میں  نے 1975ء میں سی ایس ایس کا امتحان پاس کیا۔پورے پاکستان میں میری دوسری پوزیشن آئی۔ میرٹ کی بنیاد پر جو سروس چاہتا مجھے مل سکتی تھی۔ فیڈرل پبلک سروس کمیشن اسلام آباد کی طرف سے مجھے ایک رجسٹرڈ خط ملا جس میں یہ کہا گیا تھاکہ اپنی پسندیدہ سروس کی نشاندہی کرکے مطلع کیا جائے۔ میں ان دنوں اپنے آبائی شہر میانوالی میں تھا۔ میں نے لفافہ کھولا اور تمام وفاقی ملازمتوں کی فہرست دیکھی۔ قلم ہاتھ میں لیا اور سب سے اوّل نمبر پر پولیس سروس آف پاکستان متعلقہ کالم میں تحریر کرنے لگا۔   تفصیل سے پڑھیے
اِرادہ یہ تھا کہ ضلعی انتظامیہ کی سروس یعنی ڈسٹرکٹ مینیجمنٹ گروپ کو دوسرے نمبر پر تحریر کروں گا۔ جونہی میں پولیس سروس آف پاکستان لکھنے لگا تو قبلہ والد اچانک گھر پہنچ گئے۔ وہ ریٹائرڈ پولیس آفیسر تھے اور سبکدوشی کے بعد میانوالی میں وکالت کرتے تھے۔ یہ قریباً 11بجے دن کا وقت تھا۔ یہ اوقات تو وکلا کے لیے بہت مصروف ہوتے ہیں۔ کچہری سے معمول کے خلاف والد کا اچانک گھر پہنچنا عجیب تھا۔ میرے ہاتھ میں لفافہ دیکھ کر پوچھنے لگے: یہ کس چیز کے کاغذات ہیں؟ میں نے عرض کیا کہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن اسلام آباد نے مجھ سے پسندیدہ سروس کی آپشن مانگی ہے۔
میں پولیس سروس کو ترجیح دیتا ہوں اور وہی سروس متعلقہ کالم میں تحریر کرنے لگا ہوں۔ والد محترم فوراً فرمانے لگے: نہیں، ہرگز نہیں، تم ڈسٹرکٹ مینیجمنٹ گروپ کو اوّل نمبر پر رکھو اور پولیس سروس کو نیچے لکھو۔ میں نے عرض کیا کہ کیا آپ کو اُس وقت فخر محسوس نہیں ہوگا جب آپ کا بیٹا ایس پی سرگودھا یا ایس پی جھنگ تعینات ہوگا۔ انھوں نے کوئی جواب نہ دیا اور خاموشی اختیار کی۔ اُن دنوں میں کبھی کبھار فلم دیکھ لیا کرتا تھا۔کسی اداکار کو ایس پی کی وردی میں دیکھ کر بہت مرعوب ہوتا تھا۔
میرا جواب سن کر والد صاحب فرمانے لگے: میں تمھیں حکم دیتا ہوں کہ تم پولیس سروس کو چھوڑو اور ڈسٹرکٹ مینیجمنٹ گروپ اوّل نمبر پر لکھو۔ تم ایس پی کے مقابلے میں اگر گلی کے چوک میں پکوڑے تلتے ہوئے نظر آئو تو مجھے تم پر زیادہ فخر محسوس ہوگا۔ میں نے والد کی رضا کو خدا کی رضا اور ان کی ناراضی کو خدا کی ناراضی سمجھ کر پولیس سروس کو دوسرے نمبر پر لکھ دیا۔ اس طرح کچھ مُدت کے بعد مجھے ڈسٹرکٹ مینیجمنٹ سروس ملی جس کو میں نے بخوشی قبول کر لیا۔
میں آج تک حیران ہوں کہ وہ کیسا عجیب لمحہ تھا جب والد صاحب اچانک گھر پہنچ گئے اور میری سروس آپشن تبدیل کروا دی۔ اگر وہ نہ پہنچتے تو میں پولیس سروس آپشن تحریرکرکے خط اسلام آباد رجسٹرڈ کر دیتا اور مجھے لازماً پولیس سروس ملتی جو بعد میں تبدیل بھی نہیں ہوسکتی تھی۔ میرے رازق نے میرا رزق پولیس سروس میں نہیں لکھا تھا۔ اس لیے والد گھر پہنچ گئے۔ یہ چند لمحات میری آئندہ زندگی پر گہرے نقوش ثبت کر گئے۔ میرے ساتھی چودھری آصف نواز، محمد اقبال ملک، طارق کھوسہ اور فیاض طور وغیرہ بطورآئی جی ریٹائر ہوئے۔ والد صاحب اگر مداخلت نہ کرتے تو میں بھی بطور آئی جی ریٹائر ہوتا۔
میں اکثر سوچتا ہوں کہ والد صاحب نے کیوں اتنے سخت الفاظ استعمال کیے کہ میرا بیٹا اگر گلی کے چوک میں پکوڑے بیچ رہا ہو تو مجھے زیادہ فخر محسوس ہوگا بجائے اس کے کہ وہ ایس پی جھنگ یا ایس پی سرگودھا ہو۔ آج سے 40سال قبل تو یہ جملے مجھے سخت لگے تھے اور اُس وقت ان کی بات سمجھ بھی نہیں آئی تھی۔ اب 64سال کی عمر میں وہ جملے مجھے اچھی طرح سمجھ آ رہے ہیں۔ میرے بینک میں مشکل سے ایک ہزار روپے جمع ہیں۔ ذاتی گھر ابھی تک نہیں بنا سکا۔
اس کے مقابلے میں پولیس سروس کے کئی افسران کو دیکھتا ہوں کہ وہ کروڑ پتی ہیں۔ بڑی بڑی کوٹھیوں کے مالک ہیں۔ شراب کے نشے میں مخمور رہتے اور فرعونیت کا مجسمہ بنے ہوئے ہیں۔ ایک ریٹائرڈ آئی جی جب ایس پی تھا تو اس نے ایک نجی بینک کھولا۔ ایک ریٹائرڈ آئی جی کی اسلام آباد راولپنڈی روٹ پر بے شمار ویگنیں چلتی ہیں۔ غریب کسان کا بیٹا تھا ۔اب عالی شان کوٹھی اور کئی مربعوں کا مالک ہے۔
چند سال پہلے لاہور کے ایک ایس پی نے ڈیفنس میں ایک بیوہ کے 13کنال اراضی کے پلاٹ پر قبضہ کر لیا۔ بیوہ پاکستان واپس آئی تو اُس کے پلاٹ پر ایک ایک کنال کی تیرہ کوٹھیاں تعمیر ہوچکی تھیں۔ محکمہ مال کے ریکارڈ میں رّدوبدل کیا جا چکا تھا۔ بیوہ نے احتجاج کیا تو ایس پی نے کہا: خاموش ہوجائو ورنہ تمھاری تِکاّ بوٹی کردوں گا۔ سرگودھا کے ایک ایس پی نے گاڑی اوورٹیک کرنے پر ایک نوجوان کو گولی مار کر ہلاک کر دیا اور کہا: ’’اب تمھیں پتا چل گیا ہے کہ ایس پی کیا چیز ہوتا ہے، کہتا تھا کہ میں نے گاڑی ٹھیک اوور ٹیک کی ہے۔‘‘
شکر ہے اللہ نے مجھے کوئی ایسا ہی بدنام ایس پی ہونے سے بچا لیا۔ والد صاحب فرشتہ بن کر اچانک گھر پہنچ گئے۔ یقینا خدا کو ایک راشی، شرابی، فرعون اور بدکار ایس پی کے مقابلے میں گلی کے چوک میں پکوڑے تلنے والا ایک محنت کش زیادہ محبوب ہے اور اس کا آخرت میں حساب کتاب زیادہ آسان ہوگا۔ پولیس سروس میں شمولیت کے بعد نجانے ابلیس مجھے کتنا بڑا فرعون بنا دیتا اور مرنے کے بعد میں اپنے خالق کو کیا جواب دیتا! رب جو کرتا ہے بہتر کرتا ہے۔ انسان کو یہ بات عمر گزرنے کے بعد سمجھ آتی ہے۔ خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ میں اندر باہر سے ایک مطمئن روح ہوں۔ حسرت نہیں ہے کہ کاش میں نے بھی لمبے ہاتھ مارے ہوتے اور رزق حرام میں غوطے کھا رہا ہوتا۔

Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers