چندروز قبل نظروں سے ایک رپورٹ گزری۔ اس میں درج تھا کہ اسلام آباد میں 20ایکٹر کے رقبے پر پھیلے ایوان صدر کے سالانہ اخراجات چالیس تا پچاس کروڑ روپے ہیں۔ ظاہر ہے، یہ رقم قومی خزانے سے ادا ہوتی ہے جو قوم کی امانت ہے۔
رپورٹ کی رو سے صدر کے پروٹوکول پر 46 گاڑیاں مامور ہیں۔ نیز ایوان صدر کا روزانہ خرچ تقریباً تین لاکھ روپے ہے۔ اس ادارے پر سالانہ جتنا خرچ اٹھتا ہے، اس سے ہر سال ڈیڑھ لاکھ بچے تعلیم پا سکتے ہیں۔ نیز ہر سال 250 بستروں پر مشتمل ایک نیا ہسپتال کھل سکتا ہے۔   تفصیل سے پڑھیے

طرفہ تماشا یہ ہے کہ یہ شاہانہ اخراجات ایک ایسے اسلامی ملک کے حکمران پر لگتے ہیں جو بھاری بھر کم قرضوں میں جکڑا ہوا ہے۔ وہاں کروڑوں غریب بستے ہیں۔ مگر قومی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجیے، بیشتر حکمرانوں نے اقتدار سنبھالتے ہی خود کو وی وی آئی پی کے درجے پر فائز کر دیا۔
بے شک ممکن ہے کہ یہ حکمران دیانت دار اور نیک دل ہوں، لیکن وہ محلات میں رہتے ہیں اور انھیں ہر قسم کی آسائشات زندگی میسر ہوتی ہیں۔ یہ اب زندگی کا چلن بن چکا، اسی لیے لوگ بھی اسے قبول کر چکے۔
یہ چلن صحیح ہے یا غلط، مگر ’’وی وی آئی پی‘‘ درجہ حاصل کر لینے کے بعد حکمران خودبخود شاہانہ طرز زندگی کے عادی ہو جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس ضمن میں نبی کریمﷺ کا طرز عمل کیا رہا؟
آنحضورﷺ ایک نبی ہی
نہیں، حکمران بھی تھے۔ آپ ﷺ نے مدینہ منورہ میں ریاست کی بنیاد رکھی اور دس برس تک اس کے حاکم رہے۔ گو اوائل میں یہ ریاست محض ایک شہر تک محدود تھی۔ وہاں ایسی اقوام بھی آباد تھیں جو رسول اللہﷺ کو نبی تسلیم نہیں کرتی تھیں۔ پھر رفتہ رفتہ ریاست کا جغرافیہ وسعت پانے لگا۔ حتیٰ کہ جزیرہ نمائے عرب کے تقریباً تمام علاقے اس کا حصہ بن گئے۔ چنانچہ آخری برسوں میں نبی کریمﷺ ایک وسیع اور طاقتور سلطنت کے حکمران بن چکے تھے۔
کتب سیرت افشا کرتی ہیں کہ رسول اللہﷺ حکمران بن کر وی وی آئی پی کلچر سے کوسوں دور رہے۔ اس کے برعکس آپﷺ نے معاشرے میں غریبوں کے ساتھ گھل مل کررہنے کوترجیح دی۔
آپﷺ کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے: ’’رسول اللہ ﷺنے کبھی مسلسل تین دن پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا۔‘‘
یعنی ہفتے میںدو تین دن فاقہ کرنا آپﷺ کا معمول تھا۔
دراصل آنحضورﷺ اس حقیقت سے بخوبی واقف تھے کہ مسلمانوں میں ایسے کئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم موجود ہیں جنھیں مشکل سے کھانا دستیاب ہوتا ہے۔ آپﷺعمر بھر کوشش کرتے رہے کہ ان صحابہؓ کی غربت کا خاتمہ ہو جائے اور یہ بھی سعی فرمائی کہ اپنا رہن سہن غریب صحابہ کرامؓ کے مانند رکھیں۔
حضرت عائشہ صدیقہؓ بیان فرماتی ہیں کہ ایک بار انھوں نے آپﷺ کو بھوکا دیکھا، تو رقت کے مارے رونے لگیں۔ انھوں نے پھر آپﷺ سے عرض کیا:
’’یارسول اللہﷺ! میں آپ کی خاطر اپنی جان دے دوں گی۔ آپ بس یہ کیجیے کہ اپنا معیار زندگی تھوڑا بڑھا لیجیے تا کہ آپ کو بھوکا نہ رہنا پڑے۔‘‘
یہ سن کر سرور کائناتﷺنے ارشاد فرمایا: ’’میں اس دنیا میں گزری زندگی کی کوئی پروا نہیں کرتا۔ میرے ساتھیوں میں سے بیشتر اللہ کی راہ میں کہیں زیادہ سختیاں بڑی ثابت قدمی اور صبر سے برداشت کر رہے ہیں۔‘‘
رسول کریمﷺ کی ایک اور زوجہ محترمہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں:
’’جب میں بیاہ کے بعد آپﷺ کے گھرآئی، تو میں نے وہاں صرف یہ اشیا پائیں: ’’ایک مرتبان جس میں کچھ جَو تھے، ایک چکی، مٹی کا ایک برتن، دیگچی اور ایک چوبی پیالہ۔
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے پھر چکی میں جَو پِیسے، پھر اس کا آٹاگوندھا۔برتن میں چند کھجوریں موجود تھیں اور پیالے میں تھوڑا سا تیل۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے جَو کے آٹے، کھجوریں اور تیل ملا کر کھانا تیار کیا۔ اس رات نبی کریم ﷺاور آپﷺ کی دلھن نے یہی کھانا تناول فرمایا۔
کتب تاریخ و سیر میں ایسے کئی واقعات درج ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضورﷺ نے دانستہ سادہ زندگی بسر فرمائی۔ حالانکہ وہ چاہتے، تو باآسانی کسی حاکم کی طرح پرآسائش زندگی گزار سکتے تھے۔ اس زمانے میں ویسے بھی حاکم مطلق العنان بادشاہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ لہٰذا کوئی بھی آپﷺ کے اس حق کو چیلنج نہ کرتا۔ گو مدینہ میں کئی صحابہ کرام ؓ کا شمار مفلسوں میں ہوتا تھا۔
حاکم کی طرح نہیں، تو رسول کریمﷺ یہ اہتمام ضرورفرما سکتے تھے کہ آپ ﷺ کو تمام ضروری آسائشات زندگی میسر ہوتیں۔ آپﷺ یہ امر یقینی فرماتے کہ آپﷺ کے اہل خانہ اور خاندان والے کبھی بھوکے نہ رہیں۔ انھیں پہننے، اوڑھنے کو مناسب لباس ملے اور وہ اچھے کھانے کھائیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ نبی کریمﷺ نے ازخود غریبانہ طرزِ زندگی اختیار فرمایا۔ سوال یہ ہے کہ اس کی وجہ کیا تھی؟ حالانکہ نبی کریمﷺ چاہتے، تو تمام دنیاوی سہولیات و مراعات حاصل کر سکتے تھے، مگر آپﷺ نے سادہ زندگی بسر کرنے کو ترجیح دی۔
دراصل یہ طرز حیات اپنا کر نبی کریمﷺ تمام مسلمانوں اور آنے والی نسلوں کو اسلام کا یہ عظیم پیغام دیناچاہتے تھے کہ آخرت کے مقابلے میں دنیاوی زندگی بہت کم وقعت رکھتی ہے۔ اس کی آسائشات دراصل ایک امتحان ہیں اور خوشیاں ناپائیدار!
مزیدبرآں اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ امر کوئی معنی نہیں رکھتا کہ دنیا میں ایک انسان کا معیار زندگی کیا ہے۔ کئی غریب بہت شریف، ایماندار اور دل و جان سے اسلامی قوانین پر عمل کرنے والے ہوتے ہیں۔ اسی طرح کئی دولت مند بھی اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے اور شریف النفس ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ہر وہ انسان گناہ گار ہے جو متقی اور دین دار نہیں۔
کفار کی محبت
نبی کریمﷺ نے جب کفار مکہ کو دین اسلام کی طرف بلایا، تو وہ شش و پنج میں پڑ گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ آپﷺ کیونکر نبی ہو سکتے ہیں، جب کہ آپﷺ کھاتے پیتے اور بازار بھی جاتے ہیں؟ لہٰذا آپﷺ کس قسم کے نبی ہوئے؟
یہ حقیقتاً ان کا بڑا بودا استدلال تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی طرف جتنے بھی پیغمبر اور نبی نازل فرمائے، وہ سب انسان تھے۔ اسی لیے سبھی عام انسانوں کے مانند کھاتے پیتے، پہنتے اوڑھتے اور بولتے چالتے تھے۔ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ رسول اللہﷺ نے کھانے پینے، بول چال اور دیگر معاملات میں کس قسم کا معمول اختیار فرمایا؟
یہ دیکھا گیا ہے کہ جن مرد و زن کے سامنے عظیم مقاصد ہوں اور وہ کوئی بڑا کام کرنا چاہتے ہوں، تو عموماً وہ دنیاوی اشیا اور ذاتی ضروریات کو خاص اہمیت نہیں دیتے۔ گو آج کی مادی دنیا میں ایسے لوگ بہت کم ملتے ہیں۔ بیشتر انسانوں کا مطمح نظر زیادہ سے زیادہ آسائشیں پانا بن چکا۔ لیکن نبی کریمﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جو مقاصد زندگی سامنے رکھے، وہ ہمیںبالکل مختلف نظر آتے ہیں۔
مثال کے طور پر ایک بار رسول اللہﷺ نے دیکھا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے صاف ستھرا لباس زیب تن کر رکھا ہے۔ آپ ﷺ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا ’’یہ لباس نیا ہے یا دھو کر پہنا گیا؟‘‘
حضرت عمررضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ لباس دھویا گیا ہے۔
یہ سن کر سرور کائنات نے آپؓ کو اس دعا سے نوازا ’’تمھیں نئے کپڑے نصیب ہوں، اچھی زندگی گزارو اور تم شہادت پائو۔‘‘
رسول کریمﷺ کے نزدیک خوشی و مسرت کا اعلیٰ ترین مقام یہ ہے کہ انسان اللہ کی راہ میں جان دے ڈالے۔ اسی لیے آپﷺ نے حضرت عمرؓ کو اس دعا سے نوازا۔ ساتھ ہی نئے لباس اور خوشحال زندگی کی نوید بھی سنائی گئی۔
نبی کریمﷺ کی صحبت میں تربیت پانے کا ہی نتیجہ ہے کہ صحابہ کرامؓ دنیاوی چیزوں و مسرتوں کو ہیچ سمجھتے اور فکر آخرت کو اہمیت دیتے تھے۔
اب طعام ہی کو لیجیے۔ انسان کے لیے کھانا پینا فطری امر ہے۔ لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ انسان کھانے پینے کو مقصدِ زندگی بنا لے اور اسی کی خاطر جیے مرے۔ اس ضمن میں رسول اللہ ﷺ کی زندگی ہمارے سامنے قابل تقلید مثال پیش کرتی ہے۔
نبی کریمﷺنے مشکلات سے پر زندگی بسر فرمائی۔ سادہ غذا تناول کرنا آپﷺ کا معمول تھا۔ کسی کتاب میں یہ درج نہیں کہ کبھی آپﷺ نے لذیذ، چسکے دار اور بیش قیمت کھانے کی فرمائش کی یا پسند فرمایا۔
اس کے باوجود رسول اللہﷺ نے کبھی صحابہ کرامؓ یا عام مسلمانوں پر زور نہیں دیا کہ وہ غریبانہ زندگی بسر کریں اور نہ بجز حرام اشیا کے، یہ ممانعت فرمائی کہ فلاں ذائقے دار غذا نہ کھائی جائے۔ ہاں غذاکی فراوانی پر آپﷺ نے شکر کرنا سکھایا اور بتایا کہ ہر کھانے کے اوّل و آخر میں اللہ تعالیٰ کے حضور اظہار شکر گزاری کرو۔
حضور اکرمﷺ بہت کم غذا تناول فرماتے اور چند ہی کھجوروں سے آپ کا شکم مبارک بھر جاتا۔ ایک دن حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ کو بتایا:
’’آج اناج کے ساتھ بس تھوڑا سا سرکہ ہی ہے۔‘‘
آپﷺ نے شاداں ہو کر فرمایا:
’’آج اللہ تعالیٰ کی اس نعمت سے خوب پیٹ بھرے گا۔‘‘
اس قسم کا خوشگوار اور مطمئن رویہ آپﷺ کا معمول تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عارضی بحران یا ضروریات زندگی کے نہ ہونے سے کبھی پریشان نہیں ہوتے تھے۔

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers