سیاہ کار جمہوریت لاچار دستور ، بدکردار جمہوریت ذلیل و خوار جمہور ، بے کار سیاست لوٹ مار منشور یہ ہے پاکستان میں چونسٹھ برسوں کا منظر نامہ اور وجہ ہے قبضہ مافیا ۔
ہم نے اکثر ٹی وی پر ایک بلڈوزر کو نیم تعمیر شدہ عمارتوں ، نام نہاد دیواروں کو ڈھاتے دیکھا ہوگا ۔ ساتھ ہی یہ بھی دیکھا ہوگا کہ کچھ کمزور خواتین اور بچے واویلا کرتے ہیں ۔  تفصیل سے پڑھیے

ڈھانے والوں کو کوسنے دیتے ہیں یہ بتاتے ہیں کہ ان کے ساتھ بڑی ناانصافی ہوئی ہے ۔ یہ کمزور ڈھال بن کر سامنے آتے ہیں کیونکہ کچھ ڈھیٹ منظر عام سے غائب ہوجاتے ہیں۔ واگزار کرانے کی یہ کارروائیاں کبھی حقیقتا بہت طاقتور قبضہ گروپس کے خلاف ہوتی ہیں اور کبھی تہی دست کی مجبوری خدا کی زمین پر قبضہ ضروری بنادیتی ہے ۔ یاد رکھیے کہ قبضہ کیسا بھی اس کی وکالت نہیں کی جاسکتی ۔
یہ قبضہ غلط ہے چاہے درجن سے زائد وزارتوں پر ہو یا اسٹے آرڈر کے ذریعے وزارت اعلی پر ۔ حکومت اپوزیشن اپوزیشن حکومت کے کھیل کھیل کر عوامی نمائندگی پر ہو یاکسی نیک صالح لیڈر کا پہلے کرپشن کے نعروں پر اور پھر کرپشن کی یاری پر ان ہی یاروں پر ہو ۔ اس قبضے کی نفسیات بھی کسی مافیا جیسی ہیں جب تک سب کچھ چلتا رہے چلنے دو مگر جب مافیا کی زمین پر اک اور مافیا آنے کی کوشش کرے تو نووارد مافیا کو بدمعاش قرار دے کر اس سے قطع تعلق کا اعلان کرو،،، اس کی تباہی کا اعلان کرو ،،، اور اسکے دشمن کو دوست بنالو مگر جوں نیا مافیا مان تو مافیا کو ماہیا بنا لو ۔
یہ قبضہ اس بدنصیب وطن کا نصیب ہے کبھی یہ قبضہ انتخابی معرکوں میں خاتون پاکستان کے مقابلے میں کارٹون پاکستان کی جیت کا سبب بنتا ہے ۔ یہ قبضہ میں نہ مانوں کا ہو تو بازو کٹ کر بنگلہ دیش جنتا ہے ۔ یہ قبضہ بوٹوں کا ہو تو عدالتی قتل کی بنیاد اور آگے چل کر مارشل لاءکی سیاسی اولاد ۔
یہ قبضہ پارٹی کے دو عہدوں پر ہو تو عدلیہ کے سینگوں سے سینگ پھنسانے کی طاقت دیتا ہے یہ قبضہ ڈھٹائی پر گالیاں دینے والوں کو گلے لگانے کی ہمت دیتا ہے ۔ یہ قبضہ دفاع پر ہو تو میرٹ کو دفع کرتا ہے اور کھیل کے ساتھ کھلواڑ کرتا ہے ۔ یہ قبضہ وزارت پر ہو تو بھائی کو آئی جی بنادیتا ہے دوست کو پٹرولیم کی منسٹری سے نوازتا ہے یہ قبضہ آنکھ کی حیا پر ہو تو قومی اعزاز کو بے توقیر کرتا ہے چانسلری پر ہو تو ڈاکٹریٹ کی ڈگری کو ردی بنا دیتا ہے
اس قبضے پر مافیا کے خلاف جب میڈیا کی پولیس بلڈوزر کے ساتھ آتی تو کمزوروں کو سامنے کرکے واویلا مچوانے ڈھیٹ چھپ کر بیٹھ جاتے ہیں ۔ لیکن جب بھی ان بلڈوزرز کو عوامی اختیارات کی حمایت حاصل ہوئی تو گرتی ہوئی دیوار کو ایک دھکا اور اور اگر عوامی ووٹ پر قبضہ برقرار رہا تو مرتی ہوئی عوام کو ایک جھٹکا
Labels: , ,
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers