پچھلے  دنوں کچھ عرصے کے لیے جنوبی پنجاب کے ایک قصبے میں اپنے ایک قریبی عزیز کے گھر رہنے کا اتفاق ہوا اور اتفاق ہی سے ان کے علاقے کا پانی ہمیں راس نہ آیا۔ پیٹ خراب تو جو ہوا سو ہوا علاج کے لیے وہ ہمیں اپنی آزمودہ ’’لال گولیاں‘‘ کھلاتے رہے۔ جو ہم تکلفاً استعمال کرتے رہے۔ فائدہ کیا ہونا تھا اُلٹا ایک رات پیٹ میں ایسا درد اُٹھا کہ ماہیٔ بے آب کی طرح تڑپنے لگے۔     تفصیل سے پڑھیے
کچھ دیر تو چپکے لیٹے رہے مگر جب حال سے بے حال ہوگئے تو میزبان کو جگانا پڑا۔ ہمیں تڑپتا دیکھ کر وہ نجانے کیا سمجھے جو جھلا کر بولے ’’کمال کرتے ہیں آپ بھائی صاحب! یہ ڈسکو آپ صبح دکھا دیتے مجھے، اجی! لا حول ولا قوۃ الا باللہ۔ بیکار میں نیند خراب کی۔‘‘ ہم نے منمنا کر درد کا ذکر کیا۔ انھوں نے وہ لال گولی ہمیں کھلا دی اور اس گولی کا کھانا ہی تو غضب ہوگیا گہرے سبز رنگ کی قیَ ہمارے منہ سے فوارے کی طرح نکلی اور ان کی سفید قمیص کو داغ دار کر گئی۔ اب انھیں حالت کی سنگینی کا احساس ہوا اور انھوں نے اپنے پڑوسی کے بیٹے اسلم کو جو ملتان میں طب کی تعلیم حاصل کر رہا ہے بُلا لیا۔ برخودار نے اچھی طرح ٹھونک بجا کر ہمارا پیٹ دیکھا اور اعلان کیا کہ انکل کو اسپتال لے جانا ہوگا۔
اسپتال کی حالت دیکھ کر ہمارے رہے سہے اوسان بھی جاتے رہے۔ دو کمروں کا چھوٹا سا مکان۔ دیواروں پر دراڑیں ہی دراڑیں، چھت پر جالے ہی جالے اور فرش پر مٹی ہی مٹی۔ اندر میلے کچیلے بستر پر پڑے اکلوتے مریض نے آنکھوں آنکھوں میں اشارے شروع کر دیے کہ پتلی گلی سے نکل لے بچہ! ورنہ تیرا بھی یہی حال ہوگا۔  ہم نے اپنے تیماردار کی طرف دیکھا۔ وہ وہاں چپراسی نما مخلوق کو جگانے کی کوشش کر رہے تھے جس کے دہشت ناک خراٹوں کی آواز سے دل کانپ رہا تھا۔ خدا خدا کر کے وہ جاگا۔
پھر ڈاکٹر صاحب کو جگانے کا مرحلہ آیا۔ آخر وہ بھی طے ہوا۔ شکل صورت تو اللہ کی بنائی ہوتی ہے اس پر کیا تبصرہ کرنا البتہ کھچڑی بال رگڑ رگڑ کر بنائی گئی شیو اور جلدی میں چڑھائی گئی پھنسی ہوئی پتلون اور کسَی ہوئی ٹائی نے ان کا حُلیہ مضحکہ خیز بنا دیا تھا۔ اس پر مستزاد وہ بجائے مسکراہٹ کے چہرے پر بارہ بجائے تشریف لے آئے۔ گھڑی کو دیکھا تو بھی بارہ ہی بجے تھے۔ جی میں آیا کہ ان سے پوچھوں کہ اتنا درست وقت کیسے بجا رہے ہیں مگر ہمارے کچھ بولنے سے پہلے ہی طب کے طالب علم اسلم کی رگ تشخیص پھڑکی اور وہ بولے ’’ڈاکٹر صاحب! اپنڈکس کا کیس ہے‘‘ اور ڈاکٹر صاحب کو گویا آگ ہی لگ گئی۔‘‘ آپ آج کل کے لڑکے نجانے کیا سیکھ رہے ہیں سیدھا سادا سرطان (کینسر) کا مریض ہے اور آپ کو اپنڈکس سوجھ رہی ہے۔‘‘
’’واہ، مغرب کے سائنس دان یوں ہی کینسر کی تشخیص کے لیے آلات بنا رہے ہیں آپ کو تو ایک نظر دیکھ کر ہی پتا لگ گیا‘‘ طالب علم جل کر بولا۔  ’’الٰہی خیر‘‘ شیخ صاحب نم آنکھوں سے ہمیں دیکھ کر بولے ’’نہیں ڈاکٹر صاحب! میں ابھی مرنا نہیں چاہتا، مجھے بچالیں۔ ابھی میں نے دیکھا ہی کیا ہے ‘‘ ہم بولنا چاہ رہے تھے مگر الفاظ ہمارے منہ سے نکلنے ہی سے انکاری تھے۔‘‘
’’کہاں کی ڈگری ہے آپ کی؟‘‘ طالب علم نے یوں پوچھا جیسے وہ کسی تفتیشی ٹیم کا صدر ہو۔‘‘  ’’دروازے پرنیم پلیٹ نہیں دیکھی؟ ماہر کینسریات پی ایچ ڈی ہوں‘‘ (پیٹ، ہاتھ اور دماغ کے امراض پر میرا ہاتھ بے حد رواں ہے) انھوں نے برا مان کر وضاحت سے یونہی اپنی مہارت کے شعبوں کا انکشاف کیا۔  ’’تو یہ پی ایچ ڈی یعنی پیٹ ہاتھ اور دماغ کا کینسر اسپتال ہے‘‘ اسلم کہ لہجے میں حیرت تھی۔  ’’کوئی شک‘‘ وہ پھاڑ کھانے والے انداز میں بولے۔ پونے دو سال سے میرا اسپتال بیمار عوام کی خدمت کر رہا ہے۔
’’تو یہاں کیمو تھراپی اور ریڈیو تھراپی بھی ہوتی ہے؟‘‘ اسلم نے بے یقینی سے پوچھا۔
’’تو اور کیا مطلب ہے کینسر اسپتال کا؟‘‘  ’’یہ دیکھیں یہ مریض پچھلے مہینے یہاں داخل ہوا تھا۔ خود چل کر آیا تھا، میں نے آپریشن کیا۔ اب چل بھی نہیں سکتا‘‘ دونوں تھراپیاں دے رہا ہوں‘‘  ’’جی؟‘‘ میں گھبرا گیا۔  ’’وہ کمزوری کی وجہ سے جناب‘‘ انھوں نے بات سنبھالی۔ اس کا دل کمزور سے اور دل کی کمزوری کا اثر ٹانگوں پر پڑا ہے جو اب ہل جل نہیں رہیں۔ ’’اب اس کی کیمو تھراپی چل رہی ہے، ایک کلو قیمہ روزانہ کھلاتا ہوں اپنی زیرِ نگرانی انھیں، پھر یہ ایف ایم ریڈیو دیا ہوا ہے دن میں 4 گھنٹے ریڈیو تھراپی کر لیتے ہیں۔ اب تسلی ہوگئی ہو تو علاج شروع کروں۔‘‘ پھر میرے جواب کا انتظار کیے بغیر ہی وہ چلاّئے۔ ’’چل چھوٹے صاحب کو بے ہوش کَر۔‘‘
یہ حکم سُن کر وہ غلیظ چپراسی ایک عجیب وضع کے گرد سے اٹے مرتبان سے کچھ نکالنے لگا۔ اسی دوران میں، مُیں ہمت کرکے اُٹھا اور سر پر پیر رکھ کر بھاگ کھڑا ہوا۔ اس طرح بھاگنے کے نتیجے میں ایک دم ہی بڑے عجیب سے ڈکار آئے۔ ایک اور قیَ (جس میں رات کھائی گئی مچھلی اور آلو چھولے کی چاٹ کی باقیات غیر صالحات برآمد ہوئیں) کے بعد ہمیں خود ہی آرام آگیا۔ ہم نے اس قصاب سے اپنی جان بچ جانے پر خدا کے حضور شکرانے کے نفل پڑھے اور اگلی صبح واپسی کے لیے رختِ سفرباندھ لیا۔
جان بچی سو لاکھوں پائے
لوٹ کے بدھو گھر کو آئے
اگر جو کہیں میری بھی قیمہ تھراپی اور ریڈیو تھراپی شروع ہوگئی ہوتی تو خدا جانے یہ سطور لکھنے کی نوبت کیونکر آپاتی، آپ کو اس عظیم تحریر سے فیض یاب کیے بغیر دنیا سے چلے جانے کا تصور ہی سوہانِ روح بنا ہوا ہے۔
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers