بے شک مذہب کا بگاڑ ہی جنت کے وعدوں پر لڑکوں کے جسموں پر بم بندھواتا اور عورتوں کو زنجیروں سے جکڑواتا ہے- 
ایسا لگتا ہے جیسے انہیں کوئی پرواہ ہی نہیں- جب بھی تحریک طالبان پاکستان یا ان کے چیلے چماٹے، قرون وسطیٰ کی یاد تازہ کرنے والا کوئی بھی اپنا وحشیانہ عمل کرتے ہیں، تو وہ تاثر یہی دیتے ہیں جیسے وہ دکھاوے کو نظرانداز کرتے ہیں-
دراز زلفیں، الجھی سلجھی داڑھیاں، گہرے رنگوں کے کپڑے پہنے اور پریشان حال، دیکھنے والے کو یہ تاثر دیتے ہیں کہ ان کے مخالفین ہی باقی سب کچھ ہیں- اگر سیاستدانوں کی دنیا چمکتی دمکتی، نفاست کا شاہکار اور سوٹڈ بوٹڈ ہے تو ان کی ان سب سے الگ تھلگ- یہ مخالفت ان کے اعمال میں بھی چھلکتی ہے-   تفصیل سے پڑھیے
اگر جدید قانون کی دنیا طریقہ کار اور وکالت، عدالتوں اور جرائم، دلائل دینے اور ثابت کرنے کی ہے تو ان کی بالکل ہی مختلف ہے- یہاں شاک، بے رحمی اور طاقت کا ایک ساتھ اور یکدم استعمال اسے قرون وسطیٰ کی دنیا بناتا ہے بجائے ایک جدید دنیا کے- اور پاکستان میں جہاں اب بھی جدیدیت کے ثمرات کے شاکی یا انہیں حاصل نہ کر پانے پر غصے میں بھرے بیٹھے لوگ کافی ہیں، اس تضاد میں انہیں بہت کچھ سمجھ آنے لگا ہے-
انتہا پسندی کی ایسی نشانیاں صرف طالبان کی دنیا تک محدود نہیں-
پچھلے چند ہفتوں سے دنیا ان اغوا کی گئی سینکڑوں نائجیرین لڑکیوں کی تصویریں اور خبریں انتہائی خوف اور خطرے کے ساتھ دیکھ رہی ہے جو ٹی وی اسکرینز اور ٹویٹر فیڈز پر بھری پڑی ہیں- جدیدیت کی مخالفت کے حوالے سے بوکو حرام بھی طالبان کے نظریے کے پیروکار ہیں- طالبان ہی کی طرح ان کی دنیا بھی اب بھی ابتدائی دور کی یاد دلاتی ہے جس میں وہ کوڑے مارتے ہیں اور ہاتھ پاؤں کاٹ دیتے ہیں- اب انہوں نے جبراً مذہب تبدیل کروانا، قیدی بنانا اور یقیناً ٹارچر کرنا بھی شروع کر دیا ہے-
شاید طالبان کی جانب سے قرون وسطی کے قانون کے ماہرانہ نفاذ سے متاثر ہو کر ہی انہوں نے ایک ایسی دنیا کا ویژن پیش کرنے پر توجہ مرکوز کر دی ہے جو اس دنیا سے بالکل ہی مختلف ہے جس میں بہت سوں کو چھوڑ دیا جاتا ہے- ان کی سیاست چراگاہوں کی، دھتکارے ہوؤں کی، ان لوگوں سے جن سے کبھی پوچھا بھی نہیں گیا کہ وہ کیا چاہتے ہیں اور ان کی ہے جن کو اب کوئی امید باقی نہیں- اگر جدیدیت نے آپ سے دست برداری اختیار کر لی ہے، آپ سے آپ کی چیز چھین لی گئی ہے، آپ کو رستہ بتانے میں ناکام رہی ہے، تو وہ آپ کو واپسی کا ایک واضح رستہ دکھاتے ہیں، تصوراتی ماضی کی ایک ایسی دنیا جسے کولونیلزم نے چھوا تک نہیں-
دنیا بھر کا میڈیا نہ صرف خوشی خوشی اس جال میں پھنس گیا بلکہ بار بار پھنستا ہے- پوسٹ ماڈرن ورلڈ میں رہنے والوں کیلئے یہ بازگشت اور اس کی چاہ دونوں ہی ناقابل فہم ہیں اور بہت سے طریقوں سے یہ سمجھ میں بھی آتا ہے- اگر جدید اور پروگریسو منصوبے آگے بڑھنے کے رستے دکھاتے ہیں، پلان آف ایکشن، حکومت کرنے کے طریقے موجودہ مشکلوں سے نکال اور انہیں ختم کر سکتے ہیں تو یہ اس کے بالکل برخلاف ہے- جنگ و جدل، گرتے ہوئے ڈھانچے، معصوموں کا قتل عام اور واپسی کا عمومی راستہ صرف تباہی، بربادی اور منفیت کا ایسا نسخہ ہی پیش کر سکتا ہے-
بے شک مذہب کا بگاڑ ہی جنت کے وعدوں پر لڑکوں کے جسموں پر بم بندھواتا اور عورتوں کو زنجیروں سے جکڑواتا ہے مگر اس کا مقصد بہتری نہیں بلکہ وہ یہ خود چنتے ہیں- خود کو آگے بڑھتی دنیا سے الگ تھلگ اور دور کرنے کے چکر میں ان کی ٹیکٹک یہ ہوتی ہے کہ جن چیزوں کو وہ ساتھ نہیں لے جا سکتے ان سب کو تباہ و برباد کر دیا جائے-
چند ہفتوں پہلے جب تحریک طالبان کی خفیہ شوریٰ اس بات پر بحث کر رہی تھی کہ ان کے لیڈروں میں کون سا لیڈر ان کی قیادت کرنے کے لائق ہے، بوکو حرام، قرون وسطیٰ کی رجعت پسندی کی یاد تازہ کرنے کیلئے چھوٹی چھوٹی اسکول کی بچیوں کو اغوا کرنے میں مصروف تھی- یہ بھی طالبان ہی کی نوع کا ایک گروپ ہے جس نے بلا سوچے سمجھے وحشیانہ قتل عام کا اپنا الگ تھیٹر سجایا ہوا ہے-
صومالیہ سے تعلق رکھنے والے الشباب نے اپنا الگ دہشت کا ٹیبلو رچایا- صومالیہ کے جنوب مغربی علاقے کے بردھیرے شہر کے باسیوں کو ایک سزائے موت دیکھنے کا دعوت نامہ ملا- الشباب کے ایک جج نے عبدالحمید شیخ نامی شخص کو جس کی عمر تقریباً انتیس سال بتائی گئی، جاسوسی کرنے کی وجہ موت کی سزا سنائی-
وہاں کوئی قانون یا وکیل موجود نہیں تھا ہاں لیکن جلاد ضرور موجود تھا، گولیوں سے بھری اپنی بندوق لئے جن کی ترتراہٹ نے اس آدمی کا فوری طور پر خاتمہ کر دیا- ایک بہت بڑے ہجوم نے یہ سب دیکھا پر سب اپنی دھن میں مگن رہے اور یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ کچھ نے تو اس پر تالیاں بھی بجائیں
Labels: ,
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers