مشرقوں اور مغربوں کا مالک خالق وہی ہے میں مجبور لاچار کہتا یہی ہوں کہ ................ وہی خدا ہے سمجھتا خود کو ہوں ،اور یہ میری خودی ہے میں بے خود بے سدھ کیوں نہ ہو گیا یہ سب تیرا کرم ہے الحاکم { اے حاکموں کے حاکم } دیکھنے والا تو خدا ہے ہر ساعت پہ نظر رکھے ہے مگر میں بھی ہوں نہ ہر انے جانے پہ نظر رکھنے والا کچھوے کو بھی اندے سے سٹکنے والے اچھے کو بھی گردن سے پکڑنے والے اک یہی کام میں نے بھی روا رکھا ہے -  تفصیل سے پڑھیے
بھڑکا کہ آگ سرے بام شعلہ سجا رکھا ہے ارے اندھے پک گئی خبر کی ہانڈی تو بازار لگایا تو نے خود کا گهر ہی کیوں پھر ڈھابہ بنایا تو نے چلا گھات کے ماروں کو پکڑنے پھر سے دھرنے ان کو جو ہیں ان سب کو ترستے اب ہم سے کہو گے کہ کہاں جاتے ہو ہم تو یہیں ہیں، یہیں تھے ، یہیں ہونگے تم ہم کو پرکھ پاے کب ہو خیر ہو سنو اب بھی یہی کہتے ہیں کچھ بگرا ہے کچھ تو بچا ہی ہے جاو چلے جاو آو چلے آو یا مجھ کو یہ کہنے دو ملک کے حاکم کی پڑی ہے، سب کو آئنہ خود کے قریب کرو خود کا گریبان بھی کوئی دور نہ ہے اک ذرا ہاتھ بڑھاتے تو پکڑتے دامن اچکتی سی نظر خد پہ جو ڈالی ہوتی پھر تو کہتے کہ کم ظرف، ظرف ہوتا کیا ہے جستجو ہی سمجھتی ہے کہ ماجرا کیا ہے گفتگو کیا پرکھتی ہے کے مدعا کیا ہے فکر اب بھی بھٹکتی ہے کہ آسرا کیا ہے جان اب بھی حیراں ہے کہ یہ کیسی گھڑی ہے ہر جان کو جو خود کے کمانے کی پڑ جاے لمحہ فکر ہے کوئی طعںہ کسی کو جو مارے تو گڑ جاے ہمارے وقتوں میں تو یہی ہوتا تھا ایک کا غم، کنبہ کا صنم ہوتا تھا من کو نہ مارو، دھڑکنوں کے پر نہ کاٹو روح کو بےنام ہی رہنے دو کوئی نام نہ دو نہ رہا بانس تو، بانسری نہ ہی بجے گی ستم ظریفی ہے، ظرافت ہے کےُجہل کم ظرف حاکم کے ہجے عوام کیسےکرے گی

Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers