور وقت کے خلاف بھاگتی ہے بھگاتی ہے. کان کھولو اور دھکوں سے بچو. چھوٹا سا سبق ہے
. جیسے ہو جتنے ہو الله کے ہاں قبول ہو خود کو قبول کرو. نہ خواہشوں کے پیچھے بھاگو نہ ہی ان ہو خود کا پیچھا کرنے دو. نہ بھیڑ کی طرف دیکھو نہ جنگل کی طرف نہ ہی صحرا کی طرف. جگہ دیکھنے کی ایک ہے اور بھگانے کی بھی. بھاگ کہ خود کے پاس او اور خود کے گریباں میں دیکھو. باقی سب الله کے سپرد

Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers