نیچے  استقبالیہ پہ بیٹھے شخص نے بتایا کہ میڈم سیمی کی کلاس اوپر کی منزل میں ہوتی ہے۔ ناہید، زری کا ہاتھ تھامے کلچرل انسٹیٹیوٹ کی گول، پرانی طرز کی سیڑھیاں چڑھنے لگی۔  یہ پارسی ڈانس ٹیچر کوئی معمولی ڈانس ٹیچر نہیں تھی۔ اپنے زمانے کی مشہور فلمی رقّاصہ رہ چکی تھی اور بہت غضب کاکلاسیکی ناچ جانتی تھی۔ ابھی کچھ ہی روز پہلے ٹی وی پہ ایک پرانی فلم چل رہی تھی جس میں میڈم سیمی کا رقص موجود تھا مگر سنسر کی وجہ سے دکھایا نہ جا سکا۔ اس کمی کو ناظرین نے بہت شدت سے محسوس کیا تھا۔     تفصیل سے پڑھیے
ناہید کلاسیکل موسیقی اور رقص کی مداح تھی۔ اسے یہ دیکھ کر بہت غصہ آیا کہ بے ہودہ، بے ہنگم، لغو، اُچھل کود تو فلم میں دکھادی گئی، اس پر کسی کو اعتراض نہ ہوا، مگر جیسے ہی سیمی کا کلاسیکل رقص آیا، ٹی وی والوں نے قینچی چلا دی۔ فلم میں میڈم سیمی، شوخ وشنگ، دبلی پتلی، نازک اندام حسینہ کا روپ دھارے ہیرو کے دل پر چھریاں چلا رہی تھی۔
اس کی حقیقی زندگی کے بارے میں بھی سبھی جانتے تھے کہ اس نے عین عالمِ شباب اور اپنے عروج کے زمانے میں فن کی دنیا کو خیر باد کہہ کر ایک فلمی ہدایت کار سے شادی رچا لی تھی مگر افسوس وہ ہدایت کار اس سے وفا نہ کر سکا اور چند ہی سالوں کی رفاقت کے بعد، ایک بچی اس کی جھولی میں ڈال کر ایک ابھرتی ہوئی نوجوان اداکارہ کی زلفوں کا اسیر ہوگیا۔
اس نے سیمی کا دل کیا توڑا کہ دل کا عارضہ ہی لاحق کروا بیٹھا اور صاحب فراش رہنے لگا۔ اس کی نئی محبت نے اس سے پیسا، جائداد، سب کچھ اپنے نام کروا لیا اورخود اس سے بے نیاز ہوگئی۔  ہدایت کار نے ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ پھر سے سیمی کی گود میں آ کر سر رکھ دیامگر وہ سیمی کی جان توڑ تیمارداری کے باوجود زندگی کی بازی ہار گیا۔
سیمی نے پھر کسی مرد پر اعتماد نہیں کیا اور اپنی بیٹی کے سر پر سایہ بن کر رقص کے سہارے زندگی بِتانے لگی۔ شہر کے مختلف اسکولوں میں بچوں کو رقص کی تعلیم دے کر اس نے خود کو ازحد مصروف کر لیا تھا۔  زری کو اس کے اسکول میں اپنی کلاس میں غیرمعمولی طور پر اچھا رقص کرتے دیکھ کر ہی اس نے زری کے گھر ایک خاص نوٹس بھجوایا تھا کہ ’’آپ کی بیٹی بہت دلجمعی سے رقص کی کلاس میں تربیت حاصل کرتی ہے۔ آپ مہربانی کر کے اسے میرے کلچرل انسٹیٹیوٹ کی ’’آفٹر اسکول اسپیشل کلاس‘‘ میں داخلہ ضرور دلوائیں۔ یہ بچی بہت فنکارانہ صلاحیتوں کی مالک ہے۔‘‘
ناہید، نوٹس پڑھ کر مادرانہ جذبۂ تفاخر سے پھولے نہ سمائی مگر اس کے شوہر اسلم نے حسبِ توقع طوفان سر پر اُٹھا لیا۔ ’’میری بیٹی ! اور کلاسیکل رقص سیکھے! ہرگز نہیں! غضب خدا کا، ہم بچیوں کو اسکولوں میں تعلیم و تربیت کے لیے بھیجتے ہیں یا ناچ گانا سیکھنے کے لیے؟ کوئی ضرورت نہیں فضول کاموں میں پڑنے کی!‘‘  اسلم پرانے خیال کا روایتی قسم کا باپ تھا اور ناہید کو اس سے اسی ردِعمل کی توقع تھی، مگر اتنی آسانی سے ہار ماننے والی وہ بھی نہ تھی۔
’’دیکھونا اسلم! یہ رقص ایک خاص فن ہے۔ عامیانہ، فلمی قسم کا ناچ نہیں ہے۔ سمجھنے کی کوشش کرو۔ وقار اور ڈھنگ سے کیا جائے تو یہ عبادت کی طرح پوتّر دکھتا ہے۔ آخر مندروں میں دیوداسیاں…!‘‘  ’’ہم ہندو نہیں ہیں!‘‘ اسلم نے جل کر جواب دیا اور اس کی بات کاٹ دی۔  ’’بھئی ہم کیوں ہندو ہونے لگے خدانخواستہ، یہ تو ہمارا تہذیبی ورثہ ہے اور تہذیب صرف مذہب سے نہیں موسموں، رویوں، مقامی روایتوں سے مل کر وجود میں آتی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اس میں ترامیم اور اِضافوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ مان جائو نا پلیز!‘‘
ناہید نے لاڈ سے اس کے پائوں پکڑ لیے۔  ’’ابو ! ابو، پلیز! مجھے جانے دیں نا! اسکول میں آنٹی سیمی ہمیشہ کہتی ہیں کہ میں سب سے اچھا نرت کرتی ہوں۔ اگر میں تمھیں الگ کلاس میں سکھائوں تو تم فرسٹ کلاس ڈانسر بن سکتی ہو۔‘‘  ننھی زری اپنے باپ کے گلے میں جھول گئی اور ضد کرنے لگی۔  ’’مان جائو نا پلیز اسلم! آخر ایسی بھی کون سی قیامت آجائے گی؟ ہم نے کون سا اسے اسٹیج پہ پرفارم کروانا ہے؟ اب تو بہت اچھے اچھے خاندانوں کی لڑکیوں میں فنونِ لطیفہ سیکھنے کا رجحان ہے۔‘‘
ناہید مِنت سماجت کرنے لگی۔  ’’اور اگر خاندان والوں کو پتا چل گیا تو؟‘‘ اسلم کچھ نرم پڑنے لگا۔ ’’جتنا بھی اچھا اور بڑا فن ہو، کسی لڑکی کا تعارف یہ ہو کہ وہ ڈانسر ہے تو خود سوچو لوگ کیا سوچتے ہیں۔‘‘ کسی کی دیکھا دیکھی بچی سیکھ بھی لے تو کیا رقص سے جڑی بری باتیں اور روایتیں، تو کبھی ختم نہیں ہوں گی۔ وہ اس کا لازم حصہ ہیں۔ لوگ اسی کو دیکھ کر فیصلہ کرتے ہیں اسلم نے دردمندی سے کہا۔
’’ہم بھلا کیوں کسی کو بتانے لگے؟ بچی چھوٹی ہے اس کا شوق ہے۔ پورا کر لینے دو اور جن خاندان والوں کا آپ حوالہ دے رہے ہیں، وہاں بھلا کیا نہیں ہو رہا ؟ اب میرا منہ نہ کھلوائیں۔‘‘  ناہید نے لاڈ سے منہ پھلا لیا۔  اس کا اشارہ اپنے بڑے جیٹھ کے بچوں کی طرف تھا۔ بھائی جان خود تبلیغی جماعت میں شامل ہو کر گھر بار تیاگ چکے تھے اور بڑے بیٹے نے امریکا جا کر ایک ماڈل گرل سے شادی رچا لی تھی۔
اسلم نے ہارے ہوئے باپ کی طرح ماں بیٹی کی ضد کے آگے ہتھیار پھینک دیے۔  اوپر کی منزل میں کئی کمرے تھے۔ ناہید اس کمرے کے باہر جا کر رُک گئی جس کے بند دروازے کے آگے چھوٹی بڑی، مختلف ناپ کی کچھ جوتیاں پڑی تھیں۔ اس نے دروازہ کھولنے کی نیت سے ہاتھ آگے کو بڑھایا اور پل بھر کو سوچ میں پڑ گئی۔  بند دروازے کے اُس طرف، ماضی کی کتنی عظیم رقاصہ، گلیمر کی دنیا کی شہزادی، رقص میں مصروف ہوگی۔ گھنگروئوں کی چھَنک اور طبلے کی تھاپ پہ جھومتی، بل کھاتی، رنگ برنگے ملبوسات پہنے لڑکیاں ننھی ننھی پریاں دِکھ رہی ہوں گی۔ سُر اور تال کا ایک بہتا دریا ٹھاٹھیں مار رہا ہوگا مگر یہ کیا؟
دروازے کو کھولتے ہی ایک سنجیدہ سی، غیر متوقع خموشی نے اس کا استقبال کیا تھا۔  باہر سخت گرمی تھی مگر کمرے کے اندر، ائیر کنڈیشنر کے چلنے سے ٹھنڈک تھی۔ ننگے فرش پہ تین چار لڑکیاں آڑی ترچھی لیٹی آپس میں گپیں لگا رہی تھیں۔ اسکول کے بعد کی تھکن، ان کے چہروں سے بخوبی عیاں تھی۔
ایک کونے میں ایک فربہ جسم، گوری چٹی، معمولی نقش و نگار کی مالک، ادھیڑ عمر عورت، سر پہ اسکارف باندھے کچھ پڑھنے میں مشغول تھی۔ ناہید اور زری کے اندر آنے کی آواز سن کر اس نے اپنا جھکا ہوا سر اپنی عجیب و غریب زبان میں لکھی ہوئی کتاب سے اُٹھایا اور مسکرا دی۔  ’’آپ زری کو لے آئیں! بہت اچھا کیا۔ میں تو اسے بہت دفعہ کہہ چکی ہوں کہ یہ میرے پاس ضرور آئے، بہت اچھا ناچتی ہے آپ کی بچی۔ آپ کے لیے تو یہ بہت فخر کی بات ہے کہ اس میں اتنا ٹیلنٹ ہے۔ یقین کیجیے ہر لڑکی میں نہیں ہوتا۔‘‘ وہ بولتے بولتے زری کو پیار کرنے لگی۔
ناہید نے اسے ساری رام کہانی سنائی کہ اسے زری کے باپ کو منانے میں کتنی مشکلوں کا سامنا کرنا پڑا وغیرہ وغیرہ۔  ’’کیا آج سب بچیاں نہیں آئیں؟‘‘ ناہید نے اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے پوچھا۔  ’’دراصل کلاس ساڑھے تین بجے ہوتی ہے۔ ابھی پندرہ منٹ باقی ہیں۔ آہستہ آہستہ لڑکیاں آتی جائیں گی۔ تو ہم شروع کر دیں گے۔ اسی لیے میں بھی بیٹھی اپنے یشٹ پڑھ رہی تھی۔ ویسے تو دن بھر ٹائم نہیں ملتا مگر میں کوشش کرتی ہوں کہ ہر کلاس کی ابتدا پاک کلام پڑھ کر ہی کروں۔‘‘
میڈم سیمی نے اپنی مقدس کتاب کو آنکھوں سے لگایا، چوما اور غلاف میں لپیٹ کر اپنے بیگ میں ڈال لیا۔  تھوڑی تھوڑی دیر بعد لڑکیاں آتی رہیں اور کمرا بھر گیا۔ کچھ کی مائیں انھیں چھوڑ کر چلی گئیں اور ایک آدھ ناہید کی طرح میڈم سیمی سے بات چیت کرنے کو ٹھہر گئی۔  سیمی بہت ہنس مُکھ اور سادہ طبیعت عورت تھی۔ بات بات پر لڑکیوں کو گود میں بھر بھر کر پُچ پُچ کرنے لگتی اور لڑکیاں بھی آنٹی سیمی، آنٹی سیمی کہتے نہ تھکتیں۔ بے تُکلف سا دوستانہ ماحول تھا۔
جب زری نے بھی دوسری بچیوں کے ساتھ قطار میں کھڑے ہو کر، کتھک، کے ایک دو خوب صورت مُدرے، کیے تو اس کے مدھر انداز اور دلکش چہرے پہ چھائی مسرت کو دیکھ کر زری کے دل میں خوشی کا ایک انوکھا سا جذبہ پیدا ہوا۔ ایسا پیارا رقص تو ان کے خاندان میں کبھی کسی نے نہیں کیا تھا۔  ناہید اپنی بیٹی زری کو باقاعدگی سے ہفتے میں تین بار ڈانس کلاس کے لیے لاتے لاتے میڈم سیمی سے کافی بے تُکلف ہوگئی تھی۔ سیمی اس سے کبھی کبھار چائے کی بریک کے دوران اِدھر اُدھر کی باتیں اور اپنے پرانے قِصیّ بھی کہہ ڈالتی۔
’’مگر سیمی آنٹی، آپ نے اپنے شوہر کو بے وفائی کے باوجود معاف کیسے کر دیا؟ اسے پھر سے کیوں اپنی زندگی میں آنے دیا۔ جبکہ اس نے آپ کے ساتھ اتنی زیادتی کی؟‘‘ ناہید ایک روز کہہ اُٹھی۔  ’’ارے بیٹا کیا کرتی۔ غریب کنگال ہوگیا تھا۔ دل کا مریض تھا۔ میرے قدموں میں آکر لوٹنے لگا، تو میں اپنی نرم دلی کے ہاتھوں مجبور ہوگئی۔ میری ماں مجھے بہت کوستی تھی۔ کہتی تھیں کہ میں بہت بے وقوف ہوں۔ اس بے قدر انسان کے لیے اپنا سب کچھ برباد کر دیا اور پھر اس کی تیمارداری بھی کرتی ہو۔ مجھے پاگل سمجھتی تھیں مگر میں کیا کرتی مجبور تھی۔ آخر وہ میری بیٹی کا باپ تھا۔ مجھے اس پر ترس آگیا تھا اس لیے اسے پھر سے سہارا دینے لگی!‘‘
سیمی کی آنکھوں میں آنسو جھلملانے لگے۔  ’’مگر اب میری زندگی صرف میری بیٹی اور میرے رقص کے اِردگرد گھومتی ہے۔  ماں تو اللہ کو پیاری ہوگئیں اب بیٹی کی ذمہ داریاں پورا کرنا میرا فرض اور رقص میری جدوجہد۔ میں تو خدا کا شکر کرتی ہوں کہ یہ ایسا تحفہ اس نے مجھے عطا کر دیا ہے۔  سیمی فلسفیانہ انداز میں بولتی چلی گئی۔
’’مگر آنٹی ہمارے معاشرے میں رقص کے خلاف اتنا تعصب ہے کہ سمجھ میں نہیں آتا کہ لوگوں کو کس طرح اس آرٹ فارم کی صحیح شناخت کروائی جا سکے۔ تنگ نظری اور جہالت میں ہم لوگ اندھے اور گونگے بہرے بن جاتے ہیں!‘‘  ناہید اظہارِ خیال کرنے لگی۔  ’’اِدھر آئو بچو! سب لوگ میرے پاس آجائو! میں آپ لوگوں کو ایک چھوٹا سا لیکچر دینا چاہتی ہوں!‘‘ سیمی نے تالی بجا کر بچیوں کو اپنے پاس بلا لیا۔ بچیاں ہمہ تن گوش ہوگئیں۔
’’دیکھو گرلز!کوئی عمل بذاتِ خود بُرا نہیں ہوتا، صرف اس کے کرنے والے ہی اس کے اچھے یا بُرے طریقے سے اس کا مظاہرہ کرنے کی وجہ سے قابلِ گرفت ٹھہرائے جاسکتے ہیں۔  رقص کیا ہے؟ ایک قدرتی اور بے ساختہ عمل ہے۔ کیا آپ نے مزاروں پر وجد میں آ کر لوگوں کو ناچتے کبھی نہیں دیکھا؟ وہ کیا کر رہے ہوتے ہیں؟ صرف اپنے جذبۂ عقیدت کا اِظہار ہی تو کر رہے ہوتے ہیں اور خوشی کے اظہار کا اس سے زیادہ خوب صورت طریقہ کیا ہوسکتا ہے کہ بندہ اپنے آپ کو ہی بھول جائے۔ تمام Inhibitionsسے آزاد ہوجائے۔ چاہے پل بھر کو ہی سہی، ضبط کے بندھن توڑ کر اپنے جسم کو بے اختیار ہوجانے کا موقع فراہم کرے۔
قص کرتے وقت انسان، ایک عجیب سی آزادی محسوس کرتا ہے۔ وہ دنیا و مافیہا سے بے خبر ہوجاتا ہے۔ جسم کے خول میں مقید روح اُس میں چابی بھر دیتی ہے اور جسم تیرنے لگتا ہے، اُڑنے لگتا ہے اور ایک فرحت بخش کیفیت کے زیرِ اثر اس پر ایک نشہ سا چھانے لگتا ہے۔ کونجوں کی ڈار کی یکساں پرواز، دیگر پرندوں کا اُڑتے اُڑتے کبھی ایک طرف کو جھکنا، لپکنا، کبھی نیچے آنا پھر جھٹکے سے اوپر کو اُٹھ جانا، گھنے جنگلوں میں ناچتی شور مچاتی بارشوں میں مست ہو کر موروں کا پنکھ پھیلانا اور پھر ناچ اُٹھنا، احساسِ آزادی کا ایک عمل ہے۔
کیڑے مکوڑے بھی ناچتے ہیں بلکہ ایک خاص قسم کا مکڑا تو اپنی مادہ کی توجہ حاصل کرنے کے لیے پہلے ناچتا ہے، اُس کا دل لُبھاتا ہے۔ میرے نزدیک رقص ایک مکمل قدرتی عمل ہے جس میں بناوٹ کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ جہاں تک ہمارا، اپنی بچیوں کو رقص کی تعلیم دینے کا تعلق ہے تو میں اس کے بارے میں آپ کو یقین دلا دوں کہ یہ ہرگز فحاشی کی علامت نہیں ہے۔ فحاشی اس آرٹ میں نہیں بلکہ دیکھنے والوں کی نظر اور دل میں ہوتی ہے۔ اس میں تو انتہائی کٹھن ٹریننگ اور محنت شامل ہوتی ہے جس سے بچیوں میں ڈسپلن، شخصیت میں اعتماد، وقار اور نظم و ضبط پیدا ہوتا ہے۔ اس صدیوں پُرانے فن کو ہمیں زندہ رکھنا ہے۔
میڈم سیمی کی آواز وفور جذبات سے کانپ رہی تھی۔  ’’قدرت ہمارے چہار سُو رقص کرتی نظر آتی ہے۔ مہکتی ہوائوں کے شریر جھونکوں سے اٹکھیلیاں کرتے پتوں کا ناچ اور سمندر کی منہ زور لہروں کا ایک خاص مقررہ ردھم کے ساتھ اُتار چڑھائو، ننھی لڑکیوں کا رنگ برنگے ملبوسات میں پریوں کی طرح نرت کرنا، یہ سب صرف اور صرف زندگی کی سیلی بریشن ہے، ایک کائناتی سچائی ہے۔  رقص کرنے والے کے صرف جسم میں ہی نہیں بلکہ رویوں، سوچوں نظریات میں بھی ہارمنی پیدا ہونی چاہیے۔ وہ ٹھنڈی سانس لے کر کہتی اب کوئی سیکھ کر غلط راہ پر چل نکلے غلط حرکتیں کرنے لگے تو سکھانے والا کیا کرے۔‘‘
میڈم سیمی اکثر خوش خوش رہتی اور زندہ دلی سے باتیں کیا کرتی لیکن کبھی کبھار اس پر یاسیت بھی غلبہ پا لیتی تھی۔ خاص طور پر ان دنوں وہ بڑی پریشان ہوجاتی جب اس پر جوڑوں کے درد کا حملہ ہوتا۔ ایسے میں سب سے زیادہ تکلیف اُسے اس بات کی ہوتی کہ وہ کلاس میں خود اُٹھ کر سبق نہیں دے سکتی۔ اسے بیٹھے بیٹھے اشارے سے بتانا پڑتا کہ اب بچیاں کیسے کریں، کس طرح پائوں ماریں۔
برسات کی ایک ایسی ہی گیلی دوپہر تھی۔ بارش سڑکوں پہ رقص کر رہی تھی اور ماحول خوشی سے نہایا نہایا، نکھرا نکھرا بہت بھلا لگ رہا تھا، جب میڈم سیمی کے جوڑوں کا درد بہت بڑھ گیا۔ اُس دن اس نے کلاس جلدی ختم کر لی اور سب بچوں کو گھر بھجوا دیا۔ اگلے کچھ روز بھی جب وہ نہ آئی تو ناہید نے سوچا اس کی طبیعت پوچھ آئے اس لیے اس کے گھر چلی گئی۔
اس کا گھر ایک متوسط طبقے کے گھر کی طرح، مگر بہت فنکارانہ انداز میں سجا ہوا تھا۔ دیواروں پر جابجا میڈم سیمی کی جوانی کے فلمی کیرئیر، اسٹیج شوز اور مشہور شخصیات سے ملاقاتوں کی تصاویر آویزاں تھیں۔  آتشدان میں پارسی عقیدے کے مطابق ہمیشہ جلتی رہنے والی آگ کا شعلہ جل رہا تھا اور متھر اگاڈ کی Hymnsکی کتاب سیمی کے پہلو میں پڑی ہوئی تھی۔
’’ارے آئو ناہید! کتنا اچھا کیا تم آگئیں؟ زری کو ساتھ نہیں لائیں؟ مجھے افسوس ہے میں کچھ دنوں سے کلاس نہیں لے سکی!‘‘  وہ ایک ہی سانس میں بولتی چلی گئی۔  ’’ارے آنٹی جی! کوئی بات نہیں! آپ پہلے ٹھیک تو ہوجائیں۔ پھر کلاس بھی ہوجائے گی۔‘‘ ناہید نے اسے تسلی دی۔  ’’بس یہ جوڑوں کا درد مجھے بستر میں پڑے رہنے پر مجبور کر دیتا ہے ورنہ تمھیں پتا ہے مجھے کوئی طاقت اپنی بچیوں کو تعلیم دینے سے باز نہیں رکھ سکتی۔‘‘
’’اب کیسی طبیعت ہے؟‘‘ ناہید نے پاس رکھے گھنگھروئوں کی ایک پرانی جوڑی کو دیکھ کر دلچسپی سے ہاتھ میں اُٹھا لیا۔  ’’آج کچھ بہتر ہے! اگر ہوسکا تو کل سے ضرور کلاس لوں گی! یہ میرے سب سے پہلے گھنگھرو ہیں۔ میری ماں کی طرف سے خریدا گیا میرا پہلا تحفہ!  میری مرحومہ ماں کی نشانی۔‘‘  گھنگھرو چھن سے بول اُٹھے۔
’’بچیاں آپ کو بہت مس کرتی ہیں!‘‘ ناہید نے بتایا۔
’’میں توخود بہت فکرمند ہوجاتی ہوں۔آخر میرے فن کو انھوں نے ہی تو آگے بڑھانا ہے۔ میری ذمہ داری ہے کہ اپنا ورثہ قابل ہاتھوں میں سونپ کر ہی آگے جائوں!‘‘  ’’مما چائے لے لیں!‘‘ چائے کی ٹرالی دھکیلتے ایک نوجوان لڑکی خاموشی سے اندر چلی آئی۔  ’’ہیلو!‘‘ ناہید کو دیکھ کر اس نے مختصراً کہا۔  ’’یہ میری بیٹی نینا ہے۔ نینا طارق۔ بی اے فائنل میں پڑھ رہی ہے۔‘‘ سیمی نے خوش دلی سے اپنی بیٹی کا تعارف کروایا۔
’’اچھا! اچھا!‘‘ ناہید نے چائے کی پیالی ہاتھ میں تھام لی۔  ’’آپ تو بہت ماہر رقاصہ ہوں گی۔ اتنی عظیم فنکارہ کی بیٹی ہیں آپ۔‘‘ ناہید نے سادہ لباس پہنے، ڈھیلی چٹیا باندھے عام شکل و صورت والی لڑکی سے مخاطب ہو کر کہا۔  ’’میڈم نے تو آپ کو اپنی صلاحیتوں کا نچوڑ دیا ہوگا!‘‘  ’’میڈم آپ کچھ دن کے لیے انھیں کیوں نہیں کلاس لینے کے لیے بھیج دیتیں۔ تب تک آپ کی طبیعت بھی انشااللہ بہتر ہوجائے گی!‘‘ ناہید نے تجویز پیش کی۔ لڑکی نے ماں کی طرف دیکھا اور دھیرے سے بولی۔  ’’مجھے تو ڈانس نہیں آتا!‘‘ اور مسکرا کر چائے کے برتن سیٹ کرنے گلی۔
’’ارے آپ نے یہ گلاب جامن تو لیے نہیں میں نے خود بنائے ہیں۔ ہوم میڈ ہیں!‘‘  اس نے ناہید کے آگے پلیٹ بڑھا دی۔  ’’دراصل رات اس کے سُسرال والوں کا ڈنر تھا۔ اس نے کھانا بنایا تھا۔ یہ گلاب جامن رات کے ہی بچے ہوئے ہیں۔ بہت اچھا کھانا بناتی ہے یہ!‘‘  میڈم سیمی نے فخریہ انداز میں اپنی بیٹی کی طرف دیکھا۔
’’ان کی شادی ہونے والی ہے؟‘‘ ناہید کچھ حیران سی ہوگئی۔  ’’ہاں بھئی۔ بس فائنل کا امتحان ہوتے ہی اسے تو اس کے گھر بھیج دوں گی۔ لڑکا ماشااللہ ائیر فورس میں پائلٹ ہے۔ بہت اچھا ہے اور بھئی گڈ ہائوس وائف کو اچھی کوکنگ تو آناہی چاہیے نا۔ لڑکی ذات کا اصل کام تو گھرداری ہی ہے نا اور شکر ہے کہ اس میں یہ بہت ماہر ہے!‘‘ ’’اچھا مما، میں چلوں، آپ لوگ گپ شپ لگائیں۔ مجھے ایک ٹیسٹ کے لیے پڑھنا ہے۔‘‘
نینا چائے کی ٹرالی دھکیلتے کچن کی طرف چلی گئی۔  ’’آنٹی سیمی، میں کچھ سمجھی نہیں۔ میں تو سمجھ رہی تھی آپ کی بیٹی بھی آپ کی طرح رقص کے فن کو زندگی سمجھتی ہوگی اور اسے اس میں بہت اعلیٰ مقام حاصل ہوگا۔ معاف کیجیے گا۔ کہیں آپ اپنی بیٹی کے معاملے میں قدامت پسند تو نہیں ہوگئیں؟ دوسروں کی بیٹیوں کو تو آپ رقص سکھانے پر اتنا اصرار کرتی ہیں۔‘‘ ناہید اپنے لہجے کے ہلکے سے طنز کو نہ چھپا سکی۔
میڈم سیمی یکدم اُداس ہوگئی۔ اس نے بستر سے اُٹھ کر کمرے کے ایک کونے میں پڑے پرانے گراموفون میں چابی بھرنی شروع کر دی۔ ناہید نے ایسا گرامو فون، اینٹیک شاپس یا بس فلموں میں ہی دیکھ رکھا تھا۔ پرانا ریکارڈ مدھم سروں میں بجنے لگا۔  ’’موہے پنگھٹ پہ نندلال چھیڑ گیئو رے۔‘‘ نہ جانے کس پرانی سنگر کی آواز تھی ناہید کو کچھ پتا نہیں چل رہا تھا۔
’’یہ بات نہیں! میں نے نینا کو جان بوجھ کر رقص نہیں سکھایا۔ اس لیے نہیں کہ مجھے رقص سے پیار نہیں۔ مگر اس لیے کہ مجھے نینا سے، رقص سے بھی زیادہ پیار ہے۔
میں اور میری ماں اکیلے تھے۔ اسی طرح مجھے اور نینا کو بھی اکیلے ہی ہونا تھا۔ میں نہیں چاہتی تھی میں اپنی ماں بِن جائوں!‘‘ میڈم نے دیوار پر لگی ایک بوڑھی پارسی عورت کی تصویر کی طرف دیکھا اور پھر ایک ٹھنڈی سانس بھری۔  ’’میں نہیں چاہتی تھی کہ ہم دونوں ماں بیٹی کی زندگی میں بھی ایک ایسا دن آجائے جب میں مجبور ہو کر اس سے کہوں، نینا بیٹی۔ بس ایک دو شو اور پکڑ لے۔ پھر نہیں کہوں گی۔ آخر اس مہینے کامکان کا کرایہ اور دودھ والے کا بِل ابھی رہتا ہے نا۔ ایک فلم اور کرلے۔ بس ایک اور۔
ایک اور!‘‘  ناہید نے اُٹھ کر گرامو فون پر سے ریکارڈ کو ہٹا دیا جو نجانے کب سے ختم ہو کر اٹک رہا تھا اور پرانے گھنگھروئوں کی جوڑی کو آہستگی سے اُٹھا کر میڈم سیمی کے پائوں کے قریب رکھ کر جانے کے لیے اُٹھ کھڑی ہوئی۔ وہ جانتی تھی کہ زری کو اب دوبارہ یہاں کبھی نہیں بھیج پائے گی
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers