موسیقی کیا ہے ؟موسیقی خدا کی فطرت ہی کا مظہر ہے ۔ آبشاروں کے ترانے ،بادلوں کی گھن گھرج، ندی کی گنگناہٹ ،ہواکے جھونکوںاور پتوں کی سراسراہٹ جیسی آوازوں کو موسیقی مختلف آلات کی مدد سے کچھ اس طرح پیش کرتی ہے کہ انسان کے اندر شگفتگی، نفاست او رلطافت پیدا کر دیتی ہے۔اسے سرورکے چشمے میں نہلا دیتی ہے ۔اس کی رگ رگ میں سکون کا احساس سرایت کر جاتا ہے- تفصیل سے پڑھیے
۔پاکیزہ خیالا ت اور خالص جذبوں پر مبنی شاعری جب موسیقائی لہروں کے ساتھ بہتے ہوئے سماعت کے پردوں میں جذب ہوتی ہے توانسان کی ہیجانی کیفیات کو دبا کر ،تعمیری جذبوں میںابھار،قلبی دھڑکنوں میں تازگی اور دل میں گداز پیداکردیتی ہے۔ ہمارے معاشرے کو ،ایک توازن کے ساتھ، ایسی موسیقی کی بہت ضرورت ہے ۔اس کی مدد سے شدت پسندی کو بھی ختم کیا جا سکتاہے۔لوگوں نے یہ خبر شاید ہی سنی ہو کہ کسی جگہ پر کسی گلو کار یا موسیقارنے کسی کو قتل کر دیا یا کسی ڈکیٹی کا ارتکاب کیا ہو۔

دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں خوشی، غم ، جنگ اور تفریح کے مواقع پر موسیقی کا اہتمام عام تھا۔دین فطرت کے پیامبر کی ایک حدیث ملاحظہ ہو

:” سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انصار میں سے اپنی ایک عزیزہ کا نکاح کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہاں تشریف لائے۔ آپ نے دریافت فرمایا : کیا تم نے لڑکی کو رخصت کر دیا ہے؟ لوگوں نے کہا : جی ہاں۔ آپ نے پوچھا:کیا اس کے ساتھ کوئی گانے والا بھی بھیجاہے؟ سیدہ عائشہ نے کہا: جی نہیں ۔ آپ نے فرمایا: انصار گانا پسند کرتے ہیں۔ یہ بہتر ہوتا کہ تم اس کے ساتھ کسی گانے والے کو بھیجتے جویہ گیت گاتا۔“ (ابن ماجہ، حدیث نمبر 1900)

دوسر ی طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ تیز سروں، دھنوں اور بے ہودہ شاعر ی پر مبنی ”موسیقی “جذباتی ہیجان کا باعث بنتی اور اعصاب اور اخلاق پر برا اثر ڈالتی ہے ۔وہ جذبات کو تسکین دینے کے بجائے بے قرار کردیتی ہے۔ ایسے شور کوموسیقی نہیںبلکہ مافوق الموسیقی یا آلودگی کہنا چاہیے۔اسی طرح موسیقی میں ایسی رغبت اور مشغولیت کسی بھی معقول انسان کے لیے قابل قبول نہیںہوسکتی جوکسی کو اللہ او ر انسانوں کے حقو ق سے غافل کر دے

Labels: ,
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers