یہ آج سے دس گیارہ سال پہلے کی بات ہے۔ ان دنوں میں گورنمنٹ کالج میں  پڑھ رہا تھا  اور کسی ایسی حرکت پر جسے میں شرارت اور میرے ہاسٹل کا وارڈن  بغاوت سمجھنے پر مصر تھے کچھ دن کو ہاسٹل سے نکال دیا گیا تھا۔
اس سانحے کے بارے میں گھر والوں کو بتاتا تو زیادہ امکان یہی تھا کہ کالج سے بھی نکال لیا جاتا اس لیے میں نے خاموشی سے ایک دوست کے گھر پناہ لے رکھی تھی۔  تفصیل سے پڑھیے
اس وقت معاشرے میں تو پتا نہیں  لیکن گورنمنٹ کالج میں یہ  گنجائش تھی کہ میں ان لڑکوں کا بھی دوست گنا جاتا تھا جن کے ڈیڈی میرے ابا کی طرح گورنمنٹ کالج میں پڑھنے کی صرف خواہش ہی نہیں رکھتے تھے بلکہ ایچی سن کے بعد جی سی اور جی سی کے بعد والٹن سے گزر کے گھومنے والی کرسی پہ بیٹھنے والے کلرک بن چکے تھے اور خود کو  افسر کہتے ہی نہیں سمجھتے بھی تھے۔
غرض اور غریب پروری کے بیچ کی کسی چیز کو  آپ دوستی کہہ سکتے ہیں تو  میرا یہ  دوست ایسے ہی ایک افسر باپ  کا بیٹا تھا۔ یہ دوست لاہور کے ایک پوش علاقے گلبرگ میں رہتا تھا اور اپنی گاڑی پر  کالج آیا کرتا  تھا۔
اس کے ساتھ رہنے میں ایک فائدہ یہ بھی تھا  کہ میرا کالج آنے جانے کا خرچہ بچ گیا تھا اور میں امیروں کی صحبت میں  کچھ دنوں سے خود کو تھوڑا تھوڑا امیر بھی محسوس کر رہا تھا۔
اس رات میرے دوست نے مجھے ایک نئی دنیا دکھانے کا اعلان کیا تو میں نے اسے  بہت فخر سے بتایا کہ میں شاہی قلعے کے پیچھے کا وہ علاقہ جو کبھی لاہور کی ناچ گرلز کے لیے جانا جاتا تھا دیکھ چکا ہوں اور یہ بھی کہ وہاں اب نہ ناچ ہے نہ گرلز۔
میرے دوست نے میری بات کو نظر انداز کر تے ہوئے مجھے ساتھ چلنے کو کہا تو میں تجسس کا مارا اس کے ساتھ چل تو پڑا لیکن اپنی جیب پہ ہاتھ رکھے ہوئے۔  مجھے اس نے یقین دلایا کہ وہ جو کچھ مجھے دکھانے جا رہا ہے اس میں ناچ گرلز سے بھی زیادہ مزا ہے۔
رات دو بجے کا وقت ہوگا جب  ہم گلبرگ ہی کے علاقے میں ایک کمرشل پلازہ کے بیسمنٹ میں داخل ہوئے۔ ایک بڑا سارا ہال جس کی روشنی اتنی مدھم تھی  کہ اس میں بیٹھے لوگ سائے لگ رہے تھے ہمارے سامنے تھا۔  ہر سائے کے کانوں پر ہیڈ فون تھے اور سامنے ایک روشن سکرین۔
یہ سائے اپنے سامنے روشن سکرین میں اتنے مگن تھے کہ مجھے ایسا لگا جیسے وہ کوئی ایکس ریٹڈ  فلم دیکھ رہے ہوں۔ شاید ناچ گرلز ان دنوں میرے سر پر سوار تھیں۔ ہم اس وقت ناچ گرلز کو 'گندی عورتیں' اور ایکس ریٹڈ فلمز کو  'گندی فلمیں' کہتے تھے۔
اس اندھیرے ہال کی خاموشی ہر تھوڑی دیر تب ٹوٹتی تھی جب ایک نہ ایک سایہ ہاتھ اٹھا کر ایک بیہودہ گالی بکتا  جس کے جواب میں ہال کے کسی اور کونے سے ایک اور گالی سنائی دیتی۔ پہلی گالی میں عام طور پر فتح کی گونج ہوتی تھی اور دوسری میں شکست کی جھنجلاہٹ۔
مجھے ان گالیوں میں فتح اور شکست کا ذائقہ کنفیوز کر گیا لیکن  تجسس اس کنفیوژن پر حاوی تھا۔ یہ سارے سائے  گالیوں کا درمیانی وقفہ سگریٹ کے کش لگا کے اور اپنے کمپیوٹر کے سامنے رکھی بوتلوں سے کوک حلق میں انڈیل کے گزار رہے تھے۔
دروازے کے پاس کاونٹر پر بیٹھے  سائے کے سامنے بھی ایک کمپیوٹر تھا لیکن وہ  ایک رجسٹر میں کچھ  لکھنے میں زیادہ دلچسپی لے رہا تھا۔ ہمارے آنے پر اس نے سر اٹھا کر ہمیں دیکھا اور پوچھا کہ ایک چاہئے یا دو۔ میں ابھی اس سوال پر حیران تھا کہ میرے دوست نے  جواب میں ایک کہہ کر مجھے پریشان کر دیا۔ میں اسے بتانا چاہتا تھا کہ میں گندا لڑکا نہیں ہوں لیکن جب اس نے اپنی جیب سے کچھ پیسے نکال کر سامنے کاؤنٹر پر رکھے تو میں نے اب تک اپنی مٹھی میں دبائی ہوئی جیب کو چھوڑتے ہوئے سوچا کہ میں اتنا اچھا لڑکا بھی کب ہوں۔
میرے دوست نے کاؤنٹر پر بیٹھے لڑکے کا اشارہ پاتے ہی  نزدیک پڑے کمپیوٹر کے سامنے کرسی سنبھال لی اور جاتے جاتے مجھے  کاؤنٹر کے ساتھ پڑی کرسی گھسیٹنے کا اشار ہ کر گیا۔ میں کرسی لے کر کمپیوٹر کے سامنے پہنچا تو کھیل شروع ہو چکا تھا۔
مجھے وہ کھیل دیکھ کے اتنی مایوسی ہوئی  جتنی شاید آپ کو یہ پڑھ کے بھی نہیں ہوگی کہ وہاں نہ کوئی فلم تھی نہ مجرا۔ میں مایوس اس لیے تھا کہ میرے توقع کے خلاف وہ ایک گیم زون تھا اور وہ سارے  سائے جو میری طرح نوجوان لڑکے تھے آپس میں نیٹ ورکنگ کیے کمپیوٹرز پر مار دھاڑ سے بھرپور ایک وار گیم کھیل رہے تھے۔
میں جو کچھ سوچ کے یہاں آیا تھا ایسا کچھ نہیں تھا لیکن مایوسی کی جگہ کچھ ہی دیر میں ایک عجیب سی کیفیت  نے لے لی۔ یہ کھیل بھی کچھ ایسا برا نہیں تھا۔  مجھے اپنے جسم میں ویسی ہی سنسنی دوڑتی محسوس ہو رہی تھی جیسی میں نے شاہی قلعے کے پیچھے جاتے پہلی بار محسوس کی تھی۔
اس کھیل میں ہر شخص کا ایک کھلاڑی تھا اسے اپنے کھلاڑی کو بچاتے ہوئے دوسرے کے کھلاڑی کو نشانہ بنانا تھا۔ گرافکس بہت اچھے تھے اور گولی لگنے پر خون نکلتا نظر آتا تھا۔
خون نکلنے کا منظر اپنی جگہ بہت سنسنی خیز ہوتا ہے۔ ایسا ہی وہاں بھی تھا۔ تین گولیاں لگنے پر آپ کا کھلاڑی مر جاتا تھا جسے  دوبارہ زندہ کرنے کو کاؤنٹر  والے کو پچاس کا نوٹ دینا پڑتا تھا۔ جب تک آپ کے پاس پچاس کے نوٹ ہوں آپ کھیل جاری رکھ سکتے تھے  ورنہ  واپس جانے کا آپشن کھلا تھا۔ جو لوگ پرانے کھیلنے والے تھے ان کا کاؤنٹر والے سے ادھار بھی  چلتا تھا۔  اگر آپ کسی کھیلنے والے کے ساتھ ہوں تو دیکھنے کے کوئی پیسے نہیں تھے۔
مجھے شاہی قلعے کا پچھواڑا، گیم زون نامی کیفے  اور ان دونوں سے جڑی ایک جیسی سنسنی اس دن بہت یاد  آئی جب میں نے صبح صبح خبروں کا نشہ پورا کرنے کو اخبار  چاٹتے ہوِئے یہ پڑھا کہ ڈیرہ اسماعیل خان جیل حملے کے بارے میں انٹیلیجنس رپورٹوں کے باوجود توڑ دی گئی!
خدا جانے کسی نے کی-بورڈ پے کونسا بٹن دبا دیا تھا کہ پولیس والوں نے جیل کے دروازے اندر سے کھول دیے؟ رینجرز کے ہیڈ فون پر فائرنگ کی آواز  پتا نہیں کیوں نہیں سنائی دیں؟ جنوبی وزیرستان سے ڈیرہ  آنے اور ڈیرہ سے شمالی وزیرستان جانے والے راستے پر فوج کی چیک پوسٹیں کیسے ڈیلیٹ ہو  گئیں؟ سارے کردار کہاں  بھاگ گئے؟؟
مجھے جانے کیوں یہ لگا کہ وہ سارے لڑکے گیم زون کی کرسیوں سے اٹھ کے اپنے باپوں کی گھومنے والی کرسیوں پر بیٹھ گئے ہیں اور انہی کی طرح خود کو افسر سمجھنے لگے ہیں۔
یہ احساس اور شدید ہوگیا جب میں نے یہ خبر پڑھی کہ  افغانستان کے صوبے ننگرہار میں ایک سیاستدان کو طالبان کی دھمکیاں  ملنے کے بعد بچانے جانے والی افغان سکیورٹی فورسز نے  طالبان سے پانچ گھنٹے  کی لڑائی میں 76 طالبان مار ڈالے اور بیس سپاہی  بھی لڑتے ہوِئے مارے گئے۔
ویڈیو گیمز میں ایسا نہیں ہوتا۔ وہاں طالبان دھمکیوں سے زیادہ دھماکوں پہ یقین رکھتے ہیں، سیاستدان پولیس کے بجائے پرائیویٹ گارڈز پر اعتماد کرتے ہیں اور پولیس مقابلے کے بجائے ہوٹر بند کر کے پتلی گلی سے نکل لینے  کو ترجیح دیتی ہے۔
رہے مجھ جیسے تماشائی یا شاید تماش بین  تو ہم ساتھ والی کرسی پر بیٹھے ہیں۔ ہمیں ہیڈ فون نہیں ملے کہ ہم مرنے والوں کی چیخوں کے ساؤنڈ ایفیکٹ سن سکیں لیکن گولی لگنے کے گرافکس سے بھرپور منظر سکرین پر دیکھ کے جسم میں دوڑتی  سنسنی مزا دے رہی ہے۔
کبھی کبھی کوک پیتے یا کش لگاتے میں ایک منٹ کو یہ  سوچتا ہوں کے وہ شرارت کر دوں جسے بغاوت کہتے ہیں لیکن پھر گھر والوں کا خیال آ جاتا ہے۔ پچاس کے نوٹ جیب میں ہیں اور میرے دوست اچھے ہیں  ویڈیو گیم دیکھنے کے پیسے نہیں لیتے۔ ویسے سنسنی تو وہی ہے اس گیم دیکھنے پر تھوڑا بہت ٹکٹ بھی لگا دیا جاتا تو ناچ گرلز کے  مجھ جیسے  شوقین اسے  ضرور دیکھتے۔ اس لیے میں یہ گیم دیکھتا رہوں گا کیونکہ یہ جنگ ہماری نہیں ہے، ہم تو اس سے بھی کہیں زیادہ گندی فلم دیکھنے آئے تھے!

Labels: ,
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers