میں  نے اُس کو دیکھا ہے اجلی اجلی سڑکوں پراِک گرد بھری حیرانی میں کون ہے جو بَل کھاتے ضمیروں کے پرُپیچ دھندلکوں میں  رُوحوں کے عفریت کدوں کے زہر اندوز محلکوں میں  لے آیا ہے یوں بِن پوچھے، اپنے آپ  عینک کے برفیلے شیشوں سے چھنتی نظروں کی چاپ یہ سطور مجید امجد کی ایک نظم سے اقتباس کی گئی ہیں جو انھوں نے منٹو پر لکھی ہے۔ میں نے چوں کہ منٹو کو نہیں دیکھا اور مجید امجد کو دیکھا ہے اس لیے ’گرد بھری حیرانی‘، ’ضمیروں کے پر پیچ دھندلکوں‘ اور ’عینک کے برفیلے شیشوں سے چھنتی نظروں کی چاپ ’کا ذکر آتا ہے تو میرے ذہن میں معاً ایک کہنہ سال عینک کے سفید شیشوں کے پسِ منظر میں مجید امجد کی اپنی شبیہ اُبھر آتی ہے جس میں دُور دیس سے آئے ہوئے ایک اجنبی ہنس کی سی خوفزدہ معصومیت کا تاثّر ملتا تھا۔    تفصیل سے پڑھیے
1958ء کی بات ہے۔ میں گورنمنٹ کالج منٹگمری… (اب ساہیوال)… میں سال سوم کا طالب علم تھا۔ شاعری کا جنون نیا نیا سر میں سمایا تھا۔ دیوانِ غالب اور آبِ حیات کے مطالعے کے بعد میں نے خاصی بزرگانہ قسم کی غزلیں کہنی شروع کر دیں اور کمالِ سادگی سے انھیں تنقیدی مجلسوں میں پیش کرنے سے بھی گریز نہ کیا۔ نتیجہ یہ کہ یار لوگوں نے میرے
خوب خوب پُرزے اُڑائے، لیکن انھیں مجلسوں سے مجھے وہ فیض بھی حاصل ہوا جس کی یاد آج میرے لیے اَزحد قیمتی اور خوشگوار ہے۔ یعنی مجید امجد سے مُلاقات۔
’شبِ رفتہ‘ انہی دنوں شائع ہوئی تھی۔ میرا اَدبی شعور ہنوز ناپختہ تھا اور مجھے ان کے صحیح مقام اور مرتبے کا اندازہ نہ تھا۔ تاہم کتاب کی دھوم بہت تھی لہٰذا اِس کے شائع ہوتے ہی مجھے اس سے فیض یاب ہونے کا موقع مل گیا۔ بعدازاں یہ کتاب مسلسل چار پانچ برس میرے حواس پر شب و روز سوار رہی اور اُس کا اکثر حصہ مجھے اَزبر ہوگیا۔
آج بھی میں محسوس کرتا ہوں کہ ’دیوانِ غالب‘ کے بعد جس شعری مجموعے کو میں نے سب سے زیادہ پڑھا ہے وہ ’شبِ رفتہ‘ ہی ہے۔ پہلے پہل مجھے ’پنواڑی‘ بہت پسند تھی۔ منٹگمری کا ایک بوڑھا سا کلاسیکی قسم کا پان فروش مجھے یاد ہے۔ اس نظم کو پڑھتے ہوئے اس کی سفید کمانی دار عینک خاص وضع کی ڈاڑھی اور نحیف سا جسم ذہن میں گھومنے لگتا ہے۔ کیا عجب کہ مجید نے یہ نظم اسی پر کہی ہو۔ ان دنوں یہ شعر اکثر میری زبان پر رہتے تھے:
عمر اس بوڑھے پنواڑی کی پان لگاتے گزری
چونا گھولتے، چھالیا کاٹتے کتھ پگھلاتے گزری
سگرٹ کی خالی ڈبیوں کے محل سجاتے گزری
کتنے شرابی مشتریوں سے نین ملاتے گزری
چند کسیلے پتوں کی گتھی سلجھاتے گزری
کون اس گتھی کو سلجھائے دنیا ایک پہلی
دو دن ایک پھٹی چادر میں دُکھ کی آندھی جھیلی
دو کڑوی سانسیں لیں، دو چلموں کی راکھ انڈیلی
اور پھر اِس کے بعد نہ پوچھو کھیل جو ہونی کھیلی
پنواڑی کی ارتھی اُٹھی بابا اللہ بیلی
منٹگمری میں اس وقت کے ڈپٹی کمشنر جناب نیاز احمد نے ایک دارالمطالعہ قائم کیا تھا جسے ’نیاز لائبریری‘ بھی کہہ لیتے تھے۔ یہاں ہفتہ وار‘، ’بزمِ فکر و اَدب‘ کے اجلاس ہوا کرتے تھے جن میں مجید امجد باقاعدگی سے شریک ہوتے تھے۔ ان کے علاوہ منیر نیازی، ظفر اقبال، حاجی بشیر احمد بشیر، عطا اللہ جنون اور جعفر شیرازی وہ معروف شعرا تھے جو اُن مجلسوں میں آتے جاتے تھے۔ نئی پود میں ناصر شہزاد اور اشرف قدسی قابلِ ذکر تھے، میں اور قیوم صبا، کالج کے نو مشق مسکین شعرا تھے جو کسی شمار قطار میں نہ تھے، لیکن ہم بھی پانچویں سوار کی حیثیت سے ان مجلسوں میں موجود رہتے تھے۔
ان مجلسوں میں جناب مجید امجد کو بہت قریب سے دیکھا اگرچہ بے شعوری کے عالم میں دیکھا۔ وہ اَدھیڑ عمر کے کم گو، دھیمے لہجے میں بات کرنے والے، سمٹے ہوئے سے انسان تھے۔  تاہم تمام تر متانت و وقار کے باوجود وہ مریضانہ قسم کی سنجیدگی کا شکار نہ تھے۔ ذہنی خلوت گزینی کے علی الرغم، وہ ادبی مجلسوں میں چٹکیاں بھی لیتے تھے اور پھلجھڑیاں بھی چھوڑتے تھے اور اپنی روز مرّہ کی زندگی میں ہمہ وقت لوگوں کی رسائی میں بھی تھے۔
ان مجلسوں مین ان کی خصوصی چھیڑچھاڑ حاجی بشیر صاحب کے ساتھ رہا کرتی تھی۔ یہ معلوم کرکے افسوس ہوا کہ آخری دور میں یہ خوشگوار ادبی نوک جھونک ایک سنجیدہ تلخی کی صورت اختیار کر گئی تھی جس کے باعث مجید امجد ادبی مجلسوں سے بھی دست کش ہوگئے تھے۔ جہاں تک مجھے یاد ہے ان دنوں اس چھیڑچھاڑ میں ہمیشہ ایک برادرانہ اور شگفتہ ادبی رنگ ہوا کرتا تھا مثلاً ایک بار حاجی صاحب نے تنقید کے لیے غزل پڑھی:
زہر بھرا اِک بان تھی پیارے رات تری ہر بات
رات تری ہر بات گئی دل چھید مرا دل چھید
کس جمشید کی کس پیالے کی لے بیٹھے ہو بات
تم بھی اپنے دل میں جھانکو تم بھی ہو جمشید
امجد صاحب نے ’پیالے‘ کے وزن پر گرفت کرتے ہوئے کہا کہ اس میں یائے متحرک ہونی چاہیے۔ یعنی ’پیالہ‘ اور ساتھ ہی غالب کے مصرعے سے استشہاد کیا:
پیالہ گر نہیں دیتا نہ دے شراب تو دے
اس پر حاجی صاحب نے کہا کہ ’پیالہ‘ بسکون یائے کہنے میں بھی کچھ حرج نہیں اور بڑی خُوب صورت طنز کرتے ہوئے خود امجد صاحب کا مصرع پڑھا:
اپنے ہاتھ سے میری چائے کی پیالی میں چینی گھولو
لیکن امجد صاحب نے اصرار کیا کہ ’پیالی‘ ہندی ہوچکا ہے لہٰذا اِس پر قیاس درست نہیں، جب تک یہ ’پیالی‘ ہے فارسی لفظ ہے اور اِسے متحرک ہونا چاہیے۔ چوں کہ دارالمطالعہ کی فضا خالص علمی تھی اور چاروں طرف شیشے کی خُوب صورت الماریوں میں بڑی مستند کتابیں موجود ہوتی تھیں، لہٰذا بعض مواقع پر ایسی بحثوں کے دوران اچانک ’فرہنگ آصفیہ‘ جیسی کتابیں تلواروں کی طرح میانوں سے نکل آتی تھیں اور صحیح لفظ اور تلفظ کا جھگڑا وہیں چکایا جاتا تھا۔
میں نے محسوس کیا کہ امجد صاحب صحت علمی کے بارے میں بہت حساس تھے۔ وہ ان جدید شعرا میں سے نہیں تھے جو روایت کی زمین میں جڑ پکڑے بغیر ہی آسمان سے باتیں کرنا چاہتے ہیں اور اپنی خودسری کے زور میں قدما کے کہے کو لغو جانتے ہیں۔ اس کے عین برعکس امجد صاحب کو کلاسیکی سرمایۂ اَدب سے گہرا شغف تھا اور عروض، بیان، معافی اور بدیع جیسے علوم پر فاضلانہ و مجتہدانہ دسترس حاصل تھی۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ وہ ان علوم کے مالک تھے نہ کہ مملوک۔ آخری دور میں ان کی ایک مخصوص اور کٹھن عروضی اپج نے بعض اہلِ نظر کو اِس دھوکے میں بھی ڈال دیا کہ وہ نثری نظمیں کہنے لگے ہیں۔
فصاحت و بلاغت کے کلاسیکی معیاروں کے بارے میں بھی ان کا ذہن بڑا حساس تھا۔ ایک بار حاجی بشیر صاحب نے ایک اور تنقیدی نشست میں ایک غزل پڑھی جس کی ردیف ’دریا‘ تھی۔ ایک شعر یوں تھا:
تشنہ لب آئیں، تشنہ لب جائیں
زندگی ہے فرات کا دریا
امجد صاحب کو اعتراض تھا کہ فرات کے دریا سے تشنہ لبی کی روایت دائمی ربط نہیں رکھتی بلکہ صرف ایک المناک تاریخی سانحے سے وابستہ ہے۔ چناں چہ یہاں استعارہ کامل نہیں ہوسکا۔ انھوں نے کہا کہ اگر میں حاجی صاحب کی جگہ ہوتا تو یوں کہتا:
تشنہ لب آئیں، تشنہ لب جائیں
زندگی ہے سراب کا دریا
اس پر بڑی گرما گرم بحث رہی اور اگرچہ حاجی صاحب نے امجد صاحب کے اعتراض کو رَد کر دیا، تاہم امجد صاحب بھرپور انداز میں استعارے کے اس نازک سے جھول پر انگشت نمائی کرتے رہے۔  ان مجلسوں میں ہم نے امجد صاحب کو اپنا کلام پڑھتے بھی سُنا۔ یہ ایک خاص لطف تھا جس کا سراغ آ ئندہ کبھی نہ مل سکے گا۔ بہت کم شعرا اپنا کلام پڑھتے ہوئے، اس میں اس حد تک ڈوب سکتے ہیں جس حدتک امجد صاحب ڈوب جاتے تھے۔ جب وہ ایک خفیف سی جنبشِ سر، ایک چراغ کی لرزتی ہوئی لو جیسی مسکراہٹ، بند آنکھوں، تھرتھراتی ہوئی دراز پلکوں اور دھیرے دھیرے کپکپاتی ہوئی مخروطی انگلیوں کے ساتھ پڑھتے تھے:
گھاس کی گٹھڑی کے نیچے وہ روشن روشن چہرہ
روپ جو شاہی ایوانوں کے پھُولوں کو شرمائے
راہ گزر پر سوکھے پتے چننے والی باہیں
باہیں جن کو دیکھ کے موجِ کوثر بَل کھا جائے
بیلوں کے چھکڑوں کے پیچھے چلتے زخمی پائوں
پائوں جن کی آہٹ سوئی تقدیروں کو جگائے
تو یوں محسوس ہوتا تھا کہ گو تم کو گیان نصیب ہو رہا ہے۔
وہ اپنے کلام کو ایک ایسے رواں زیرو بم کے ساتھ پڑھتے تھے کہ اس کی موسیقیت کے اسرار اور عروضی حُسن نکھر کر سامنے آجاتا تھا۔ گورنمنٹ کالج منٹگمری کی ایک ادبی نشست میں انھوں نے اپنی ہر دل عزیز نظم ’کنواں‘ سُنائی تھی:
کنواں چل رہا ہے مگر کھیت سوکھے پڑے ہیں نہ خرمن نہ فصلیں نہ دانہ
نہ شاخوں کی باہیں نہ پھُولوں کے مکھڑے نہ کلیوں کے ماتھے نہ رُت کی جوانی
گزرتا ہے کیاروں کے پیاسے کناروں کو یوں چیرتا تیز خوں رنگ پانی
کہ جس طرح زخموں کی دُکھتی تپکتی تہوں میں کسی نیشتر کی روانی
اِدھر دھیری دھیری
کنویں کی نفیری
ہے چھیڑے چلی جا رہی اِک ترانہ
پُراسرار گانا
اس نظم کا آہنگ ہی کچھ ایسا تھا کہ امجد صاحب کے پڑھنے کا جادو اور بھی جاگ اُٹھا تھا۔ یہ نظم ایسے خُوب صورت انداز میں اب کبھی سننی نصیب نہ ہوگی۔  کچھ اپنے طبعی حجاب کی بنا پر کچھ ان کی خاموش گمبھیر طبیعت اور کچھ عمر اور مرتبے کے بے اندازہ تفاوت کے باعث مجھے کبھی ان سے کھل کر بات کرنے کی ہمت نہ ہوسکی۔ بی اے کے طالب علم کی حیثیت سے ایک روز میں نے ولیم ورڈز ورتھ کی مشہور نظم “The Solitary Reaper”کا اُردو میں منظوم ترجمہ کرنے کی کوشش کی۔ اس ترجمے کے بعض حصے گوارا تھے لیکن بعض حصے انتہائی ناقص اور کمزور تھے۔ مگر خیر اُس وقت تو یہ میرا شاہکار تھا۔
میں نے اصل نظم کو بڑے اہتمام سے ٹائپ کروایا اور ساتھ یہ ترجمہ لکھ کر منسلک کیا اور ایک روز دارالمطالعہ سے نکلتے ہوئے ہمت کرکے امجد صاحب کی خدمت میں پیش کر دیا کہ اس کی اصلاح کر دیجیے۔ انھوں نے کمال شفقت سے لے کر اِسے کسی ایسی جگہ محفوظ کر دیا کہ پھر کبھی اس کی رسید نہ دی۔ شاید اس مبتدیانہ حماقت کی پردہ داری کی یہی بہترین صورت ہوسکتی تھی۔
بی اے کے آخری ایّام میں میَں نے بزمِ فکر و اَدب کے ایک مشاعرے میں ایک غزل پڑھی جس پر میرے احباب نے جو دیانت داری سے مجھ پر تنقید کیا کرتے تھے، دیانت داری ہی سے مجھے داد بھی دی۔ لیکن اس غزل کے ساتھ جو نہایت ہی نایاب و خوشگوار یاد وابستہ ہے وہ ایک خاموش جنبش ابرو کی یاد ہے۔ دارالمطالعہ سے نکلتے ہوئے امجد صاحب نے میری طرف دیکھا اور اپنی مخصوص جنبش سر کے ساتھ ایک ابرو کو داد کے انداز میں حرکت دی۔ شاید میں اس جنبش ابرو کو کبھی فراموش نہ کرسکوں گا۔
اس کے بعد دو سال ایم اے کے سلسلے میں لاہور میں گزرے اور امجد صاحب سے رابطہ رسالوں میں چھپنے والے ان کے تازہ کلام تک محدود ہوگیا۔ انہی دنوں امجد صاحب نے صابرکنجاہی کا نوحہ کہا جو ’لیل و نہار‘ میں شائع ہو کر ہم تک پہنچا اور ہمیں بے حد دُکھی کر گیا۔ اس نوحے سے اندازہ ہوتا تھا کہ اپنے ساتھی انسانوں کے لیے امجد صاحب کے دل میں کتنا گہرا خلوص اور کیسی شدید وابستگی موجود تھی۔ صابر کنجاہی صاحب غالباً بسلسلۂ مُلازمت منٹگمری آئے تھے۔ جتنا عرصہ وہاں رہے ادبی مجلسوں میں تواتر کے ساتھ شریک ہوتے رہے۔ وہ بڑے خُوش آواز شاعر تھے اور اُن کا پُرسوز ترنّم بہت جلد ہر دل عزیز ہوگیا تھا۔ ان کی ایک غزل:
مسرور بام و در ہیں تو خنداں گلی گلی
بٹتی ہیں تیرے شہر میں خوشیاں گلی گلی
ان دنوں بہت پسند کی جاتی تھی۔ وہ کسی کام سے اپنے وطن ’کنجاہ‘ گئے تو کسی خاندانی عداوت کی بنا پر انھیں ناگہانی طور پر قتل کر ڈالا گیا۔ اس پر امجد صاحب نے یہ بپھری ہوئی نظم کہی جسے میں اپنے حافظے سے نقل کرنے کی کوشش کرتا ہوں:
سطح سحر، سفینہ غم، جوئے لالہ گوں
کنجاہ کی گلی کا سکوتِ اجل سکوں
قاتل کی ضرب، سینۂ صدچاک موجِ خوں
اِک صاحبِ قلم پہ جو گزری میں کیا کہوں
نوک اس کے دل کو چیر گئی جس کٹار کی
اس پر گرفت تھی ستمِ روزگار کی
اک ہاتھ بڑھ کے شانۂ دیوار پر رکھا
ہائے وہ چند ڈولتے قدموں کا فاصلہ
اِک سانس اور سب سفرِ درد طے ہوا
اِک گام اور جادۂ ہستی سمٹ گیا
اِک آخری تڑپ جسدِ لرزہ گیر کی
مٹی پہ ایک قوس لہو کی لکیر کی
اِک زندگی کراہتے لمحوں میں ڈھل گئی
اِک شمع موجِ اشک پہ بجھ بجھ کے جل گئی
اِک بے گنہ پہ ظلم کی شمشیر چل گئی
خونی انی پہ ایک جوانی مچل گئی
ہے بھی یہاں غریب کی ہستی کا کوئی مول
میں پوچھتا ہوں مدعیٔ عدل کچھ تو بول
آخری بار مجید امجد سے اس وقت ملاقات ہوئی جب میں ایم اے کرنے کے بعد منٹگمری گیا۔ وہ حسبِ دستور اپنی یادگار اور خاکسار بائیسکل کو پہلو میں لیے خراماں خراماں اپنے اس کوارٹر سے نکل رہے تھے جس میں بالآخر وہ ایک صبح بے جان پائے گئے۔ میں نے آگے بڑھ کر سلام کیا۔ غالباً انھوں نے مجھے پہچانا نہیں۔ بہرحال ازروئے مروّت حال احوال پوچھا۔ میں نے بتایا کہ میں نے عربی میں ایم اے کر لیا ہے۔ کہنے لگے ’’تب توآپ نے بڑی مہم سر کی ہے۔‘‘ ’مہم‘ کے آخری میم کو انھوں نے بالالتزام مشدّد بولا۔
شاید عربی ایم اے کی مناسبت سے۔ پھر میرے ساتھ ساتھ سڑک پر پیدل چل پڑے۔ مجھے یہ سوچ کر گھبراہٹ سی ہو رہی تھی کہ وہ محض میری وجہ سے بائیسکل پر سوار نہیں ہو رہے، چناں چہ میں نے کوئی اور بات کیے بغیر چند ہی قدم چل کر اُن سے رُخصت چاہی اور آخری مرتبہ ان کو بائیسکل پر سوار ہو کر جاتے ہوئے دیکھا۔  گزشتہ کئی سالوں میں بار بار یہ خیال آتا رہا کہ امجد صاحب سے ملنے کے لیے ساہیوال کا سفر اختیار کیا جائے۔ میں خود تو اِس خیال کو عملی جامہ نہ پہنا سکا لیکن میرے ایک عزیز شاگرد اور دوست حُسین احمد، جن سے اکثر امجد صاحب کا ذکر رہتا تھا، ساہیوال گئے اور امجد صاحب سے مل کر ایک خط مجھے روانہ کیا جس کے بعض اقتباسات بے محل نہ ہوں گے۔
’’کل مجیب الرحمن شامی کی دعوتِ ولیمہ میں شرکت کے لیے ساہیوال گیا۔ دعوت سے فارغ ہو کر قیوم صبا صاحب کے ساتھ اسٹیڈیم ہوٹل چائے پینے کے لیے گئے۔ مجید مجد پہلے ہی سے ہوٹل میں موجود تھے۔ تنہا سوچوں میں گُم صُم بیٹھے تھے۔ انتہائی کمزور ہوچکے ہیں۔ جیسے آپ نے بتلایا تھا عین اسی کے مطابق انتہائی فقیر ہیں۔ ایک روز قبل لاہور ٹی وی والے ان کا انٹرویو ریکارڈ کرنے ساہیوال آئے تھے۔ انٹرویو اسٹیڈیم ہوٹل کے ایک کمرے میں تقریباً پانچ گھنٹے تک ہوتا رہا۔ کہہ رہے تھے انھوں نے مجھے بے حد تھکا دیا ہے۔ انٹرویو لینے والے حضرات امجد صاحب کے فوری جواب میں اپنی تکنیکی ضرورتوں اور سیاسی مجبوریوں کے تحت ردّوبدل کرنے کے لیے کہتے تھے۔
اس وجہ سے انٹرویو بہت طویل ہوگیا۔ امجد صاحب نے ایک دو اہم سوال اور اُن کے جواب سُنائے۔ انٹرویو لینے والے صاحب نے سوال کیا کہ آپ کا تعلق نہ تو ’ترقی پسندوں‘ سے ہے اور نہ ’اسلام پسندوں‘ سے اور نہ ہی آپ کسی ادبی اور سیاسی دھڑے سے منسلک ہیں،آخر آپ شعر کس مقصد کے لیے کہتے ہیں۔ امجد صاحب نے اس کا جواب یہ دیا۔
’’جب سے یہ دُنیا ہے اور جب تک زمین سُورج کی روشنی سے زندہ رہے گی یہاں ایک چیز جاری رہی ہے اور وہ ہے ’عملِ خیر کا تسلسل‘ اور میں اسی تسلسل میں شعر لکھتا ہوں۔‘‘
دوسرا سوال غزل کے بارے میں تھا۔ اس بارے میں امجد صاحب کا جواب یہ تھا کہ قدیم غزل کے ہر شعر میں مضمون مکمل اور قطعیت پائی جاتی ہے اور جدید غزل کے شعر میں مضمون ادھورا پایا جاتا ہے۔امجد صاحب نے کہا کہ مضمون کا ادھورا ہونا کوئی خامی کی بات نہیں۔
امجد صاحب نے یہ بھی کہا کہ پچھلے دو سو سال میں غزل نے اُردو زبان کو زندہ رکھا ہے اور غزل کی بدولت ہندوستان کے مسلمان شاعروں میں ایک تنظیم پائی جاتی تھی۔ صبا صاحب کا کہنا ہے کہ امجد صاحب نے جتنی باتیں آج کی ہیں اتنی وہ کئی مہینوں میں بھی نہیں کرتے۔ اکثر خاموش رہتے ہیں۔ امجد صاحب کو دیکھ کر یوں احساس ہوتا ہے کہ انھوں نے زندگی سے اپنے لیے کچھ بچا کر نہیں رکھا اور جیسے انھوں نے نباتاتی و حیواناتی سطح پر بہت کم لمحات گزارے ہیں۔ امجد صاحب کا انٹرویو بدھ کی رات کو لاہور ٹی وی سے ٹیلی کاسٹ ہوگا۔‘‘
میں نے ٹی وی کا یہ پروگرام بصد اشتیاق دیکھا۔ گلے میں مفلر کو ٹائی کے انداز میں باندھے، پہلے سے نحیف و نزار، وہ گزرے ہوئے دنوں کی ایک پھیکی سی تصویر بن کر رہ گئے تھے۔ بہرحال ٹیلی وژن کی وساطت سے ایک بار اور اُنھیں دیکھنے کی خواہش پوری ہوگئی تاہم یہ خلش رہی کہ انٹرویو بہت مختصر تھا، بہت سے اہم حصے نکال دیے گئے تھے مثلاً غزل کے بارے میں مجید امجد صاحب کے خیالات کو پیش نہیں کیا گیا۔ گانے کے لیے ان کے کلام کا انتخاب نامناسب تھا اور اُس کی گائیگی بھی معیاری نہیں تھی۔ کاش! اس انٹرویو کو زیادہ تفصیل اور بہتر اہتمام کے ساتھ دوبارہ ایڈٹ کیا جائے۔
گزشتہ سال مئی میں جب میں نے اپنا شعری مجموعہ ’شاخِ تنہا‘ مرتّب کیا تو اُس کا انتساب مجید امجد صاحب کے نام کیا۔ شاید یہ پہلی کتاب تھی جس کا انتساب ان کے نام تھا لیکن تقدیر کے اسرار عجیب ہیں۔ جس روز اس انتساب کی کتابت ہوئی عین اسی دن امجد صاحب نے ہمیشہ کے لیے آنکھیں بند کر لیں۔
تری لحد پہ کھلیں جاوداں گُلاب کے پھُول
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers