ہم پنجاب میں رہتے تھے. کراچی جانا نہ ہونے کے برابر تھا. کوئی رہتا جو نہ تھا وہاں. کتابوں میں سمندر کے متعلق پڑھتے تھے تو ایک تصویر سی بن جاتی تھی اور پھر روندی صورت میں آ کر یہ تصویر بکھر جاتی تھی. بابا کو ایک تو چھٹی نہ ملتی تھی اور پھر اگر رہنے کی جگہ بھی نہ ہو تو اتنے ڈھیر سارے بچوں کو لے کر اتنی دور کون جاے.اتنے پیسے کہاں سے آئیں. ابا تو شائد ہماری باتوں میں آ جاتے- تفصیل سے پڑھیے
مگر امان، ان کو تو منانے کا ہم نے کبھی سوچا ہی نہ تھا. ان سے سب کو ہی ڈر لگتا تھا. شائد ابا کو بھی......... دن گزرتے گئے اور کراچی جانے کا شوق بھی بڑھتا گیا. ہم سب بہن بھائی جب بھی رات سونے کے لئے خود کے کمرے میں بستروں پر لیٹ کر بات شروع کرتے. دن بھر کی باتیں. دن بھر کے واقعات. بات آخر کار یہاں آ کر ٹھہر جاتی کہ کراچی کب اور کیسے جایا جاے. یہ ذہن میں نہ تھا کہ وہاں کرنا کیا ہے. سمندر پہ جانا اور جا کر سمندر دیکھنا، بس یہی. اور کچھ نہیں. نہ تو پتا کہ کیسے جانا ہے،اور جا کہ کرنا کیا ہے. پانی کے سوا اور کیا دیکھنا ہے. معلوم نہیں تھا. مگر دھن سوار کہ سفر کیسے ہو. آگے الله کو معلوم کہ میرے لئے کیا رکھا ہے. آج تو مجھے معلوم ہے کہ میرے لئے کچھ رکھا تھا. خیر. وقت کب رکتا ہے. اور کئی سال گزر گئے. سمندر کا عشق ہم بچوں کے ساتھ جوان ہو گیا. ایک صبح ہم کالج کے لئے تیار ہو رہے تھے. خالہ کا امریکہ سے فون آیا کہہ رہی تھیں خالو جان کا کراچی تبادلہ ہو گیا ہے. وہ اگلے ایک ماہ میں کراچی ہوں گے. کمپنی کی طرف سے بڑا گھر ملا ہے. ہم سب کو اب کے گرمیوں کی چھٹیوں میں آنا ہو گا. امی ان کے پاکستان تبادلہ پہ بہت خوش ہو رہی تھیں. کئی سال ہو گئے تھے دونوں بہنوں کو ملے. وہ پاکستان نہ آ سکتی تھیں.امی ان کے پاس جا نہ سکتی تھیں. خالہ شادی کے بعد ایک مرتبہ ائی تھیں جب ان کے بچے چھوٹے تھے. وہ ہمارے پاس رکے تھے. ہم سب اچھے دوست بن گئے تھے. مگر ان کے جاتے ہی سب دوستی پیار کہاں گیا معلوم نہیں. ہم یہاں،وہ وہاں مصروف ہو گے. گویا ہم بس خوابوں میں ایک دوجے کو جانتے ہیں. آج تو گویا عید کا دن ھوا. ہم تو خوشی سے ناچنے لگے. خالہ کے آنے میں ایک مہینہ. گرمی کی چھٹیوں میں چار مہینے. کیسے گزریں گے. ہم یہ سوچنے گے. نہ امی نے کہا چلیں گے نہ ہی ابا نے. معلوم ہے کوئی سفر آسان تھوڑا ہی نا ہے. آج یہ سوچنے کو دل نہ تھا. آج تو خوابوں کو تعبیر ملنے چلی تھی. صبح اچھی چڑھی. ہر کوئی خود کے کالج چلا گیا. اور پھر ہم بھول بھال گئے ایک ماہ گزر گیا. خالہ آ گئیں کراچی. بہت سے دن تو گھر ٹھیک ٹھاک کرنے، بچوں کے کالج کے داخلے میں لگ گئے. امی کی ان سے روز بات ہو جاتی تھی. امی لگیں ابا سے کہنے کہ چھٹیوں میں جانا ہے بہن کے پاس. چھٹی کا اور کچھ پیسوں کا بندوبست ہو. کبھی سے ابو ٹال رہے تھے، مگر کب تک. دن آ گیا معلوم پڑا کہ ٹکٹیں آ گئی ہیں. چھٹیاں شروع هونے سے پہلے ہی. الله الله کر کے سفر کا دن بھی آ گیا. کیا حسین نظارہ تھا. سامان بندھا پڑا تھا. ہم تیار کھڑے تھے. ابو کے دوست کی کار نے ہارن دیا تو دل بلیوں اچھلنے لگا. جلدی جلدی گھر بند کیا. سامان کار میں رکھا اور سٹیشن کی طرف بڑھنے لگے. میں نے تو خود کو چٹکی لگائی کہ کیا خواب ہے؟ معلوم پڑا نہیں. جلد ہی سٹیشن آ گیا یا خیالات کی دنیا میں جا کے وقت کے گزرنے کا احساس ہی نہ ہوا. سامان اتارا خود کو سمیٹا اور ٹرین کی جانب بڑھے. شکر ہے اور امتحان نہیں ہوا. یقین تو نہیں آے گا آپ کو مگر ٹرین وقت پر چل دی معلوم مقام کی جانب. رات کافی ہو چلی تھی. نیند آنکھوں سے گھنٹوں دور تھی. کچھ اور وقت گزرا. اتنے جھولے ملے کہ خواب ساتھ لے جانے میں کامیاب ہو ہی گئے. معلوم نہیں کتنی دیر سوتے رہے، راستے میں کئی سٹیشن اے کئی گئے ہوں گے. ہم تو آرام ہی فرماتے رہے. اب خوش خوش اٹھے اور کراچی سٹیشن آنے کا انتظار کرنے لگے. بھوک بھی لگ چکی تھی. مگر اب سوچا کہ چُپ ہی رہا جاے، باقی سب گھر جا کے. چلو جی ٹرین رکی. کراچی کی ہوا ہی الگ لگی. ہم اترے سامان اتارا. ٹانگیں سیدھی کیں. اور سامان گھسیٹتے ہے باہر لے آے. خالہ خالو کو نظریں ڈھونڈنیں لگیں. دور سے خالہ کی آواز ائی. باجی باجی، ہم سب کے چہرے ِکھل گئے. خالہ لوگ کے تو کھلے ہویے ہی تھے. ان نے ہم کو پہلے جو دیکھ لیا تھا. سب خوب ایک دوجے کے گلے ملے. امی اور خالہ تو رونے لگیں. لڑکوں نے سامان جیپ میں رکھا اور گھر کو چل دیے. ہم سب بہت خوش تھے. لگا خواب پورا ہوا. گھر میں سیٹ ہویے. نہا دھو کر کھانا کھایا اور پورے ہفتہ کا سیر کے پلان کاغذ پنسل لے کر لکھنے بیٹھے سب مل کر. بڑے بیٹھے ہماری باتوں سے محظوظ ہوتے رہے. پھرنے کا خوب خوب پلان بنا اور بہت خوشی ہوئی. یہ دن جو جیسے معلوم ہی نہیں پڑا گزر گیا رات ہو گئی. خوب گپیں لگائیں کھانا کھایا اور بیٹھ گئے. پرانی باتیں کچھ نئی باتیں، سکول کے قصے. کب آدھی رات ہو گئی معلوم ہی نہیں پڑا. چلو جی سب سونے اٹھے صبح سمندر جانا تھا. بہت خوشی ہو رہی تھی، جیسے کوئی ان ہونی ہونے والی ہو. خوشی کے مارے نیند نہ جانے کہاں تھی. جہاں بھی تھی گھوم پھر کے آ ہی گئی. صبح اٹھایا گیا کہ سمندر جانا ہے. بالٹیاں یا کوئی ٹوکریاں ساتھ لے لو جس جس کو کیکڑے پکڑنے ہیں. پکائیں گے اور کھائیں گے. پنجاب میں ہم کو تو معلوم نہیں کیکڑا کیا ہوتا ہے. کیسے پکتا ہے اور کیسا لگتا ہے پک کر . بہرحال ہم نے ناشتہ کیا. چاے پانی بسکٹ، نمکو سب ساتھ رکھا. بالٹیاں ٹوکریاں بھی جس کو چاہئیں تھیں لے لیں. جیپ میں بھرے اور نکل کھڑے ہے. گھنٹہ بھر گاتے بجاتے، راستے میں رکتے، چیزیں لیتے سمندر کے قریب پہنچ گئے. یہاں ہوا ہی الگ تھی. نظارہ ایسا کہ سانس تھم جاے. لہروں کا آنا جانا اس کمال کا کہ لفظوں میں نہ سماے. کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا ہو گیا. ہمیں یہ کیسے نصیب ہو گیا. الله کا شکر ہے. لہروں کو آتا جاتا دیکھا، دیکھتا ہی رہ گیا. کیا خوبصورتی ہے، پنجاب کو تو اس کا معلوم ہی نہیں ہے. اب آئی کیکڑے پکڑنے کی باری. مجھے کیا معلوم سب کیسے کرنا ہے. ہمارا خیال تھا پانی میں جا کے سب ہو گا. مگر وہاں تو لوگ تھے کیکڑے پکڑ کے دے رہے تھے. مجھے بھی ایک بندے نے دو بیچے. مجھے اور چاہئے تھے. آگے اور لوگ پکڑ کے بیچ رہے تھے. میں آگے چلتا گیا. دو ایک اور لڑکے سے لئے. زدہ دور جا کے پانی کے قریب بیٹھ گیا اور خود کو ٹوکری میں کیکروں کو دیکھنے لگا. میں نے کیا غور کیا کہ اگر کوئی کیکڑا ٹوکری میں سے نکلنا چاہتا ہے تو ٹوکری کی دیوار سے اوپر چڑھنے لگتا تو دوسرا کیکڑا اس کو کھینچ کر نیچے گرا دیتا. بار بار یہی تماشا ہوتا رہا. میں سوچتا ہوں کہ یہ سب کیا ہے. ہم انسان ان کیکڑوں کی طرح ہی تو ہیں.ہر وقت کسی نہ کسی کی ٹانگ کھینچ کر خود کا رستہ بناتے ہیں. ہم بد تر ہیں ہم تو کسی کی لاش پر چڑھ کر بھی راستہ بناتے ہیں. اس پار اترنے کے لئے ہم کسی بڑے سے بڑے گناہ سے بھی گریز نہیں کرتے. ایسا بھی تو ہو سکتا ہے کہ ہم ایسے کیکڑے بنیں کہ ٹوکری میں قید کیکڑوں کو چھڑا لیں. باہر کھڑے ہوں سیڑھی لگا کر. کمند ڈالیں ٹوکری میں اور ایک ایک کر کے سب بھائی کیکڑوں کو بچا لیں. نہیں وہ نہیں بچا پاتے، کیکڑے جو ہیں، وہ تو کمند نہیں ڈال سکتے. ان سے میں نے کیا سیکھا؟ کسی ابھرتے کے راستے میں نہیں آنا. کوئی ترقی یا آزادی کے راستے میں کوسش کر رہا ہو تو اس کی راہ آسان کرنی ہے.ٹانگ نہیں کھینچنی. راستہ نہیں کھوٹا کرنا، راستے میں کانٹے نہیں اٹکانے. ہر کو اس کی قسمت کا ہی ملتا ہے. کسی کا راستہ کھوٹا کیا تو ہمارا بنا کام بھی ایک دن بگڑ جاے گا یقین کرو
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers