4  اکتوبر 1996ء کو جب سترہ سالہ شاہد آفریدی نیروبی (کینیا) کے جِم خانہ کلب گرائونڈ میں اُترے، تو کسی کو علم نہ تھا کہ یہ نوجوان آج نیا عالمیریکارڈ بنا ڈالے گا۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم کا مقابلہ سری لنکن ٹیم سے تھا۔ جب 60رن پر سلیم الٰہی آئوٹ ہوئے، تو شاہد آفریدی میدان میں اُترے۔  آفریدی نے پھر ایسی دھواں دار اننگ کھیلی کہ سری لنکن اٹیک تتر بِتر ہوگیا۔ انھوں نے صرف 36 گیندوں پر سنچری بنا کر ایک روزہ عالمی کرکٹ کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا۔ آفریدی کی تیز ترین سنچری 11 چھکوں اور 6چوکوں پر مشتمل تھی۔        تفصیل سے پڑھیے
اس شاندار سنچری کو یوں بھی شہرت ملی کہ سری لنکن ٹیم نے چند ماہ قبل ہی لاہور میں آسٹریلویوں کو شکست فاش دے کر عالمی کپ جیتا تھا۔ یوں شاہد آفریدی تیز کھیلنے والے کھلاڑی کی حیثیت سے نمایاں ہوئے اور سبھی کو اپنی زبردست بلے بازی اور بہترین بائولنگ سے متاثر کیا۔ واضح رہے، دنیائے کرکٹ کی پہلی30 تیز ترین سنچریوں میں سے چار آفریدی نے بنا رکھی ہیں۔ یہ اعزاز دنیا کے کسی اور کھلاڑی کو حاصل نہیں۔
لیکن آفریدی کو علم ہے کہ ریکارڈ ٹوٹنے کے لیے ہی بنتے ہیں۔ ان کا خیال تھا کہ ان کا قائم کردہ ریکارڈ صرف ویسٹ انڈین کھلاڑی کرس گیل یا آسٹریلین ڈیوڈ وارنر ہی توڑسکتے ہیں۔ ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ایک کیوی کھلاڑی، کوری اینڈرسن یہ اعزاز حاصل کرے گا۔ وجہ یہ ہے کہ نیوزی لینڈ نے پچھلے ایک سو برس میں تیز کھیلنے والے کرکٹر کم ہی پیدا کیے ہیں۔
سو جب 1جنوری 2014ء کو کوری اینڈرسن نے صرف 35گیندوں میں سنچری بنا کر شاہد آفریدی کا ریکارڈ توڑ ڈالا، تو انھیں خاصی حیرت ہوئی۔ انھوں نے کبھی کوری کا نام تک نہیں سنا تھا۔چناں چہ ان کی حیرانی دو چند ہوگئی۔ ان کا کہنا ہے: ’’یہ ایک عظیم کارنامہ ہے اور کوری اینڈرسن تعریف کا مستحق ہے۔ ریکارڈ ٹوٹنے کے لیے ہی بنتے ہیں اور مجھے علم تھا کہ میرا ریکارڈ ایک نہ ایک دن ٹوٹ جائے گا۔ تاہم ٹوئنٹی 20کے آغاز کے بعد کرکٹ بہت تیز رفتار ہوگئی ہے۔ سو مستقبل میں کوئی اور بلے باز 35 گیندوں سے بھی کم بالوں میں سنچری بنا سکتا ہے۔‘‘
کوری اینڈرسن کے چھکوں اور چوکوں کا نشانہ بننے والی بدقسمت ٹیم ویسٹ انڈین تھی۔ جب کوری میدان میںاُترا تو 84رن پر نیوزی لینڈ کے تین کھلاڑی آئوٹ ہوچکے تھے۔ خاصا نازک وقت تھا۔ مگر نوجوان کیوی کھلاڑی نے اپنے اوسان بحال رکھے۔  اینڈرسن نے پھر جیسی رائڈر کے ساتھ چوتھی وکٹ کی شراکت میں191رن بنائے۔ یہ عالمی ایک روزہ کرکٹ کی تاریخ میں چوتھی بڑی شراکت ہے۔ دوران کھیل جیسی رائڈر نے بھی اپنی بلے بازی کے کمال دکھائے اور ویسٹ انڈین بالروں کی خوب پٹائی کی۔ جیسی نے 104رن بنائے جو بارہ چھکوں اور پانچ چوکوں پر مشتمل تھے۔ یہ بھی بین الاقوامی ایک روزہ کرکٹ کی ساتویں تیز ترین سنچری قرار پائی۔
کوری اینڈرسن نے صرف 51گیندوں پر131 رن بنائے۔ اس میں 14چھکے اور 6چوکے شامل تھے۔ گویا کوری نے آفریدی کے مقابلے میں تین چھکے زیادہ مارے۔ یکم جنوری کے میچ میں ایک روزہ عالمی کرکٹ کے کئی نئے ریکارڈ قائم ہوئے۔ مثلاً روی رام پال نے صرف3اوور میں 64رن دیے۔ یہ ایک روزہ کرکٹ میں کسی بالر کی بدترین کارکردگی ہے۔ میچ میں چھے ویسٹ انڈین بالر استعمال ہوئے اور سبھی کو چھکے پڑے۔ ایسا واقعہ بھی شائقین کرکٹ کو پہلی بار دیکھنے کے لیے ملا۔
کیوی بلے بازوں نے میچ میں کُل 22چھکے مارے۔ یہ پہلا بین الاقوامی میچ ہے جس میں اتنے زیادہ چھکے لگے۔  دنیا کی تیز ترین سنچری بنانے والا کوری جیمز اینڈرسن 13دسمبر1990ء کو نیوزی لینڈ کے مشہور شہر، کرائسٹ چرچ میں پیدا ہوا۔ اس کے والد ایتھلیٹ ہیں۔ 1974ء کی کامن ویلتھ گیمز میں حصہ لے چکے ہیں۔ جبکہ والدہ نیٹ بال کی عمدہ کھلاڑی ہیں۔ سو کوری کو بچپن ہی سے کھیل کا چسکا لگ گیا۔
جب کوری ہائی اسکول میں پہنچا، تو باپ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اس نے اتھلیٹک مقابلوں ہی میں حصہ لیا۔ اسی دوران وہ کرکٹ میچ بھی کھیلنے لگا۔ تبھی اسکول کی کرکٹ ٹیم کے کوچ کو احساس ہوا کہ یہ لڑکا عمدہ آل رائونڈر بن سکتا ہے۔ سو اس کی فرمائش پر کوری اسکول ٹیم کا حصہ بن گیا۔ یوں اس کے کرکٹ کیرئیر کا آغاز ہوا۔  کوری اینڈرسن پھر تیز ی سے ترقی کی منازل طے کرنے لگا۔ اس نے انڈر 13اور انڈر17ٹیموں میں رہتے ہوئے عمدہ کارکردگی دکھائی۔ 2006ء کے اواخر میں اُسے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے کی اجازت مل گئی۔ تب اس کی عمر صرف 16سال 89دن تھی۔ یوں پچھلے 59سال کے دوران کوری فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے والا سب سے کم عمر کیوی کھلاڑی بن گیا۔
اب ایک روشن مستقبل کوری کا منتظر تھا۔ مگر بدقسمتی بھی اسی کے تعاقب میں رہی۔ 2009ء تا 2012ء وہ وقفے وقفے سے کندھے اور گھٹنوں کی چوٹوں کا نشانہ بنا رہا۔ ان صدمات نے کوری کو جم کر کرکٹ کھیلنے نہیں دی۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے جون 2013ء میں اپنا پہلا ایک روزہ عالمی مقابلہ جبکہ اکتوبر 2013ء میں پہلا ٹیسٹ کھیلا۔ وہ اب تک پانچ ٹیسٹ اور 12ایک روزہ عالمی مقابلے کھیل چکا ہے۔
بھاگ جاگ اُٹھے
تاہم کوری اینڈرسن کو بین الاقوامی شہرت تیز ترین سنچری بنا کر ہی ملی۔ حتیٰ کہ بھارت کی پیسا لیگ… آئی پی ایل کے چودھری اُسے للچائی نظروں سے دیکھنے لگے۔ سو فروری 2014ء میں ہونے والے آئی پی ایل میچوں کے کھلاڑی منتخب کرنے کی خاطر نیلامی ہوئی، تو کھلاڑیوں میں کوری اینڈرسن بھی شامل تھا۔  اوائل فروری میں ہی یہ افواہ پھیل گئی تھی کہ کوری ہی کی سب سے زیادہ بولی لگے گی۔ بعض حلقوں نے یہ امر ظاہر کیا کہ کوری دس لاکھ ڈالر (تقریباً دس کروڑ روپے) تک پاسکتا ہے۔
ان افواہوں نے کوری کو حیران پریشان کر دیا۔ کیونکہ نیوزی لینڈ میں قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کی مجموعی سالانہ تنخواہ بھی بہ مشکل ایک ڈیڑھ لاکھ ڈالر بنتی ہے۔ جبکہ اِدھر کوری صرف چند میچ کھیل کر ہی دس لاکھ ڈالر کما لیتا… یعنی سات آٹھ برس کی آمدن یک مُشت حاصل ہوجاتی۔  آخر 14فروری کو کھلاڑیوں کی نیلامی ہوئی۔ کوری تب نیوزی لینڈ ہی میں موجود تھا۔ اس نے سارا عمل انٹرنیٹ پر دیکھا۔ توقع کے مطابق کوری کو خریدنے کے لیے آئی پی ایل کی ٹیموں کے مابین زبردست مقابلہ ہوا۔ ہر ٹیم نے دوسرے سے بڑھ کر بولی لگائی۔ آخر ممبئی انڈینز نے ساڑھے سات کروڑ روپے (ساڑھے سات لاکھ ڈالر) کی بولی دے کر اُسے خرید لیا۔
گو یہ قیمت افواہوں پر پوری نہ اُتری، مگر اس نے بھی کوری کو حیرت زدہ کر دیا۔ اس نے کبھی خواب میں بھی نہ سوچا تھا کہ وہ بیٹھے بٹھائے کروڑ پتی بن جائے گا۔ یوں تیز رفتار سنچری بنا کر حقیقتاً اس کے بھاگ جاگ اُٹھے۔  کوری آل رائونڈر ہے۔ دائیں ہاتھ سے بلے بازی کرتا اور بائولنگ کراتا ہے۔ میڈیم فاسٹ بالر ہے۔ دیکھیے، اس سال آئی پی ایل کے میچوں میں وہ کیسی کارکردگی دکھاتا ہے۔ اگر اس نے شاہد آفریدی کے مانند تیز رفتار کھیل دکھانا جاری رکھا، تو روشن مستقبل اِس کا منتظر ہے۔ لیکن اگر اس سے ’’تُکے‘‘ میں تیز ترین سنچری بنی ہے، تو وہ کچھ دیر چمک دکھا کر گوشۂ گمنامی میں چلا جائے گا۔

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers