حرف کی کیا حقیقت ہے اور الفاظ کی کیا. جملوں کی کیا حقیت اور معنی ہیں. حقیقت کی کیا حقیقت ہے. کوئی شے کچھ معنی نہیں رکھتی جب تک اس میں معنی ڈالے نہ جائیں. لفظ مردہ رہتے ہیں. باتیں لاش. کہانیاں سرد خانوں میں پڑے لاوارث جسم. ہم نے لکھ لکھ کہ ڈھیر لگا دیے ہیں. کبھی تو مال کے لئے، کبھی نام کے لئے. کبھی لکھنے کے شوق کے لئے. سنوارنے کے لئے کب لکھا؟ کبھی نہیں. دل کو دماغ کو، وجود کو لگی ہو تب نا. مگر کہاں. درد کے مارے اور ہیں. لکھنے پڑھنے والے اور. لکھنے سے ویسے بھی کچھ نہیں ہونے والا بھائی. لفظ نہیں ناچیں گے. نا ہی کسی، تیرے میرے کا ہاتھ ہی پکڑیں گے.کہا نا " نشہ شراب میں ہوتا تو ناچتی بوتل"   تفصیل سے پڑھیے
حقیقت لفظوں میں ڈالنی پڑتی ہے. جان ڈالنی پڑتی ہے. جان پڑتی ہے جب ہاتھ سے نہیں دل سے لکھا جاے. سیاہی سے ورق کالا نہ کیا جاے. خون سے صفحہ لال کیا جاے. بات وہی ہے. ہماری، تمھاری. سب کے،گھر گهر کے مسائل ہیں. ہمارے شہر کے مسائل. ہمارے پیارے، محبوب ملک کے مسائل. ہماری فانی زندگی کے مسائل. ہمارے دین و دنیا کے بھی. پہلے تو اس بات کا ادراک کرنا ہے کہ کسی کا کوئی مسلہ ہے بھی. کہاں ہے. تصحیح طلب ہے. ہم نے سنا سنایا کہ ہمارے دل کو لگا کہ کوئی گھمبیر سمسیہ ہے جو کہ سلجھنی چاہئے. فیصلہ کر لو پھر بات کریں گے. ایسے تو کوئی بات سمجھ بھی آنے والی نہیں ہے. بات سمجھنے والا ہی بات کی تہہ تک پہنچے گا.
لفظ کی بات جانو، سمجھو. ایک سیدھے سادھے لفظ کی مانگ کیا ہے؟ لفظوں کی ایک روح ہوتی ہے. یہ روح سمجھنی بہت ضروری ہے. ہر لفظ ایسے ہی تکمیل پاتا ہے جیسے کہ ایک شاہکار ہو. بھلے وہ کنوس پر ہو یا کاغذ پر. جیسے کہ ہم کوئی مجسمہ تراشتے ہیں. ہر ہتھوڑا سو مرتبہ سوچ کہ مارنا پڑتا ہے. کہیں کوئی چھلترغلط اتر جاے تو شاہکار بیکار. مضمون میں ہر جملہ، جملہ کا ہر لفظ، لفظ کا ہر حرف اس پتھر کے جزو ہیں. جو بھی حرف غلط بنا، لفظ غلط لگا سمجھو وہ مجسمہ برباد ہوا. گویا نیا ٹکرا لینا ہو گا پتھر یا لکڑی کا. کیونکہ اب یہ ادھ گھڑ ٹکڑا برباد ہوا ایک ہتھوڑی کی ناسمجھ چوٹ سے. ایسے ہی ایک غلط لفظ کا چناؤ جملہ بربات کرتا ہے. اور پورے مضمون کو بے جان، بے روح کرتا ہے.

بات بھلا کیسے بات بنتی ہے. الله کی بات کو ہی دیکھو. الله پہلے انسان کو چنتا ہے. گھڑتا ہے اس کو اس کے لئے، زمانے کے لئے. خود کا پیغام دینے کے لئے سنبھالنے کے لئے. اس کا مطلب ہے کہ بھلے الله کے ہی الفاظ ہوں چنے ہویے ہی ہوں. ان کو صحیح جگہ پر رکھنے کے لئے انسان کی شناخت بھی ضروری ہے. سو یہ ضروری ہوا کہ کونسے انسان سے کونسی باتُ سنی جاے گی. لکھنے والے کو پہلے خود پہ کام کرنا ہو گا تاکہ لفظوں میں جان ڈالے. بھلے کلام الله کا ہی ہو. وگرنہ ہر کسی سے الله بات کر لیتا. کبھی کسی پہ وحی آتی، کبھی کسی اور پہ. نوعمری میں ہی اللہ خود کی بات کہ دیتا کہ بیان کر دو. مگر نہیں اچھی عمر کے بعد نبیوں کو پیغام دیا، پہلے ان پر خود کی قوم میں رہ کر ہی ایک عکس بنانے کا کام ہوا. لوگ ان کو اچھے انسان کے ناطے جاننے لگے. تب الله نے ذمہ داری دی. اس سے ظاہر ہوا کے بھلے کام ہمارے پاس ویسا تو نہیں ہے مگر اس سے الگ بھی نہیں ہے. سو پہلے خود پہ کام پھر ہاتھ میں قلم. اس کی بات کے لئے کیا اہتمام. وہ مالک ہے، خالق ہے. طریقہ اس نے بھی یہی اختیار کیا، بندہ خود پہ کام کرے. لفظ خود جان دار ہو جائیں گے.

بات کی روح بات کی شروعات سے ہی معلوم پر جاتی ہے. یہ سب ایک اثر ڈالتا ہے، پڑھنے والے پر. سمجھنے والوں پر. ہر کلام کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے. بھلے کوئی زبان ہو. کوئی بھی بیان ہو. اچھے سے، سہل زبان میں بیان نہ ہو تو نہ آگے جانے کو دل کرتا ہے. نا سمجھنے کو ہی دل کرتا ہے. اس کی سب سے بڑی اور مستند مثال سورہ فاتحہ ہے القرآن میں. پہلا باب پڑھتے ہی سب کھلنے لگتا. الکلام، اور ہم تک پنچانے والا دونوں کا مرتبہ اور مقام ہمارے دل میں جس جگہ پر ہے وہ جذبات ہم الفاظ میں نہیں ڈھال سکتے. ہمارے بھائی جو اس دین سے تعلق نہیں رکھتے وہ بھی اس بات کے قائل ہیں کہ حضور پاک دنیا کے سب سے عظیم انسان. القران مستند کتاب ہے لا ریب.

القران کی بات میں نے ایک مستند اور خوبصورتی کی مثال کے لئے دی. کہنا میں چاہ رہا تھا کہ بات جب تک اندر نہ ہی اتری ہو تو مہربانی فرما کے قلم کو کیس میں ہی رہنے دو. ہوا نہ لگاؤ. خود کے دل میں کلام اتارو، اس میں سے گزر جاؤ. اب بیٹھو اور خود بھی تیاری پکڑو اور قلم کاغذ بھی تیار کرو.ایسا لکھنا ہے کہ روح ڈل جاے آپ میں بھی،کلام میں بھی. جب تک لکھائی کو الله کے لئے نہ سمجھا جاے. اپنا آپ اس میں نہ جڑا جاے. بات نہیں بنے گی. کلام پر اثر نہیں بنے گا. آپ کچھ بھی لکھو، کھیلوں کے لئے، سیاست کے لئے یہ دین کے لئے. خود کو اس میں اتارو. اس میں اتر جاؤ. سیاہی بن جاو. لفظوں میں آپ کا دماغ نہیں آپ کی روح نظر آے. آپ کا درد اپ کی دھڑکن کا عکس نہ ہو بلکہ دھڑکن ہو. ہر حرف ایسے ہی حقیقت بن جاے گا. حقیقت ہو جاے گا
Labels: ,
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers