خاموشی کا مطلب خاموش بھی نہیں جانتا اور تو کوئی کیا ہی جانے گا. جو کسی کی خاموشی نہیں پڑھ سکتا وہ اس کی یا کسی کی گفتگو سے ایسے نہیں مستفید ہو سکتا جیسے کے ہونے کا حق ہے . تو پہلے خاموشی کو ہی لے لیتے ہیں . خاموشی چُپ ہونا نہیں ہے بلکہ خود کے ساتھ ہونا ہے . خود آگاہی کی راہ پر گامزن . ایک آتا ہے اس کے آنے سے کئی لمحہ پہلے اس کے آنے کا معلوم پڑجانا کسی کے جانے کے بعد دیر تک اس کے ہونے کو محسوس کرنا کیا ہے؟اس کی خاموشیوں سے آپ کی خاموشیوں کی ملاقات. آج اس کو کئی نام دیے جا رہے ہیں، ماورائی قوت، سائنسی تجربات، الگ الگ سے نام ، مگر کیا ہے، فطری سی بات ہے، ٹھہراؤ ہو گا تو خود سے ملاقات بھی ہو گی ۔   تفصیل سے پڑھیے
اب سوال یہ ہے کہ ملاقات کیوں ضروری ہے؟ وہ اس لئے کہ خود کو جاننے کا عمل ہو گا تو خود پہ کام ہو گا خود کی اچھائیاں برائیاں ،صلاحیتیں معلوم پڑیں گی. ویسے تو میری مجھ سے اوپری سی ملاقات رہتی ہے، بھلا کیوں، وہ اس لئے کہ میرا مجھ سے وہ ہی تعارف ہوتا ہے اور رہتا ہے جو لوگ مجھے کراتے ہیں، بھلے ماں، باپ، دوست وغیرہ، اور خود کی بہت سی خوبیوں سے میں روشناس نہیں ہو پاتا، خامیاں بھی لوگ بڑھ چڑھ کے بتاتے ہیں میں اس قدر کا خراب بھی نہیں ہوتا. مگر میری اچھائیاں ضرور مجھ سے چھپا لی جاتی ہیں،مجھے ہر لمحہ کہا جاتا ہے تم کسی قابل نہیں، خود کو جانتا ہوں تو خود فیصلے کر سکتا ہوں. خود کے مثبت منفی فیصلوں کے لئے بھی خود کے ساتھ کی ضرورت ہے.

میں کیوں لوگوں کی زبانی خود کے تعارف کو مانوں، جب کہ مجھے مجھ سے بہتر کوئی نہیں جان سکتا مگر مجھے خود کو جاننے کا سفر خود ہی شروع کرنا ہے اور جاری رکھنا ہے، لوگ بھلے کہیں کہ تم نہیں کر سکتے ،نہیں سیکھ سکتے میرا خود کے بارے میں فیصلہ اگر الگ ہے تو ایسا ہی ہو گا جیسا کہ میں خود کو جانتا ہوں. قدم اٹھانے سے ہی سفر طے ہوتا ہے، لوگ قدم ہی اٹھانے نہیں دیتے ڈراتے ہیں. مجھے نہیں ڈرنا، تنہائی ہو اور خود کا ساتھ ہو اس کے سوا کیا چاہئے ، کچھ وقت کرنا ہے ایسے پھر بھاگ بھاگ کے اکیلے نہیں ہونا پڑے گا، تنہائیاں خود ہے میرے اندر سمٹ جائیں گی. میری خاموشیاں مجھ سے باتیں کریں گی ابھی ذرا جلدی ہے۔

گونگے کی ماں اس کی زبان جانتی ہے اور آہستہ آہستہ سب کو سمجھ میں آنے لگ جاتا ہے کہ کیا چاہا جا رہا ہے. ایسے ہی میرا خود کا ساتھ ہے خود کے پاس. جب میں لوگوں کی باتوں پہ خود کی بات کو ترجیح دینے لگتا ہوں، اس وجھہ سے کہ یہ لوگ مجھ کو نہیں سمجھ پاتے تو میں تو خود کو دیکھوں، میں ان سے مطمئن نہیں ہوں مگر ابھی ان کو جواب بھی نہیں دوں گا پہلے خود کے پاس جا کے خود سے پوچھوں. اس سوال پہ کھڑا خود کے ظاہر اور باطن کے ساتھ مساوی مقام پر کھڑا ہے. یہاں سے اس کی خاموشی اور اس کی گفتگو برابر ہے، یہ فلسفہ کی بات نہیں نہ ہی کوئی ماورائی طاقت ہے بلکہ اصل میں فطرت ہے. جس کو ہم جانے انجانے میں کھو کر چالاکیاں اختیار کر کے خود کو کمال پر ماننے لگ جاتے ہیں

اب گفتگو پہ بات کر لی جاے تو خاموشی سے بات چیت تک کا سفر خود ہی طے ہو جاۓ گا. "رنگ باتیں. کریں اور باتوں سے خوشبو آے". اس سے کیا مراد ہے؟ جب رنگ باتیں کر سکتے ہیں تو خاموشی کیوں نہیں، رنگوں کی زبان ہے ان کی رنگت، ان کی موجودگی کا مقام، ان کا گہرا اور ہلکا ہونا. بدن بھی کینوس ہے، اس پہ بھی ہر رنگ نظر آتا ہے جیسے کہ پینٹنگ میں. اور وہ رنگ بدن پر کام کرنے سے نظر نہیں آتے، بلکہ باطن پہ نظر ڈالنے اور ڈالتے رہنے سے عیاں ہوتے ہیں اور پھر آہستہ آہستہ نکھرنے لگتے ہیں. یہ ہی وہ باتیں ہیں جن سے بغیر کیے خوشبو آتی ہے اور کرنے سے بھی. آپ وہ کینوس کیوں بنو جس پہ کوئی اور رنگ بکھیرے بلکہ وہ رنگ بنو جو کسی کے کینوس پر بھی بکھرے اور خود کے کینوس پر بھی خود ہی.

Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers