جرأت کے معنی جدوجہد میں شامل ان ساتھیوں ہی سے میں نے جرأت کے معنی سیکھے ہیں۔ بارہا میں نے مرد اور عورتیں دیکھے ہیں جو ایک نظریہ کی خاطر اپنی جانیں خطرے میں ڈالتے اور نثار کر دیتے ہیں۔ میں نے انسانوں کو ابتلا و اذیت کا مقابلہ ٹوٹے بغیر کرتے اور ایسی قوت اور ثابت قدمی دکھاتے دیکھا ہے جو انسانی تصور سے بالا ہے۔
میں نے محسوس کیا کہ یہ جرأت خوف سے چھٹکارا پانا نہیں بلکہ اس پر غلبہ پانا ہے۔ مجھے یاد نہیں کہ خود میں نے کتنی بار خوف محسوس کیا تھا لیکن ہر بار میں نے اسے دلیری کے نقاب کے نیچے چھپا لیا تھا۔ بہادر آدمی وہ نہیں جو خوف محسوس نہیں کرتا بلکہ بہادر وہ ہے جو اس پر فتح پا لے۔    تفصیل سے پڑھیے
نیکی ایک شعلہ میں نے کبھی امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا تھا کہ یہ تبدیلی عمل میں آئے گی… صرف عظیم ہیروئوں کی وجہ سے نہیں بلکہ میرے ملک کے عام مردوں اور عورتوں کے حوصلے کی وجہ سے۔ میں ہمیشہ جانتا تھا کہ ہر انسانی دل کی گہرائی میں رحم اور کشادہ دلی پنہاں ہوتی ہے۔
کوئی بھی دوسرے شخص کی کھال کے رنگ یا اس کے پس منظر یا اس کے مذہب کی وجہ سے اس سے نفرت کرتا پیدا نہیں ہوتا۔ لوگ نفرت کرنا سیکھتے ہیں اور اگر وہ نفرت کرنا سیکھتے ہیں تو انھیں محبت کرنا بھی سکھا سکتے ہیں کیونکہ محبت نفرت کے مقابلے میں زیادہ فطری طور پر آتی ہے۔
جیل کے مشکل ترین اوقات میں بھی جب مجھے اور میرے ساتھیوں کو تنہائیوں میں ڈالا گیا تھا میں ایک گارڈ میں شاید ایک سیکنڈ ہی کے لیے سہی انسانیت کی رمق دیکھ پاتا تھا لیکن وہ مجھے یقین دلانے اور زندگی کے معمولات جاری رکھنے کے لیے کافی ہوتی تھی۔ انسان کی نیکی ایک شعلہ ہے جسے چھپایا جا سکتا ہے مگر بجھایا نہیں جا سکتا۔
راستہ آسان نہیں تھا ہم نے کھلی آنکھوں کے ساتھ جدوجہد کا راستہ اختیار کیا تھا اور ہمیں کوئی غلط فہمی نہیں تھی کہ راستہ آسان ہو گا۔ ایک نوجوان کے حیثیت سے جب میں نے افریقن نیشنل کانگریس میں شمولیت اختیار کی تھی‘ میں نے اپنے ساتھیوں کو اپنے نظریات کی قیمت ادا کرتے دیکھا تھا اور وہ بہت زیادہ تھی۔
جہاں تک میرا تعلق ہے میں نے جہد آزادی سے اپنی وابستگی پر کبھی افسوس ظاہر نہیں کیا اور میں ہمیشہ سختیوں کا سامنا کرنے کو تیار رہا جنھوں نے ذاتی طور پر مجھے متاثر کیا۔ لیکن میرے خاندان کو میری اس وابستگی کی خوفناک قیمت ادا کرنی پڑی‘ یہ قیمت بہت گراں تھی۔
زندگی میں ہر انسان کے جڑواں فرائض ہوتے ہیں… اپنے خاندان‘ اپنے والدین‘ اپنی بیوی اور بچوں کی طرف سے… اور اس پر اس کے عوام‘ اس کے معاشرے اور اس کے ملک کی طرف سے بھی فرض عائد ہوتا ہے۔ ایک مہذب اور ہمدرد معاشرے میں ہر شخص اپنے رجحانات اور اپنی صلاحیتوں کے مطابق ان فرائض کو ادا کر سکتا ہے۔
لیکن جنوبی افریقا جیسے ملک میں میری پیدائش اور رنگ کے شخص کے لیے ان دونوں قسم کے فرائض کی ادائیگی تقریباً ناممکن تھی۔ جنوبی افریقا میں رنگ دار شخص اگر انسان کی حیثیت سے زندگی بسر کرنے کی کوشش کرتا تو اسے سزا دی جاتی تھی اور تنہائی میں ڈال دیا جاتا تھا۔
جنوبی افریقا میں کوئی شخص اپنی قوم کی طرف سے عائد شدہ فرض ادا کرنا چاہتا تو لازماً اسے اس کے خاندان اور اس کے گھر سے جدا کر دیا جاتا اور ایک الگ تھلگ زندگی گزارنے پر مجبور کیا جاتا جہاں وہ پوشیدگی اور بغاوت کے دھندلکوں میں سسکتا رہتا۔ میں نے شروع ہی میں یہ راستہ نہیں چنا تھا کہ اپنی قوم کو اپنے خاندان پر ترجیح دوں گا مگر اپنی قوم کی خدمت کرنے کی کوشش میں پتا چلا کہ مجھے ایک بیٹے‘ ایک بھائی‘ ایک باپ اور ایک خاوند کی حیثیت سے اپنے فرائض ادا کرنے سے روکا جا رہا ہے۔
آپ ہمارے ساتھ کیوں نہیں رہ سکتے اپنی قوم‘ لاکھوں ‘ کروڑوں‘ جنوبی افریقیوں سے میری وابستگی جنھیں میں کبھی نہیں جانتا تھا یا جن سے کبھی نہیں ملا تھا‘ ان لوگوں کی قیمت پر استوار تھی جنھیں میں سب سے اچھی طرح جانتا تھا یا جن سے سب سے زیادہ محبت کرتا تھا
یہ بات اسی طرح سادہ اور اسی طرح ہی ناقابل فہم تھی جس طرح کوئی چھوٹا بچہ اپنے والد سے پوچھتا ہے: ’’آپ ہمارے ساتھ کیوں نہیں رہ سکتے؟‘‘ اور باپ یہ خوفناک الفاظ کہنے پر مجبور ہوتا ہے: ’’تم جیسے اور بچے بھی ہیں جو بہت سے ہیں…‘‘ اور پھر اس کی آواز بھرا جاتی ہے۔
آزادی کی تمنا میں آزاد ہونے کی بھوک لیے پیدا نہیں ہوا تھا۔ میں بس آزاد پیدا ہوا تھا‘ ہر لحاظ سے آزاد جسے میں جان سکتا تھا۔ میں اپنی ماں کے جھونپڑے کے پاس بھاگنے دوڑنے میں آزاد تھا‘ صاف شفاف ندی میں تیرنے کے لیے آزاد تھا جو میرے گائوں میں بہتی تھی‘ ستاروں کے نیچے مکئی بھوننے میں آزاد تھا اور سست رفتار بھینسوں کی پشت پر سواری کرنے میں آزاد تھا۔ جب تک میں اپنے باپ کا مطیع تھا اور اپنے قبیلے کے رواج کی پابندی کرتا تھا‘ انسان یا خدا کے قوانین نے مجھے کوئی تکلیف نہیں دی تھی۔
یہ صرف اس وقت ہوا جب میں جاننے لگا کہ میرے لڑکپن کی آزادی اب ایک سراب ہے‘ جب ایک نوجوان کی حیثیت سے مجھ پر انکشاف ہوا کہ میری آزادی پہلے ہی مجھ سے چھینی جا چکی ہے۔ تب میں اس کی بھوک محسوس کرنے لگا۔ پہلے پہل میں ایک طالب علم کی حیثیت سے آزادی صرف اپنے لیے چاہتا تھا۔ رات کو باہر رہنے‘ اپنی پسند کا مطالعہ کرنے اور اپنی پسند کی جگہ جانے کی عبوری آزادیاں میرا منشا تھیں۔
بعد میں جوہانسبرگ میں ایک نوجوان آدمی کی حیثیت سے میں اپنے توانا مقاصد حاصل کرنے‘ اپنی روزی کمانے‘ شادی کرنے اور خاندان رکھنے کی بنیادی اور باعزت آزادیوں کی خواہش کرنے لگا اور ایسی آزادی کی تمنا کرنے لگا جس میں قانون کی پابندی زندگی بسر کرنے میں کوئی رکاوٹ پیش نہ آئے۔
یہی وہ وقت تھا پھر بتدریج میں نے دیکھا کہ نہ صرف میں آزاد نہیں تھا بلکہ میرے بھائی اور بہنیں بھی آزاد نہیں تھے۔ میں نے دیکھا کہ یہ صرف میری آزادی ہی نہیں تھی جس پر بندشیں عائد تھیں بلکہ ہر کسی کی آزادی پابندیوں میں جکڑی ہوئی تھی جو میرے جیسا نقطہ نظر رکھتا ہے۔
یہی وہ وقت تھا جب میں افریقن نیشنل کانگریس میں شامل ہوا اور یہی وہ وقت تھا جب اپنی آزادی کے لیے میری بھوک اپنی قوم کی آزادی کے لیے میری عظیم تر بھوک میں بدل گئی۔ یہ میری قوم کی آزادی کے لیے خواہش ہی تھی کہ وہ وقار اور عزت نفس کے ساتھ اپنی زندگی بسر کریں جس نے میری زندگی میں ایک نئی روح پھونک دی جس نے ایک خوفزدہ نوجوان آدمی کو دلیر بنا دیا‘ جس نے قانون کے پابند وکیل کو مجرم بنا دیا‘ جس نے خاندان سے محبت کرنے والے خاوند کو بے گھر بنا دیا اور جس نے زندگی سے پیار کرنے والے شخص کو ایک راہب کی سی زندگی بسر کرنے پر مجبور کر دیا۔
سب زنجیریں میرے لیے اب میں کوئی دوسروں سے زیادہ نیک پاک اور ذاتی ایثار کرنے والا تو ہوں نہیں لیکن میں نے جان لیا کہ میں ان محدود سی آزادیوں سے بھی لطف نہیں اٹھا سکتا جو مجھے اس وقت حاصل تھیں جب میں نے جانا تھا کہ میری قوم آزاد نہیں۔ آزادی ناقابل تقسیم ہے۔ میری قوم کے کسی ایک فرد کی زنجیریں ان سب کے لیے زنجیریں تھیں اور میری ساری قوم کی زنجیریں میرے لیے زنجیریں تھیں۔
ان طویل اور تنہا برسوں کے دوران ہی میری اپنی قوم کی آزادی کے لیے میری بھوک گورے یا کالے سب لوگوں کی آزادی کے لیے بھوک بن گئی۔ میں کسی بھی اور چیز کی طرح یہ جانتا تھا کہ ظالم کو بھی اسی طرح آزادی دلانی چاہیے جس طرح مظلوم کو یقینی طور پر آزادی ملنی چاہیے۔
ایک آدمی جو کسی اور کی آزادی چھینتا ہے‘ نفرت کا قیدی ہوتا ہے‘ وہ تعصب اور تنگ نظری کی سلاخوں کے پیچھے قفل بند ہوتا ہے۔ میں حقیقی طور پر آزاد نہیں اگر میں کسی اور کی آزادی چھیننے لگوں جیسا کہ میں اس وقت یقینا آزاد نہیں ہوتا جب میری آزادی مجھ سے چھینی جاتی ہے۔ ظالم اور مظلوم دونوں سے یکساں طور پر ان کی انسانیت چھین لی جاتی ہے۔
جب میں جیل سے باہر آیا تو ظالم اور مظلوم دونوں کو آزادی دلانا میرا مشن تھا۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ مقصد حاصل ہو گیا ہے۔ لیکن میں یہ جانتا ہوں کہ صورت حال یہ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم ابھی آزاد نہیں‘ ہم نے صرف آزاد ہونے کی آزادی حاصل کی ہے‘ خود پر ظلم نہ ڈھائے جانے کا حق حاصل کیا ہے۔
ہم نے اپنے سفر کا آخری قدم نہیں بلکہ صرف ایک طویل تر اور مشکل تر شاہراہ پر پہلا قدم اُٹھایا ہے۔ کیونکہ آزاد ہونے کا مطلب صرف یہ نہیں کہ اپنی زنجیروں کو اتار پھینکا جائے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس طرح زندگی بسر کی جائے جو دوسروں کی آزای کا احترام کرے اور اس کو وسعت دے۔ آزادی سے ہماری وابستگی کا حقیقی امتحان بس شروع ہو رہا ہے۔
کئی اور پہاڑیاں میں نے آزادی کی اس طویل شاہراہ پر سفر کیا ہے ۔ میں نے کوشش کی ہے کہ لڑکھڑا نہ جائوں اگرچہ اس راہ پر غلط قدم بھی اٹھائے ہیں۔ لیکن میں نے یہ راز پا لیا ہے کہ ایک بڑی پہاڑی پر چڑھنے کے بعد ہی انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ ابھی کئی اور پہاڑیاں سر کرنے والی ہیں۔
میں یہاں آرام کرنے کے لیے ایک لمحے کو رکا ہوں تاکہ اس شاندار منظر کو ایک نظر دیکھ سکوں جو میرے اردگرد پھیلا ہوا ہے اور پیچھے مڑ کر اس فاصلے پر طائرانہ نظر ڈال سکوں جو میں نے طے کیا ہے۔ لیکن میں صرف ایک لمحے کے لیے ٹھہر سکتا ہوں کیونکہ آزادی کے ساتھ ذمے داریاں آتی ہیں اور میں گھسٹتے رہنے کی جسارت نہیں کر سکتا۔

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers