بدکار پرنس کا بھائی شریعت قوانین کا چیمپئن بن گیا اور یہ منافقت ان سب کے سامنے ہے جو برونائی کے شاہی خاندان کی بدکاریوں کے بارے میں ذرا بھی جانتے ہیں-
سلطنت آف برونائی سے تیل ختم ہو رہا ہے- پچھلے نومبر میں لوئر پروڈکشن لیولز کی وجہ سے خام تیل کی برآمدات چونتیس فیصد تک گر گئیں جس کی وجہ سے ریونیو میں تقریباً چار سو ملین ڈالرز کا نقصان ہوا- چونکہ ملک کی زیادہ تر معیشت کا دارومدار انرجی سیکٹر اور تیل کی برآمدات پر ہے لہٰذا اس کے نتیجے میں ملک کی جی ڈی پی میں ایک اعشاریہ چار فیصد کی کمی واقع ہوئی-    تفصیل سے پڑھیے
برونائی کے لوگ خاصے پریشان ہیں- کسی بھی اعتبار سے دیکھیں تو یہاں کی کم و بیش 420,000 افراد پر مشتمل آبادی کا اسٹینڈرڈ آف لیونگ خاصا بہتر ہے اور اس کی وجہ یہاں کے تیل کے ذخائر ہیں؛ یہاں کا کوئی بھی شہری ٹیکس نہیں دیتا، ہر کسی کو پنشن کی سہولت میسر ہے، میڈیکل کیئر فری ہے، جرائم بہت ہی کم ہیں اور بہت سے پرتعیش کاموں کی ادائیگی بھی حکومت کرتی ہے- جب اتنی چھوٹی سے آبادی میں تقسیم کرنے کیلئے پیسے کی ایسی فراوانی ہو تو عام طور پر زندگی آسان ہوتی ہے-
اور ان سب سے بڑھ کر جو زندگی انجوئے کر رہے ہیں وہ خود برونائی کے سلطان ہیں جو اٹھارہ سو کمروں پر مشتمل محل میں رہتے ہیں اور ملک پر کئی دہائیوں سے حکمرانی کر رہے ہیں- ان سب کے لئے اب تک وقت بہت اچھا تھا- تاہم حال میں سال کی تیسری سہ ماہی میں تیل کی پیداوار میں حقیقی اور تیزی سے کمی آئی اور یہ پیشن گوئی کہ برونائی سے تیل ختم ہو جائے گا، ان دونوں باتوں سے ان امکانات کو اور زیادہ تقویت ملی ہے کہ یہ جنت شاید ختم ہو جائے-
تاہم تیل کے ذخائر کا یکدم خاتمے کے قریب ہو جانا آجکل برونائی سے واحد خبر نہیں- یکم مئی کو، یہاں کے سلطان نے (جو کہ وزیر دفاع اور وزیر خزانہ بھی ہیں) بڑے پیمانے پر قانونی اصلاحات کا اعلان کیا جس سے ان کے چنے ہوئے ورژن کے شریعت قوانین کا نفاذ ہو گا- ان اصلاحات کے نفاز کے پہلے فیز میں خلاف ورزیوں جیسے رمضان میں روزہ نہ رکھنا اور جمعہ کی نماز چھوڑ دینا اب قابل سزا ہو گا جس میں بھاری جرمانہ یا جیل میں قید کی سزا ہو گی-
اگلے فیز میں، جس پر ایک سال بعد عمل درآمد ہو گا، چوری اور الکوحل استعمال کرنے پر حدود سزائیں دی جائیں گی- آخری مرحلے میں، توہین رسالت، زنا اور حرام کاری کے جرائم کے لئے، سزائے موت (جس میں سنگساری بھی شامل ہے) کا اطلاق ہو گا-
یکے بعد دیگرے ہونے والی یہ دونوں ڈویلپمنٹس یعنی شریعت کا نفاذ اور کم ہوتے تیل کے ذخائر کا احساس، ان دونوں کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ ان کا آپس میں کوئی تعلق ہے- یقیناً پاکستان کو، جہاں پہلے ہی (برونائی کی تعریف کے حساب سے) شریعت کا کسی حد تک نفاذ ہو چکا ہے، اس بات کا تجربہ ہے کہ یہاں بحران کے دور میں بڑے پیمانے پر قانونی اصلاحات استعمال کی جا چکی ہیں-
اس نفاذ کی ایک قسم تو جنرل ضیاالحق کے مارشل لاء دور حکومت میں دیکھنے میں آئی جب فوجی بغاوت کے سایوں اور ایک وزیر اعظم کو دی جانے والی پھانسی نے سیاسی لینڈاسکیپ کو تاریک تر کر دیا-
مختلف آرڈیننسوں، جن میں حدود اور زنا آرڈیننس بھی شامل تھے، کے دھڑادھڑ اجراء نے قومی بحث کا موضوع، آئین کی خلاف ورزیوں اور جمہوری اداروں پر پڑنے والے اثرات سے ہٹانے میں مدد کی- چونکہ اس وقت یہ پاکستان میں کام کر گیا تھا لہٰذا ہو سکتا ہے کہ برونائی نے اس بات کو نوٹ کیا ہو-
سلطان کے ارادوں کے بارے میں سوال کرنے کی دیگر وجوہات بھی ہیں- اب تک ان کی چند ہی عادتوں اور رجحان سے اس بات کا اندازہ ہوتا تھا کہ انہیں مذہب کے حوالے سے کوئی تشویش ہے اور وہ اسے روزمرہ کی زندگی میں کیا مقام دیتے ہیں-
ایک مثال تو شریعت کے اعلان کے فوراً بعد ہی سامنے آ گئی- کوڑے مارنے اور سنگساری کی سزاؤں کی تفصیلات جاننے کے بعد، اپنے غم و غصے کے اظہار کیلئے ہالی ووڈ کی چند مشہور شخصیات نے بیورلی ہلز ہوٹل کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے کیونکہ یہ ہوٹل برونائی انویسٹمنٹ ایجنسی کی ملکیت ہے جس کے مالک سلطان ہیں- "آسکرز سے پہلے والی رات" کا ایونٹ جو کہ اس ہوٹل میں ہونا تھا، ہالی ووڈ کے نیوز ذرائع کے مطابق، اب کہیں اور منعقد ہو گا- ایک اور ایوارڈ ایونٹ، جس کی میزبانی ٹیلی ویژن پرسنالٹی جے لینو کریں گے، بھی اسی طرح دوسرے مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے-
یہ تو خیر ہالی ووڈ کی کارستانیاں ہیں- شریعت کے نفاذ کے حوالے سے سلطان کے ارادوں کا جائزہ لینے کے ہمارے مقصد کیلئے تازہ ترین ڈویلپمنٹ کا یہ دلچسپ پہلو ہی کافی ہے کہ سلطان اب بھی پراپرٹیز کے مالک ہیں جو کہ برونائی میں نافذ کیے جانے والے کوڈ کی رو سے ان کے گاہکوں کو جرمانے اور جیل میں ڈالنے کی سزا کی مانگ کرتا ہے-
سادہ الفاظ میں سلطان کو بھی تیل کی دولت سے مالامال دوسری جگہوں کے بادشاہوں کی طرح ایسٹس کی ملکیت رکھنے سے کوئی مسئلہ نہیں اور باہر وہ ان چیزوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں جنہیں وہ خود اپنے گھر میں گناہ اور قابل سزا جرم قرار دے چکے ہیں- یہ چال ہالی وڈ میں ہوٹل کی ملکیت تک محدود نہیں- سلطان کے ماضی کو ذرا اوپری سطح سے ہی کھنگالا جائے اور ان کے شاہی خاندان کے دوسرے مردوں کا شاہانہ لائف اسٹائل دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ یہ سب اسلامی تو چھوڑیں اخلاقیات کے کسی بھی احساس سے عاری ہیں-
ایک آرٹیکل میں ایک عورت نے دعویٰ کیا کہ وہ برونائی کے پرنس کی داشتہ تھی، وہ پرنس جو سلطان کا بھائی ہے- اس کی کہانی، نیویارک میں ہونے والی کاسٹنگ کالز کی ہے جس میں خوبصورت عورتوں کو چن کر انہیں دبئی بھیجا جاتا ہے- وہاں پہنچنے کے بعد، مبینہ طور پر ان کو پرتعیش پارٹیوں سے انٹرٹین کیا جاتا ہے جس میں سونے کے تاروں سے بنے قالین اور بے تحاشا شراب ہوتی ہے اور ان عورتوں کی اس بات پر حوصلہ افزائی کی جاتی ہے کہ وہ لکی پرنس کی توجہ حاصل کرنے کیلئے ایک دوسرے سے مقابلہ کریں-
اس مہینے، اسی بدکار پرنس کا بھائی شریعت قوانین کا چیمپئن بن گیا اور یہ منافقت ان سب کے سامنے ہے جو برونائی کے شاہی خاندان کی بدکاریوں کے بارے میں ذرا بھی جانتے ہیں-
یہاں پاکستان میں جہاں بہت سے علاقوں میں شریعت کے اثرات ملک کو مناسب حد تک اسلامی بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکے، برونائی کا تجربہ نوٹ کئے جانے کا مستحق ہے- ایمان کی حرمت کی حفاظت، اور اس کی بنیاد پر بننے والے قانونی کوڈ کو شاید اقتدار اور طاقت کے بھوکوں کی سیاسی سازشوں کے لئے ایک کور اپ کے طور پر غلط استعمال سے روکنے کے لئے بھی ہونا چاہئے-

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers