چارلی چپلن کا شو دیکھ کر لوگ بہت زیادہ ہنستے تھے، مگر خود چارلی چپلن اندر سے غمگین رہتا تھا، تمام مادّی ساز و سامان کے باوجود اُسکو اپنی زندگی میں خوشی حاصل نہیں ہوئی۔
کہا جاتا ہے کہ ایک بار ایک نفسیاتی ڈاکٹر کے پاس ایک شخص آیا، اُس نے کہا کہ میں بہت زیادہ افسُردہ رہتا ہوں، آپ مُجھے کوئ ایسی تدبیر بتائیے کہ میں خوش رہ سکُوں، ڈاکٹر نے اُس سے کہا کہ تُم چارلی چپلن کا شو دیکھا کرو،
آنے والے نے کہا کہ میں ہی تو چارلی چپلن ہوں!، میں دوسروں کو ھنساتا ھوں لیکن میرا دِل اندر سے روتا ہے۔
چارلی چپلن ایک کامیڈین تھا، مگر جب موت کا وقت قریب آیا تو وہ اپنی نفسیات کے اعتبار سے ایک ٹریجیڈین بن چُکا تھا، وہ شخص جو دوسروں کو ھنساتا تھا،
اُس نے اپنی حالت پر ایک بار ان الفاظ میں تبصرہ کیا کہ ' میں بارش میں چلنا پسند کرتا ہوں تاکہ کوئی میرے بہتے ہوئے آنسوؤں کو نہ دیکھ سکے:
‘I always like to walk in the rain, so that no one can see me crying’
یہی اس دُنیا میں ہر عورت اور ہر مرد کی کہانی ہے، لوگ مصنوعی طور پر ھنستے ہیں لیکن اندر سے انہیں کوئی خوشی نہیں حاصل ہوتی، لوگ مصنوعی طور پر اپنی کامیابی کے قصّے بیان کرتے ہیں، لیکن اندر سے وہ شِکست خوردہ نفسیات میں مبتلا رہتے ہیں،
حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دُنیا میں کسی کے لئے بھی خوشی اور راحت نہیں،
""خوشی اور راحت صرف آخرت میں ہے""، جو موت کے بعد آنے والے دورِ حیات میں صرف خُدا پرست عورتوں اور مردوں کو حاصل ہوگی، بنانے والے نے موجودہ دنیا کو عمل کے لئے بنایا ہے، یہاں پر صرف عمل برائے مُسرّت ممکن ہے، نہ کہ خود مُسرّت کا حُصول
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers