کوئی زیادہ دور کی بات تو نہیں ہے مگر جتنی تبدیلی آ گئی ہے. مجھے آج بات کرتے ایسے ہی لگ رہا ہے کہ پریوں کی وہ کہانی جو نانیاں دادیاں سنایا کرتی تھیں میرے زمانے کی بات ہی نہیں. کسی ایسے زمانے کی بات ہے جو ہم سے بہت پہلے کا تھا. ہمارے تو کوئی نانی دادی تھی نہیں، ہاں جب کہ میں چھوٹا تھا اور آتش جوان.ہماری اماں ہم کو خود کے قصے سناتی تھی. انڈیا سے وہ لوگ کیسے آے اور راستے میں کیا کیا ان کو بھگتنا پڑا. ہم صبح سے ہی رات کا انتظار کرتے کہ آگے کیا ہوا ہو گا. اب پتا پڑتا ہے کہ جہاں وہ جو بھی بتاتی ہم یقین کر لیتے. سبق بھی ہوتا اس میں اور آفاقی باتیں بھی. تصور کرتے کرتے ہم خوابوں کی دنیا میں چلے جاتے. تفصیل سے پڑھیے
آج میرا دل بھی کرتا ہے کوئی میرے قریب بیٹھے اور کہے سنائیں نہ، پھر کیا ہوا؟ رات کب آے گی. آپ کب فارغ ہو گے مجھے آج کی کہانی کب سناؤ گے. فون کر کے کوئی تو کہے آپ ابھی تک گهر کیوں نہیں آے، مجھے نیند آ رہی ہے، میری کہانی کا کیا ہو گا؟ ہمسایے میں بھی انتظار ہو رات کی بیٹھک کا اور قصہ کہانی کا. یہ سب. اور بہت کچھ اب قصہ کہانی ہوا چاہتا ہے. آپ کسی سے اب نہیں کہتے" اچھا بھائی ،ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ .............". ہماری ساری خوشیاں گویا کہ برباد ہو گئیں. کچھ ٹیلی وزن نے چھین لیں باقی کی کمپوٹر نے. بچی کچهی موبائل فون نے. میں ایسے تنہا ہو گیا جیسے میرا کوئی تھا ہی نہیں. سب تو ہیں. بس خود میں خود ہی مصروف. سلام کا بھی فون پہ پیغام آتا ہے.
گھر میں بیٹھے. بھرے گهر میں، کسی ملازم سے معلوم پڑتا ہے، کوئی کدھر چلا گیا کوئی کدھر سے آ گیا. آسان زندگی ہے، انسان انسان سے اتنا ہی بے پروا ہے
جتنا وہ اس بات سے ہے کہ یہ دنیا عارضی ہے. اڑتا پھرتا ہے. نہ کسی کے لئے وقت ہے نہ ہی خود کے لئے. خوش هونے کی اداکاری کر کر کے اب ہی تھکا نہیں مگر وہ آنے کو ہے. آے گا تو کیا ہو گا. جو ہم سے ہمارے چھوٹوں نے نہیں پایا وہ خود کے چھوٹوں کو کیسے دیں گے واپس آے بھی تو دیر ہی ہو جاے گی. ہم ہوں گے جو نہیں، کوئی ہم سا بھی نہ ہو گا. سننے سنانے والا تو کوئی ہے نہیں میں اس لئے کچھ لکھ کے چھوڑ رہا ہوں، شائد کوئی میرے صفحے گردانے تو اسے کچھ مل جاے.
کمپیوٹر کبھی کسی کو میرے کاغذوں کی طرف آنے دے گا کیا. اور اگر کوئی آیا تو یہ جان سکے گا کہ میں کس كرب میں یہ سب لکھتا رہا اور کس کے لئے. یہ سب کس بات کا نتیجہ ہے. اگر میرے پاس کوئی بیٹھتا اور میری بات سنتا تو میں نہ ہی لکھتا. وہ میری ُجھریوں سے بھی سیکھتا اور میری چمکتی لٹوں سے بھی. یہی نہیں اور بھی. لفظوں کا مطلب. جملوں کا. میری حیران آنکھوں میں سپنے پڑھتا، کبھی میرے آنسو پونچھتا. کبھی ہم مل کہ قہقہہ لگاتے، کبھی گلے لگتے. میں ہاتھ پھیلاتا تو کئی میری آغوش میں آ جاتے ٹھنڈ پاتے اور میں سکون. یہ کاغذ کا ٹکرا میرے دل کی دھڑکن بتاتا ہے کیا، گزرا وقت لاتا ہے کیا. کتاب سے کوئی آنسو نہیں پونچھ سکتا. کتاب کسی بے چین کو گلے نہیں لگا سکتی. کسی کے سر پر ہاتھ نہیں رکھتی کہ تسلی ہو.
ہم کبھی اماں کی گود میں لیٹتے تھے، کبھی اس کے پیر دباتے تھے. کبی سر درد ہوتا وہ کہتی جاؤ سو جاؤ آج کوئی کہانی نہیں. تو کبھی ہم دوا لاتے کبھی سر دباتے. ہر شرارت پہ سننا پڑتا. رات آنے دو ایسے ہی سونا بغیر کچھ کہے سنے. اتنی دھمکی کافی تھی سیدھا ُتک کرنے کے لئے. یہی اماں ایک دودھ کا گلاس پلانے کے لئے گھنٹہ گھنٹہ بھر ہم کو بہلاتی رہتی. کبھی کہتی تو ریس میں اول کیسے آے گا اگر دودھ نہ پیا تو، کبھی کہتی دودھ کے بغیر پڑھائی نہیں ہو گی، بڑا آدمی نہیں بننا کیا. ہم شرارت کر کے امی کے ڈر سے اماں کے پیچھے ہی چھپ جاتے ہمیشہ. کسی دوست کے گهر جانے کی اجازت اماں ہی لے کے دیتی. یاد ہے، اگر کسی کی سالگرہ سے آ کر اماں کہتی کہ ان کا گھرانہ صحیح نہیں تو بس دوستی ووستی ختم.
اب ساتھ نام کی کوئی شے نہیں، اماں نام کی کوئی مخلوق نہیں بنتی الله کے ہاں. ان کی ضرورت جو نہیں رہی. روز دوست بدلتے ہیں بچے بھی بڑے بھی. روز کام کاج بدلتے ہیں والد صاحب اور ماں جی بچوں کے اسکول. گھر کے ملازم تو آے دن، ایک گیا اور دوسرا آیا. کوئی نہ گهر کو خود کا گهر جانتا ہے اور نہ ہی مالکان ملازم کو ہی انسان جانتے ہیں. دونوں طرف ہی ایسا ہے. کہیں کوئی اعتماد بنتا ہی نہیں. نوکر کہہ کر بلایا جاتا ہے.الفاظ ایسے کہ ہمارے کان گرم هونے لگتے ہیں، جب کوئی کہتا ہے "یہ لوگ ہوتے ہی ایسے ہیں". ہمارا کام کرنے والے، مددگار ہوتے ہیں، انسان ہوتے ہیں ہمارے جیسے کوئی اور مخلوق نہیں ہوتے.
ملازمین کی بات تو الگ ہے آج تو ہمیں معلوم پڑا ہے کہ سب سے پیارے رشتے، یعنی کہ ہم بزرگ کہیں اور کی مخلوق ہیں. نوجوان ہمارے ساتھ نہیں بیٹھتے. ہمارے خود کے بچے. تو پوتے نواسے کہاں بیٹھیں گے. دل چاہتا ہے سب سے کوئی پرانی گزری بات کروں، خود کے بچپن کی بات. مگر کوئی سننے والا نہیں ہے. پرانے زمانے کی کہانیاں اگر کمپٹور میں ہوں تو سب پڑھتے ہیں. ہم بتانا چاہیں تو کوئی ہمارے ساتھ نہیں بیٹھتا. مشین ہاتھ میں پکڑے پکڑے سب لوہا محسوس کرنے والے ہو گئے ہیں. انسان کے لمس کی کسی کو نہ ہی ضرورت ہے نہ پروا. اور بزرگوں کو تو کوئی خاطر میں نہیں لاتا.
گزرے زمانے میں ایسا تو ہوتا ہی تھا کہ بچے آ جاتے، تیل لگا دیں. گود میں لیٹا لیں. کوئی شے ٹوٹ جاے تو ڈانٹ سے بچا لیں. کوئی کہتا آپ کے ساتھ سو جائیں ڈر لگ رہا ہے. کوئی کہتا کام یاد نہیں ہو رہا آپ سن لیں سمجھا دیں. جب ماں باپ سو جاتے تو بچے بڑوں کے کمرے میں آ جاتے کہ نیند نہیں آ رہی آپ کوئی بات سناؤ. خود کے زمانے کا کوئی قصہ کوئی واقعہ بتاؤ. کیا کرتے تھے. کیا کھاتے تھے. کیسے اسکول جاتے تھے. خرچی کیا ملتی تھی. ٹی وی نہیں تھا تو شام کیسے گزرتے تھے. وغیرہ وغیرہ. اب ایسا کچھ نہیں رہا.
بچے ایسے بنا دیے ہیں کہ ماں باپ گهر ہوں نہ ہوں نہ ان کی کوئی فکر نہ ہی ماں باپ کو کوئی چنتا کہ کھانا کیسے کھائیں گے. کب گهر آئیں گے. کس کے ساتھ گئے ہیں. ہر انسان خود میں مگن ہے، اور وقت گزرتا جا رہا ہے. اگر ہم بول پڑیں تو ہماری شامت کہ آپ کو کیا معلوم آپ جائیں الله کو یاد کریں. ہم تو یاد کر ہی رہیں ہیں، جن کو بھولا ہے ان کو کون یاد دلاۓ گا کہ وہی اُن کا بھی خدا ہے. نہ ہی ان کو اس وقت یاد ہے اور جہاں رلتے پھرتے ہیں وہاں بتانے والا بھی کوئی نہیں. ہمارا تو جیسے وجود ہی نہیں ہے. کوئی ُپرسانِ حال نہیں. کچھ کمی سی ہے مگر ان کو احساس نہیں.
اچھا!تو...............
سنو میں کیا کہ رہا تھا
ایک مرتبہ کا ذکر ہے. دن ڈھلنا شروع ہوا، ڈھلتا ہی گیا. میں چلتا گیا، چلتا ہی گیا

Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers