کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات خطرناک حد تک بڑھ گئے تھے۔ پاکستان میں پہلی بار وہ مشین منگوائ گئ جس کی مدد سے کسی انسان سے جھوٹ سچ کا پتا چلایا جاسکتا تھا۔
سامنے کرسی پر علی بیٹھا تھا اس کی آنکھوں کے سامنے "لینز" تھا، ہاتھوں میں بہت سی تاریں بیوست ہوچکی تھیں جو خون کے بہاءو کے مطابق دل کی دھڑکن کو جان سکیں گی ۔۔ تفصیل سے پڑھیے

علی کو اس جگہ سے حراست میں لیا گیا تھا جہاں دو دن پہلے ایک عالم دین کا قتل ہوا تھا۔ شکل و حلیے سے علی شریف النفس معلوم ہورہا تھا مگر جب تک مشین سے جانچ پڑتال نہ کرلی جائے اس بات کی سند نہیں دی جاسکتی تھی، کیونکہ ماضی میں بہت سے ایسے لوگوں کے جھوٹ کو پکڑا جاچکا تھا جو ظاہری طور پر بے ضرر معلوم ہوتے تھے۔
سوالات کا آغاز ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
آخری سوال کے جواب میں بھی مشین نے یہ ہی اشارہ دیا کہ علی سچ بول رہا ہے ۔ 
مشین نے فائنل رپورٹ کا پرنٹ جب نکالا تو سب نے سر پکڑ لیا، کیونکہ مشین کی رپورٹ میں لکھا تھا کہ " علی مرچکا ہے۔" 
یہ ایک مضحکہ خیز رپورٹ تھی ، فرحان حیرت سے رپورٹ کو دیکھ رہا تھا۔ 
باہر مشین بنانے والی کمپنی سے رابطہ کیا گیا کہ آخر یہ کیا معاملہ ہے؟ کمپنی کا مالک خود بہت حیران تھا، اس نے بتایا کہ تیس سوالات میں سے ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کسی کے سارے جوابات سچ ہوں،کیونکہ انسان فطری طور پر خامیوں کا پتلہ ہے، سافٹ وئیر انجینئر نے مذاق کے طور پر اس فائنل رپورٹ کا اندراج کیا تھا کیونکہ اسے یقین تھا کہ یہ سارے جوابات کبھی بھی کوئ انسان نہیں دے پائے گا۔۔۔
علی کو ٹیسٹ پاس کرنے پر باعزت طور پر چھوڑ دیا گیا، مگر فرحان نے اس کی نگرانی شروع کردی ، وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ ایسا کیا ماجرا ہوا کہ مشین نے یہ عجیب سی رپورٹ دی ۔۔۔۔
فرحان تین دن سے مسلسل نگرانی کر رہا تھا وہ واقعی ایک نفیس طبعیت کا سلجھا ہوا انسان تھا، ہر کوئ اس سے خوش و مطمئن دکھائ دیتا تھا ایسی کوئ خامی نظر نہ آئ جو مشین کی رپورٹ کو چیلنچ کرسکتی ۔۔۔
علی جیسے ہی اپنے فلیٹ سے نکلا ، فرحان نے ماسٹر چابی کے ذریعے اس کے کمرے کا دروازہ کھول کر معائنہ شروع کردیا ۔ وہ یہاں تنہا تھا۔
اسے فلیٹ سے کوئ بھی ایسی چیز نہ مل سکی جو اس کے لیے کیس کے اعتبار سے دلچسپی کا باعث ہوتی ۔۔۔۔۔۔
اس کی نظر کونے میں رکھی ڈائری پر پڑی ، اس نے ڈائری کو پلٹا تو عاشقانہ اشعار کے ساتھ اسے ایک فون نمبر دکھائ دیا، شاید یہ کسی خاتون کا نمبر ہو ۔۔ 
اس نے اپنے موبائل سے کال ملائ ۔۔۔۔ دوسری طرف سے کسی خاتون نے کال رسیو کی " ھیلو کون ؟" فرحان نے کہا میں علی کا دوست ہوں۔ " علی کا دوست!" دوسری طرف گہری خاموشی تھی ۔ پھر محترمہ دوبارہ بولی " علی کہاں ہے، اتنے عرصے سے اس نے مجھ سے رابطہ کیوں نہیں کیا؟" 
فرحان نے خاتون کا پتہ معلوم کیا اور اس سے اگلے دن ملنے کے لیے چلا گیا۔۔۔۔
وہ سلجھی ہوئ خاتون معلوم ہورہی تھیں۔ اندر صوفے پر بیٹھنے کے بعد خاتون نے بیتابی سے پوچھا ۔" علی کہاں ہے؟" فرحان نے کہا محترمہ پہلے میرے کچھ سوالوں کا جواب دیں ، پھر بتاءوں گا۔۔۔۔۔
" جی پوچھیں۔۔۔" خاتون نے بیتابی سے کہا ۔
علی کیسا انسان ہے ؟ ۔۔۔۔۔۔ 
خاتون نے حیرت سے فرحان کی طرف دیکھا، پھرگویا ہوئ ۔" اچھا انسان ہے، مگر میری عرصے سے اس سے بات نہیں ہوئ، اس نے اچانک ہی مجھ سے ہر طرح کا رابطہ ختم کردیا۔"۔ پھر اس نے ماضی کی گرد صاف کی، تفصیل سے بتایا کہ علی ایک سہما ہوا اور حقیقی زندگی میں ایک ناکام ترین انسان تھا، میری خواہش تھی کہ وہ اپنی خامیوں کو دور کرے ، اس سے اس بارے میں اکثر جھگڑا ہوجاتا، مگر اس نے کبھی خود کو نہ بدلا، کیونکہ شاید وہ ہمیشہ ایسا ہی رہنا چاہتا تھا، ایک دن ہمارا جھگڑا ہوا تو اس کے بعد سے اس نے ہمیشہ کے لیے مجھ سے رابطہ ختم کردیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر علی کہاں ہے ؟"خاتون کا صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا تھا۔۔
فرحان نے رپورٹ اس کے ہاتھ میں تھما دی ۔
" علی مرچکا ہے ۔

Labels: ,
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers