پورے بائیس سال بعد میں ایک بار پھر اُن کے سامنے بیٹھا تھا۔ تب وہ لاہور سے رخصت ہو رہے تھے۔ شارع صنعت و تجارت پہ واقع پولیس کلب کا ہال لوگوں سے کھچاکھچ بھرا تھا اور اسٹیج پہ آنے والا ہر مقرر اُنہی کے بارے میں بات کر رہا تھا۔ لاہور سے ٹرانسفر ہونے والے ایک پولیس افسر کی اتنی پذیرائی! حیرت سے بھرے کئی سوالات میرے آس پاس پھر رہے تھے۔ کچھ تو خاص ہو گا نوجوان ایس پی ذوالفقار چیمہ میں جو یونیفارم میں نہ ہو تو پولیس افسر ہی نہ لگے۔ سماج‘ ادب اور تعلیم سے تعلق رکھنے والے سبھی نمایاں افراد اس کے حوالے سے گفتگو کر رہے ہیں۔ تفصیل سے پڑھیے
اچانک اسلام آباد یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر امتیاز علی جو پنجاب یونیورسٹی لا کالج کے پرنسپل بھی رہ چکے ہیں ‘ نے مائیک اور حاضرین کو نظرانداز کرتے ہوئے ذوالفقار چیمہ کو دیکھا اور کہنا شروع کیا ’’تم لاہور سے جاتے ہوئے افسردہ مت ہونا‘ زندگی میں جب جب ٹرانسفر ہو کبھی دل پہ مت لینا۔ تم کسی ایک شہر کے ہو ہی نہیں۔ یہ پورا ملک تمھارا ہے۔ اس کے ہر شہر اور ہر ضلع کا تم پہ حق ہے کہ تم جہاں جائو اسی محبت‘ بہادری اور عمدگی سے کام کرو… لوگوں کے دلوں میں رہو اور اپنے دل کو اُن کی خیرخواہی اور خدمت کے جذبے سے بھرے رکھو۔‘‘ اس تقریب کو چند دن ہی گزرے تھے ذوالفقار چیمہ پھرخبروں کی سرخیوں کا موضوع بن گئے۔ جب انھیں بہاول پور ٹرانسفر کیا گیا تھا۔ ائیرپورٹ جاتے ہوئے انھیں واپس بلا لیا گیا کہ تب بہاولپور کے ایم این اے تسنیم نواز گردیزی نے حکومت سے ضد کر کے ایسے افسر سے اپنے علاقے کو ’’محفو ظ‘‘ بنانے میں کامیابی حاصل کر لی تھی۔
اپنے پورے کیرئیر میں ایسی کتنی ہی کامیابیوں کے تمغے سجائے ذوالفقار چیمہ کو حکومت پاکستان نے ’’تمغہ امتیاز‘‘ سے بھی نوازا جو گوجرانوالہ جیسے جرائم زدہ علاقے کو بہادری اور بہترین حکمت عملی سے جرائم فری بنانے پر دیا گیا۔ برسوں سے جرائم کی نرسری رہنے کے باعث گوجرانوالہ مجرموںکا گڑھ بن چکا تھا۔ جب انھیں یہاں آر پی او بنا کر بھیجا گیا تو قانون کی عمل داری خواب ہو چکی تھی۔ نو گو ایریا قائم ہو چکے تھے۔
اغوا برائے تاوان اور بھتہ وصولی اس قدر عروج پہ تھی کہ بڑے بڑے صنعت کار اپنے گھر‘ زمینیں اور صنعتیں اونے پونے بیچ کر یہاں سے ہجرت کر رہے تھے۔ اپریل 2008ء سے پہلے پورے ملک میں جرائم کا گراف بنایا جائے تو گوجرانوالہ کے پائے کا کوئی ریجن نظر نہیں آتا۔ جہاں ذوالفقار چیمہ نے جلد ہی پورے ضلع کی کایا پلٹ کر رکھی دی۔کہا جاتا ہے انھیں اچھی ٹیم بنانا اور اس ٹیم سے کام لینا خوب آتا ہے۔
یکم جنوری 1955ء کو پیدا ہونے والے ذوالفقار چیمہ کا ماننا ہے کہ پولیسنگ کوئی ایسی راکٹ سائنس نہیں ہے کہ سمجھ نہ آئے اور نتیجہ پیدا نہ کرے۔ ان کا کہنا ہے پولیس آفیسر کو مجرموں سے نمٹنے ‘ مظلوم کو انصاف دینے کے بنیادی ہدف سے آگاہی ہو تو یہ ممکن ہی نہیں کہ جرم اور مجرموں کا قلع قمع نہ ہو۔ یہ تو ایک خودبخود جنم لینے والا عمل ہے جو نتائج دینے لگتا ہے۔
اس انٹرویو کی بھی دلچسپ کہانی ہے۔ یہ تین مرحلوں میں جا کر مکمل ہوا۔ پہلے مرحلے میں ہماری ملاقات علامہ اقبال میڈیکل کالج کے آڈیٹوریم ہال میں ہوئی جہاں انھوں نے ہمیں آنے کی دعوت دی تھی۔ طیب اعجاز قریشی کے ہمراہ ہم نے وہاں دو گھنٹے گزارے۔ وہاں انھوں نے بطور آئی جی موٹروے پولیس طلبہ و طالبات سے خطاب فرمایا۔ حاضرین میں موٹروے پولیس کے اسمارٹ اور سرگرم عملے کے علاوہ چند ہی طلبہ تھے باقی ساری طالبات تھیں جو ہمارے پہنچنے سے پہلے بریسٹ کینسر پر لیکچر لے رہی تھیں۔ اللہ معاف کرے ایسی ایسی خوفناک تصاویر دیکھ کر ہماری تو طبیعت پر کافی بوجھ آ گیا۔
طالبات اور ان کے اساتذہ کی بہرحال بڑی ہمت ہے جو ایسے موضوعات پر پانچ سال پڑھتے اور پڑھاتے رہتے ہیں۔ شاید اسی وجہ سے دوران تقریر سبھی حاضرین خاموش اور سہمے ہوئے تھے۔ بہرحال چیمہ صاحب نے جلد ہی انھیں ٹریفک ایجوکیشن کے ساتھ ساتھ ملک سے محبت اور ڈاکٹروں سے جڑی عوامی توقعات کا ذکر کر کے گرما دیا۔ وہاں سے پرنسپل صاحب اپنے آفس لے گئے۔ چائے کے دوران بہت سے ایسے موضوعات پر اظہار خیال ہوتا رہا جن سے ایک ایسے سخت جان‘ مشکل مگر نیک نام پولیس آفیسر کے اندر جھانکنے کا موقع ملا جس کے بارے میں اِن سے ایک روٹھے ہوئے دوست بھی یہ کہنے میں ایک لمحے کی تاخیر نہیں کرتے ’’اس سے ناراضی اپنی جگہ پر مگر ایمانداری! کی تو اس کی قسم کھائی جا سکتی ہے۔ ہاں تنقید سن کر بدمزہ ہونے میں وہ جلدی کرتا ہے۔‘‘
موٹروے پولیس کے لاہور آفس میں ان کے ساتھ تیسری نشست کے لیے بیٹھا سوچ رہا تھا کہ ایسے افسر ہمارے ہاں زیادہ ہوتے تو معاشرے کا نقشہ ہی کچھ اور ہوتا۔ نئے نئے خیالات ان پر اترتے ہیں کیا اس لیے کہ قلم اور کتاب سے ان کا رشتہ برسوں پرانا ہے۔ اپنے لفظوں‘ جملوں اور سوچوں کو پہلے تقریروں اور اب کالماتی تحریروں سے تازہ اور شاداب رکھنے کا گُریقینا انھوں نے جان لیا ہے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ ان کے اعلیٰ افسران کسی بھی بُری صورت حال اور چیلنج میں ان پر ہی اعتبار کرتے ہیں۔ ڈیرہ اسماعیل خاں میں خوف کے سائے اس قدر بڑھ جائیں کہ پولیس وردی پہننے سے اور سرکاری گاڑی میں بیٹھنے ہی سے انکار کر دے۔ پاسپورٹ اور امیگریشن ڈپارٹمنٹ میں نئے پاسپورٹ بننے اور پرانے ملنا بند ہو جائیں اور بیک لاگ آٹھ لاکھ سے اوپر چلا جائے اور لوگوں کی چیخ پکار کے باوجود اصلاح احوال کی صورت نظر نہ آئے تو یہی افسر بروئے کار آئے اور اپریل 2013ء میں اپنی تقرری کے صرف 70 دنوں میں پچاس ہزار حجاج کے پاسپورٹ بنانے کے علاوہ ایک مہینے میں پانچ لاکھ اٹھاسی ہزار چار سو پاسپورٹ پرنٹ کروا کے لوگوں کے گھروں پر بھجوا دیے جو مہینوں کی خواری کے بعد پاسپورٹ ملنے کی امید ہی چھوڑ بیٹھے تھے۔ کتنے ہی طلبہ کے دنیا کے مختلف تعلیمی اداروں میں داخلے منسوخ ہونے والے تھے۔
چھٹی پر آئے لوگوں کی نوکریاں دائو پر لگ چکی تھیں کہ ان کے پاسپورٹ ہی تجدید ہو کر آنے کی کہیں کوئی سبیل نظر نہ آتی تھی۔ پونے دو لاکھ پاسپورٹ بنا کر بیرون ملک سفارت خانوں کو الگ سے بھجوائے گئے۔ جہاں باقاعدہ احتجاجی مظاہرے ہونے لگے تھے۔ چند ماہ کے اندر ایک عمدہ ٹیم اور نظام بن چکا تھا۔ جن کو اس روایتی پاسپورٹ آفس میں کام کرتے دیکھ کر یقین کرنا مشکل تھا جہاں کوئی کام معمول اور خواری کے بنا کرانا ممکن ہی نہ تھا۔یہ عجیب اتفاق ہے کہ وہ جہاں بھی گئے واقعی داستان چھوڑ آئے۔ انہی داستانوں کے باعث ہم انھیں مل رہے تھے۔
دوسری ملاقات کے لیے ان کے پی آر او عمران مجھے آفس سے لے گئے اور جناب طیب اعجاز کو ہم نے راستے سے لیا۔ کئی گھنٹوں پر مشتمل اس نشست میں کتنے ہی موضوعات پر گفتگو ہوئی۔ ان سے ہر موضوع پربات کی جا سکتی ہے۔ کھل کر، وہ خوش مزاجی سے جواب دیتے ہیں ہاں! زیادہ تنقیدی سوالوں کا میں نے بھی رسک نہیں لیا کیونکہ اس انٹرویو میں انھیں جاننے اور ان کے حوالے سے پھیلے بعض مافوق الفطرت واقعات کی تصدیق کرنے کا ارادہ تھا۔ طیب صاحب نے ان سے ان کے دادا، والد اور فیملی کے حوالے سے پوچھا۔ کچھ کا انھوں نے کھل کر جواب دیا۔ہاں شادی کے سوال پہ مسکرا کر طرح دے گئے۔
معلوم ہوا کہ ابتدائی تعلیم کٹھور گائوں اور وزیرآباد سے حاصل کی۔پھر کیڈٹ کالج حسن ابدال سے ہوتے ہوئے گورنمنٹ کالج لاہور پہنچے اور یہاں سے پنجاب یونیورسٹی لا کالج۔ چونکہ ذہن میں یہی تھا کہ لیگل پریکٹس کرنی ہے۔ فیملی میں روایت بھی اسی کی تھی۔ میں نے بطورخاص پوچھا کیڈٹ کالج میں ایک دو نہیں پورے پانچ سال گزارے تو کیا کبھی فوج میں جانے کا ارادہ نہیں تھا۔ بہت وضاحت سے بولے ’’اختر صاحب! ارادہ بالکل نہیں تھا بلکہ میں پوری طرح سے یکسو تھا کہ مجھے فوج میں نہیں جانا ۔ البتہ میرے کئی دوست خواہش مند تھے۔ ان میں سے ایک اس وقت لفٹنٹ جنرل ہیں۔ کئی ایک کور کمانڈر رہے ہیں۔ ایک آدھ میرا کلاس فیلو جرنیل بن کر ریٹائر بھی ہو چکا ہے۔ بس ذہن میں یہ تھا کہ یا تو لا کر کے پریکٹس کروں گا یا پھر سی ایس ایس کروں گا۔ ‘‘
ذوالفقاراحمد چیمہ کے پولیسنگ اسٹائل کے بارے میں محکمے میں ایک عجیب سی بات کہی جاتی ہے اور ظاہر ہے کتنے ہی لوگوں کی سوچی سمجھی رائے ہو گی کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا چارج لیتے ہی سب سے پہلے گھر کی صفائی کے لیے بڑاجارہانہ آپریشن کلین اپ کرنے کے عادی ہیں۔ ہر رینک کے کرپٹ اور ناکارہ افسروں کونکال باہر پھینکتے ہیں۔ موٹروے پولیس میںآ کر انھوں نے پہلے ہی ہفتے میں مشکوک کردار کے پانچ ڈی آئی جی موٹر وے پولیس سے نکال دیے۔ پچاس سے زیادہ افسران کو معطل کیا۔
پولیس اکیڈیمی کے ایک مہینے کے لیے کمانڈنٹ بنے تو دو میں سے ایک ڈی آئی جی کو نکال دیا۔عام پولیس افسر تو ایک سب انسپکٹر کو بھی ناراض نہیں کر سکتے، اس لیے نتائج بھی نہیں دے پاتے۔ بظاہر ایک ہنس مکھ اور ملنسار آدمی دکھائی دینے والے ذوالفقار احمد چیمہ پولیسنگ فار دی پیپل کے قائل ہیں اور کسی بھی اعلیٰ سیاسی و سرکاری اہل کار کا کوئی غیر قانونی حکم ماننے کی بھی کوئی روایت اِن کے ساتھ جڑی ہوئی نہیں ہے۔ پولیسنگ میں کسی قسم کی مداخلت قبول نہ کرنا اور سفارش پر کسی افسر کو لگنے نہ دینا۔ ان کی اس عادت کو سارے آفیسر بخوبی جانتے ہیں۔ وہ پولیس کو ایک ایماندار، غیر جانبدار، خوش اخلاق، دلیر اور جرأت مند فورس بنانا چاہتے ہیں۔
پولیس اسٹیشن کا ماحول اور کلچر بدلنے کے لیے عام لوگوں کی طرح بے شک وہ بڑی آرزو رکھتے ہیں اور اپنے زیرِ کمان تھانوں میں تبدیلی کی حد تک کامیاب کوششیں کر چکے ہیں۔گوجرانوالہ اور شیخوپورہ ڈویژن کے تھانوں میںکرپشن بڑی حد تک ختم ہو گئی تھی۔ نہ صرف بغیر پیسوں کے کیس درج ہوتے تھے بلکہ تھانہ اسٹاف کا رویہ اور طرزِ عمل بھی بدل گیا تھا۔ تھانوں کو بدلنے کے لیے دوسرے پولیس افسر بالکل سر دردی مول نہیں لیتے۔ اس لیے اس کے جانے کے بعد پھر معاملات پرانی ڈگر پر چلنے لگتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ وہ روٹین کی روایتی پولیسنگ نہیں کرتے۔ وہ مجرموں کے خلاف بہت جارحانہ اور سخت آپریشن کرتے ہیں۔
سنگین جرائم اور بڑے مجرموں کے خلاف باقاعدہ جنگ کا سا ماحول پیدا کر دیتے ہیں اور اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھتے جب تک مجرم کیفر کردار تک نہ پہنچ جائیں یا گرفتار کر لیے جائیں یا پھر علاقہ چھوڑ کر بھاگ جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ جہاں تعینات ہوں وہاںایک عام دکاندار کو، ریڑھی والے کو، خاتون ورکر کو، کالج کی طالبات کو، لیڈی ٹیچرز کو اور گاؤں میںچارہ کاٹنے والے مزدور کو بھی تحفظ کا احساس ہوتا ہے۔ کراچی میں ایسے لوگ بھی ہیں جنھوں نے کبھی انھیں دیکھاتک نہیں، مگر ان کے کراچی اور سندھ آنے کی دعائیں کرتے ہیں۔ سندھ حکومت کو یہی بات پسند نہیں آئی جو انھیں بطور آئی جی قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ کہا جاتا کہ وہ دفتر میں بیٹھ کر سائل کا انتظار نہیں کرتے بلکہ خود لوگوں تک پہنچتے ہیں اور تمام پولیس افسروں تک عوام کی رسائی کویقینی بناتے ہیں۔ کچھ تو ایسا ہے جو لوگ انھیں بھولتے نہیں، ان کے کام اور کارناموں کے حوالے دیتے ہیں۔
وہ ڈی آئی جی ہو کر بھی ہر تھانے کی سطح پر جا کر کھلی کچہری منعقد کرتے ہیں۔ جہاں ہزاروں کی تعداد میں عوام اور سائل آتے ہیں۔ وہ ہر ایس ایچ او اور ڈی ایس پی پر لازم قرار دیتے ہیں کہ وہ ہر جمعہ کو کسی بڑ ی مسجد میںنمازِ جمعہ کے بعد مسجد میںہی بیٹھ کر لوگوں کے مسائل سنیں۔ اس طرح ہر ہفتے درجنوں پولیس افسران عوام کی عدالت میںحاضر ہوتے تھے۔ محکمے کے اندر وہ سزا اور جزا کا مؤثر نظام نافذ کرتے رہے ہیں جہاں برا کام کرنے والوں کو سخت سزا اوراچھی کارکردگی دکھانے والوں کو بڑی فیاضی سے انعامات دیے جاتے ہیں اور یہ انعامات بڑی تقریبات منعقد کر کے شہر کے معززین کی موجودگی میں دیے جاتے ہیں تا کہ اچھے پولیس افسران کی حوصلہ افزائی ہو اور انھیں عزت ملے۔
ایک اور اہم کام جو ان کے زیرِ کمان ضلعوں میں ہوتا ہے اور دوسری جگہوں پر نہیں ہوتا وہ یہ ہے کہ وہ اس امر کو یقینی بناتے ہیں کہ پولیس مجرموں، چوروں اور ڈاکوؤں سے جو مال برآمد کرتی ہے وہ اصل مالکان تک پہنچے۔ اس سلسلے میں ہر تین مہینے کے بعد شہریوں کی ایک بڑی تقریب میں برآمد شدہ مال (کیش، زیورات، کاریں، وغیرہ) مالکان کے حوالے کیا جاتا رہا ہے۔ لوگ یہ منظر دیکھ کر خوشگوار حیرت میں مبتلا ہوتے رہے ہیں کیونکہ اس پہ یقین کرنا مشکل ہوتا ہے کہ پولیس کے ہاتھوں ایسا ہو رہا ہے۔ عام طور پر یہی مانا جاتا ہے کہ چوروں سے مال تو مل جائے گا پولیس سے لینا مشکل ہے۔
وہ خفیہ پولیسنگ پر یقین نہیں بلکہ پولیسنگ کے ہر عمل میں سول سوسائٹی اور عوام کو شامل کر کے ہر جگہ شہریوں میں اچھے کردار کے لوگوں پر مشتمل مصالحتی کمیٹیاں بناتے ہیں جو لوگوں کے جھگڑے اور لین دین کے تنازعات حل کرا دیتی ہیں۔ اس سے عوام کا وقت اور پیسا ضائع ہونے سے بچ جاتا ہے اور وہ تھانے اور کچہری میں ذلیل و خوار ہونے سے محفوظ رہتے ہیں۔ ان کی بنائی ہوئی مصالحتی کمیٹیاں آج بھی کے۔پی۔کے اور پنجاب میں کئی جگہوں پر بہت اچھا کام کر رہی ہیں۔وہ کہتے ہیں معاشرے میں عمدہ اور غیرجانبدار لوگ بڑی کثرت سے موجود ہیں جن پر مشتمل یہ کمیٹیاں موثر رہتی ہیں۔
وہ ٹریننگ کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔ فورس کے لیے ہر قسم کے ٹریننگ کورسز خاص طور پر تفتیشی افسروں کا پروفیشنلزم لیول بہتر کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ انھوں نے ڈی آئی خان، ایبٹ آباد، گوجرانوالہ اور شیخوپورہ میں تفتیشی افسران کے لیے ٹریننگ کورسز کروائے جن میں چوٹی کے وکلا اور جج صاحبان نے آ کر پولیس افسروں کو ان کی تفتیشوں کے نقائص سے آگاہ کیا اور انھیں ان خامیوں سے آگاہ کیا جن کا فائدہ اٹھا کر مجرم بری ہو جاتے ہیں۔
وہ فورس کی ویلفیئر کا بھی بہت خیال رکھتے ہیں اور اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ جوانوں کو ایک باعزت زندگی گزارنے کے مواقع ملیں۔ ہرجگہ تھانوں کی بیرکس اور باتھ روم بہترین بنوائے ہیں۔ لوئر اسٹاف کے لیے رہائشی سہولیات کا اہتمام کرایا۔ ان کے لیے میس بنوائے اور ایس ایچ اوز کے لیے رہائش گاہیں تعمیر کرائیں۔ اس سے پولیس کا نا صرف مورال بلند ہوا بلکہ ان کے رویے میں بھی مثبت تبدیلی آئی جو عام طور پر ان کے جانے کے بعد باقی نہیں رہتی۔
گفتگو کے آغاز میں ہی میں نے پوچھا پچھلے سالوں سے آپ کا جو ایک امیج بنا ہے اس میں کس کا رول ہے۔ میں جاننا چاہ رہا تھا کہ ان کے کوئی ذاتی آئیڈیلز بھی تو رہے ہوں گے۔ والدین ہو سکتے ہیں، اکیڈیمی کی ٹریننگ ہو سکتی ہے۔وہ بولے ’’دیکھیں! سب سے بڑی جو درسگاہ ہے وہ تو انسان کا گھر ہے اور گھر ہی سب سے بڑی اکیڈیمی ہے۔ گھر سے ہی سب کچھ سیکھا، حلال، حرام، اچھائی، برائی، درست اور غلط! سب والد صاحب نے سکھایا۔‘‘ والد صاحب پڑھے لکھے تھے؟ میں نے پوچھا۔ میرے والد صاحب نے لاہور سے گریجوایشن کی۔ گریجوایشن کر کے وزیر آباد کے پاس چھوٹا سا کٹھور نام گائوں ہے بڑا ہی خوب صورت، وہ مسکرائے۔
مجھے یاد آیا انھوں نے کچھ عرصہ قبل ہی کہیں لکھا تھا اس گائوں اور اپنے ڈیرے کے حوالے سے ‘ وہ بتانے لگے۔ والد صاحب بہت بااصول اور کمال آدمی تھے۔ لوگ دور دور سے فیصلوں کے لیے ان کے پاس آتے۔ ایسا بارہا ہوا کہ گائوں میں اگر کسی کے ساتھ زیادتی ہوتی تو پورے انصاف کے ساتھ اپنے لوگوں کے خلاف بڑی آسانی سے فیصلہ دے دیتے تھے۔ کہتے کہ پکڑو اسے اور لے جائو تھانے میں بند کرا دو۔ گھر میں عام طور پر کھانے کے بعد تاریخی واقعات اور کہانیاں سناتے تھے۔ ہمارے ذہن میں اپنے ہیروز اور اچھائی اور برائی کے تصورات بہت واضح طور پر ثبت کیے۔ میرا بڑا بھائی سروس میں آیا تو وہ بڑا کلیئر تھا اور میں آیا تو مجھ پر بھی عیاں تھا کہ اگر کسی کی کمائی میں معمولی سا بھی حرام کا شائبہ ہوا، تو والد صاحب گولی مار دیں گے یا کم سے کم گھر سے ضرور نکال دیں گے۔
یقین جانیے اس طرح کی صورت حال تھی، جب ہم پریکٹیکل فیلڈ میں آئے۔ ان کی بات سن کر ایک لمحے کو خاموشی چھا گئی۔ اس خاموشی میں حیرت تھی اور تحسین بھی۔ میں نے جاننا چاہا کہ آپ کتنے بھائی ہیں تو جواب ملا کہ ’’ہم تین بھائی ہیں۔سب سے بڑے بھائی نے وکالت شروع کی۔ پھر والد صاحب نے انھیں بیرسٹری کے لیے باہر بھیجا۔ پیسے کافی نہیں تھے۔ بھائی صاحب کو کام بھی کرنا پڑا۔ اپنی Earning اور Learning ساتھ ساتھ کی! پھر کچھ سالوں بعد میرے دوسرے بھائی ڈاکٹر نثار کو بھی بھیجا گیا ڈاکٹری کی تعلیم کے لیے۔ بڑے بھائی صاحب پہلے سروس میں آئے، بیرسٹری کی پریکٹس میں آئے، پھر وہ ایڈیشنل سیشن جج بنے۔ بعد میں لاہور ہائی کورٹ کے جج بنے۔ ‘‘
آپ تو اس وقت کیڈٹ کالج میں ہوں گے۔ میں نے استفسار کیا۔ جی بالکل! وہ بولے: ’’میں اس وقت کیڈٹ کالج حسن ابدال میں تھا۔ ہماری فیملی کا رجحان لیگل پریکٹس کی طرف زیادہ تھا۔ میرے ماموں جان اوروالدہ کاآپس میں بڑا پیار تھا۔ وہ پہلے سے سیاست میں تھے۔ 1951ء میں پنجاب اسمبلی کے ممبر اور 1962ء میں وہ نیشنل اسمبلی کے سینئر ڈپٹی اسپیکر ہوئے۔ انھیں آفر کی گئی کہ عدلیہ کا حصہ بنیں حالانکہ انھیں پہلے سے کہہ دیا گیا تھا کہ آپ اگلے فیڈرل منسٹر ایجوکیشن ہوں گے۔ تب ایسٹ اور ویسٹ دونوں اکٹھے تھے اور منسٹر ٹوٹل چھے ہوتے تھے تو انھوں نے سیاست چھوڑ دی۔ جو اِن کے پرانے دوست تھے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ آپ جج بنے تو ایسے لگتا تھا کہ آپ سیاست میں کبھی رہے ہی نہیں۔ اس طرح انھوں نے عدلیہ میں کام کیا۔ سپریم کورٹ کے ججز کہہ رہے تھے کہ ہم ان کی ججمنٹ کے پیرے رٹ لیا کرتے تھے۔ اِن کی انگریزی، اردو، عربی اور فارسی بڑی اچھی تھی اور بڑی قابلیت اللہ نے انھیں دی تھی…‘‘
طیب صاحب نے پوچھا: کیا نام تھا ان کا؟ چیمہ صاحب نے میری طرف دیکھا۔ جی بالکل میں نے لقمہ دیا جسٹس محمد افضل چیمہ۔ بعد میں اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین بھی رہے۔ چیمہ صاحب بولے: ’’نظریاتی کونسل تب آج کل جیسی نہ تھی۔ آپ اندازہ کریں کہ جب وہ چیئرمین تھے تو انھوں نے کس کس کو کونسل میں لیا۔ اے۔کے بروہی، خالد اسحاق یعنی چوٹی کے لوگ تھے اور بھی بہت سے تھے۔ پوری دنیا کے چوٹی کے مسلم اسکالرز معروف الدوابی کو بھی شامل کیا۔ وہ یہاں کئی مہینے رہے اور علامہ یوسف القرضاوی بھی کئی مہینوں رہے، یوں سمجھیے اسلامائزیشن کے سارے عمل کو انھوں نے مضبوط بنیاد فراہم کی۔‘‘
آپ گورنمنٹ کالج میں بائی چوائس گئے تھے یا بس اتفاق تھا یہ، میں نے بات آگے بڑھائی۔ ترنت جواب ملا ’’نہیں! میں بائی چوائس ہی گیا تھا۔ مجھ سے پہلے میرے دونوں بھائی گورنمنٹ کالج میں پڑھے تھے۔ اس لیے تھوڑا سا تعلق بن چکا تھا۔‘‘ آپ کو عزت اور شہرت ملنے کا آغاز بھی لاہور سے ہوا۔ جب آپ ایس پی سٹی کے طور پر یہاں آئے۔ آپ یہاں شاید واحد آفیسر تھے کہ جن کو ٹرانسفر کے وقت لوگوں نے شاندار الوداعیہ دیا۔ وہ سالوں پہلے کے ان لمحات میں جا پہنچے اور بولے: ’’ویسے یقین جانیے ایمانداری سے میں سوچتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کا کس قدر فضل و کرم ہے۔ اس لحاظ سے کہ اس نے لوگوں کے دلوں میں میری عزت ڈال دی۔
جتنا بھی شکر ادا کروں ہر وقت سجدہ شکر میں بھی رہوں تب بھی کم ہے۔ میرے ٹرانسفر کے اگلے دن بزرگ کالم نگار عبدالقادر حسن کا فون آیا انھوں نے کہا کہ میں تو بڑے عرصے سے صحافت میں ہوں اور بڑے بڑے آئی جیوں (IG’s) کے ساتھ میرا رابطہ ہے، تعلق بھی ہے۔ جتنی عزت آپ کو اللہ تعالیٰ نے دی ہے آپ ہر وقت اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کریں۔ سینئرز بھی یہی کہتے ہیں کہ یہ اللہ کا خاص فضل و کرم ہی ہے اور کیا ہے۔پولیس افسر کے پاس میزائل تو ہوتے نہیں ہیں کہ لوگ ان سے ڈر کر عزت کریں۔‘‘ اس پر طیب اعجاز نے مداخلت کی اور بولے: دیکھیے اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم تو ہے ہی لیکن والد صاحب نے جو کہا تھا وہ گولی مار دیں گے تو ممکن ہے پس منظر میں وہ ڈر اور خوف ہو دیکھیں ناں پولیس کو لوگ کبھی بھی اچھا نہیں سمجھتے۔ جب کہ آپ بھی پولیس کا حصہ تھے۔
چیمہ صاحب لمحہ بھر کو رکے پھر بولے: ’’جب بھائی سروس میں آیا تو والدین نے کہا اس کی کمائی میں حرام شامل ہو تو یا اللہ اس کو ویسے ہی اٹھا لینا۔ اب یہ کہنے کے لیے بھی بڑی ہمت چاہیے۔ اللہ پر اُن کے ایمان کا عالم یہ تھا کہ ایک دفعہ ساری فصل تباہ ہو گئی ۔ ہم نے نہیں دیکھا کہ والد صاحب کے چہرے پر پریشانی آئی ہو۔ والدہ تھوڑا پریشان ہوئی تھیں، لیکن والد صاحب کہنے لگے حق حلال کمایا۔ رب ضائع نہیں کرے گا اور واقعی رب نے ضائع نہیں کیا۔
اگر کوئی اچھی فصل ہو گئی تو بھی ایکسائٹمنٹ کا زیادہ اظہار نہیں کیا۔ میں پولیس میں آ گیا تو بھائی صاحب بڑے خوش ہوئے۔ لوگ مبارکباد دینے آئے، تو والد صاحب چارپائی پہ صحن میں لیٹے ہوئے تھے لوگ آئے اور کہا کہ مبارک ہو آپ کا بیٹا اے ایس پی ہو گیا ہے۔ پولیس کا اتنا بڑا افسر بن گیا ہے تو وہ لیٹے ہوئے تھے، اٹھے انھوں نے میری طرف دیکھ کر کہا کہ بھئی یہ محکمہ تو بڑا بدنام ہے۔ اللہ تعالیٰ تمھیں ساری عمر اس بدنامی سے بچائے رکھے۔ اللہ نے مہربانی فرمائی اور اُن کی خواہش اور دعا کو قبول کر لیا۔ ‘‘ چیمہ صاحب نے بطوراے ایس پی اپنے کیرئیر کا آغاز پاکپتن سے کیا پھر مظفر گڑھ رہے۔ میں نے پوچھا جب آپ نے سروس کا آغاز کیا تو اُس دور کی پہلی یاد کیا ہے؟ انھوں نے اگلے ہی لمحہ ایسے جواب دیا جیسے کل کی بات ہو۔
اُس دور میں نثار احمد چیمہ صاحب آئی جی پنجاب تھے۔ میں پنجاب آیا، لیکن اُس سے بھی پہلے میں فرنٹیئر کانسٹیبلری میں چلا گیا۔ سب سے پہلی پوسٹنگ اکیڈیمی وغیرہ سے فارغ ہوتے ہی وہاں ہوئی۔ ایک سال ایف سی میں اُن دنوں گزارنا ضروری ہوتا تھا، 28thکانسٹیبلری۔ تو میری پوسٹنگ اُگی میں ہوئی۔ اُگی ایک جگہ ہے مانسہرہ سے آگے کوئی 30کلو میٹر۔ اُگی بہت خوب صورت جگہ ہے۔ ایک سال وہاں رہا بڑا انجوائے کیا۔ ‘‘ وہاں کیا کہتے تھے اس پوسٹ کو؟ اے ایس پی تو نہیں ہوگا کچھ اور ہوگایقینا۔ میں نے جاننا چاہا۔
’’اُس وقت اس کا نام تھا اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ آفیسر، ایک سال وہاں پورا کیا اور انجوائے کیا۔ اُس کے بعد پنجاب آگیا۔ پنجاب آ کے میں نثار احمد چیمہ صاحب کو ملا یہ 87ء کی بات ہے دو تین آفیسرز وہاں اور بھی بیٹھے تھے۔ ایک نے کہا کہ اس کو فیصل آباد لگا دیں دوسرے مجھے لاہور لگوانا چاہتے تھے۔ آئی جی صاحب نے پوچھا کہ آپ کی کوئی چوائس، تو میں نے کہا کہ جیسے آپ مناسب سمجھتے ہیں، انھوں نے کہا کہ میں دیکھوں گا جہاں آفیسر اچھا ہوگا وہاں آپ کو بھیج دوں گا۔ پھر انھوں نے اِدھر اُدھر سے پوچھا ایک دو افسروں کے نام لیے گئے۔ جو انھیں پسند نہیں آئے۔
سو پہلی پوسٹنگ میری پاکپتن میں ہوئی۔ پاکپتن میں پورے جوش جذبے کے ساتھ کام کیا۔ جرم کے خلاف شروع ہی سے پہلے دن سے یقین جانیں وہ ایک طرح سے ہوتا ہے نا تھا کہزیرو ٹالرینس کہ اُن کے ساتھ کوئی نرمی نہیں۔ اور پھر جب محافظ کی ذمہ داری اسٹیٹ نے دی ہے، پوری تحصیل کا محافظ بنایا ہے تو پھر اس کو ہر قیمت پر تحفظ دینا ہے، جوانی بھی تھی جوش جذبہ بھی۔ ،درخواستیں اور لوگوں کے مسائل اتنے تھے کہ صبح ناشتے کے بعد دفتر ہوتا دوپہر کو کوئی کھانے کا ہوش نہیں ہوتا تھا۔ شام کو آکے فٹافٹ کھانا کھایا اور پھر نکل گئے۔ بڑی زبردست قسم پولیسنگ کی الحمدللہ جلد ہی پوری تحصیل میں فرق پڑ گیا۔
میں نے پوچھا یہ بنیادی طور پر ڈاکوئوں کا علاقہ ہے، ڈاکو وہاں بہت پھرتے تھے سڑکوں پہ اِدھر اُدھر اور سچ یہ ہے کہ روکنے والا کوئی نہیں تھا۔ چیمہ صاحب نے اس پر صاد کیا اور بولے: وہاں ایک دو واقعات جو مجھے یاد ہیں، بڑا ظلم کیا تھا بدمعاشوں نے ایم این اے کے بندے تھے۔ تو انھوں نے وہ ایک بچارا دُکاندار تھا تو وہ بدمعاش گئے ہیں انھوں نے بوتلیں پی ہیں، اُس نے پیسے مانگے ہیں تو اُس نے کہا ہم سے پیسے مانگتا ہے۔ تمھیں نہیں پتا کہ ہم کون ہیں۔ اُس نے بھی پھر آگے سے باتیں کی ہوں گی۔ تو انھوں نے پہلے بَٹ مارے، پھر جان سے مار دیا۔ چھوٹے سے شہر میں یہ بہت بڑا واقعہ تھا۔ مجرموں کی جرأت نے لوگوں کو خوف زدہ کر دیا تھا۔ پولیس کی ٹیمیں بنائیں کہ جہاں سے ملتے ہیں انھیں ڈھونڈو! اللہ کا شکر ہے وہ پکڑے گئے۔
ایسے مجرموں کو نشانِ عبرت بنانا ہوتا ہے تو اُن کو پھر پولیس کی جیپ کے ساتھ باندھ کے پورے پاکپتن بازار میں گھمایا تاکہ لوگ کا خوف دور ہو اور یہ کہ بڑے بدمعاش جو ہیں وہ بھی قانون سے بالا نہیں ہیں شاید تھوڑا سا لوگ کہیں گے کہ یہ اچھا نہیں ہے۔ لیکن بعض اوقات اس کی ضرورت پڑتی ہے۔ اور جو اس حدتک ظلم کریں اُن کی بدمعاشی نکالنا ضروری ہوتی ہے۔ وہاں اُس وقت کا ایک بہت بڑا غنڈہ تھا۔ سجادہ نشیں جو آج کل ہیں تب بھی یہی تھے۔ اُس وقت نوجوان تھے تو پولیس کی مختلف جگہوں پہ ڈیوٹی ہوتی تھی، تو پولیس کی ڈیوٹی لگی، اِن کے شاید مہمان آ رہے تھے تو انھوں نے روکا، ظاہر ہے کئی جگہوں پہ رکاوٹیں بھی ہوتی ہیں۔
ایک لاکھ آدمی آتے ہیں عرس پر۔ تو اُس نے کہا کہ یہ پولیس والا کون ہے جو ہمیں روک رہا ہے، تو اُس نے اپنے بندوں کو بھیجا کہ اُٹھا کے لے آئیں، ہمیں پتا چلا اُن کے گھر پہ ریڈ کرنا پڑا اُس کو برآمد کروایا، سجادہ نشین کے خلاف پرچہ دینا پڑا۔ وہ ایک بہت بڑا ایشو بن گیا، وہاں کے ایم پی اے سارے اُن کے مرید تھے، کہنے لگے پچھلے پانچ سو سال میں پہلی دفعہ سجادہ نشیں پیر صاحب کے خلاف پرچہ ہوا تھا تو ہم نے کہا کہ پیر صاحب جب قانون کی خلاف ورزی کریں گے تو پرچہ تو ہو گا اُس سے پہلے پانچ شاید سو سال میں نہ کی ہوگی اُس وقت ساہیوال میں۔ ساہیوال کے ایس ایس پی تھے حبیب و لرحمن، یہ بھی اُن کے بڑے مُرید تھے۔ آپ کو پتا ہے نا … خیر اُن تک بات پہنچی تو انھوں نے پوچھا پرچہ تو نہیں کاٹا میں نے کہا کہ پرچہ تو ظاہر ہے ہم نے کاٹ دیا ہے۔
اب تو ہم گرفتار بھی کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ یہ نہ کریں، میں آ رہا ہوں۔ خیر یہ بیج میں نے پڑے تو کے صُلح صفائی کروا دی۔ وہ سپاہی جس کے ساتھ زیادتی ہوئی وہ راضی ہوگا تو تھی ورنہ ہم کارروائی مکمل کریں گے، تو پیر صاحب نے اُس کو پیار کیا، وہ بھی شاید اُن کا مرید ہوگا۔ لیکن وہ ایم پی اے چشتی صاحب تھے ،اللہ اُن کی مغفرت کرے، فوت ہو چکے ہیں۔ ایک دو اور بھی اُنھوں نے اس طرح کے کام کیے۔ لوگوں کے خلاف جھوٹے پرچے کیے۔ تو میں نے پرچے خارج کر دیے، کیونکہ پرچے جھوٹے تھے۔ آ گئے میرے پاس کہ آپ نے میرے مخالفوں کے خلاف پرچے کیوں خارج کیے۔ میں نے کہا کہ وہ غلط ثابت ہوئے ہیں۔ کہتے ہیں کہ اتنا تو ہمارا حق ہوتا ہے نا آخر ہم حکومتِ پاکستان کے نمائندے ہیں۔ میں نے کہا کہ میں کوئی حکومت سے باہر کا نمائندہ تو نہیں ہوں، میں اے ایس پی ہوں، تو سب کے حقوق کا میں نے خیال رکھنا ہے۔
شاید یہ بات پسند نہیں آئی۔ تو انھوں نے میرا تبادلہ کرا دیا۔ پہلا تبادلہ! میں نے مسکراتے ہوئے انھیں دیکھا ’’آپ آئی جی سے جا کر نہیں ملے۔ اب مسکرانے کی باری ان کی تھی۔‘‘ نہیں، ہوا اس طرح کہ یہاں تو وزیراعلیٰ سے مل کے تبادلہ ہوگیا۔ کوئی ساڑھے پانچ مہینے میَں رہا پاکپتن، وہاں سے پھر مظفر گڑھ بھیج دیا گیا۔ تو مظفرگڑھ میں ضلع کا ایس پی ہی کوئی نہیں تھا، تو انھوں نے پھر مجھے چارج دے دیا۔ مجھے یاد ہے1987ء میں لوکل باڈی الیکشن ہوئے تو میں پورے ضلع میںمتحرک رہتا۔ ڈی سی اُس وقت تھے طاہر خان، وہ اور میں اکٹھے پھرتے رہے۔ وہ بڑا اچھا آدمی تھا، وہاں سیاسی آدمی ایک دستی صاحب تھے۔
وہ بزرگ آدمی تھے۔ اُن کے والد صاحب تو چیف منسٹر بھی رہ چکے تھے۔جب دستیوں میں کچھ لوگ جرائم میں ملوث ہوئے تو اُن کو پکڑا تو یہ پھر آتے تھے چھڑوانے۔ ایک عطا قریشی تھا وہ بھی فوت ہوگیا بیچارہ، ایک ایم پی اے، ایک ایم این اے، دونوں ہی حکمران پارٹی کے تھے۔ دو تین مہینے بعد ایس پی آگیا۔ میں اے ایس پی تھا، کافی بڑا چارج تھا۔ سٹی بھی میرے پاس تھا رورَل ایریا بھی۔ تو دو تین مہینے بعد ایس پی نے مجھے بُلایا اور کہا کہ عطا قریشی کی تو چلو مجھے سمجھ آتی ہے لیکن دستی صاحب بھی آپ کے خلاف ہیں، یہ سارے اکٹھے ہو کر گئے ہیں کہ اس کو ٹرانسفر کر دیں، یہ کیا وجہ ہے؟ بہرحال تین ماہ کے بعد یہ ہوا کہ اس وقت اسلامیہ یونیورسٹی فیصل آباد میں ججزاور پولیس افسروں کا کورس کروایا جانا تھا، اسلامائزیشن آف لا کے لیے تو اُس میں آئی جی صاحب نے میرا نام بھی بھجوا دیا۔
وہ کورس تین مہینے کا تھا۔ اُس میں پھر زندگی کا پہلا عمرہ بھی ہوا اُس کا بڑا لطف آیا۔ تیرہ دن ہم عمرے کے لیے گئے۔ اُس میں ججز بھی تھے پولیس افسران بھی، بڑا لطف آیا۔ میں واپس گیا تو پھر ایسے چند دن ہی رہا پھر بھلوال پوسٹنگ ہوئی۔ اُس وقت بھلوال بہت بڑا سب ڈویژن تھا۔ کل 9تھانے تھے ۔ سرگودھا کے ایس ایس پی تھے اشرف مہر( مرحوم) بچارے وہ شہید ہوگئے گوجرانوالہ میں۔ انھوں نے آئی جی صاحب سیکہہ کے میرا وہاں ٹرانسفر کرالیا، تو میں بھی بڑا خوش ہوا کیونکہ مظفرگڑھ دور بھی بڑا تھا۔ بہرحال تین چار مہینے ویسے اور تین مہینے کا کورس ٹوٹل کوئی سات آٹھ مہینے بعد میں بھلوال آیا۔بھلوال بڑی اچھی جگہ نہیں لگی۔
ایک بات میں آپ کو بتائوں کہ ہر جگہ یہ شروع سے تھا کہ یہ جو پولیسنگہے نا یہ کوئی ایسے نہیں ہے کہ خفیہ چیز ہے پبلک کو ساتھ لے کے چلنا پڑتاہے۔پہلے دن سے جب میری پوسٹنگ ہوئی تو یقین مانیں کہ تھانہ لیول پر میں نے کھلی کچہری کا سلسلہ شروع کیا،مگر تھانے کے اندر نہیں ۔ جب پہلی کچہری میں نے کی تو ایس ایچ او نے کہا تھانے کے صحن میںہو گی۔ میں نے کہا کہ لوگ اگر تھانے کے بارے میں اپنی کوئی شکایت کرناچاہیں تو کیسے کھل کے بات کریں گے۔ تھانے میں تو نہیں ہوگا باہر کرو۔ میں وہاں گیا تو انھوں نے کہا کہ یہ لِسٹ ہے مقررین کی، جو اس طرح ہوتے ہیں نا اُن کے ٹائوٹ وغیرہ۔
میں نے کہا چلیں دیکھتے ہیں۔پہلا مقرر کھڑاہوگیا اور کہا کہ جب سے یہ چودھری صاحب لگے ہیں ایس ایچ او… میں نے اُسے اُدھر ہی روک لیا۔ میں نے کہا بیٹھ جائو، لِسٹ ختم، میں جس کو کہوں گا وہ بات کرے گا، تو میں خود ایک طرف سے کسی کو منتخب کرتا۔ جو ذرا عمر میں بڑے تھے نا، یعنی جو عمر میں بڑے تھے اُن سے کہا کہ کھل کے بات کریں نہ کسی سے ڈریں نہ جھجکیں ،یہ بتائیں کہ جب تھانے جاتے ہیں تو اُن کا رویہ کیسا ہوتا ہے، پیسے لے کے پرچہ کرتے ہیں یا ویسے بھی ہوجاتا ہے؟
بالکل کھل کے بتائیں۔ تو پھر ایک بولا، دوسرے نے ذرا کھل کے بات کی، تیسرے نے اور کھل کے باتیں شروع کر دیں، پھر دوسری تیسری کچہری پر دور دور سے لوگ آنے لگے وہاں پر۔ہزار ہزار لوگ آتے تھے۔ میں آپ کو ایمانداری سے بتائوں کہ سیاسی لوگ پھر پریشان ہو گئے کہ ہمارے تو ڈیرے خالی ہوگئے ہیں۔ لوگ تو ڈائریکٹ وہاں جاتے ہیں، ہمارے پاس آتے ہی نہیں ہیں تو وہ سارے پھر اکٹھے ہو کر آ گئے حکومت کے پاس اور میں اکیلا سب کے خلاف کھڑا تھا۔
میرا جو خیال ہے کہ آپ لوگوں کو اگر انصاف دیں گے اور آپ لوگوں کے لیے دستیاب ہوں گے تو لوگ سمجھیں گے کہ شنوائی ہو رہی ہے تو پھر وہ دائیں بائیں نہیں جائیں گے بلکہ ڈائریکٹ آپ کے پاس آئیں گے۔ اسی دوران ایک بہت بڑا واقعہ ہو گیا، بھلوال میں۔ سرگودھا تو بڑا پرامن علاقہ ہے، تو ایک بار اِری گیشن کالونی اسٹاف کی تنخواہیں نیشنل بینک سے لے کے جا رہے تھے۔ رستے میں اُن کی جیب پہ فائرنگ ہوئی اور چار آدمی مار دیے ۔ چار لاکھ کی رقم لے گئے۔ اُس وقت ہم ایس پی سرگودھا کے پاس میٹنگ میں تھے۔ میں بھی اُدھر ہی تھا، تو ایس پی صاحب نے فون سُنا اور بڑے پریشان ہوگئے۔ ظاہر ہے میٹنگ کال آف ہوگئی، تو مجھے بتایا یہ ہوگیا، ہم جیپ میں بیٹھ کے دوڑ پڑے جیسا کہ ایسے مواقع پر ہوتا ہے۔
سو وہاں چار لاشیںپڑی ہوئی ہیں تو ظاہر ہے لوگ آہ و بکا اور بین کر رہے ہیں۔پولیس کو تو انھوں نے گالیاں ہی دینی تھیں اور کیا کرنا تھا۔ ایسے میں اُن کو گالیاں دینے کا حق ہے اور ایسے موقعوں پر ہم سنتے ہیں ،پورے حوصلے سے۔ اس کے بعد پھر ایس ایس پی اشرف مارتھ بھی وہاں آگئے۔ ظاہر ہے اتنا بڑا واقعہ سارے ضلع کے ایس پی وہاں اکٹھے ہوئے تھے۔ تین سیریس زخمی تھے اور چار ہلاک ہوگئے تھے۔ رقم کا تھیلا وہ لے کے بھاگ گئے تھے۔ پھر ہم نے ٹیمیں اِدھر اُدھر بھیجیں اور کوشش شروع کر دی انھیں گرفتارکرنے کی۔ فوری طور پہ تو ہمیں کامیابی نہ ملی۔
یہ جو ہوتا ہے ٹرینوں پہ چیک کرو اِدھر اُدھر دیکھو، جو زخمی تھے اُن سے حلیے کا پتا چلا۔چھوٹے شہروں میں ڈکیتی اور مرڈر سب سے بڑا واقعہ ہوتا ہے۔ یعنی جرائم میں سب سے بڑا جو سنگین سمجھا جاتا ہے وہ ڈکیتی ہو ساتھ قتل ہو۔ ایسا واقعہ لوگوں میں ڈر خوف پیدا کر دیتا ہے۔ اس سے اسٹیٹ مکمل طور پر مفلوج ہوجاتی ہے۔ ایک تاثر پیدا ہوجاتا ہے کہ اسٹیٹ کو چیلنج کر دیا گیا ہے اور یہ اتنے خطرناک لوگ ہیں کہ جنھوں نے دن دہارے ڈاکا بھی ڈالا اور لوگوں کو مار کے چلے گئے۔ اور لوگوں میں تو یہی ہوتا ہے نا جی کہ حکومت، پولیس کوئی کچھ نہیں کرسکا۔ خیر ساری ٹیمیں لگ گئیں ان کے پیچھے۔
ہم بھی کبھی کسی گائوں کبھی کسی گائوں، تمام مشکوک لوگوں کو پکڑا اور صبح سے رات تک ان سے پوچھ گچھ کی۔ پھر اُس جگہ تک پہنچ گئے۔ تین دن بعد ان کی خبر مل گئی۔ ڈاکوئوں میں سے کچھ محکمے کے بھی تھے جو اس دن محکمے سے چھٹی پر تھے۔بہرحال پکڑا اور ان کو نشانِ عبرت بنا ڈالا، اسی چوک میں جہاں انھوں نے خون کیے تھے۔ یہ ضروری ہو جاتا ہے ایسا کرنا۔
اچھا چیمہ صاحب رحیم یار خان سے رخصتی کی فوری وجہ کیا بنی؟ سوال سن کر وہ بھی مسکرائے۔ کیونکہ یہ واحد جگہ تھی جہاں سے شکایت پر ٹرانسفر نہیں ہوئی تھی۔ ’’وجہ یہ بنی کہ وہاں سے میری پوسٹنگ ہوگئی۔ آئی جی صاحب نے بلایا کہ میں نے آپ کو ساہیوال میں لانا ہے۔ اُس دن پوسٹنگ ہو رہی تھی، یہ فیصلہ ہوگیا تھا۔ شام کو میں کہیں پٹرولنگ پہ گیا ہوا تھا، واپس آیا تو گھر کے نو کر نے بتایاکہ پرائم منسٹر ہائوس سے فون آیا تھا… تو میں نے سوچا کہ کسی کیس کے بارے میں پوچھنا ہوگا۔ فون ملایا تو آپریٹر نے بتایا کہ آپ ہولڈ پہ رہیں پرائم منسٹر صاحب آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ تھوڑی دیر بعد پرائم منسٹر آن لائن تھے، میاں نواز شریف صاحب پرائم منسٹر تھے۔ یہ 1992ء کی بات ہے۔ انھوں نے کہا کہ بھئی سنا ئیں خیریت سے ہیں۔ پھر بولے کہ آپ کل اِدھر اسلام آباد آئیں، مجھے ملیں۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے ساتھ مل کے کچھ کام کریں۔ اس پر میں نے پوچھا لاہور میں قیام کے دوران اور بعد میں ان سے ملاقاتیں تو رہی ہوں گی۔
نہیں، بالکل نہیں!مطلب ہے کہ لاہور تو اُن کا اپنا شہر تھا، پرائم منسٹر بن گئے۔ فنکشنوں میں ایک آدھ مرتبہ ملے تھے۔ شیخ زید کے استقبال کے موقع پر ملاقات ہوئی تھی۔ وہ بھی روٹین میں۔ اگلے روز میں نے اپنے ڈی آئی جی سے پوچھا، آئی جی کو بتایا اور اُن سے اجازت لے کے میں چلا گیا۔ وزیراعظم ہائوس میں ملٹری سیکٹری کے پاس بیٹھا، انھوں نے کہا کہ میٹنگ ہو رہی ہے۔ میٹنگ کافی لمبی ہوگئی میرے خیال میںرات کے ساڑھے 11بج گئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ اب تو مشکل ہے، صبح آئیے، صبح ہم نے کراچی جانا ہے 8بجے، آپ ذرا ا س سے پہلے آئیے۔ جب ہم نکلیں گے تو میں آپ کو ملوا دوں گا، تو خیر میں صبح پھر پہنچ گیا تو جب وزیراعظم نکلے تو انھوں نے کہا کہ آپ میرے ساتھ گاڑی میں آجائیں۔
مجھے گاڑی میں بٹھا لیا اور کہنے لگے کہ ملک میں بڑے سنگین جرائم ہو رہے ہیں۔ اب پہلی بار ملک کے وزیراعظم نے مجھے اپنی گاڑی میں بٹھا لیا تھا تو سنبھلتے تھوڑا وقت تو لگا۔ انھوں نے کہا کہ یہ جو اتنے سنگین جرائم ہو رہے ہیں، کیا ان کو کنٹرول کیا جاسکتا ہے؟ اسلام آباد سے ہم باہر نکل چکے تھے کوئی ڈیڑھ منٹ ہوگیا تھا۔ اُس وقت تک میں بھی اپنے آپ کو ریکور کر چکا تھا۔ میں نے کہا کہ بالکل ہوسکتا ہے سر!کہنے لگے، کس طرح؟
میں نے اُتنے ہی اعتماد سے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو۔ کہنے لگے کہ کیا مطلب؟ میں نے کہا کہ اگر گورنمنٹ کا پختہ ارادہ ہو تو یہ کون سا ایسا مسئلہ ہے۔ کہنے لگے کہ دو ہی ادارے ہیں اس میں پولیس اور عدالتیں ۔ظاہر ہے کہ ملزموں کو گرفتار کرنا اور تفتیش کرنا اور شہادتیں کرانا یہ پولیس کی ذمہ داری ہے اس سلسلے میں نیچرلی مجھے آپ کی مدد چاہیے۔  دالتوں کو تو ہم نہیں کہہ سکتے۔ ہاں ہماری سنجیدگی کا پیغام ضرور ان تک چلا جائے گا۔ انھوں نے ائیر پورٹ جا کر اپنے ملٹری سیکرٹری سے کہا ’’یہ میرے اسٹاف آفیسر ہیں۔‘‘
مجھ سے بولے۔ آپ کل ہی آجائیں۔ ایم ایس کو میں نے کہا کہ کئی چیزیں ہوتی ہیںسمیٹنے والی تو مجھے دو تین دن لگے، تو پھر میں جہاں بھی جرم ہوتا تھا تو ان کے بی ہاف پر فوری پہنچتا تھا۔ پھر انھیں حقائق بتاتا تھا۔ ضلع کی پولیس اس حد تک الرٹ تھی کہ لوگ کہتے تھے ائوے کم کرو… راتوں رات ہیلی کاپٹر اُآئے گا۔‘‘  ہر جگہ پر پہنچ جاتے تھے؟ میں نے حیرت سے پوچھا۔
’’ہاں جی کئی جگہوں پہ میں خود گیا ہوں بھیس بدل کے۔ وہ حقائق جاننے کے لیے، کبھی صحافی بن کے کبھی کچھ اور بن کے۔ لیکن جہاں ہم نے وزیراعظم کا دورہ رکھوایا وہ واقعی وہی جگہ تھی جہاں وزیراعظم کو خود جانا چاہیے تھا۔ ایک آدھ ایسی جگہ تھی جہاں میری اِن پُٹ نہیں تھی نہ میں نے ایڈوائس کیا تھا۔ ایک آدھ جگہ پہ یہ خود تیار ہوئے۔ میں نے روکا اور وہ رک گئے۔مگر ان کا کنسرن بہت شدید تھا، کہ جرم روکو، مظلوم کے پاس پہنچو۔ فیصل آباد کی بڑی Controversy بنی جہاں لوگوں کو ہتھکڑیاں بھی لگا دی گئی تھیں ’’وہ ہمارا کیس نہیں تھا۔ نہ ہم نے تجویز کیا تھا۔ ‘‘
ذوالفقار احمدچیمہ سے یہ پوچھنا یقینا ایک دلچسپ امر تھا کہ وہ شوق سے کیاپڑھتے ہیں؟ اخبارات اور رسائل کے نام جاننا اس سوال کا بالکل مقصودنہیں تھا۔ انھوں نے میرا مدعا پا لیا تھا۔ اسی لیے پھل کا ایک ٹکڑا دھیرے سے اٹھایا جو اُن کی خدمت پر مامور ملازم کچھ دیر قبل ہی ہمارے سامنے سجا گیا تھا۔ ’’قرآن پاک تو زندگی کی راہنمائی کے لیے‘ کلام اقبال روح اور جسم میں توانائی کی لہریں دوڑانے کے لیے اور بڑے لوگوں کی آٹوبائیو گرافی زندگی کے تجربات سیکھنے کے لیے۔‘‘ ’’کس کی آٹوبائیوگرافی اچھی لگی۔‘‘ میں نے اپنے سامنے کاغذ پر ان کا جواب آنے سے پہلے ہی نکس کا نام لکھ لیا۔
کوئی صاحبِ ذوق جس کے اندر لیڈر شپ کے بہترین ماڈلز جاننے کابھی شوق ہو۔ نکس کی لیڈرشپ پہ لکھی کتاب کے جادو سے بچ نہیں سکتا۔ اگلے ہی لمحے جب ان کا جواب آیا تو ہم دونوں کی آنکھیں چار ہوئیں اورپھر مسکرا دیں ۔ جواب درست تھا۔ اچانک میں نے ایک نازک سا سوال کرنے کا فیصلہ کیا۔جواب دینے میں کئی حکمتیں‘ اندیشے اور وجوہ رکاوٹ ہو سکتی تھیں۔ عام طور پر معروف ہو جانے والے لوگ اس سوال سے کترا کرگزرنا چاہتے ہیں۔
کئی لوگوں کی بے وجہ ناراضی مول لینے کا امکان ہوتا ہے۔ ’’آپ کے سینئر افسران میں کچھ تو ایسے رہے ہوں گے جن کو آپ نے پسند کیا۔ دل ہی دل میں رول ماڈل بنالیا ہو۔‘‘ انھوں نے لمبا سانس لیا۔ پھر اپنی انہی چمکتی آنکھوں سے میری طرف دیکھا جن کو میں کئی گھنٹوں کی طویل اور صبر آزما گفتگو کے دوران مسلسل دیکھتا رہا تھا اور ان میں لہرانے والے تھکاوٹ کے سائے یا کسی اندیشے کوڈھونڈنے میں کامیاب نہیں ہو سکا تھا۔ ان کاجواب حیران کرنے والا تھا۔
’’اے بی اعوان بہت بااصول افسر تھے۔اصولوں کی خاطر ہی وہ مستعفی ہوئے تھے۔صاحبزادہ رئوف علی بہت شفقت کرتے تھے۔ جب میں اگی میں تھا تب وہاں بھی ملنے تشریف لائے۔ intellectuallyاُن کا کیلیبر بہت بلند اور اعلیٰ تھا۔ تیسرے افسر اسد محمود علی تھے۔ ان کا کیریکٹر ،integrity اور پروفیشلزم کیا بات تھی۔ انھوں نے بہت انسپائر کیا۔‘‘ میں نے پھر سوال کیا ’’ اگر پنجاب کے آئی جیز میں سے بہترین کا انتخاب کرنا ہو تو کس کا نام لیں گے۔‘‘بے دھڑک بولے ’’چودھری منظور کوسب سے زیادہ نمبر دوں گا۔ بہت باوقار کمانڈر تھے۔‘‘ اپنی ٹیم میں جن لوگوں کا انتخاب کرتے ہیں‘ اس کے لیے کیا کرائی ٹیریا ہوتا ہے۔
اپنی پسندکے کچھ نوجوان افسروں کے نام بھی بتائیں تو اچھا ہے۔ بولے ’’چار باتیں ہیں۔ اوّل پولیس افسر کیintegrity دوم جرأت مندی تیسرا مظلوموں تک جانے کا initiative، ناانصافی سے لڑنے کا جذبہ ۔‘‘ پھر خود ہی بولے تھانیداراور اے ایس پی میں فرق جرأت اور integrity کاہی نہیں ہوتا۔غیرقانونی un law fulآرڈر کو ناں کہنے کی ہمت کا بھی ہوتا ہے۔ ‘‘
کیا آپ نے کبھی اپنے سینئر کو ناں کہی۔ سوال سن کر انھوں نے ماضی کو کریدا اور بولے ’’ہاں کئی بار ایسے مواقع آئے اور میں نے اپنے اللہ اور اس کے رسولؐ کے احکامات کی روشنی میںاور اپنے ماں باپ کی تربیت کے زیراثر ناں کی۔‘‘ پھر انھیں اپنی کرسی کی پشت پر لگی قائداعظم کی خوبصورت تصویر یاد آئی تو اشارہ کر کے بولے ’’قائداعظم اور ان کی تصویر سے ہر اُس آدمی کو قوت ملتی ہے جو اپنے قائد سے محبت کے رشتے میں بندھا ہے۔
یہ محبت ڈرنے نہیں دیتی۔ بھلوال میں تھا تو اس وقت کے وزیرداخلہ نے ایک قتل کیس میں سفارش کے لیے فون کیا۔ ان کو بڑا firmly جواب دیا ’’سر! قانون اور انصاف کے تقاضے پورے ہوں گے۔ میں سمجھتا ہوں اداروں کے موثر ہونے کا تعلق قیادت سے جڑا ہے۔‘‘ ’’کبھی کسی کام پر ملال ہوا کہ بہتر تھا میں ایسا نہ کرتا۔ انھوں نے فون کی گھنٹی بند کرتے ہوئے میری طرف دیکھا۔ کسی کام پہ ملال نہیں ہوا۔ ہاں ایک بار ایک ٹرانسفر پہ ملال ضرور ہوا۔ اس کی وجہ بھی دلچسپ تھی۔ میری راولپنڈی پوسٹنگ تھی۔ اتفاق سے ہم تینوں بھائی ایک ہی شہر میں جمع ہو گئے تھے۔ ایک بھائی جج تھے۔ دوسرے ڈاکٹر تو اکثر شام میں ہم کھانا اکٹھے کھاتے۔
والدہ کو بھی پنڈی ساتھ لے آئے تھے۔ ان کی خدمت کا بھی موقع ملتا رہتا۔ یہاںسے ٹرانسفر اس بات پر ہوا کہ تب کے پنڈی کی مشہور حویلی والے وزیر کے جوئے خانوں پر پولیس نے ریڈ کیے جس کے نتیجے میں تبادلہ ہوا تو والدہ کو بھی افسوس ہوا۔ ہاں یکسوئی کبھی خراب نہیں ہوئی۔میرا زندگی میں معمول رہا ہے کہ جو ٹارگٹ ملا اسے حاصل کرنا ہے۔ اس لیے اپنی ٹیم بناتا ہوں تو اس کی عزت بھی کرتا ہوں۔ پیار دیتا ہوں مگر کوئی بدنامی کا باعث بنے تو spareنہیں کرتا۔اپنے ساتھ کام کرنے والوں کوکرائم فائٹنگ ضرور سکھاتا ہوں۔‘‘
فون سنتے سنتے وہ ریسٹ روم چلے گئے۔ واپسی پر ایک دلچسپ سوال ان کا منتظر تھا۔
میں نے ان کے سر کے بالوں کو غور سے دیکھا وہ سلیقے سے جمے ہوئے تھے۔ ہاں کہیں کہیں سے وہ اپنی کمی کا احساس بھی دلا رہے تھے۔ ’’چیمہ صاحب! میں نے متوجہ پا کربات شروع کی۔ ریٹائر ہوکر کیا کریں گے۔ اتنی بھرپور زندگی کے بعد ریٹائرڈ لائف تو بہت ستائے گی…‘‘ میری شرارت کا انھوں نے مزہ لیا۔ کہنے لگے ’’خوب لکھوں گا۔ زیادہ لکھوں گا بلکہ کھل کر لکھوں گا۔
ٹریننگ کے لیے دستیاب رہوں گا۔ طالب علموں کے ساتھ روابط میں اضافہ کروں گا۔ مجھے خوداعتمادی سے بھرے ہوئے اور ملک کے مستقبل پر یقین رکھنے والے بچے بہت بھلے لگتے ہیں۔ چیریٹی کا کام کروں گا۔ گوجرانوالہ میں ایک ایجوکیشن فائونڈیشن بنا کر ذہین مگر کم وسیلہ طلبہ کے لیے وسائل کا بندوبست کروں گا‘‘ اور سیاست …! میں نے لقمہ دیا۔ جج صاحب تو سیاست میں آ کر بھی بہت سرگرم نہیں ہیں۔ کرسی کی پشت چھوڑ کرذرا آگے جھکے ’’سیاست! لکھ لیں، میرا اس میں آنے کا کوئی پروگرام نہیں۔‘‘
دیکھ لیں چیمہ صاحب! بندہ کبھی عوام کے مطالبے پر مجبور بھی ہو جاتا ہے۔ ’’قطعی نہیں۔‘‘ انھوں نے پھر زور دے کر کہا۔اُمید تو نہیں ہے۔ میں نے اپنی بے یقینی کا اظہار کر دیا۔
اب ظاہر ہے مستقبل میں جھانکنے کا ہنر تو ہمیں بھی نہیں آتا اس لیے ان کے جواب کو ہی وقتی طور پر سچ مانتے ہوئے پوچھا ‘ آفس کے بعد کیا کرتے ہیں۔ بولے ’’جب تک ایس پی تھا تو ٹینس کھیلتا تھا۔ اب واک کرتا ہوں۔ صبح تھوڑی سی ایکسرسائز بھی کرتا ہوں…‘‘ ہم نے ان کے جسم پر بھرپور نظر ڈالی۔ سفاری شرٹ نے سمارٹ نیس کا بھرم رکھا ہوا تھا۔ ’’آپ کبھی ادیبوں اور فنکاروں سے ضرور ملا کرتے تھے۔ اب لگتا ہے ملاقات اور مکالمے کی نوبت بہت کم ہی آتی ہے۔‘‘
ہاں یہ درست ہے۔ اصل میں وقت کے ساتھ یہ بھی سمجھ آیا کہ ادیب توٹھیک ہیں فنکار تو اصل ہیرو نہیں ہیں یہ تو بس انٹرٹینر ہیں۔ رٹے ہوئے مکالمے اور بس…اس قوم کو توبہادر‘ بے خوف اورصاحب کردار ہیروز کی ضرورت ہے۔‘‘ وہ بات مکمل کر کے فون پر کسی سے بات کرنے لگے۔ اسی دوران موٹروے پولیس کے ڈی آئی جی ڈاکٹر شکیل اندر آ گئے۔ اُن سے سلام دعا کے دوران ہی میں نے پوچھ لیا موٹروے پولیس میں کتنے جوان ہیں۔ بولے پانچ ہزار جوان ہیں جوrule of law کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ میں نے پوچھا ’’سنا ہے حال ہی میں آپ نے ملک کے وزیردفاع کا بھی چالان کر ڈالا۔ بولے کیا تو ہے مگر آپ تفصیل نہ دیجیے۔
وزرا‘ ججز اور اعلیٰ بیوروکریٹس سبھی سے یہ سلوک ہوتا ہے۔ یہاں قانون سے کوئی ماورا نہیں۔ میرے ذاتی دوستوں کا بھی فون آئے تو کہتا ہوں بھائی ٹکٹ کے پیسے ادا کرو۔ پھر چاہے آ کر مجھ سے لے لینا… میں اپنے کسی آفیسر کوچالان اور ٹکٹ چھوڑنے کے لیے نہیں کہوں گا۔ پھروہ ہنستے ہوئے بولے ایک آفیسر کا فون آیا کہ ایک ٹرالی والا بات کرنا چاہ رہا ہے۔ میں نے بات کی تو وہ بولا کہ وزیراعلیٰ ہائوس کی ٹرالی ہے۔ چھوڑ دیں ورنہ وزیراعلیٰ کوفون کرتا ہوں… میں نے کہا شوق سے فون کر لو میں وزیراعلیٰ کاسیکیورٹی آفیسر رہا ہوں اور وہ محبت سے اکثر میرے گالوں کو تھپتھپایا کرتے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تم سے زیادہ مجھے پہچانتے ہوں گے۔ اس پر وہ خاموش ہو گیا۔
ایک حیرت انگیز بات یہ ہوئی کہ تین طویل نشستوں کے باوجود نہ میرے سوال ختم ہونے میں آ رہے تھے اور نہ ان کے چہرے پر تھکن کے آثار ہویدا ہوئے تھے۔ مگر پھر بھی ملاقات کااختتام تو بہرحال ہونا ہی تھا۔ ’’ایک بھرپور کیرئیر کے عروج پہ آتے آتے کیا کبھی کرپشن کاموقع نہیں آیا۔‘‘ میں نے اپنی طرف سے آخری اوور میں سعید اجمل والا ’’دوسرا‘‘ پھینکا۔ تُرت جواب آیا۔ ’’نہ صرف کرپشن کے بغیر سروائیوکیا بلکہ پورے وجود کے ساتھ کھڑا بھی رہا ہوں۔ میں اپنے نئے آفیسرز کوبڑی محبت سے کہتا ہوں کہ غلط کاموں کاپریشر صرف انہی پر ہوتا ہے جن پر لوگوں کو گمان ہوتا ہے کہ یہ سہ جائیں گے۔ مزاحمت کرنا سیکھ لیں۔ خدا آپ کو کسی ایسی آزمائش میں نہیں ڈالے گا کہ کوئی آپ کے سامنے آ کر آپ کو آفر ہی کر سکے۔
اپنی کرسی سے اُٹھ کردروازے تک آتے آتے وہ کہہ رہے تھے۔ بہترین آفیسر کی ضرورت ہر حکومت کوہوتی ہے۔ آفیسر کا امیج اور انسپائر ہی اس کا اثاثہ ہوتا ہے جس کی ہر کوئی قدر کرتا ہے اور زندگی کے آخری لمحوں تک یہی عزت اور توقیر انسان کواپنی آنکھوں میں بھی سربلند رکھتی ہے۔ اپنے آفس کے باہر کوری ڈور میں جہاں موٹروے پولیس کاعملہ الرٹ کھڑا تھا۔ وہ بالکل جوانوں کی طرح پرجوش طریقے سے گلے ملے۔ وہ گرم جوشی ابھی بھی میرے اندر تازہ لمس کی طرح مسکرا رہی ہے۔
گوجرانوالہ میں مجرموں کا راج
2008ء میں امن و امان کے حالات کراچی سے بدتر ہو چکے تھے۔ انتہائی خطرناک مجرموںکے گروہ راج کر رہے تھے۔اغوا برائے تاوان کا جرم ایک انڈسٹری بن چکا تھا۔ ڈاکے کے ساتھ قتل کی وارداتیں روزانہ کا معمول تھا۔ لوگ خوف اور دہشت کا شکار تھے۔ صنعتکار اپنا سرمایہ باہر منتقل کر رہے تھے۔ان حالات میں انھیں گوجرانوالہ تعینات کیا گیا۔ انھوںنے مجرموں کے خلاف ایسی جنگ کی کہ چار ،پانچ مہینوں میں ہی حالات تبدیل ہو گئے۔
دہشت کی علامت بننے والے خطرناک ڈاکو اور اغوا کار عبرت کا نشان بنا دیے گے۔ کچھ ڈاکو مارے گئے بہت سے ملک چھوڑ کر ہی بھاگ گئے۔ لوگوں نے سکھ کا سانس لیا۔ امن اور تحفظ کے نور کی کرنیںشہر سے نکل کر دور دراز دیہات کے کچے گھروں تک بھی پہنچیں۔ صنعتکار، عام دکاندار، ریڑھی لگانے والے، خاتون ورکرز، لیڈی ٹیچرز اور ڈاکٹرز، پروفیسرز، کالج کی طالبات اور گاؤں میںچارہ کاٹنے والے مزدور بھی اپنے آپ کو محفوظ سمجھنے لگے۔ ان کے ڈھائی سالہ دور کو لوگ آج بھی ایک سنہری دور کے طور پر یاد کرتے ہیں۔
اسی طرح 2012ء میں شیخوپورہ کے امن و امان کے حالات کنٹرول سے باہر ہو گیے تو وزیرِ اعلیٰ کی نظریں پھر ذوالفقار احمد چیمہ پڑیں۔ ان کی تعیناتی کے بعد دو ماہ میںہی حالات ٹھیک ہو گئے۔ خطرناک مجرموں کے گروہوں کو کچل دیا گیا۔ وہ سڑکیں جہاں لوگ دن کو سفر کرتے ہوئے ڈرتے تھے وہاں لوگ آدھی رات کو بلا خو ف سفر کرنے لگے۔ انھوں نے علاقے میں اسلحہ لے کر چلنے پرمکمل پابندی لگا دی اور اس پر سو فیصد عمل کرایا۔ شادیوں کی ان تقریبات میں جہاں تین تین سو کلاشنکوفیں نظر آتی تھیں وہاں ایک پستول تک نظر آنا بند ہو گیا۔
شیخوپورہ میںبھی لوگ سکون کی زندگی گزارنے لگے۔ وہاں کے شہری آج بھی برملا کہتے ہیںکہ جو امن اس کے دور میں نصیب ہوا وہ ساٹھ سالوں میں بھی نہیں ملا۔ اس طرح ملتان روڈ پر واقع ضلع قصور ایک قصبہ بھائی پھیرو کئی سال سے پنجاب میں منشیات کا سب سے بڑا گڑھ بنا ہوا تھا۔ منشیات کی اس منڈی میں منشیات کا اربوں کا کاروبار ہوتا تھا۔ مقامی لوگوں کا خیال تھا کہ اس اڈے کو صرف فوج ہی ختم کر سکتی ہے۔ مگر انھوں نے منشیات کے اس اڈے کو جڑ سے اکھاڑ کر اس لعنت کا خاتمہ کر دیا۔
بچپن
بچپن تو ہمارا بڑا بھرپور تھا۔ گائوں میں ہر قسم کی گیمز کھیلا کرتے تھے۔ آدھی آدھی رات تک کھیلتے تھے۔ مجھے بچپن میں ایک بار پہلوانی کا شوق چڑھا تو ایک استاد کے پاس جانا شروع کر دیا۔ کبڈی تو ہائی اسکول تک کھیلتے رہے۔  بھائی افتخار چیمہ صاحب تقریر سکھایا کرتے تھے۔ وہ اس معاملے میں میرے استاد تھے۔ پہلے وہ لکھ کے دیا کرتے تھے، پھر آہستہ آہستہ ہم خود رواں ہو گئے۔ ایک آدھ دفعہ کہیں کوئی مقابلہ ہوا تو وہ لکھی ہوئی تقریر ہم بھول گئے، مار پڑی،جب مار پڑتی تھی تو ظاہر ہے پھر پناہ لینے کے لیے والدہ صاحبہ کے پاس چلے جاتے تھے، وہی بچاتی تھیں۔
والدہ تو محبت اور برکتوں کا خزانہ تھیں۔ ایک ماں ہی ہوتی ہے۔ پتا نہیں وہ کالم جو میں نے اپنی والدہ کی وفات پہ لکھا تھا آپ کی نظروں سے گزرا یا نہیں، جس نے بھی فون کیا روتے ہوئے فون کیا۔ اسے اپنی ماں یاد آ گئی۔2010 ء کی بات ہے میں آپ کو بتائوں والد صاحب کا گریجوایشن میں ایک مضمون فلسفہ بھی تھا۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ بڑا سوچ سوچ کے مسلمان ہوئے۔ مجھے یاد ہے بچپن میں کہ وہ قرآن شریف لے لیا کرتے تھے اور باغ میں سارا سارا دن زیادہ سے زیادہ ایک صفحہ پر غور فکر کیا کرتے تھے۔ نوجوانی میں تو آپ کو پتا ہے بڑے شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں۔ ہمارے بھی دل میں شکوک و شبہات پیدا ہوتے تھے تو یقین جانیں کہ رجوع ہم پھر والد صاحب کی طرف کیا کرتے تھے۔ تو وہ پھر بہت وضاحت سے کلیئر کر دیتے تھے، بلکہ پوری طرح تسلی کرا دیتے تھے۔
حسن ابدال میںپولیس کا جرنیل
جب ہم حسن ابدال گئے تو اس وقت وہاں انگریز پرنسپل تھے۔ J.D.H Chattman اب پچھلے دنوں کیڈٹ کالج کے موجودہ پرنسپل صاحب نے مجھے بلایا تھا مہمان خصوصی کے طور پر۔ انھوں نے مجھے کہا کہ ہم ہر سال یہاں کسی جرنیل کو بلاتے تھے مگر اس بار فیصلہ کیا کہ ہم پولیس کے جرنیل کو بلائیں۔ یہ جو رینکس ہیں جو آئی جی لگاتا ہے تو یہ جنرل کے رینکس ہیں۔ آرمی کا جو میجر جنرل ہوتا ہے تو وہ بھی یہی رینک لگاتا ہے۔
تو وہ خود بھی میجر جنرل ریٹائرڈ ہیں۔ وہ ہمیں ہال میں لے گئے اور کہا کہ یہ ایسا پولیس کا جرنیل ہے جسے رول ماڈل بنایا جا سکتا ہے۔کیڈٹ کالج کا ماحول بڑا اچھا تھا۔ ایک تو یہ کہ بڑا ڈسپلن ماحول پھر پڑھائی کے اوقات مقرر ہیں۔ صبح اٹھ کے سورج نکلنے سے پہلے پی ٹی اس کے بعد آپ ناشتا کے لیے جائیں گے اکٹھے۔وہاں سب کھڑے ہوں گے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھا جائے گا۔ سارے بیٹھ جائیں گے۔ ناشتا کریں گے اور ناشتا کے بعد یونیفارم میں کلاسز ہوں گی۔کیا پڑھائی اور کیا تربیت ہوتی تھی۔
وہ اداروں میں کیسے تبدیلی لائے
2012-13ء میں لوگوں کو نئے پاسپورٹ ملنا بند ہو گئے۔لاکھوں لوگ مارے مارے پھرنے لگے۔ ایک قومی بحران پیدا ہو گیا۔بیرونِ ممالک میں پاکستانیوں نے اپنے سفارتخانوں پرحملے کرنا شروع کر دیے۔ ملک کی بے حد بد نامی ہونے لگی۔ ان حالات میںنگران حکومت نے ذوالفقار چیمہ کو امیگریشن اینڈ پاسپورٹ کا سربراہ مقرر کیا تو انھوںنے چند ہفتوں میں نو لاکھ کا بیک لاگ نکال دیا اور ایک ڈوبے ہوئے ادارے کو تین مہینوں میں اپنے پاؤں پر کھڑا کر کے معجزہ کر دکھایا۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر بطور سربراہ ادارہ آپ کے دامن پر کوئی داغ نہیں، آپ کی نیت صاف اور اپنا حدف حاصل کرنے کے لیے ارادہ مصمم ہے تو پھر کچھ بھی نا ممکن نہیں ہے۔
موٹر وے پولیس ملک کا ممتاز ترین اور معتبر ادارہ ہے۔ گذشتہ چند سالوں میں اس کی کارکردگی اور معیار پہ سوال اٹھنے لگے تھے۔ بنیادی وجہ یہ تھی کہ کارکردگی پر حوصلہ افزائی اور انعامات کی کمی کے باعث فورس کا مورال گرا ہوا تھا۔
فورس کا معیار نہ صرف بحال ہوا ہے بلکہ کارکردگی بھی بہتر ہوئی ہے۔ پٹرولنگ والی گاڑیاں جو نظر آنا بند ہو گئی تھیںاب چوبیس گھنٹے پٹرولنگ کرتی نظر آتی ہیں۔ عام لوگوں کو ٹریفک کی تعلیم دی جا رہی ہے۔ ڈرائیونگ اسکول کا آغاز کیا گیا ہے۔ ہائی وے پر ہیوی گاڑیوں سے کئی ماہ کی کوشش کے بعد فاسٹ لین خالی کرا لی گئی ہے۔ ہمیشہ ایک اعلیٰ پائے کے لیڈر کا کردار نبھانے کے باعث پولیس فورس ان کے ساتھ مل کر لڑنے کے لیے اور فرائض کی ادائی میں جان تک قربان کرنے کے لیے بھی تیار ہوتی ہے۔آئیے ایک بہادر، جرأت مند اور ایماندار ہی نہیں بلکہ پولیس کے ایسے موثر جرنیل سے ملتے ہیں جو نتائج پیدا کرنے پر یقین ہی نہیں رکھتا، کر کے دکھاتا بھی ہے۔

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers