بسم اللہ الرحمن الرحیم
ہم نے بہت بار سنا بھی ہے اور اس جملہ کو پڑھتے بھی ہیں کہ "بیٹا اللہ کی نعمت اور بیٹی اللہ کی رحمت ہوتی ہے " پہلا جملہ تو سچ ثابت ہوتا ہے لیکن دوسرا جملہ شائد اتنا سچا نہیں لگتا کیونکہ بعض طبقہ کے نزدیک آج بھی بیٹی اللہ کی رحمت نہیں بلکہ زحمت سمجھی جاتی ہے اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے-  تفصیل سے پڑھیے

کہ ہمارے آج کے اس معاشرہ میں بھی کچھ افراد کا حال اب بھی1400 سال پہلے والے ان لوگوں جیسا ہی ہے جن کے لئے بیٹی کی خوشخبری ان کے لئے رحمت نہیں بلکہ زخمت بن جایا کرتی تھی اور وہ لوگوں سے اپنا منہ چھپایا کرتے تھے اور بیٹی کو منحوس سمجھتے تھے یہاں تک کہ اس نخوست سے چھٹکارہ پانے کے لئے اسے زندہ درگور تک کر دیتے تھے۔
آج ہمارے معاشرہ میں بہت سے افراد شائد ایسا تو نہین کرتے لیکن وہ دل سے بیٹی کی پیدائش پر خوش بھی نہیں ہوتے بلکہ کہیں کہیں تو معاملہ الٹ ہی دیکھا گیا ہے کہ وہ بیٹی کو تو معاف کر دیتے ہین مگر اسے پیدا کرنے والی ماں کو موت کے منہ میں بھیج دیتے ہیں کیونکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اس کی ذمہ دار ان کی بیوی اور ان بیٹیوں کی ماں ہو تی ہے اس لئے وہ اسے ختم کر کے یہ سلسلہ ہی روک دیتے ہیں
فرمان باری تعالی ہے۔
لِّلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ ۚ يَهَبُ لِمَن يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَن يَشَاءُ الذُّكُورَ . أَوْ يُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَإِنَاثًا ۖ وَيَجْعَلُ مَن يَشَاءُ عَقِيمًا ۚ إِنَّهُ عَلِيمٌ قَدِيرٌ
(تمام) بادشاہت خدا ہی کی ہے آسمانوں کی بھی اور زمین کی بھی۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے بخشتا ہے ۔ یا ان کو بیٹے اور بیٹیاں دونوں عنایت فرماتا ہے۔ اور جس کو چاہتا ہے بےاولاد رکھتا ہے۔ وہ تو جاننے والا (اور) قدرت والا ہے ۔ سورة الشورى آیت نمبر 49 ، 50
To Allah belongs the dominion of the heavens and the earth; He creates what he wills. He gives to whom He wills female [children], and He gives to whom He wills males. Or He makes them [both] males and females, and He renders whom He wills barren. Indeed, He is Knowing and Competent.(Ch.42 : Ayat 49 and 50))
اس آیت مبارکہ میں اللہ ربّ العزت نے لڑکیوں کا پہلے ذکر فرمایا اور پھر لڑکوں کا بعد میں ، اور جو چیز اللہ تعالٰی کی طرف اپنے بندہ کو ملی ہے وہ ہر حال میں خیر ہی خیر ہے
بیٹی کو اپنے لئے اللہ تعالٰی کا ایک عظیم انعام سمجھئیے اور اس کی صحیح تربیت اور کفالت کرکے اللہ تعالٰی کی مدد حاصل کیجئیے! کیا معلوم یہی بچی آپ کے لئے اور آپ کے خاندان کے لئے سرمایہ افتخار ہو ، اور اللہ تعالٰی اس سے ایسی نسل چلائے جو بجا طور پر امت مسلمہ کے لئے باعث فخر ہو۔
امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کا مشہور قصہ ہے کہ ایک بار رات کو شہر میں گشت فرمارہے تھے ایک مکان کے قریب سے گزرے ، جہاں ماں بیٹی کے درمیان کسی بات پر بحث ہورہی تھی ، حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے سنا ماں بیٹی سے کہ رہی ہے کہ دودھ میں پانی ملا دو اور بیٹی انکار کرتے ہوئے جواب میں کہ رہی ہے کہ امیر المؤ مینین نے منع فرمایا ہے۔
ماں نے کہا یہاں امیر المؤمنین تو نہیں دیکھ رہے۔
بیٹی نے کیا خوب جواب دیا کہ اماں جان امیر المؤمنین تو نہیں دیکھ رہے لیکن ان کا خدا تو دیکھ رہا ہے۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ بغیر کچھ کہے گھر چلے گئے اور اپنے بیٹے عاصم سے فرمایا اس لڑکی سے نکاح کرلو ! انہوں نے پیغام بھیجا اور نکاح کردیا اللہ تعالٰی نے انہی کے نسل سے حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالٰی عنہ جیسا عادل خلیفہ امت کو عطا فرمایا جس پر امت کو عطا فرمایا جس پر امت جتنا بھی فخر کرے کم ہے ۔ ( کنز العمال جلد ۱۴ صفحہ ۱۱ )
اور ایسے ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی انکا فضل بیان کیا ہے اور ان سے احسان کرنے پر ابھارا ہے۔ جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے۔۔۔
(جسے ان بیٹیوں کی آزمائش میں ڈال دیا جائے تو وہ ان کے ساتھ احسان کرے (اچھی پرورش کرے) تو یہ اس کےلئے آگ سے پردہ بن جائیں گی) (بخاری)
خود ہمارے پیارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چار بیٹیاں تھیں۔ اللہ تعالٰی ہم سب کو اپنے دئیے ہوئے عطیہ کی صحیح معنی میں قدر دانی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ۔

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers