گھریلو، سماجی اور معاشی ابتری سڑک پر رہنے والے بچوں کی بدحالی کی بنیادی وجہ ہے-
"کوئی بھی لڑکی یا لڑکا ----- جس کا گھر سڑک ہو (اپنے وسیع ترین معنوں میں، جس میں غیر آباد گھر اور ویران علاقے شامل ہیں) اور وہی اسکی روٹی روزی کا ذریعہ ہو، جسے مناسب تحفظ حاصل نہ ہو، کوئی سرپرست نہ ہو اور جسکی رہنمائی کرنے کے لئے کوئی ذمہ دار بالغ فرد موجود نہ ہو،" سڑک کا بچہ کہلائے گا- اقوام متحدہ کے مطابق یہ تعریف Inter -NGO Programme کی جانب سے پیش کی گئی ہے-   تفصیل سے پڑھیے
سڑکوں پر دو طرح کے بچے رہتے ہیں؛ ایک تو وہ بچے جو اپنی روزی روٹی سڑکوں پر رہ کر کماتے ہیں، وہیں سوتے اور رہتے ہیں؛ دوسرے وہ بچے جو دن کے اوقات میں سڑکوں پر کام کرتے ہیں، لیکن رات اپنے گھروں میں گزارتے ہیں-
اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق 2005 میں پاکستان میں سڑکوں پر رہنے والے بچوں کی تعداد 1.2 ملین سے لیکر 1.5 ملین تک تھی اور ہم ان ممالک میں سے ایک تھے جہاں سڑکوں پر رہنے والے بچوں کی تعداد سب سے زیادہ تھی- ان بچوں کی اکثریت کراچی میں رہتی ہے- عراق اور ہندوستان بھی ان ممالک میں شامل ہیں جہاں جنگ، غربت اور آبادی کے بے تحاشہ پھیلاؤ کے مسائل نے سڑک کے بچوں کے مسئلہ کو شدید بنا دیا ہے-
گھریلو، سماجی اور معاشی ابتری سڑک پر رہنے والے بچوں کی بدحالی کی بنیادی وجہ ہے- غربت، گھریلو تشدد، خراب برتاو، جنس کی بنیاد پر تفریق، قدرتی آفات اور دہشت گردی کے خلاف جنگ نے پاکستان میں اس مسئلہ میں بے پناہ اضافہ کردیا ہے- ان بچوں کو صحت اور صفائی کے مسائل درپیش ہیں انھیں پینے کا پانی اور پیٹ بھر کھانا نہیں ملتا نہ ہی ان کے سروں پر چھت ہوتی ہے-
یہ بچے خود کو 'تہذیبی لحاظ سے بے جوڑ' محسوس کرتے ہیں کیونکہ ان کے سروں پر ماں باپ کا سایہ نہیں، ان کی حفاظت کا کوئی انتظام نہیں، کوئی اخلاقی قدریں نہیں کیونکہ ان کا کوئی خاندان نہیں- پاکستان میں سڑکوں پر رہنے والے بچوں کی اکثریت لڑکوں کی ہے؛ لڑکیوں کی تعداد اس لئے کم ہے کہ روایتی پابندیاں ہیں اور ان پر گھر والوں کا کنٹرول زیادہ ہوتا ہے- سڑکوں پر رہنے والے بچے اپنے گروہ بنالیتے ہیں کیونکہ ان کے لئے کوئی سوشل نیٹ ورک موجود نہیں جسکے نتیجے میں غیر قانونی سرگرمیاں جنم لیتی ہیں مثلاً، نشہ آور اشیاء کا استعمال، جرائم اور چوری وغیرہ- اکثر اوقات ان گینگز پر قابو پانا خطرناک ثابت ہوتا ہے-
پاکستان میں سڑک پر رہنے والے بچوں کی حالت زار کو دیکھتے ہوئے حالیہ اسٹریٹ چلڈرن فٹ بال ورلڈ کپ ایک انوکھا تجربہ تھا- یہ مقابلہ Save the Children کے تعاون سے برازیل میں منعقد کیا گیا تھا جس میں 19 ممالک کے 230 سڑکوں پر رہنے والے بچوں نے حصہ لیا تھا- پاکستان کی نمائندگی آزاد فاونڈیشن کی جانب سے بھیجی جانیوالی ٹیم نے کی تھی- اگرچہ یہ ٹیم کپ نہ جیت سکی لیکن اس نے لوگوں کے دل جیت لئے- سوشل میڈیا پر ان کی کامیابی کی خوشیاں منائی گئیں اور لوگوں نے سماج کے اس کچلے ہوئے طبقہ کی ہمت افزائی کے لئے عالمی کوششوں کا خیر مقدم کیا-
پاکستان میں آزاد فاونڈیشن کا ادارہ سڑک پر رہنے والے بچوں کے لئے ڈراپ-ان-سنٹر چلاتا ہے، اسکی موبائل ڈسپنسریاں ہیں، بچوں کی آبادکاری کے مراکز ہیں نیز منشیات کی روک تھام اور HIV کی روک تھام کے پروگرام پر عمل درآمد کرتا ہے- آزاد فاونڈیشن کی سب سے بڑی کامیابی اس کا ریسورس سنٹر ہے جسے وہ یونیسف اور سندھ ویلفیر ڈیپارٹمنٹ کے تعاون سے چلاتا ہے- یہ ادارہ ان بچوں کے بارے میں معلومات فراہم کرتا ہے جسکی ترقیاتی پروگراموں میں اور مسائل کی آگہی پیدا کرنے میں بڑی اہمیت ہے-
اسی طرح لاہور کے پرانے شہر(والڈ سٹی) میں نقش آرٹ اسکول قائم کیا گیا ہے جو ان بچوں کی مدد کے لئے(خاص طور پر جسم کی تجارت کرنے والے بچوں کے لئے) متبادل روزگار کے مواقع فراہم کرتا ہے- یہ ادارہ کامیابی سے کام کررہا ہے جہاں بچوں کو مجسمہ سازی اور دیگر فنون کی تعلیم دیجاتی ہے جسکے ذریعے انھیں طویل مدتی روزگار کے مواقع فراہم ہوتے ہیں-
اگرچہ یہ انفرادی کوششیں لائق تحسین ہیں لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا نجی شعبہ میں ہونیوالی یہ کوششیں سرکاری شعبہ کی ضروری امداد کے بغیر آگے بڑھ سکتی ہیں- اسٹریٹ چلڈرن کا نظریہ ایک مفید ماحول فراہم کرتا ہے جس سے وہ مستفید ہوسکتے ہیں ---- یہ اس صورت حال سے کہیں بہتر متبادل مواقع پیش کرتا ہے جن کا ان بچوں کو اپنے اپنے ملکوں میں سامنا ہے- کیونکہ اس طریقۂ زندگی میں اپنا بوجھ اٹھانے کی صلاحیت ہوتی ہے-
اس مسئلہ کی روک تھام، حل اور جوابدہی میں حکومت کا رول اہمیت رکھتا ہے جس کے ذریعے وہ ایک معنی خیز تبدیلی پیدا کرسکتی ہے- اگر بچوں کو یہ موقع دیا جائے کہ سڑکوں پر رہیں اور اپنی روزی کمائیں تو پھر یہ نظام انھیں تبدیلی کے خلاف ترغیب فراہم کرتا ہے- اس مقصد کے لئے صحت، تعلیم اور سماجی تحفظ کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے تا کہ ان کی بڑھتی ہوئی تعداد کی ضروریات پوری ہوسکیں-
اس کی مثال مدرسوں کا ظہور ہے جو مقبول ہورہے ہیں- ان مدرسوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ خوراک، رہائش اور کپڑے حاصل کرنے کا آسان ذریعہ سمجھا جاتا ہے- ان مدرسوں میں جو کچھ پڑھایا جاتا ہے والدین اس سے غافل ہیں- ان کے لیئے بنیادی مسئلہ زندگی ہے- سڑکوں پر رہنے والے بچوں کویہی مسئلہ درپیش ہے-
لیکن صرف باتوں سے کام نہیں چلتا- اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیئے ضروری ہے کہ پہلے یہ معلوم کیا جائے کہ بچوں کے سڑکوں پر آنے کی اصل وحہ کیا ہے- ہماری پولیس ان بچوں کو مارتی پیٹتی ہے اور یہ طریقہ ساری دنیا میں صدیوں سے چل رہا ہے -اب وقت آگیا ہے کہ اس پر سوالات اٹھائے جائیں اور اس مسئلہ کو قومی سطح پر ترجیح دی جائے-
پاکستان میں سیکیورٹی کے خدشات تو ہیں ہی اب اسے اس مسئلہ پر سر فہرست رہنے کی ضرورت نہیں ہے- اسٹریٹ چلڈرن ورلڈ کپ کے موقع پر ہم بار بار ان بچوں کی زبانی سن چکے ہیں کہ " ان کے ساتھ ویسا ہی سلوک کیا جاَئے جیسا ہم اپنے بچوں کے ساتھ کرتے ہیں-" ان بچوں نے واضح طور پر ساری دنیا کو یہ پیغام دیا ہے، لیکن پاکستان کے تعلق سے ہم یقینی طور پر یہ نہیں کہہ سکتے کہ کوئی ان کی آواز سن رہا ہے

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers