کس کا ہے؟‘‘
میں اپنی جھلنگا چارپائی میں دھنسی مزے سے ٹیگور کا اُردو ترجمہ پڑھ رہی تھی جب امی جی نے گرجدار آواز کے ساتھ رجسٹر کا ایک بڑا سا ورق میری آنکھوں کے سامنے لہرایا۔
اُچھل تو میں امی کی غضب ناک آواز سُن کر ہی پڑی تھی مگر جب میں نے رجسٹر والے ورق کی تحریر کو پہچاننے کی کوشش کی، تو میرے پیروں تلے سے زمین بھی سرک گئی۔    تفصیل سے پڑھیے

’’کس کا ہے یہ؟‘‘ امی جی نے پھر پوچھا پہلے سے بھی زیادہ غصے سے۔ جج…جج… جی… م… میرا نہیں ہے یہ؟‘‘ میرے حلق سے ہکلاتی ہوئی آواز بمشکل برآمد ہوئی۔
’’یہ تمھارا ہی ہے…‘‘ امی جی نے کاٹ دار آواز میں ایک ایک لفظ یوں ادا کیا کہ میرے شریر کے روم روم سے پسینہ چھوٹ پڑا۔
’’کیا میں تمھاری لکھائی نہیں پہچانتی…میں نے تمھیں ہاتھ پکڑ کر لکھنا سکھایا ہے۔ سیکڑوں بار ایک ایک لفظ پر قلم پھروایا ہے۔ مجھ سے جھوٹ بول رہی ہوتم…؟‘‘
’’اَم…اَمی جی…میں جھوٹ نہیں بول رہی۔‘‘ میں منمنائی بالکل اپنی سفید ٹیڈی بکری کے ننھے والے میمنے کی طرح۔ اور پھر دل میں بڑ بڑائی ۔
’’امی جی آپ نے جھوٹ بولنا سکھایا بھی کہاں ہے۔‘‘
میں دل ہی دل میں خود کو کوس رہی تھی جب میں نے اس جرم کا ارتکاب کیا تھا۔ مجھے لکھنے کی لت شروع ہی سے تھی، کہانیاں، مضامین، شاعری…مگر رجسٹر کا یہ ورق نہ میری کسی کہانی کا پارٹ تھا نہ محض شاعری تھی۔ یہ ورق اُردو ’’ب‘‘ کے رجسٹر سے پھاڑا گیا تھا جس میں مضمون، درخواستیں، چچا، دوست وغیرہ کو خطوط لکھے گئے تھے۔ مگر یہ ’’محبت نامہ‘‘ ہرگز ہرگز چھٹی جماعت کے سلیبس میں شامل نہ تھا’’اگر اب ہوگیا ہو تو کچھ خبر نہیں۔‘‘
جی ہاں یہ ایک عدد’’لَولیٹر‘‘ تھا۔ اور امی جان کے ہاتھ لگ گیا تھا۔ آج مجھے سمجھ آیا کہ عملی طور پر چُلو بھر پانی میں ڈوب مرنے کا کیا مطلب ہے اور اس قسم کی سُوسائیڈ کمٹ (Suicide Commit)کرنے کا مقام کب اور کیسے آتا ہے۔
اس وقت میں نے اپنے دماغ میں کلبلانے والے کیڑے کو جو مجھے کاٹ کاٹ کر لکھنے پر مجبور کیا کرتا تھا۔ بڑا لعن طعن کیا دل چاہ رہا تھا اگر وہ کیڑا میرے ہاتھ میں آجائے، تو اسے دادی کی مرغیوں کے آگے ڈال دوں جو اسے چٹ پٹ کھینچا تانی کرکے نگل جائیں اور دوبارہ کبھی قلم کو ہاتھ ہی نہ لگائوں۔ اَمی حضور کے سامنے ایسی ذلت میں نے آج تک محسوس نہ کی تھی۔ لکھنا اور پڑھنا دو ہی شوق تھے میرے اور شاید اسی کی بنا پر آج ایک چھوٹی سی غلطی بہت بڑی بن گئی اور مجھے خوابوں کی دنیا سے نکال کر حقیقت میں لا پٹخا…بلکہ آسمان سے زمین پر گرا دیا۔
ہمارے گھر میں پڑھنے لکھنے والا ماحول تھا۔ ہوتا بھی کیوں نا؟ میرے ابو جان مڈل اسکول کے ہیڈ ماسٹر تھے۔ امی ہائی اسکول کی ٹیچر تھیں۔ دادی جان نے انگریزوں کے زمانے میں پڑھاتھا اور ساری عمر ٹیچنگ کی تھی۔ میرے پردادا یہاں کی مسجد کے پہلے اِمام تھے (شاید اسی لیے ابو جان کو حلوے اُوجھڑی، سری پایوں سے خاص رغبت تھی) اور دادا جان بھی کافی بڑے اِسکالر رہے تھے۔ حکمت بھی جانتے تھے۔ سو ہمارے گھرانے کو شہر بھر میں بڑی عزت و اکرام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔
ہمارے آبائو اَجداد کی اسی علم سے محبت ہی کا نتیجہ تھا کہ گھرمیںکتابیںہی کتابیں تھیں۔ بے پناہ کتابیں… ہر موضوع اور ہر سائز کی کتاب ہمارے گھر میں موجود تھی۔ طب اور حکمت سے لے کر ہومیو پیتھی کی کتب، اقبال،غالب اور حالی کے کلام سے لے کر فیض کی شاعری تک، انگریزوں کے زمانے کی خانہ داری کی کتابوں سے لے کر اسکائوٹنگ تک، ابنِ بطوطہ کے سفرناموں سے نسیم حجازی کے ناولوں تک، قصص الانبیا سے لے کر حکایات رومی تک، سنن ابی ماجہ و دائود سے لے کرلولو و المرجان تک، کرشن چندر، ممتاز مفتی، منٹو، ٹیگور، انشا وغیرہ سب موجود تھے۔
تازہ ترین اضافہ اشتیاق احمد کے جاسوسی ناولوں علی عمران سیریز اور سائنسی ڈائجسٹوں کا تھا۔
اس خزانے میں بڑی پُرانی پُرانی اور شاہکار و نادر و نایاب کُتب بھی موجود تھیں۔ دادا پردادا کی ہاتھ سے لکھی فارسی اور عربی کی ڈھیروں کتابیں اور نسخے رکھے تھے۔ جن کا رنگ بتدریج زردی مائل بھورا ہوتا جارہا تھا۔ بہت سی کُتب پر کپڑے کے بد رنگ بوسیدہ کور چڑھے تھے جو ذرا سخت ہاتھ لگنے سے پھٹ جاتے۔ کبھی کبھار دادی جان آٹے کی لئی بنا کر موٹا سا سوئی دھاگا لیے کسی کتاب کی جلد کردیا کرتی تھیں،تو کبھی گتے کے کور پر اَبری چپکاتی نظر آتیں۔ گرمی میں ہم چھٹیوں کے کام والے دستے بھی دادی جان سے جلد بند کروایا کرتے تھے۔
بے پناہ کتابوں کا ذکر سن کر آپ کے ذہن میں یقینا ایک منظم گھریلو لائبریری یا خوبصورت بڑی سی اسٹڈی کا تصور آیاہوگا جس کے اندر پرانی لکڑی کی دیوار گیر الماریاں سجی ہوں گی شیشے کے پٹوں والی اور ان میں ڈھیروں کتابیں بھری ہوں گی اور…
لیکن نہیں ایسا کچھ بھی نہیں تھا ہمارے گھر میں۔ یہاں تو ہر کونے میں کتابیں ہی کتابیں نظر آتی تھیں۔ الماریوں میں میزوں کے اوپر، دادی کے تخت پر، ابو کے سرہانے،طاقوں میں، پڑ چھتی پر، یہاں تک کہ باورچی خانے کی آدھی الماری بھی کتابوں سے بھری تھی۔ صندوقوں اور پیٹیوں میں بھی کتابیں ہی کتابیں بھری تھیں۔
ایک بار ہمارے گھر میں چورگھس آئے۔ سارے بکس،پیٹیاں کھولنے پر بھی انھیں کچھ نہ ملا اتنے شرمندہ اور بد حواس ہوئے کہ اپنی سائیکل بھی چھوڑ گئے بے چارے۔ غرض یہ کہ کتابیں ہی ہمارے گھر کا اثاثہ اور سرمایہ تھیں۔ اور فخر بھی ۔اور کتابوں کا اصل خزانہ تو ایک اسٹور میں موجود تھا۔ا سٹور بھی کیا تھا۔ کسی زمانے میں پرانا سا برآمدہ ہوا کرتا تھا جس کے سامنے دیوار چن کر لکڑی کا دروازہ لگا دیا گیا تھا اور دونوں اطراف کے جھروکوں میں اینٹوں کے ٹکڑے پھنسا کر لیپائی کردی گئی تھی اور چوتھی طرف پہلے ہی بند تھی۔
اس اسٹور میں جِست کے بڑے بڑے پتیلے، پیتل کی قلعی شدہ پراتیں اور تسلے، کانسی کی گاگریں، بڑے بڑے جناتی سائز کے سُرخ مٹکے، چھوٹے چھوٹے کوزے اور پرانے گھڑے، تنکوں کے چھاج، گندم کے توڑے، آٹے کا ڈرم، ایک مٹی کا تندور، بڑی سی چکی کے بھاری بھاری پاٹ، آٹے کی سویاں بنانے والی ’’گھوڑی‘‘ جسے میٹھی عید پر نکالا جاتا تھا اور چارپائی کے سیروا میں پھنسا کر میدے کی سویاں بنائی جاتیں پھر ان سویوں کو خشک ہونے کے لیے چارپائیوں پر دھلی چادریں بچھا کر ڈال دیا جاتا۔
اس اسٹور میں ضرورت کی ہر چیز مل جایا کرتی تھی (ڈھونڈنے پر) جیسے درانتیاں، بسولے، کھرپے، کڑچھے، بوریاں اور گٹو، بانس مدھانی،رسیاں وغیرہ وغیرہ۔
یہاں لکڑی کی دو پرانی پیٹیاں اور ایک بڑا جستی صندوق کتابوں سے بھرے ہوئے تھے۔ کچھ گتے کے ڈبوں میں بھی کتابیںٹھنسیتھیں۔ جن میں زیادہ تر نصابی کُتب اور ڈائجسٹ رسالے وغیرہ تھے۔
یہ اسٹور گرم لمبی دوپہروں میں میرا اور بھِڑوں کا پسندیدہ ٹھکانہ ہوتا تھا۔ میں یہاں ایک جھلنگاسی چارپائی پر پڑ کر کتابیں چاٹا کرتی اور وہ زوں زوں کرتی اپنے چھتے بڑھایا کرتی تھیں۔ چھوٹے وقتوںمیں…میرا مطلب ہے جب ہم بچے ہوا کرتے تھے تو چپل لے کر بھڑ مارنے اور نفل ثواب کمانے کا مقابلہ کیا کرتے تھے۔ اب مجھے بھڑوں سے کوئی خاص عداوت یا رغبت نہیں رہی تھی کیونکہ ان کے کاٹنے کی اتنی عادت ہو چلی تھی کہ گرمیوں میں کبھی میری آنکھیں سوج کر بند ہوئی ہوتیں کبھی چہرا چینیوں جیسا لگتا کبھی میرے لیے پلنگ یا چارپائی پر تشریف رکھنا ممکن نہ ہوتا…
بس مجھے چڑ تھی تو اس اسٹور میں کھُسر پھُسر کرتے چوہوں سے جو میری محبوب کتابوں کے دشمن تھے۔ معاف کیجیے گا بات چلی تھی لکھنے پڑھنے اور محبت نامے سے اور آن پہنچی چوہوں تک۔ حالانکہ چوہوں کا محبت سے تو کوئی تعلق نہیں(کیا پتا ہو بھی…وہ بھی آپس میں محبت کرتے ہوں…آخر کو اللہ کی مخلوق ہیں نا انھیں بھی محبت کرنے کا پورا حق ہے)۔
قصہ مختصر اسی اسٹور سے مجھے پڑھنے کی لت لگی۔ وہیں لکھنے کا کیڑا جاگا۔ شاعری اور انشا پردازی کی کتب پڑھ پڑھ کر۔ بچپن ہی میں قافیہ، ردیف، وزن، بحر اور مشکل ترین الفاظ سے اچھی خاصی شناسائی ہوگئی تھی جبھی تو اُردو کے پیپر میں مجھے سو بٹا سو نمبر ہی ملا کرتے تھے جو کسی اور کو نہیں ملتے تھے)۔
اسی اسٹور میں مطالعہ کرتے کرتے لکھنے کا شوق پیدا ہوا اور انہی کتب نے مجھے اپنی دنیا میں یوں سمو لیا کہ مجھے کائنات کی سب سے پیاری چیز کتاب لگا کرتی تھی۔ یہ دوستی آج بھی چھوڑے نہیں چھُٹتی۔ انہی کتابوں کی بدولت میرا علم ہم عمر بچوں اور ہم جماعتوں سے کہیں زیادہ تھا۔ میری ٹیچرز مجھ سے نوٹس لکھوا کر باقی کلاس میں بانٹا کرتی تھیں۔
ویسے بھی
کتابوں کے جنگل میں
بسنے والے
تخیل کی آلتی پالتی مارے
کنول آسن میں بیٹھے
سادھو صفت من چلے سودائی
کتنی جلدی
وقت سے پہلے
بوڑھے ہوجاتے ہیں…
…٭…
’’یہ صلہ دیا تم نے ہمارے اعتبار اور پیار کا…؟ تمھاری تربیت میں کہاں کمی رہ گئی تھی؟‘‘ امی جان بھگو بھگو کر مار رہی تھیں اور میں آنکھوں میں آنسو لیے کانپتی کھڑی رہی۔
میں تو اپنے والدین کا اعتبار توڑنے کا تصور بھی نہیں کرسکتی تھی۔ ’’باپ دادوں کی عزت کو مٹی میں ملانے سے پہلے کچھ تو سوچا ہوتا؟‘‘ ہائے امی جی…میں تو اس وقت شرم سے زمین میں گڑگئی۔ اپنے والدین کا سر نیچا ہونے کا تصور ہی مجھے روح تک لرزا گیا۔ مجھ میں ہمت نہ تھی کہ نظریں اُٹھا کر اپنی والدہ کا لال بھبھو کا چہرہ دیکھ سکوں۔ مجھ سے تو بولا بھی نہ جارہا تھا۔ بھلا امی کو کتنا بڑا شاک لگا ہوگا۔ کتنا دکھ ہوا ہوگا۔ جب اُنھوں نے یہ خط میرے رجسٹر میں پایا ہوگا۔میں نے اس وقت اتنی ذلت محسوس کی جتنی زندگی بھر نہ کی تھی۔ میں اس وقت کو پچھتائی جب میں نے یہ خط لکھا تھا۔
میرے گھرانے کو تو شہر بھر میں بڑی عزت اور تکریم کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ ہر دوسرے گھر میں کوئی نہ کوئی ماں، بیٹی، بہو یا بہن میری والدہ کی شاگرد رہ چکی تھی۔ ورنہ گھر کا کوئی نہ کوئی لڑکا، بھائی، بیٹا میرے والد کا شاگرد تھا۔ ان کے حوالے سے سب مجھے بھی جانتے تھے اور میری بھی عزت کرتے تھے۔حالانکہ میں بچی ہی تھی تب میں اسکول سے پیدل آیا کرتی، تو گلی کے لوفر ترین لڑکے بھی راستہ چھوڑ کر تمیز سے کھڑے ہوجاتے اور ایک دوسرے کو چُپ کرواتے۔
’’خاموشی سے کھڑے ہوجائو ماسٹر صاحب کی بیٹی آرہی ہیں۔‘‘ کبھی امی کے ساتھ تانگے، رکشے میں بیٹھتی تو کوچوان یا رکشے والا امی کو ان کے رعب یا شاید برقع ہی سے پہچان جاتا اور پھر پیسے نہ لیتا کہ’’جی آپ میری بیٹی کی استانی ہیں میں یہ بے ادبی کیسے کر سکتا ہوں؟ آپ کا تو جی میرے پر بڑا احسان ہے۔‘‘
اس زمانے میں علم اور عالم کی قدر اور رتبہ بہت زیادہ ہوا کرتا تھا۔ ویسے یہ کچھ زیادہ پُرانی بات بھی نہیں ہے۔ بیس ، پچیس سال ہی تو ہوئے ہیں۔ اب تو بس عزت اسی کی ہے جس کے پاس پیسہ ہے، عالیشان بنگلوز ہیں، لش لش کرتی گاڑیاں ہیں۔
’’سچ امی…جھوٹ نہیں…یہ میرا نہیں…‘‘ میں نے ہمت مجتمع کی اور مَری ہوئی آواز میں صفائی دینے کی کوشش کی۔ مجھ سے اب اور ذلت برداشت نہیں ہورہی تھی۔
امی کا ہاتھ اُٹھا اور انھوں نے میرا کان پکڑ لیا۔ شدتِ ضبط کی لرزاہٹ میں اُن کے ہاتھ میں بھی محسوس کرسکتی تھی۔
میں کبھی تصور بھی نہیں کرسکتی تھی کہ میری بیٹی… میری بیٹی…میری اولاد…ایسا …ایسا بھی کرسکتی ہے۔
بولو یہ سب کیا ہے؟ کون ہے وہ…؟‘‘
آہ… میں مزید کٹھنائیوں میں آگری…یہ سننا بھی باقی تھا۔
’’اَمی میرا یقین کریں یہ میں نے لکھا ضرور ہے مگر یہ میرا نہیں؟‘‘
اب کے سچ میرے منہ سے نکل ہی آیا۔ اَمی میں نے ایسا کوئی کام نہیں کیا یہ کسی اور کے لیے لکھا تھا میں نے ۔‘‘
ماں باپ کا سر نیچا کرنے کا میں سوچ بھی نہ سکتی تھی۔ ان کی محبت اور اعتبار کو میں اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز سمجھتی تھی۔
’’میں کوئی ایسا کام کر ہی نہیں سکتی امی جس سے آپ لوگوں کے مان کو ٹھیس پہنچے؟‘‘ میں نے اَمی کے آگے ہاتھ جوڑ دیے۔
’’پھر کس کا ہے؟‘‘ کسی کو لکھ کر دیا ہے؟‘‘ امی کا لہجہ قدرے نرم ہوا۔ میں نے سر ہلایا دائیں بائیں بھی اور اوپر نیچے بھی۔ مگر معلوم نہیں ہاں میں پہلے ہلایا ناں میں۔
’’بتائو مجھے کس کا ہے؟ کسی کلاس فیلوز کے لیے لکھا ہے؟‘‘ ’’وہ اَمی جی میں نے وعدہ کیا ہے‘‘ میں ڈرتے ڈرتے بولی جیسے وہ ابھی جوتا اُٹھا کر میرے سر پر مار دیں گی۔
وعدے کی پاسداری بھی تو اُنھوں نے مجھے سکھائی تھی۔
’’ٹھیک ہے‘‘ اَمی نے ایک حتمی نگاہ میرے چہرے پر ڈالی اور کان چھوڑ کر بولیں۔
’’میں کل یہ تمھاری ٹیچر کے پاس لے کر جائوں گی اور اُسی سے پوچھ لوں گی۔‘‘
اس دھمکی پر میرے اوسان ہی نہیں اور بھی کچھ خطا ہوتا نظر آیا۔ میں نے پائوں پر پائوں رکھ کر جُڑے ہوئے ہاتھوں کو اُونچا کیا۔
’’نہیں امی پلیز…ایسا نہیں کرنا…پلیز امی۔‘‘
اسکول میں کتنی عزت تھی میری، ساری کلاس فیلوز پر رعب تھا۔ اُستانیاں تک مجھ سے امتیازی سلوک کرتی تھیں کہ وہ سب میری والدہ کی شاگرد رہ چکی تھیں۔
اس خطرناک بلیک میلنگ پر آخر میں نے امی کو سچ بتا ہی دیا۔
قصہ کچھ یوں تھا کہ امی کے پاس بہت سی لڑکیاں پڑھنے کے لیے آیا کرتی تھیں۔ جب سے امی نے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لی تھی وہ اب گھر پر سارا دن لڑکیوں کو پڑھایا کرتی تھیں۔ ان لڑکیوں میں زیادہ تر تعداد ان غریب لڑکیوں کی ہوتی تھی جنھوں نے اسکول کی شکل تک نہ دیکھی تھی، امی انھیں گھر پر پانچویں، مڈل اور میٹرک کی تیار ی کرواتیں اور پرائیویٹ امتحان دلوا کر ان کا مستقبل سنوارا کرتیں۔
ان میں ایک لڑکی لالی بھی تھی۔ اسے کچھ ہی دن ہوئے تھے امی کے پاس آتے۔ مجھے اس کا چہرہ یاد کرنے کے لیے ذہن پر زیادہ زور نہیں دینا پڑتا۔ آنکھیں بند کیے بنا ہی اس کا چہرہ دیکھ سکتی ہوں۔
موٹی موٹی آنکھیں رنگت بہت سفید تو نہ تھی مگر ٹھیک ہی تھی۔ چہرے پر بھورے ننھے ننھے تل تھے۔ بال بھی سیاہ اور سلکی نہ تھے مگر لمبے ضرور تھے۔ ان میں پراندے ڈالا کرتی تھی وہ۔ لباس کبھی تو بہت عام سا، مسَلا ہوا ہوتا، اس سے عجیب مہک آتی،جیسے ابھی تندور سے روٹیاں پکا کر ہٹی ہو اورکبھی شوخ رنگ کے ریشمی کپڑے جو نہ قیمتی ہوتے نہ نئے لگتے۔ مگر صاف ستھرے ضرور ہوتے۔
وہ مجھ سے پانچ چھ سال بڑی ہوگی مگر جب بھی اسے موقع ملتا مجھ سے دوستی گانٹھنے کی کوشش کرتی۔ کبھی میرے لیے باجرے کی چُوری لے آتی۔ کبھی کٹوری میں مچھلی کا سالن لے آتی۔ کبھی سرسوں کا ساگ خوب سارا مکھن ڈال کر اور میں بھی بڑے شوق سے کھاجاتی۔ اس کے ہاتھ کی کڑھی بہت مزے کی ہوتی تھی۔ امی نے ایک دن اس کو خاص طور پر میرے لیے بلوایا کہ میں اس سے کڑھی بنانا سیکھنا چاہتی تھی۔ وہ بھی اپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ فوراً آگئی۔ساتھ میں بالٹی بھر گاڑھی لَسی لیتی آئی کہ بقول اس کے کھٹی اور گاڑھی لَسی کی کڑھی، دہی والی کڑھی سے زیادہ مزے کی ہوتی ہے۔ اور یہ سچ بھی تھا۔ وہ لسی کو ایک سہ پہر کے لیے باہر ہی رکھ چھوڑتی پھر اس کا پانی نتھار کر پھینک دیتی اور باقی میں بیسن گھول لیتی۔ کڑھی بنانے کے لیے اس نے پہلے ایک پیاز اور ٹماٹر کا مسالحہ بنایا اس میںپسی سُرخ مرچیں، نمک، موٹی کُٹی سرخ مرچ، سفید زیرہ، کُٹا ہوا خشک دھنیا اور کافی ساری ہلدی اور ڈھیر سارا کُٹا ہوا انار دانہ، کٹوری جتنے پانی میں مکس کرکے ڈال دیا۔ پھر بالٹی بھر لسی میں پانچ چھ چمچ بیسن کے اچھی طرح گھولے اور اسے مسالحے میں ڈال کر دو تین گھنٹے ہلکی آنچ پر پکنے دیا۔ ساتھ آلو کی باریک ورقیاں کاٹیں اور بیسن میں اجوائن، نمک، لال مرچ گھول کر پکوڑے تل کر پکی ہوئی کڑھی میں ڈال دیے۔ میں آج بھی اسی طرح سے کڑھی بناتی ہوں جو بہت اچھی بنتی ہے۔ اس دن کے بعد سے میں بھی لالی کے ساتھ بے تکلف ہوگئی۔ اگرچہ ایک امتیاز اور فاصلہ پھر بھی باقی تھا۔ مگر اس نے ثابت کردیا تھا کہ جس طرح میں پڑھائی میں اس کی مدد کیا کرتی تھی۔ وہ بھی مجھے کچھ سکھا سکتی ہے۔ پھر میں نے اُس سے کروشیے کے پھول اور پراندے بھی بنانے سیکھے۔ اَمی جان نے بھی اس پر اعتراض نہ کیا ورنہ مجھے بچپن ہی سے محلے کے بچوں کے ساتھ گھلنے ملنے اور کھیلنے کی اجازت نہ تھی۔ ہمارے گھر کا ماحول عام لوگوں سے بہت مختلف تھا۔ محلے کی خواتین اور بچیاں ہمارے گھر روز آیا کرتی تھیں مگر میں کبھی کسی کے گھر نہیں گئی تھی۔ امی جان خود ہی لوگوں کے دکھ سُکھ پر دادی جان کے ساتھ ہو آتیں۔
لالی اس محلے میں میری پہلی اور آخری سہیلی تھی۔ وہ تو مجھ سے بہت بے تکلف تھی اپنی اور میری عمر کے فرق کو بھی خاطر میں نہ لاتی مگر میری طرف سے پھر بھی ابھی ایک جھجک باقی تھی۔ کبھی کبھی وہ پڑھتے ہوئے مجھ سے عجیب سوال کرنے لگتی۔
’’بیا…تمھارے خیال میں محبت کیا ہے؟‘‘
’’محبت‘‘ …میں سوچ کی طنابیںکَستی۔
’’محبت
لوک داستانوں کی
وہ کتاب ہے
جس میں کہیں مور پنکھ
کہیں سوکھے گلاب رکھے ہوں
محبت
گورے چٹے ہنس راجوں میں
کالے کلوٹے کوے کو بھی
مجبور کر دیتی ہے
جون بدل کر… سفیدہنس راج بننے پر
محبت
آنکھوں کو دل بنادیتی ہے
جو کبھی تو خوب برستے ہیں
اور پھر… دھوپ چھائوں کی آنکھ مچولی میں
پانی کو بھی ترستے ہیں۔‘‘
اس کے سوال پر مجھے اپنی ایک آزاد نظم یاد آگئی جو میں نے اپنے کتابی و مطالعاتی تجزیے کے بعد لکھی تھی۔ حالانکہ مجھے خود تو اس کا کوئی تجربہ نہ تھا۔ سو میں نے وہی اِسے سنا دی…’’بیا…کبھی تم نے محبت کی ہے؟‘‘ وہ پھر سوال کرتی۔
’’ہاں ناں کی ہے ناں…‘‘ میرے جواب پر لالی کی آنکھیں حیرانی سے بڑی ہو جاتیں۔
’’اپنے امی ابوسے، اپنے اللہ سے اور اپنے مُلک سے… امی کہتی ہیں میں بہت محبتی لڑکی ہوں۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو بہت پسند کرتا ہے جو اس کی مخلوق سے محبت کریں۔ اس کے بندوں کے کام آئیں اور محمدﷺ سے محبت تو ہر مسلمان کا سرمایہ ہے۔‘‘‘
میرا لیکچر شروع ہوتا، تو لالی کی توجہ پھر سے کتابوں اور پڑھائی کی طرف مبذول ہوجاتی۔ کبھی کبھی وہ پڑھائی کرتے کرتے کہیں کھو جاتی اور مجھے اُسے خیالوں کی دنیا سے زبردستی واپس لانا پڑتا۔ جیسے تیسے اس نے پرائمری کا امتحان پرائیویٹ دیا اور پاس کرلیا۔ اب وہ چھٹی جماعت کے سلیبس کی تیاری کررہی تھی۔ سب سے زیادہ مشکل اُسے انگریزی سیکھنے میں پیش آ رہی تھی۔ مہینا لگا کر اُس نے اے، بی ، سی پوری لکھنا سیکھی۔ حساب بھی اُس کا قدرے کمزور تھا۔
امّی کے کہنے پر اور خود سے بھی میں اس کی پڑھائی میں خاص مدد کیا کرتی۔
ایک دن میں اِسے چار لائنوں والی کاپی پر انگلش کے چھوٹے چھوٹے الفاظ خوش خطی کے لیے لکھ کر دے رہی تھی۔
’’سنو…بیا!‘‘ اس نے مجھے پکارا،تو میں نے کاپی سے سر اُٹھا کر اِسے دیکھا۔
’’ہاں بولو…لالی۔‘‘ میں بھی اسے اس کے نام سے بُلایا کرتی تھی۔
’’یہ… یہ تو بتائو اِس میں کیا لکھا ہے؟‘‘ اس نے جھجکتے ہوئے اپنی حساب کی کتاب سے ایک کارڈ نکال کر میری طرف بڑھایا۔
’’یہ کیا ہے؟‘‘ میں نے کارڈ کو اُلٹا پلٹا۔ دیکھنے میں تو وہ عید کارڈ ہی تھا مگر عید گزرے مہینا بھر سے زیادہ ہوگیا تھا۔
میں نے کارڈ کھولا، تو انگلش میں کافی لمبی عبارت اور دو چار عشقیہ شعر لکھے تھے اس پر۔کارڈ کسی ’’صدف‘‘ کے نام تھا اور آخر میں’’اسد‘‘ لکھا ہوا تھا۔
’’یہ کس کا ہے اور تمھارے پاس کہاں سے آیا؟‘‘ سرخ گلاب اور تیر میں ترازو دو دِلوں والا کارڈ…پھر اس پر لکھی ہوئی عامیانہ سی عبارت مجھے پسند نہ آئی۔ میں نے اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے وہ کارڈ لالی کو واپس کردیا۔ میں نہیں چاہتی تھی کہ کہیں امی میرے ہاتھ میں یہ کارڈ دیکھ لیں۔
’’دیکھو یہ پڑھ دو…سہیلی نہیں ہو؟‘‘ لالی التجائیہ انداز سے بولی۔
’’تمھیں مِلا کہاں سے یہ؟ اور یہ صدف کون ہے؟ تمھاری کوئی سہیلی یا کزن وغیرہ ہے؟‘‘ میرا اندازہ قدرے مشکوک ہوگیا۔
’’یہ…‘‘لالی ایک دم سے محتاط ہوگئی۔
’’یہ ہمارے گھر کے سامنے جو خالی پلاٹ نہیں ہے جہاں لوگ کوڑا کرکٹ وغیرہ پھینکتے ہیں۔ وہ…وہیں سے اُٹھایا ہے۔‘‘کراہت سے میرا منہ بن گیا۔ مجھے دیکھ کر اِس نے فوراً بات بدلی۔
’’شاید وہیں سے اُڑ کر گلی میں آگیا تھا۔ مجھے اچھا لگا میں نے اُٹھالیا۔ بتائو ناں اس میں لکھا کیا ہے؟‘‘
زبانی اسے بتا دیا اور پھر سے پڑھائی میں مصروف ہوگئی۔
میں شاید اس واقعے کو بھول جاتی مگر صرف تین دن بعد ہی لالی نے مجھے ایک اور چیز دکھائی جس سے میرا شک یقین میں بدل گیا۔
اس دن اَمی کسی کی طرف فوتیدگی پر گئی ہوئی تھیں۔ لالی ان کے لیے ’’بوھلی‘‘ لائی تھی(زچہ گائے یا بھینس کا پہلے چند دن کا دودھ جو رنگت اور ذائقے میں مختلف ہوتا ہے) اور میرے لیے بیسن مکھن اور دیسی گھی سے بنا ہوا حلوہ لے کر آئی تھی۔ اس نے موقع پاتے ہی اپنی ایک کتاب میں سے دُہرا تہرا کیا ہوا ورق نکالا اور مجھے تھما دیا۔
اس سے پہلے کہ میں اس کاغذ کو کھولتی۔ لالی نے اپنے دونوں ہاتھوں سے میرے ہاتھ تھام لیے۔
’’دیکھو…بیا پہلے تم مجھ سے وعدہ کرو …قسم اُٹھائو کہ تم کسی سے کچھ نہیں کہو گی۔ دیکھو میں تمھاری مِنت کرتی ہوں تم میری اچھی سہیلی ہو نا…پکی والی… دیکھو پہلے قسم اُٹھائو۔‘‘
اس نے اس طرح سے میری مِنت کرنا شروع کردی کہ مجھے وعدہ کرتے ہی بنی۔ قسم اُٹھانے سے میں نے انکار کردیا تھا کہ میں قسم نہیں اُٹھاتی تھی۔
اور جناب جب میں نے وہ کاغذ کھولا، تو یہ دیکھ کر میرا دل تیزی سے دھڑکنے لگا کہ وہ’’ محبت نامہ‘‘تھا۔ اُسی ’’اسد‘‘ کی طرف سے اُسی ’’صدف‘‘ کے لیے…
یہ کیسے اتفاق ہوسکتا تھا کہ لالی نے یہ خط بھی کوڑے سے اُٹھایا ہو… انہی فریقین کا… ناممکن …
’’لالی مجھے سچ سچ بتائو ورنہ میری تمھاری دوستی ختم۔‘‘ یہ سُن کر لالی تو جناب دھواں دھار رونے لگی۔
’’ہائے بیا میں کیا کروں…مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی، اب تو میں واپس بھی نہیں جاسکتی۔ اتنا آگے بڑھ چکی ہوں…‘‘ لالی کی حالت دیکھ کر مجھے اس پر ترس آنے لگا۔ پھر اس نے مجھے الف سے یے تک پوری داستان سُنا ڈالی۔
وہ لڑکا اس کے ساتھ والے گھر میں رہتا تھا۔ یہ چکر کئی مہینوں سے چل رہا تھا۔ ابھی تک کسی کو کانوںکان خبر نہ ہوئی تھی۔ وہ لڑکا اس شہر نوکری کی غرض سے آیا تھا اور اس گھر میں کرائے پر رہ رہا تھا۔ اس کے پاس ایک موٹر سائیکل بھی تھی۔ لالی اس لڑکے کی محبت میں اتنی ڈوب چکی تھی کہ اس کے بغیر زندگی کا تصور اس کے لیے محال تھا۔
’’دیکھو…اگر وہ مجھے نہ ملا تو میں مر جائوں گی…سچ میں کچھ کھا کر اپنی جان دے دوں گی۔‘‘ لالی نے اتنے دکھی لہجے میں کہا کہ مجھے اس سے ہمدردی ہونے لگی۔ میرا دور دور تک اس قسم کی محبت کا کوئی تجربہ نہ تھا۔ نہ کبھی اس قسم کی کوئی بات سنی تھی۔ بس کتابوں، رسالوں میں پڑھا تھا۔
’’لالی…تمھیں پتا ہے تم کیا کررہی ہو؟ یہ بہت غلط بات ہے؟‘‘ میں نے’’تین عورتیںتین کہانیاں‘‘ میں جتنی محبت اور عشق میں ناکامی کی داستانیں پڑھی تھیں ان کی رو سے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔ جھجک کے باعث مجھ سے محبت اور عشق جیسے الفاظ تک زبان پر نہ لائے جارہے تھے کہ ہمارے گھر میں بڑی شائستہ زبان بولی جاتی تھی اور اس قسم کی باتوں کا سایہ تک ہماری سوچ اور سماعت پر نہ پڑاتھا۔
’’اب تو میں یہ غلطی کر چکی ہوں…اب میں اس کے بغیر نہیں جی سکتی۔ اب میں کیا کروں ؟ کچھ سمجھ نہیں آتا۔‘‘
’’بھئی اس سے کہو رشتہ بھیجے تمھارے گھر اور سیدھے سادھے رائج طریقے سے تمھیں دلھن بنا کر اپنے گھر لے جائے۔
’’یہی تو مشکل ہے۔ اس کی اور ہماری ذات بالکل مختلف ہے۔ نہ اس کے گھر والے مانیں گے نہ میرے…‘‘
’’تو بھئی یہ تو تمھیں پہلے سوچنا چاہیے تھا۔‘‘
(ہم…جہاں ذات پات کا مسئلہ ہو تو لڑکے لڑکیوں کو آنکھ مٹکانے سے پہلے دوسرے کی ذات پوچھنی چاہیے یہاں تک کہ نام پوچھنے سے بھی پہلے۔ تاکہ جو مسئلے بعد میں کھڑے ہوتے ہیں ان سے پہلے ہی دوسری جانب رُخ موڑ لیا جائے۔ کیا خیا ل ہے آپ کا؟)
’’تو بھئی جب تمھاری شادی ہی نہیں ہوسکتی تو پھر دو حرف بھیجو… اب کیا چاہتی ہو تم؟‘‘
’’تم نہیں سمجھ سکتیں بیا…میں اس کے بغیر نہیں جی سکتی…وہ بھی کہتا ہے کہ اگر میں اسے نہ ملی تو وہ خودکشی کرلے گا۔ ہم نے سچا پیار کیا ہے؟‘‘
اِس وقت میری عمر بھی کچھ اتنی زیادہ نہ تھی کہ میں سچے پیار کی سچائی تلاش کرسکتی یا اسے کوئی اور راہ سمجھا سکتی۔ اپنی طرف سے تو میں نے اسے سمجھایا مگر وہ اب سمجھنے سمجھانے کی حدود سے نکل چکی تھی۔ میں بھی اپنی کم عمری اور ناتجربہ کاری کی وجہ سے ان کی ’’سچی محبت‘‘ پر ایمان لے آئی۔مجھے واقعی فکر لگ گئی کہ لالی کچھ کھا مرے گی یا ٹرین کی پٹڑی پر جان دے دے گی جو اس کے گھر کے بالکل پیچھے تھی۔ سمجھ نہ آئی کہ کیسے اس کی مدد کروں؟ کیسے اس کا گھر آباد کروں؟ خیر خانہ آبادی تو ذرا بعد کی بات تھی فی الحال تو لالی نے مجھ سے دوستی کے نام پر وعدے کے بعد ایک اور مدد مانگی۔
’’میری بہن تمھیں پتا ہے میری لکھائی اتنی اچھی نہیں ہے اور نہ ہی مجھے شعر و شاعری آتی ہے۔ تم تو اتنا خوش خط لکھتی ہو کہ لگتا ہے کاغذ پر موتی پروئے ہوں لفظ لفظ میں…کتنی کتابیں پڑھتی ہو…کتنے ہی شعر تمھیں زبانی یاد ہیں…‘‘
یہ وہ زمانہ تھا جب میں نے نئی نئی شاعری شروع کی تھی، چھوٹی چھوٹی کہانیاں تو میں بچپن ہی سے لکھتی آرہی تھی۔ لالی کی تعریف پر میں پھولے نہیں سمائی۔ دس منٹ میری تعریف میں رطب اللسان رہنے کے بعد وہ اپنے مطلب پر آگئی۔ اسے اندازہ ہوگیا تھا کہ لوہا گرم ہے اب چوٹ لگانے میں دیر نہیں کرنی چاہیے۔
’’میری پیاری سہیلی…میری اچھی بہن تم مجھے ایک خط لکھ دوناں…صرف ایک خط۔ تم تو بہت اچھی ہو۔‘‘
عام حالات میں یہ سُن کر مجھے چار سو چالیس ووٹ کا جھٹکا لگنا چاہیے تھا مگر اس نے اپنی چرب زبانی سے یوں چوپڑ چوپڑ کر مجھے مکھن لگایا تھا کہ میں فوراً مان گئی۔ ویسے بھی اب مجھے لالی کی لَو اسٹوری میں مزا آنے لگا تھا۔ یہ سب میں نے کہانیوں رسالوں میں پڑھا تھا۔اب اس سچی محبت کے حقیقی کردار کو میں آنکھوں سے دیکھ رہی تھی۔ میں اس وقت خود کو مستقبل کی بہت بڑی رائٹر اور شاعرہ کے روپ میں دیکھ رہی تھی۔ لالی کے لیے’‘’لو لیٹر‘‘ لکھنا مجھے اپنے لیے ایک چیلنج کی طرح لگا۔ میں نے اپنی جملہ صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کا فیصلہ کر لیا۔ دو دن لگا کر میں نے تین صفحوں پر مبنی ایسا زبردست لیٹر لکھا کہ کسی ادب کے شائق نے بھی کیا لکھا ہوگا۔ بہت ساری کتابیں ٹٹولیں، رسالوں کی شامت آئی۔ اپنے دماغ کی گراریاں گھمائیں۔ اپنے اوپر کیف آگیں اور خوبصورت سی کیفیت طاری کرکے کچھ شعر اور غزلیں لکھیں۔ واہ کیا ’’لَو لیٹر‘‘ لکھا میں نے !کہ اگر لالی کے اماں ابا کے ہاتھ لگ جاتا، تو اپنی بیٹی کے جذبات سے متاثر ہوکرذات پات، سماج، معاشرے کو بھول کر لڑکے کو گدی سے پکڑتے اور فوراً ہی نکاح کروا دیتے۔
اور پھر یہ سلسلہ چل پڑا پہلے کے بعد دوسرا خط، دوسرے کے بعد تیسرا…لالی اس لڑکے کا جواب مجھے لاکر دکھاتی اور میں اسے دو دن میں نیا خط لکھ دیتی میں اپنی شاعری اور ادب دانی کی پذیرائی پر بہت خوش تھی جس کا اظہار’’اسد‘‘ اپنے خطوط میں کیا کرتا۔ میرے لیے یہی کافی تھا۔ورنہ لالی کا محبوب اسے ہی مبارک، میں تو ایسے معاملات سے کوسوں دور بھاگتی تھی۔ اپنی ذات کے لیے ایسا سوچنا بھی میرے لیے ممکن نہ تھا۔ ویسے بھی کبھی موقع نہ ملا تھا کہ شہر بھر کے لڑکوں کے لیے میں باجی تھی، بہن تھی، چاہے وہ مجھ سے سولہ سال ہی کیوں نہ بڑے ہوں۔ کوئی اسے خوش نصیبی سمجھے یا ستم ظریفی میں نے تو اس سے پہلے کبھی محبت و حبت کے بارے میں سوچا بھی نہ تھا۔ اب مجھے خود پر رشک آتا کہ میرا دماغ کیسا زرخیز ہے۔
لالی، اسد کے موٹر سائیکل کی آواز تک پہچانتی تھی۔ وہ مقررہ وقت پر گیٹ کے ساتھ لگ کرکھڑی ہوجاتی اور اسے اپنی جھلک دکھا کر خط باہر ڈال دیتی۔ وہ بھی مخصوص وقت پر اپنا جواب گیٹ کی درز سے اندر ڈال دیا کرتا۔ لالی نے اصل نام کے بجائے اسے اپنا نام ’’صدف‘‘ بتایا تھا۔ یہ بات میں آپ کو بتانا بھول گئی تھی جو پہلے ہی بتا دینا چاہیے تھی۔
یہ چوتھے خط کی رَف کاپی تھی جو امی حضور نے پکڑی تھی۔ میں نے بھی شاید اس خیال سے سنبھال رکھی تھی کہ اپنی کہانیوں والی فائل میں رکھوں گی پھر ان سب شاہکار خطوط کو اُٹھا کر ایک کتاب کی شکل میں چھپوائوں گی۔ لیکن اس سے پہلے ہی میرے خواب چکنا چور ہوگئے۔(اور یہ اچھا ہی ہوا)۔
ساری حقیقت جان کر امی جان نے لالی کا اس گھر میں آنا اور میرا گھر میں آنے والی تمام لڑکیوں سے ملنا اور بات کرنا بند کردیا۔
ویسے یہ پابندی وقتی ثابت ہوئی تھی۔ شاید امی کے خیال میں میرے لیے اتنا ہی سبق کافی تھا۔ مگر میں نے ان کے تھوڑے کہے کو بہت سمجھ لیا تھا۔
میں نے اپنی اس چھوٹی سی غلطی کو اپنا اتنا بڑا جرم سمجھا کہ خود ہی اپنے پر کئی پابندیاں عائد کرلیں۔ میں نے زندگی بھر کے لیے کسی ایسی محبت کے بارے میں سوچنے سے بھی توبہ کرلی۔ اپنی اُس جرأت کا خیال مجھے آج بھی شرمندہ کردیتا ہے۔ میں نے اپنے والدین کا اعتبار اپنے اوپر پھر سے مضبوط کرنے کے لیے کڑی محنت
کی۔پڑھائی میں بھی اور والدین کی خدمت و فرمانبرداری میں بھی۔ میں نے اپنی شاعری کا رُخ محبت سے موڑکر مزاح اور تصوف کی طرف کرلیا۔ فضول بے سروپا کہانیاں لکھنے کے بجائے ایسی تحریریں لکھنے لگی جو نوجوان نسل کو بے راہ روی اور غلط راستوں سے بچا کر معاشرے کا مفید اور کارآمد انسان بنائیں۔ میں نے اپنے والدین کو ایک بہت اچھی، قابل فخر اور فرمانبردار بیٹی ثابت کرکے دکھایا۔ آج میں جس مقام پر ہوں۔ میری فیملی مجھ پر فخر کرتی ہے۔ اور مزے کی بات سارے قصبے کی جڑ وہ خط، وہ واقعہ،وہ میری غلطی امی کو آج یاد ہی نہیں جس نے میرا راستہ یکسر بدل ڈالا۔ یہ اُن کے مان اور پیار کی انتہا ہے۔ (بچے جس غلطی سے سبق حاصل کرلیں شاید والدین اُس غلطی کو بھول جانا ہی مناسب خیال کرتے ہیں۔)
بس اس ایک محبت کے سوا میں نے سب محبتیں کی ہیں۔ بہت سی محبتیں اپنے اللہ سے محبت، اپنی امی اور ابوجی سے محبت، اپنے بہن بھائیوں اور دادی سے، اپنی سہیلیوں، اپنی ٹیچرز سے، علم اور کتابوں سے، اپنے مذہب اور اپنے وطن سے یہاں تک کہ اپنے پالتو جانوروں سے بھی۔
اتنی محبتوں اور چاہتوں کے بعد مجھے نہ دوسری طرح کی محبت کی خواہش ہوئی نہ کوئی ہوک اُٹھی، میں اتنی سرشار ہوں کہ خود کو خوش قسمت سمجھتی ہوں۔ ہاں خوش قسمت کہ جہاں بھی مجھے اُس محبت کا سایہ نظر آیا میں نے دس گز دور سے اپنا راستہ بدل لیا۔ آپ قطعاً یہ نہ سمجھیں کہ یہ امی حضور کی عزت افزائی کا نتیجہ اور ان کا ڈر تھا۔ اب تک تو آپ کو یہ بات سمجھ آگئی ہوگی۔ ہاں بس میں نے ابھی اپنا قصہ ختم نہیں کیا۔
’’اس خط کے پکڑے جانے اور لالی کی گھر میں آمد پر پابندی کے بعد جہاں مجھے شرمندگی کے احساس نے گھیرا( معلوم نہیں اُسے خود بھی کوئی شرمندگی ہوئی تھی یا نہیں) وہاں مجھے ایک دُکھ نے بھی آن دبوچا۔ ایک انجانا سا احساس تھا۔ ایک فکرسی تھی کہ لالی اب کس حال میں ہے۔ دو سچی محبت کرنے والوں کا کیا ہوا؟
کبھی دُعا کرتی یا اللہ ان دو محبت کرنے والوں کا مسئلہ حل کردے۔ انھوں نے تو ساتھ جینے مرنے کی قسمیں کھائی ہیں۔ وہ تو ایک دوجے کے بنا مَر جائیںگے۔ بے چارے معصوم…
امی سے تو میں نے وعدہ لیا تھا کہ وہ اس کے گھر والوں کو نہیں بتائیں گی اور مجھے امی کے وعدے پر پورا بھروسا تھا۔
مجھے لالی کی طرف سے ڈر لگا تھا کہ کہیں وہ ایسی ویسی بات ہونے پر جان نہ دے دے۔ کتنے دعوے کیے تھے اُس نے۔ کسی اور سے شادی نہ کرنے کی قسم کھائی تھی اس نے۔اب مسئلہ یہ تھا کہ کوئی ایسا نہ تھا جس سے میں لالی کے بارے میں پوچھ سکتی۔ لالی کی کوئی خبر نہ تھی۔ جانے اِسے اس کی محبت مل گئی تھی یا ابھی تک اس روگ کے چکر میں پڑی تھی۔
پھر ساڑھے تین سال بعد وہ مجھے ایک محفل میلاد میں نظر آئی۔ اُسے دیکھ کر میرے سارے سوال پھر سے جاگ اُٹھے۔ میرے اندر بے چینی کی لہر دوڑ گئی۔ ذہن میں خدشات پر خدشات آرہے تھے۔
مگر اس کا ہنستا مسکراتا شوخ سا چہرہ کچھ اور ہی کہانی سُنا رہا تھا۔ سلک کے پرپل سوٹ میں وہ پہلے سے بھی صحت مند لگ رہی تھی۔ البتہ چہرے پر چھائیاں اور بھورے تل زیادہ ہوگئے تھے۔ اس کا پرپل دوپٹا بار بار اس کے بھورے پڑتے بالوں سے سرک رہا تھا۔ کانوں میں موٹے موٹے موتیوں والی بڑی بڑی بالیاں تھیں اور ہاتھ میں ایک لال نگ والی بھدی سی سونے کی انگوٹھی۔
اس کی ڈریسنگ اور چہرے کی بشاشت سے تو لگ رہا تھا کہ اس کے مَن کی مُراد پوری ہوگئی ہے۔ لیکن میں پھر بھی اس کے بارے جاننے کے لیے بے تاب ہورہی تھی۔
میں یہاں اپنی پھو پھو کے ساتھ آئی تھی۔ میلاد ختم ہوا،تو لوگ گھروںکوجانے کے لیے اٹھنے لگے۔ میزبان خاتون پھوپھو کو ایک طرف لے جا کر ان سے کچھ مسئلے مسائل پوچھنے لگیں۔ میں نے موقع مناسب جانا اور اپنی جگہ سے اُٹھ کر لالی کے پاس جا بیٹھی۔ وہ بھی مجھے دیکھ کر بہت خوش ہوئی۔ حال احوال کے بعد میں نے چھوٹتے ہی اس سے سر گوشی کی۔
’’تمھارے قصے کا کیا ہوا؟‘‘
’’کچھ نہیں…حلوہ‘‘ وہ بے فکری سے ہنسی۔ مجھے بے حد اچنبھا ہوا۔
’’کیا مطلب…؟‘‘
’’کھیل ختم پیسہ ہضم…‘‘ اُس کی گفتگو کا انداز بدلا نہ تھا۔
’’بھئی کیا پہیلیاں بجھوا رہی ہو…سیدھی طرح بتائو میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔‘‘ مجھے نہیں پسند تھا کہ میلاد کے بعد میں اس قسم کی باتیں کرنے بیٹھ جائوں مگر مجھے یہ بھی پتا تھا کہ وہ مجھے دوبارہ نظر نہیں آئے گی اور میرا تجسس ویسا ہی رہ جائے گا۔ آج پھوپھو کی وجہ سے گھر سے باہر نکلی تھی پھر جانے کبھی جاسکوں یا نہیں۔’’وہ تو قصہ ہی ختم ہوگیا اب تو دو سال بھی ہوگئے۔‘‘
’’ہائیں مگر کیسے؟‘‘ میری حیرانی دو چند ہوگئی۔
’’وہ بے ایمان، جھوٹا اور دھوکے باز نکلا۔‘‘ وہ میرے کان میں اپنا منہ گھسا کر بولی کہ کوئی سُن نہ لے میں بھی ہمہ تن گوش تھی۔
’’اچھا ہی ہوا کہ پتا چل گیا۔ حقیقت کھل گئی اس دغا باز کی…ہوایوں کہ ہم گھر سے بھاگنے کا پروگرام بنا رہے تھے۔اک دن بھائی نے اسے خط ڈالتے پکڑ لیا…اس کی وہ چھترول کی کہ اس کو نانی یاد آگئی مگر وہ پھر بھی صاف مکر گیاکہ جی یہ میرا خط نہیں ہے مجھے تو پتا ہی نہیں صدف کون ہے؟ نہ ہی میرا نام اسد ہے۔ اس نے اپنا شناختی کارڈ نکال کر دکھادیا جس پر اس کی تصویر کے ساتھ نام ’’منظور حسین‘‘ لکھا تھا۔
اس نے قسموں پر قسمیں کھانا شروع کردیں کہ آپ کی بہن کو تو میں اپنی بہن سمجھتا ہوں۔ میں بڑا شریف عزت دار اور بیوی بچوں والا بندہ ہوں۔اگلے ہی ہفتے اس کا ثبوت اس نے گائوں سے اپنی بیوی اور تین بچوں کو لاکر دے دیا اور اسی ڈھٹائی سے آج تک ہمارے پڑوس میں رہ رہا ہے۔ بے غیرت…‘‘ لالی نے لا پروائی سے ایک طنزیہ قہقہہ لگایااوراُٹھ کھڑی ہوئی۔ لالی کو بھی بھائیوں سے جوتے پڑے تھے۔ بڑی بے عزتی ہوئی اس کی۔ مگر اس کے چہرے پر تو کوئی افسوس کوئی پشیمانی ہی نہ تھی۔ نہ ہی کوئی ملال۔ کمال تھا نا! اس کی کہیں اور منگنی ہوگئی تھی اور وہ اس پر بہت خوش تھی…ہاہ…تو یہ ہوا اُس’’سچی طوفانی محبت‘‘ کا انجام۔
لالی سے محبت اور جان دینے کا دعویٰ کرنے والا اسد عرف منظور حسین تین بچوں کا باپ اور شادی شدہ نکلا۔ جھوٹا اور دھوکے باز…اور آج وہی لالی …کسی اور سے شادی نہ کرنے کی قسمیں کھانے والی لالی، اپنے عاشق کی خاطر زہر کھا کر مر جانے کی دعوے دار لالی،کسی اور کا گھر بسا کر …اس کے نصف درجن بچوں کی ماں بن کر خوش و خرم زندگی گزار رہی ہے۔ لالی بھی، توخوش قسمت تھی کہ اپنے دغا باز عاشق کے ساتھ بھاگی نہیں تھی، نہیں تو جانے بے چاری کہاں رُل رہی ہوتی

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers