معراج کے دو حصےہیں، پہلے حصے کو اسراء اور دوسرے حصے کو معراج کہا جاتا ہے۔ لیکن عرفِ عام میں دونوں ہی کو معراج سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
اسراء کا ذکر سورة بنی اسرئیل کے آغاز میں ہے، یعنی مسجدِ حرام سے مسجد اقصٰی (بیت المقدس ) تک کا سفر، ارشادِ باری تعالٰی ہے۔   تفصیل سے پڑھیے

''پاک ہے وہ ذات جس نے راتوں رات اپنے بندے کو مسجدحرام سے مسجد اقصیٰ تک سیر کرائی جس کے اردگرد ہم نے برکت رکھی ہے تاکہ ہم اسے اپنی کچھ نشانیاں دکھائیں بے شک وہ سننے والا دیکھنے والا ہے.''
(بنی اسرئیل۔۱)
جب فرشتے نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو لینے کے لئے آئے، اسوقت آپ صلى الله عليه وسلم کہاں تھے؟
بعض روایات میں ہے کہ آپ ﷺحضرت علیؓ کی ہمشیرہ اُم ہانی کے گھر میں تھے، بعض روایات میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا، میرے گھر کی چھت کھلی۔ بعض میں حجر یا حطیم میں ہونے کا ذکر ہے۔ حجر یا حطیم ایک ہی جگہ کے دو نام ہیں اور یہ خانہ کعبہ کےباہر کے حصے کو کہا جاتا ہے،جو قریش مکہ نے حضرت ابراھیم علیہ السلام کی تعمیر کردہ بیت اللّٰہ کا حصہ ، طول میں ، سرمائے کیوجہ سے چھوڑ دیا تھا۔آپ اُم ہانی کے گھر سوئے ہوئے تھے۔ اُم ہانی کے گھر کو آپ نے اپنا گھر اس لیے کہا کہ آپ وہیں سکونت پذیر تھے۔ وہاں فرشتہ آیا اور آپ کو وہاں سے خانہ کعبہ لے گیا، جہاں آپ لیٹ گئے۔
جامع الترمذی ، تفسیر القرآن ، باب ومن سورة بنی اسرائیل۔ (حدیث ۳۱۳۱)
جیسا کے تفصیل کیساتھ اس حدیث میں واقعات موجود ہیں۔ یہ ایسا اہم اور مستند واقعہ ہے جسے ۲۸ صحابیوں نے روایت کیا ہے، اور آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا یہ وہ معجزہ ہے جو آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو سارے انبیاء پر فوقیت ثابت کرتا ہے۔
حضرت مالک بن صعصعہ رضی الله عنہ نے بیان کیا ، کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے ان سے شب معراج کا واقعہ بیان کیا ،
آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں حطیم میں لیٹا ہوا تھا ۔ بعض دفعہ قتادہ نے حطیم کے بجائے حجر بیان کیا کہ میرے پاس ایک صاحب جبرائیل علیہ السلام آئے اور میرا سینہ چاک کیا ، قتادہ نے بیان کیا کہ میں نے حضرت انس رضی الله عنہ سے سنا ، وہ بیان کرتے تھے کہ یہاں سے یہاں تک ۔ میں نے جارود سے سنا جو میرے قریب ہی بیٹھے تھے ۔ پوچھا کہ حضرت انس رضی الله عنہ کی اس لفظ سے کیا مراد تھی ؟ تو انہوں نے کہا کہ حلق سے ناف تک چاک کیا ( قتادہ نے بیان کیا کہ ) میں نے حضرت انس سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کے سینے کے اوپر سے ناف تک چاک کیا ، پھر میرا دل نکالا اور ایک سونے کا طشت لایا گیا جو ایمان سے بھرا ہوا تھا ، اس سے میرا دل دھویا گیا اور پہلے کی طرح رکھ دیا گیا ۔ اس کے بعدایک جانور لایا گیا جو گھوڑے سے چھوٹا اور گدھے سے بڑا تھا اور سفید ! جارود نے حضرت انس رضی الله عنہ سے پوچھا ابوحمزہ ! کیا وہ براق تھا ؟ آپ نے فرمایا کہ ہاں ۔ اس کا ہر قدم اس کے منتہائے نظر پر پڑتا تھا-
آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ...! مجھے اس پر سوار کیا گیا اور جبرائیل ۔ مجھے لے کر چلے آسمان دنیا پر پہنچے تو دروازہ کھلوایا ، پوچھا گیا کون صاحب ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ جبرائیل علیہ السلام پوچھا گیا اور آپ کے ساتھ کون ہے ؟ آپ نے بتایا کہ محمد صلی الله علیہ وسلم پوچھا گیا ، کیا انہیں بلانے کے لئے آپ کو بھیجا گیا تھا ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں ۔ اس پر آواز آئی انہیں خوش آمدید ! کیا ہی مبارک آنے والے ہیں وہ ۔ اور دروازہ کھول دیا ۔ جب میں اندر گیا تو میں نے وہاں آدم علیہ السلام کو دیکھا ، جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا یہ آپ کے جد امجد آدم علیہ السلام ہیں ، انہیں سلام کیجئے ۔ میں نے ان کو سلام کیا اور انہوں نے جواب دیا اور فرمایا خوش آمدید نیک بیٹے اور نیک نبی !
جبرائیل علیہ السلام اوپر چڑھے اور دوسرے آسمان پر آئے وہاں بھی دروازہ کھلوایا آواز آئی کون صاحب آئے ہیں ؟ بتایا کہ جبرائیل علیہ السلام پوچھا گیا آپ کے ساتھ اور کوئی صاحب بھی ہیں ؟ کہا محمد صلی الله علیہ وسلم پوچھا گیا کیا آپ کو انہیں بلانے کے لئے بھیجا گیا تھا ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں ، پھر آواز آئی انہیں خوش آمدید ۔ کیا ہی اچھے آنے والے ہیں وہ ۔ پھر دروازہ کھلا اور میں اندر گیا تو وہاں یحییٰ اور عیسیٰ علیہما السلام موجود تھے ۔ یہ دونوں خالہ زاد بھائی ہیں ۔ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا یہ عیسیٰ اور یحییٰ علیہما السلام ہیں ، انہیں سلام کیجئے میں نے سلام کیا اور ان حضرات نے میرے سلام کا جواب دیا اور فرمایا خوش آمدید نیک نبی اور نیک بھائی !
یہاں سے جبرائیل علیہ السلام مجھے تیسرے آسمان کی طرف لے کر چڑھے اور دروازہ کھلوایا ۔ پوچھا گیا کون صاحب آئے ہیں ؟ جواب دیا کہ جبرائیل ۔ پوچھا گیا اور آپ کے ساتھ کون صاحب آئے ہیں ؟ جواب دیا کہ محمد صلی الله علیہ وسلم پوچھا گیا کیا انہیں لانے کے لئے آپ کو بھیجا گیا تھا ؟ جواب دیا کہ ہاں ۔ اس پر آواز آئی انہیں خوش آمدید ۔ کیا ہی اچھے آنے والے ہیں وہ ، دروازہ کھلااور جب میں اندر داخل ہوا تو وہاں یوسف علیہ السلام موجود تھے ۔ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا یہ یوسف ہیں انہیں سلام کیجئے میں نے سلام کیا تو انہوں نے جواب دیا اور فرمایا خوش آمدید نیک نبی اور نیک بھائی !
پھر حضرت جبرائیل علیہ السلام مجھے لے کر اوپر چڑھے اور چوتھے آسمان پر پہنچے دروازہ کھلوایا تو پوچھا گیا کون صاحب ہیں ؟ بتایا کہ جبرائیل ! پوچھا گیا اور آپ کے ساتھ کون ہے ؟ کہا که محمد صلی الله علیہ وسلم پوچھا گیا کیاانہیں بلانے کے لئے آپ کو بھیجاگیا تھا ؟ جواب دیا کہ ہاں کہا کہ انہیں خوش آمدید کیا ہی اچھے آنے والے ہیں وہ ! اب دروازہ کھلا جب میں وہاں ادریس علیہ السلام کی خدمت میں پہنچا تو جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا یہ ادریس علیہ السلام ہیں انہیں سلام کیجئے میں نے انہیں سلام کیا اور انہوں نے جواب دیا اور فرمایا خوش آمدید پاک بھائی اور نیک نبی ۔
پھر مجھے لے کر پانچویں آسمان پر آئے اور دروازہ کھلوایا پوچھا گیا کون صاحب ہیں ؟ جواب دیا کہ جبرائیل ، پوچھا گیا آپ کے ساتھ کون صاحب آئے ہیں ؟ جواب دیا کہ محمد صلی لله علیہ وسلم پوچھا گیا کہ انہیں بلانے کے لئے آپ کو بھیجا گیا تھا ؟ جواب دیا کہ ہاں اب آواز آئی خوش آمدید کیا ہی اچھے آنے والے ہیں وہ ، یہاں جب میں ہارون علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا تو جبرائیل علیہ السلام نے بتایا کہ یہ ہارون ہیں انہیں سلام کیجئے میں نے انہیں سلام کیا انہوں نے جواب کے بعد فرمایا خوش آمدید نیک نبی اور نیک بھائی !
یہاں سے لے کر مجھے آگے بڑھے اور چھٹے آسمان پر پہنچے اور دروازہ کھلوایا پوچھا گیا کون صاحب آئے ہیں ؟ بتایا کہ جبرائیل ، پوچھا گیا آپ کے ساتھ کوئی دوسرے صاحب بھی آئے ہیں ؟ جواب دیا کہ محمد صلی الله علیہ وسلم پوچھا گیا کیا انہیں بلانے کے لئے آپ کو بھیجا گیا تھا ؟ جواب دیا کہ ہاں ۔ پھر کہا انہیں خوش آمدید کیا ہی اچھے آنے والے ہیں وہ ۔ میں جب وہاں موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا تو جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ موسیٰ علیہ السلام ہیں انہیں سلام کیجئے ، میں نے سلام کیا اور انہوں نے جواب کے بعد فرمایا خوش آمدید نیک نبی اور نیک بھائی ! جب میں آگے بڑھا تو وہ رونے لگے کسی نے پوچھا آپ روکیوں رہے ہیں ؟ تو انہوں نے فرمایا میں اس پر رورہا ہوں کہ یہ لڑکا میرے بعد نبی بنا کر بھیجا گیا لیکن جنت میں اس کی امت کے لوگ میری امت سے زیادہ ہوں گے-
پھر جبرائیل علیہ السلام مجھے لے کر ساتویں آسمان کی طرف گئے اور دروازہ کھلوایا ۔ پوچھا گیا کون صاحب آئے ہیں ؟ جواب دیا کہ جبرائیل ۔ پوچھا گیا اور آپ کے ساتھ کون صاحب آئے ہیں ؟ جواب دیا کہ محمد صلی الله علیہ وسلم پوچھا گیا کیا انہیں بلانے کے لئے آپ کو بھیجا گیا تھا ؟ جواب دیا کہ ہاں ۔ کہا کہ انہیں خوش آمدید ، کیا ہی اچھے آنے والے ہیں وہ ، میں جب اندر گیا تو ابراہیم علیہ السلام تشریف رکھتے تھے ۔ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ آپ کے جد امجد ہیں ، انہیں سلام کیجئے ۔ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے ان کو سلام کیا تو انہوں نے جواب دیا اور فرمایاخوش آمدید نیک نبی اور نیک بیٹے ! پھر سدرۃالمنتہیٰ کو میرے سامنے کر دیا گیا میں نے دیکھا کہ اس کے پھل مقام حجر کے مٹکوں کی طرح ( بڑے بڑے ) تھے اور اس کے پتے ہاتھیوں کے کان کی طرح تھے ۔ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا کہ......!
یہ سدرۃالمنتہیٰ ہے ۔ وہاں میں نے چار نہریں دیکھیں دو باطنی اور دو ظاہری ۔ میں نے پوچھا اے جبرائیل علیہ السلام ! یہ کیا ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ جو دوباطنی نہریں ہیں وہ جنت سے تعلق رکھتی ہیں اور دوظاہری نہریں نیل اور فرات ہیں ۔ پھر میرے سامنے بیت المعمور کو لایا گیا ، وہاں میرے سامنے ایک گلاس میں شراب ایک میں دودھ اور ایک میں شہد لایا گیا ۔ میں نے دودھ کا گلاس لے لیا تو جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا یہی فطرت ہے اور آپ اس پر قائم ہیں اور آپ کی امت بھی ! پھر مجھ پر روزانہ پچاس نمازیں فرض کی گئیں میں واپس ہوا....، اور موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزراتو انہوں نے پوچھا کس چیز کا آپ کو حکم ہوا ؟ میں نے کہا کہ روزانہ پچاس وقت کی نماز وں کا ، موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا لیکن آپ کی امت میں اتنی طاقت نہیں ہے ۔ اس سے پہلے میرا واسطہ لوگوں سے پڑچکا ہے اور بنی اسرائیل کا مجھے تلخ تجربہ ہے ۔ اس لئے آپ اپنے رب کے حضور میں دوبارہ جائیے اور اپنی امت پر تخفیف کے لئے عرض کیجئے ۔
چنانچہ میں الله تعالیٰ کے دربار میں دوبارہ حاضر ہوا اور تخفیف کے لئے عرض کی تو دس وقت کی نمازیں کم کر دی گئیں ۔ پھر میں جب واپسی میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو انہوں نے پھر وہی سوال کیا میں دوبارہ بارگاہ رب تعالیٰ میں حاضر ہوا اور اس مرتبہ بھی دس وقت کی نمازیں کم ہوئیں ۔ پھر میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا اور تو انہوں نے وہی مطالبہ کیا میں نے اس مرتبہ بھی بار گاہ رب تعالیٰ میں حاضر ہو کر دس وقت کی نمازیں کم کرائیں ، موسٰی علیہ السلام کے پاس سے پھر گزرا انہوں نے اپنی رائے کا اظہار کیا پھر بارگاہ الٰہی میں حاضر ہوا تو مجھے دس وقت کی نمازوں کا حکم ہوا میں واپس ہونے لگا تو آپ نے پھر وہی کہا اب بارگاہ الٰہی میں حاضرہو اتو روزانہ صرف پانچ وقت کی نمازوں کا حکم باقی رہا ۔ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو آپ نے دریافت فرمایا اب کیاحکم ہوا ؟ میں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بتایا کہ روزانہ پانچ وقت کی نمازوں کا حکم ہوا ہے ۔ فرمایا کہ آپ کی امت اس کی بھی طاقت نہیں رکھتی میرا واسطہ آپ سے پہلے لوگوں سے پڑ چکا ہے اور بنی اسرائیل کا مجھے تلخ تجربہ ہے ۔ اپنے رب کے دربار میں پھر حاضر ہو کر تخفیف کے لئے عرض کیجئے ۔ 
آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا رب تعالیٰ سے میں بہت سوال کر چکا اور اب مجھے شرم آتی ہے ۔ اب میں بس اسی پر راضی ہوں ۔ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر جب میں وہاں سے گزرنے لگا تو ندا آئی ” میں نے اپنا فریضہ جاری کر دیا اور اپنے بندوں پر تخفیف کر چکا ۔ “
--------------------------------------------
صحیح البخاری -(حديث نمبر-3887) 
--------------------------------------------
تشریح: روایت میں لفظ سدرة المنتہیٰ مذکور ہوا ہے۔ لفظ سدرة بیری کے درخت کو کہتے ہیں۔ یعنی اس کا یہ نام اس لئے ہوا کہ فرشتوں کی معلومات اس پر ختم ہوجاتی ہے،اس جگہ سے آگے کسی کا گزر نہیں ہوسکا ہے۔ یہ شرف صرف سیدنا محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو حاصل ہوا ہے کہ آپ اس سے بھی آگے گزر گئے۔ حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے کہ اس کا یہ نام اس لئے رکھا گیا کہ اوپر سے نیچے آنے والی اور نیچے سے اوپر جانے والی ہر چیز کی انتہا یہاں ختم ہوجاتی ہے. اللّٰہ تعالٰی نے سورة نجم میں بھی اس مقام کا ذکر کیا ہے۔
نماز کے بارے میں آنحضرت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا مشہورہ حضرت موسٰی علیہ السلام کی باربار مراجعت تخفیف کے لئے تھی۔ اللّٰہ پاک نے شروع میں پچاس وقت کی نماز کا حکم فرمایا، مگر بار بار درخواست پر اللّٰہ نے رحم فرما کر صرف پانچ وقت کی نمازوں کو رکھا۔ مگر ثواب کے لئے وہی پچاس کا حکم قائم رکھا اس لئے کہ امّت محمدیہ ﷺ کی یہ خصوصیات میں سے ہے کہ اس کو ایک نیکی کرنے پر دس نیکیوں کا ثواب ملتا ہے۔ سبحان اللّٰہ.....
واقعہ معراج کےبہت سے اسرار وحکم ہیں جن کو حجة الہند شاہ ولی اللّٰہ ؒ نے اپنی مشہور کتاب ''حجة البالغہ'' میں بڑی تفصیل سے بیان کیا ہے۔ اہل علم کو ان کامطالعہ ضروری ہے۔ یہاں اس تفصیل کی گنجائش نہیں ہے۔

Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers